<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ماہنامہ الابرار</title>
	<atom:link href="http://alabrar.khanqah.org/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://alabrar.khanqah.org</link>
	<description>خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کا ترجمان - شمارہ: رجب ۱۴۳۱ بمطابق جولائی ۲۰۱۰</description>
	<lastBuildDate>Wed, 14 Jul 2010 02:26:24 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.8.4</generator>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>دین کے مختلف شعبوں میں باہمی ربط کی ضرورت</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/343.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/343.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:56:49 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=343</guid>
		<description><![CDATA[دینی انحطاط کے اس دور کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ مختلف شعبہ ہائے دین میں خدمات انجام دینے والے بعض حضرات صرف اپنے ہی شعبہ کو عین دین سمجھ کر دوسرے شعبوں کو بہ نظر استخفاف دیکھتے ہیں اور گویا کل حزب بما لدیہم فرحون کے مصداق ہیں حالانکہ دین کا ہر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>دینی انحطاط کے اس دور کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ مختلف شعبہ ہائے دین میں خدمات انجام دینے والے بعض حضرات صرف اپنے ہی شعبہ کو عین دین سمجھ کر دوسرے شعبوں کو بہ نظر استخفاف دیکھتے ہیں اور گویا کل حزب بما لدیہم فرحون کے مصداق ہیں حالانکہ دین کا ہر شعبہ اپنی جگہ اہم ہے۔ مکاتب قرآن بھی دین کا شعبہ ہیں مدارس علمیہ بھی دین کے شعبے ہیں دعوت و تبلیغ بھی دین کا شعبہ ہے خانقاہیں بھی دین کا شعبہ ہیں جہاں اصلاح و تزکیۂ نفوس کا کام ہوتا ہے جس پر قبول اعمال کا مدار ہے۔</p>
<p>اس لیے دین کے جس شعبہ میں جہاں بھی کام ہورہا ہو اس کو اپنا ہی کام سمجھنا چاہیے اور اس کی اعانت کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھنا چاہیے۔ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے تھے کہ دین کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ایک دوسرے کو اپنا رفیق سمجھیں فریق نہ سمجھیں جس طرح مثلاً ریلوے کے محکمہ میں اسٹیشن ماسٹر ہوتا ہے کوئی ٹکٹ چیکر ہوتا ہے کوئی گارڈ ہوتا ہے کوئی قلی ہوتا ہے وہاں ایک دوسرے کو اپنا معاون سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا ڈیپارٹمنٹل آدمی ہے۔ دنیائے حقیر کے معاملے میں تو آپس میں اتنا تعاون اور اتحاد ہو اور دین کے معاملہ میں ایک دوسرے سے تعاون نہ ہو یہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال ایسے دینی کاموں میں زیادہ ہے جہاں عوام کی اکثریت ہے اور علماء کم ہیں چنانچہ ایک شخص نے شیخ العرب والعجم عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم سے کہا کہ تبلیغ میں نبیوں والا کام ہوتا ہے اور مدرسوں اور خانقاہوں میں ولیوں والا کام ہوتا ہے تو حضرت نے فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو کیونکہ عالم نہیں ہو۔ مکاتب قرآن مدارس علمیہ اور تزکیۂ نفس کی خانقاہیں سب نبیوں والا کام ہے جو قرآن پاک سے ثابت ہے۔ تعمیر کعبہ کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دعا مانگ رہے ہیں کہ اے اﷲ ہماری اولاد میں ایک پیغمبر پیدا فرما یعنی سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو مبعوث فرما جس کی بعثت کا مقصد کیا ہوگا یتلواعلیہم ایاتک ویعلمہم الکتاب والحکمۃ آپ کے کلام کی آیات پڑھ کر لوگوں کو سنائے اور آپ کی کتاب کی تعلیم دے یعنی تجوید و قرأت کی تعلیم دے اور کتاب اﷲ کے معانی بتائے۔ اس آیت سے مکاتب قرآن اور مدارس علمیہ کے قیام کا ثبوت ملتا ہے جہاں تجوید و قرأت سکھائی جاتی ہے اور مدارس علمیہ میں کتاب اﷲ کی تفسیر کی جاتی ہے جو نبی آخر الزماں صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعثت کے مقاصد سے ہے اور آپ کی بعثت کے مقاصد کو جاری رکھنا امت پر فرض ہے۔ اس کے بعد دونوں پیغمبروں نے دعا مانگی ویزکیہم اور وہ نبی ایسا ہو جو دلوں کا تزکیہ کرے دلوں کو پاک کردے۔ معلوم ہوا کہ تزکیہ بھی بعثت نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقاصد میں سے ہے اور باب نبوت اب بند ہوچکا ہے لہٰذا یہ کار نبوت آپ کے سچے نائبین انجام دے رہے ہیں جو قیامت تک جاری رہے گا۔ یزکیہم سے خانقاہوں کے قیام کا ثبوت ہے جہاں دلوں کو غیر اﷲ کی گندگی سے پاک کیا جاتاہے اور اخلاص کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جس پر قبول اعمال کا مدار ہے۔</p>
<p>محی السنہ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب رحمۃ اﷲ علیہ اپنے رسالہ اشرف الہدایات لاصلاح المنکرات میں فرماتے ہیں کہ آج کل ایک مرض بہت عام اور روز بروز بڑھتا جاتا ہے وہ مرض دینی حدود کی رعایت نہ کرنا ہے جس کی وجہ سے دو قسم کی کوتاہیاں ظاہر ہوتی ہیں کہیں افراط یعنی حد سے بڑھ جانا کہیں تفریط یعنی حد سے کمی کردینا۔ افراط کی کوتاہی غلو فی الدین اور بدعت میں مبتلا کردیتی ہے جو نہایت مضرت رساں اور بڑی گمراہی ہے جس میں آج کل بہت زیادہ ابتلا ہے اور تفریط کی کوتاہی سے اس عمل کے پورے برکات اور فوائد سے محرومی ہوجاتی ہے۔ یہ دونوں کوتاہیاں دین کے ہر شعبہ میں ہم سے ہورہی ہیں۔ یہ دونوں کوتاہیاں افراط و تفریط کی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی وعظ و نصیحت عام و خاص میں بھی دیکھی گئیں۔ تفریط کی کوتاہی تو بہت عام ہے جس کی وجہ سے نصیحت کا باب قریب قریب بند ہوگیاہے جو ہماری ہلاکی و بربادی کا ایک بڑا سبب ہے۔ افراط کی کوتاہی کا بھی بہت سے مواقع میں مشاہدہ ہوا کہ بعض وہ صاحبان جن کو کچھ توفیق دینی جدوجہد کی عطا ہوئی وہ علماء کاملین پر یہ اعتراض کرنے لگے کہ دین مٹ رہا ہے اور یہ حضرات تبلیغ نہیں کرتے ہیں حالانکہ وہ حضرات بڑی دینی خدمات میں ہمہ تن مشغول رہتے ہیں۔</p>
<p>ایسے لوگوں کے اعتراض سے ظاہر ہوا کہ تبلیغ کی ضروری حدود بلکہ اس کی حقیقت سے ناواقفیت کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اس نظام خاص کو (جس کے موافق دینی جدوجہد کرتے ہیں) مقصود سمجھتے ہیں جو افراط کا مصداق ہے حالانکہ نظام سنت کے علاوہ کوئی اور نظام مقصود نہیں اور کسی دوسرے نظام کو یہ درجہ دینا صریح تعدی اور بدعت ہے۔ (انتہی کلامہ)</p>
<p>لہٰذا دین کے ہر شعبہ کے آداب اور احکام و حدود موجود ہیں مثلاً نماز کے لیے احکام اور حدود ہیں کہ کہیں نماز فرض کہیں واجب کہیں مستحب اور کہیں ممنوع ہے جیسے زوال اور طلوع کے وقت نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ اسی طرح تبلیغ بھی دین کا شعبہ ہے اس کے بھی آداب و احکام و حدود ہیں جن کو علماء متقین سے معلوم کرکے اس کے مطابق عمل کریں تو افراط و تفریط میں مبتلا نہیں ہوں گے اور مختلف شعبہ ہائے دین کی اہمیت بھی معلوم ہوگی جس سے تبلیغ اور دینی مساعی کی افادیت میں اضافہ ہوگا اور رضاء حق کا حصول ہوگا ان شاء اﷲ تعالیٰ۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو دین کے ہر شعبہ کو اپنا شعبہ سمجھنے اور ہر دینی کام کو حدود کے اندر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F343.html&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%20%D8%B1%D8%A8%D8%B7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F343.html&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%20%D8%B1%D8%A8%D8%B7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F343.html&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%20%D8%B1%D8%A8%D8%B7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F343.html&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%20%D8%B1%D8%A8%D8%B7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F343.html&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%20%D8%B1%D8%A8%D8%B7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F343.html&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%20%D8%B1%D8%A8%D8%B7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/343.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تو آخری امید توہی پہلی آس ہے</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/342.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/342.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:55:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[حمد باري تعالي]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=342</guid>
		<description><![CDATA[جناب شاہین اقبال اثر
جو جسم و جاں کے ساتھ ہے شہِ رگ کے پاس ہے
سوچو تو اس کی ذات بعید از قیاس ہے
دل کی نظر سے خالقِ دل پر نظر کریں
اہلِ نظر سے میرا یہی التماس ہے
ہر چیز سے عیاں ہے وہ ہر چیز میں نہاں
پتوں میں اس کا رنگ ہے پھولوں میں باس ہے
دیتی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جناب شاہین اقبال اثر</p>
<p>جو جسم و جاں کے ساتھ ہے شہِ رگ کے پاس ہے<br />
سوچو تو اس کی ذات بعید از قیاس ہے</p>
<p>دل کی نظر سے خالقِ دل پر نظر کریں<br />
اہلِ نظر سے میرا یہی التماس ہے</p>
<p>ہر چیز سے عیاں ہے وہ ہر چیز میں نہاں<br />
پتوں میں اس کا رنگ ہے پھولوں میں باس ہے</p>
<p>دیتی ہے عقل ہفت حجابات کی خبر<br />
اور عشق کا ہے دعویٰ کہ تو بے لباس ہے</p>
<p>اس عالمِ سراب میں سیراب ہے وہی<br />
جو تجھ کو ڈھونڈتا ہے جسے تیری پیاس ہے</p>
<p>تو ہی تو میرا اول و آخر ہے کارساز<br />
تو آخری امید تو ہی پہلی آس ہے</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F342.html&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%20%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C%20%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%20%D8%AA%D9%88%DB%81%DB%8C%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D8%A2%D8%B3%20%DB%81%DB%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F342.html&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%20%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C%20%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%20%D8%AA%D9%88%DB%81%DB%8C%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D8%A2%D8%B3%20%DB%81%DB%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F342.html&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%20%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C%20%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%20%D8%AA%D9%88%DB%81%DB%8C%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D8%A2%D8%B3%20%DB%81%DB%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F342.html&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%20%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C%20%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%20%D8%AA%D9%88%DB%81%DB%8C%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D8%A2%D8%B3%20%DB%81%DB%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F342.html&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%20%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C%20%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%20%D8%AA%D9%88%DB%81%DB%8C%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D8%A2%D8%B3%20%DB%81%DB%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F342.html&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%20%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C%20%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%AF%20%D8%AA%D9%88%DB%81%DB%8C%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D8%A2%D8%B3%20%DB%81%DB%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/342.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مسلسل روضہ سرکارﷺ دیکھے</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/341.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/341.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:54:58 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[نعت شریف]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=341</guid>
		<description><![CDATA[جناب شاہین اقبال اثر
وہ کیا شاہوں کے پھر دربار دیکھے
جو طیبہ کے در و دیوار دیکھے
نظر آئے اسے کیا رونقِ دہر
جو شہرِ نور کے انوار دیکھے
جو دیکھا گلشن طیبہ تو جانا
مری کاغان سب بے کار دیکھے
جسے ہو دیکھنا دنیا میں جنت
شہِ ابرار کا دربار دیکھے
سخن حسان کا ہو جس کے آگے
وہ کیا ہم ایسوں کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جناب شاہین اقبال اثر</p>
<p>وہ کیا شاہوں کے پھر دربار دیکھے<br />
جو طیبہ کے در و دیوار دیکھے</p>
<p>نظر آئے اسے کیا رونقِ دہر<br />
جو شہرِ نور کے انوار دیکھے</p>
<p>جو دیکھا گلشن طیبہ تو جانا<br />
مری کاغان سب بے کار دیکھے</p>
<p>جسے ہو دیکھنا دنیا میں جنت<br />
شہِ ابرار کا دربار دیکھے</p>
<p>سخن حسان کا ہو جس کے آگے<br />
وہ کیا ہم ایسوں کے اشعار دیکھے</p>
<p>جو محبوب خدا خود ناخدا ہوں<br />
تو عاشق کیوں نہ بیڑا پار دیکھے</p>
<p>رہیں سرکارﷺ پر جس کی نگاہیں<br />
وہ کیونکر جانب اغیار دیکھے</p>
<p>جو پیارے آقاﷺ کا بن جائے پیارا<br />
وہ پیارے مولیٰ کا پھر پیار دیکھے</p>
<p>یہی چشم اثرؔ کا مدعا ہے<br />
مسلسل روضۂ سرکارﷺ دیکھے</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F341.html&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%20%D8%B1%D9%88%D8%B6%DB%81%20%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1%EF%B7%BA%20%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F341.html&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%20%D8%B1%D9%88%D8%B6%DB%81%20%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1%EF%B7%BA%20%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F341.html&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%20%D8%B1%D9%88%D8%B6%DB%81%20%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1%EF%B7%BA%20%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F341.html&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%20%D8%B1%D9%88%D8%B6%DB%81%20%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1%EF%B7%BA%20%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F341.html&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%20%D8%B1%D9%88%D8%B6%DB%81%20%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1%EF%B7%BA%20%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F341.html&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%20%D8%B1%D9%88%D8%B6%DB%81%20%D8%B3%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%B1%EF%B7%BA%20%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%DB%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/341.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تری محفل ہو میرا دل‘ ترا جلوہ مری آنکھیں</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/340.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/340.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:54:49 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[در مدح شیخ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=340</guid>
		<description><![CDATA[جناب شاہین اقبال اثر
اشعار در محبت حبیبی و صدیقی و رفیقی وسیلۃ یومی وغدی مرشدی و مولائی عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب ادام اﷲ ظلہم علینا
ملے جو غم کے بدلے شادمانی اس کو کہتے ہیں
جو خالق پر فدا ہو زندگانی اس کو کہتے ہیں
مجھ ایسا بے ہنر ہے شیخ کامل کی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جناب شاہین اقبال اثر<br />
اشعار در محبت حبیبی و صدیقی و رفیقی وسیلۃ یومی وغدی مرشدی و مولائی عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب ادام اﷲ ظلہم علینا</p>
<p>ملے جو غم کے بدلے شادمانی اس کو کہتے ہیں<br />
جو خالق پر فدا ہو زندگانی اس کو کہتے ہیں</p>
<p>مجھ ایسا بے ہنر ہے شیخ کامل کی غلامی میں<br />
جو سچ پوچھو خدا کی مہربانی اس کو کہتے ہیں</p>
<p>خرد والے بھی عقل و ہوش سے بیگانے ہوجائیں<br />
ذرا دیکھو شرابِ آسمانی اس کو کہتے ہیں</p>
<p>ادھر طاعت ہو بے لذت ادھر مرشد کی ہو فرقت<br />
اثرؔ سالک کا عہدِ امتحانی اس کو کہتے ہیں</p>
<p>خدا کے عشق کی مستی‘ بتوں سے ربط کی پستی<br />
حقیقت اس کو کہتے ہیں کہانی اس کو کہتے ہیں</p>
<p>کبھی جو سروقامت تھے جھکے پیری سے کچھ ایسے<br />
کمر کو دیکھ کر بولے کمانی اس کو کہتے ہیں</p>
<p>ادھر گویا ہوئے مرشد ادھر بسمل ہوئے بے حس<br />
حقیقت جانئے جادو بیانی اس کو کہتے ہیں</p>
<p>نصیحت دل میں جم جائے‘ گزرتا وقت تھم جائے<br />
تسلسل اس کو کہتے ہیں روانی اس کو کہتے ہیں</p>
<p>تری محفل ہو میرا دل‘ ترا جلوہ مری آنکھیں<br />
مرے نزدیک تو ساعت سہانی اس کو کہتے ہیں</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F340.html&amp;linkname=%D8%AA%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84%20%DB%81%D9%88%20%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7%20%D8%AF%D9%84%E2%80%98%20%D8%AA%D8%B1%D8%A7%20%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81%20%D9%85%D8%B1%DB%8C%20%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F340.html&amp;linkname=%D8%AA%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84%20%DB%81%D9%88%20%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7%20%D8%AF%D9%84%E2%80%98%20%D8%AA%D8%B1%D8%A7%20%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81%20%D9%85%D8%B1%DB%8C%20%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F340.html&amp;linkname=%D8%AA%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84%20%DB%81%D9%88%20%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7%20%D8%AF%D9%84%E2%80%98%20%D8%AA%D8%B1%D8%A7%20%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81%20%D9%85%D8%B1%DB%8C%20%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F340.html&amp;linkname=%D8%AA%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84%20%DB%81%D9%88%20%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7%20%D8%AF%D9%84%E2%80%98%20%D8%AA%D8%B1%D8%A7%20%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81%20%D9%85%D8%B1%DB%8C%20%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F340.html&amp;linkname=%D8%AA%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84%20%DB%81%D9%88%20%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7%20%D8%AF%D9%84%E2%80%98%20%D8%AA%D8%B1%D8%A7%20%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81%20%D9%85%D8%B1%DB%8C%20%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F340.html&amp;linkname=%D8%AA%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84%20%DB%81%D9%88%20%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7%20%D8%AF%D9%84%E2%80%98%20%D8%AA%D8%B1%D8%A7%20%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81%20%D9%85%D8%B1%DB%8C%20%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/340.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>لطائف و معارف سورہ فاتحہ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/344.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/344.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:54:41 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین قرآن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/344.html</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ)
سوال یہ ہے کہ سب تعریفیں اﷲ ہی کے لیے ہیں لیکن ہم کو اﷲ کی پہچان کیسے ہوگی کیونکہ ا ﷲ کو ہم دیکھ نہیں سکتے تو آگے فرماتے ہیں کہ رب العلمین میں سارے عالم کا رب ہوں میری ربوبیت سے مجھے پہچانو۔ رب کے معنیٰ ہیں تربیت کرنے والا، پرورش [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>سوال یہ ہے کہ سب تعریفیں اﷲ ہی کے لیے ہیں لیکن ہم کو اﷲ کی پہچان کیسے ہوگی کیونکہ ا ﷲ کو ہم دیکھ نہیں سکتے تو آگے فرماتے ہیں کہ رب العلمین میں سارے عالم کا رب ہوں میری ربوبیت سے مجھے پہچانو۔ رب کے معنیٰ ہیں تربیت کرنے والا، پرورش کرنے والا:</p>
<p>اَلَّذِیْ یَجْعَلُ النَّاقِصَ کَامِلاً شَیْئاً فَشَیْئاً اَیْ عَلٰی سَبِیْلِ التَّدْرِیْجِ</p>
<p>جو ناقص کو آہستہ آہستہ کامل بنا دے، بچہ چھوٹا سا پیدا ہوتا ہے اﷲ تعالیٰ کی ربوبیت سے آہستہ آہستہ پندرہ سال کا جوان ہو جا تا ہے، زمین میں آپ درخت کا بیج ڈالتے ہیں جس سے چھوٹا سا پودا نکلتا ہے جو آہستہ آہستہ پورا درخت بن جاتا ہے اسی طرح سلوک میں ترقی آہستہ آہستہ ہوتی ہے، بعض لوگ چاہتے ہیں کہ آج ہی سلسلہ میں داخل ہوئے اور آج ہی جنید بغدادی بن جائیں اس لیے جلد بازی اور تعجیل مناسب نہیں۔ اﷲتعالیٰ رب الاجسام بھی ہیں اور رب الارواح بھی ہیں خالق الارزاق البدنیۃ بھی ہیں اور خالق الارزاق الروحانیہ بھی ہیں یعنی ہمارے جسم کو بھی غذا دیتے ہیں اور ہماری روح کو بھی غذا دیتے ہیں، جسمانی غذا ماں باپ کے ذریعہ دیتے ہیں اور روحانی غذا انبیاء اور اولیاء کے ذریعہ دیتے ہیں اور وہ ذکر و عبادت ہے جس سے رفتہ رفتہ تربیت ہوتی ہے، جس طرح جسم پندرہ سال میں بالغ ہوتا ہے تو روح کے بالغ ہونے میں بھی کچھ زمانہ لگے گا۔ یہی شانِ ربوبیت ہے اور یہی اﷲ کے اﷲ ہونے کی دلیل ہے۔ الحمد ﷲ کی دلیل رب العٰلمین ہے اگر کوئی بچہ پوچھے کہ کیا دلیل ہے کہ آپ ہمارے اماں ابا ہیں تو ماں باپ کہیں گے کہ ہم تمہیں پال رہے ہیں یہ پالنا ہی دلیل ہے کہ ہم تمہارے اماں ابا ہیں، اﷲ تعالیٰ کی پہچان رب العٰلمین ہے کہ میں تمہیں پال رہا ہوں، تمہارے پالنے کے لیے میںنے زمین وآسمان چاند سورج بادل اور ہوائیں سارا نظامِ کائنات پیدا کیا ہے اور ساری کائنات کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے، ایک لقمہ جو تمہارے منہ تک پہنچتا ہے اس میں زمین وآسمان چاند اور سورج بارش اور ہوائیں غرض پوری کائنات خدمت میں لگی ہے تب ایک لقمہ تیار ہوا ہے لہٰذا میری ربوبیت دلیل ہے میری الوہیت کی، تمہیں پالنا دلیل ہے کہ میں تمہارا اﷲ ہوں تمہاری پرورش میں پوری کائنات کو میں نے تمہارا خادم بنا دیا تو سوچوکہ تم کس لیے ہو؟ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کاارشاد ہے: اِنَّ الدُّنْیَا خُلِقَتْ لَکُمْ وَاَنْتُمْ خُلِقْتُمْ لِلْآخِرَۃِ</p>
<p>(تخریج احادیث الاحیائ، رقم الحدیث:۳۱۸۷)</p>
<p>یعنی ساری دنیا تمہارے لیے پیدا کی گئی ہے اور تم آخرت کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ حضرت سعدی شیرازی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ؎</p>
<p>ابر و باد و مہہ و خورشید و فلک در کارند</p>
<p>تا تو نانے بکف آری و بغفلت نخوری</p>
<p>ہمہ از بہرِ تو سرگشتہ و فرماں بردار</p>
<p>شرطِ انصاف نباشد کہ تو فرماں نہ بری</p>
<p>بادل اور ہوائیں اور چاند سورج تیری خدمت میں لگے ہوئے ہیں تاکہ جب تو روٹی ہاتھ میں لے تو غفلت سے نہ کھائے، سارا جہاں تیرا مطیع وفرماں بردار بنادیا گیا تو یہ سخت ظلم ہے کہ ایسے محسن مالک کی تو فرمانبرداری نہ کرے۔</p>
<p>اس کے بعد الرحمٰن الرحیم ہے، میں تمہارا رب تو ہوں لیکن رحمٰن و رحیم بھی ہوں، میری ربوبیت شانِ رحمت کے ساتھ ہے، دیکھو میں تمہیں کتنی رحمت سے پال رہا ہوں۔ ایک بڑھئی ذرا ساچاقو بناتا ہے تو پہلے لوہے کو آگ میں ڈالتا ہے پھر ہتھوڑے مارتا ہے۔ بتاؤ جب میں نے تم کو بنایا تو ماں کے پیٹ میں کتنے ہتھوڑے لگائے اور کس آگ میں جلایا؟ اس رحمت سے پیدا کرتا ہوں کہ تمہاری ماں کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ کب کان فِٹ ہورہے ہیں، کب آنکھیں لگ رہی ہیں، کب زبان بن رہی ہے، کب دل لگا رہا ہوں۔ آہ! تمہارا میٹریل تو باپ کا نطفہ اور ماں کا حیض تھا جس پرتمہارے اعضاء کی تشکیل کی جس میں تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچنے دی۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F344.html&amp;linkname=%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%B1%DB%81%20%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%DB%81" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F344.html&amp;linkname=%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%B1%DB%81%20%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%DB%81" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F344.html&amp;linkname=%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%B1%DB%81%20%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%DB%81" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F344.html&amp;linkname=%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%B1%DB%81%20%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%DB%81" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F344.html&amp;linkname=%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%B1%DB%81%20%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%DB%81" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F344.html&amp;linkname=%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%B1%DB%81%20%D9%81%D8%A7%D8%AA%D8%AD%DB%81">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/344.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خزائن الحدیث</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/339.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/339.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:41:04 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[احادیث نبویہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/339.html</guid>
		<description><![CDATA[وَجَبَتْ مَحَبَّتِیْ لِلْمُتَحَابِّیْنَ فِیَّ وَالْمُتَجَا لِسِیْنَ فِیَّ وَالْمُتَزَاوِرِیْنَ فِیَّ وَالْمُتَبَاذِلِیْنَ فِیَّ
(مؤطا مالک،کتابُ الجامع،باب ماجآء فی المتحابین فی اﷲ،ص:۷۲۳)
ترجمہ: میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہوجاتی ہے جو میری وجہ سے آپس میں محبت کرتے ہیں اور میری محبت میں آپس میں مل بیٹھتے ہیں اور میرے لیے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرتے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>وَجَبَتْ مَحَبَّتِیْ لِلْمُتَحَابِّیْنَ فِیَّ وَالْمُتَجَا لِسِیْنَ فِیَّ وَالْمُتَزَاوِرِیْنَ فِیَّ وَالْمُتَبَاذِلِیْنَ فِیَّ</p>
<p>(مؤطا مالک،کتابُ الجامع،باب ماجآء فی المتحابین فی اﷲ،ص:۷۲۳)</p>
<p>ترجمہ: میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہوجاتی ہے جو میری وجہ سے آپس میں محبت کرتے ہیں اور میری محبت میں آپس میں مل بیٹھتے ہیں اور میرے لیے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں اور میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ اللہ والی محبت اتنی بڑی نعمت ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَجَبَتْ مَحَبَّتِیْ لِلْمُتَحَابِّیْنَ فِیَّجو لوگ میری وجہ سے آپس میں محبت کرتے ہیںمیری محبت ان کے لیے واجب ہو جاتی ہے یعنی احساناََ اپنے ذمہ واجب کر لیتا ہوں۔ میں ان سے محبت کرنے لگتا ہوں جس کی برکت سے وہ مجھ سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ مگر صرف قلبی محبت پر اکتفا نہ کرو جسم کو بھی اللہ والوں کے پاس لے جائو کیونکہ قلب چل نہیں سکتا قالب کے ذریعہ جائے گا لہٰذا فرمایا وَالْمُتَجَا لِسِیْنَ فِیَّ اپنے قلب کو قالب کی سواری پر لے جائو اور اللہ والوں کے پاس جا کر بیٹھو اس کے بعدوَالْمُتَزَاوِرِیْنَ فِیَّ فرمایا اور ایک دوسرے کی زیارت کرتے رہو، وہیں نہ رہ جائو کہ بال بچوں کو اور ذریعۂ معاش و تجارت کو چھوڑ دو اور اس کے بعد وَالْمُتَبَاذِلِیْنَ فِیَّہے کہ یہ بندے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہ جان لے لینا لیکن مال کی بات نہ کرنا۔ گر جاںطلبی مضایقہ نیست ور زر طلبی سخن درین ست۔ لہٰذا ایک دوسرے پر خرچ بھی کرو۔ صوفیاء کو اللہ نے یہ نعمت بھی عطا فرمائی ہے کہ ایک دوسرے پر خرچ بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>(فیوضِ ربانی، صفحہ:۱۰)</p>
<p>صحبتِ اہل اللہ کے عبادت سے افضل ہونے کی وجہ</p>
<p>حضرت حکیم الامت نے مفتی شفیع صاحب سے فرمایا کہ ایک شاعر نے جو کہا ہے کہ اہل اللہ کی صحبت سو سال کی اخلاص والی عبادت سے بہتر ہے یہ اس نے کم کہا ہے، اللہ والوں کی صحبت ایک لاکھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ اللہ والوں کی صحبت سے اللہ ملتا ہے اور کثرتِ عبادت سے ثواب ملتا ہے۔ اور اہل اللہ کی صحبت کے عبادت سے افضل ہونے کی دلیل بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ مَنْ اَحَبَّ عَبْدًالاَ یُحِبُّہٗ اِلاَّ ِﷲِ کہ جو کسی سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے تو اس کو اللہ تعالیٰ حلاوتِ ایمانی عطا فرمائیں گے اور حلاوتِ ایمانی جس کو نصیب ہو گی اس کا خاتمہ ایمان پر ہونے کی بشارت ہے۔ دیکھئے اس محبت للّٰہی پر کسی ثواب کا وعدہ نہیں فرمایا گیا بلکہ حلاوتِ ایمانی عطا فرمائی کہ ہم اسے مل جائیں گے۔</p>
<p>(فیوضِ ربانی، صفحہ:۵۳)</p>
<p>صحبت شیخ سے کیا ملتا ہے؟</p>
<p>بنگلہ دیش میں ایک عالم نے مجھ سے سوال کیاکہ ماں باپ کو رحمت کی نظر سے دیکھنے سے ایک حج مقبول کا ثواب ملتا ہے تو اپنے شیخ کو دیکھنے سے کیا ملتا ہے؟ میرے قلب کو فوراََ اللہ تعالیٰ نے یہ جواب عطا فرمایا کہ ماں باپ کو دیکھنے سے کعبہ ملتا ہے اور مرشد کو دیکھنے سے کعبہ والا ملتا ہے، رب الکعبۃ ملتا ہے کیونکہ حدیث شریف میں ہے: اِذَا رُأُوْا ذُکِرَ اﷲُ (مسند احمد،مسند الشامین)</p>
<p>اللہ والوں کی پہچان یہی ہے کہ ان کو دیکھنے سے اللہ یاد آتا ہے ۔ ان کی صحبت سے اصلاح ہوتی ہے۔ اصلاح کے لیے انسان چاہیے اسی لیے پیغمبر بھیجے جاتے ہیں۔ اگر کعبہ شریف میں اصلاح کی شان ہوتی تو تین سو ساٹھ بت کعبہ کے اندر رکھے ہوئے نہ ہوتے۔ نبی اور پیغمبر اصلاح کرتا ہے پھر کعبہ شریف کی تجلیات نظر آتی ہیں ورنہ کفر کے موتیا سے جس کے دل کی آنکھیں اندھی ہیں وہ کعبہ کے انوار کیا دیکھے گا۔</p>
<p>(فیوضِ ربانی، صفحہ:۵۴)</p>
<p>ژژژژژ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F339.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F339.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F339.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F339.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F339.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F339.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/339.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت تھانویؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/338.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/338.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:39:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/338.html</guid>
		<description><![CDATA[{گذشتہ سے پیوستہ}
حضرت تھانویؒ کی غرباء کے ساتھ محبت و خلوص
فرمایا کہ ایک غریب آدمی نے تجارت میں سے کچھ میرے لیے مقرر کررکھا تھا ایک دفعہ صرف ایک پیسہ نکلتا تھا۔ مجھے انہوں نے اکنی دے کر یہ کہا کہ لو ایک پیسہ تم رکھ لو اور تین پیسے مجھے واپس کردومیں نے نہایت [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>{گذشتہ سے پیوستہ}</p>
<p>حضرت تھانویؒ کی غرباء کے ساتھ محبت و خلوص</p>
<p>فرمایا کہ ایک غریب آدمی نے تجارت میں سے کچھ میرے لیے مقرر کررکھا تھا ایک دفعہ صرف ایک پیسہ نکلتا تھا۔ مجھے انہوں نے اکنی دے کر یہ کہا کہ لو ایک پیسہ تم رکھ لو اور تین پیسے مجھے واپس کردومیں نے نہایت بشاشت سے قبول کرلیا اور تین پیسے واپس دے دیئے (اس سے حضرت کی قناعت و انکساری اور غرباء کے ساتھ محبت و خلوص اور ان کی دلجوئی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ جامع)</p>
<p>صحت عجیب نعمت ہے</p>
<p>فرمایا کہ صحت عجیب نعمت ہے۔ لکھنو میں ایک نواب تھے۔ ان کو ضعفِ معدہ کی شکایت تھی بس دوتولہ گوشت کا قیمہ پوٹلی میں باندھ کر چوستے تھے۔ ایک دفعہ گومتی کے کنارے اپنے مصاحبین کے پاس بیٹھے تھے وہاں دیکھا کہ ایک لکڑ ہارا لکڑیوں کا گٹھا سر پر رکھے لارہا ہے اس نے وہ گٹھا ایک درخت کے نیچے لاکر پٹکا اور گومتی میں ہاتھ منہ دھویا اور درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنا روٹ نکالا اور پیاز کے ساتھ کھانا شروع کیا کھا کر اور پانی پی کر سوگیا اور خراٹے لینے شروع کئے۔ نواب صاحب نے اس کی یہ حالت دیکھ کر اپنے مصاحبین سے کہا کہ میں اس تبادلہ پر راضی ہوں کہ میرا تمول اور بیماری اسے مل جائے اور اس کا افلاس اور تندرستی مجھے مل جائے۔</p>
<p>حُب جاہ و مال بری چیز ہے</p>
<p>فرمایا کہ حُب جاہ و مال ایسی بری چیز ہے کہ یہ انسان کو کسی حال چین سے نہیں رہنے دیتی ایک ڈپٹی صاحب تھے وہ بیچارے رات بھر تسبیح لیے کوٹھے پر ٹہلتے تھے اور مال کی فکر میں سوتے نہ تھے۔ بس ساری خرابی بڑائی کی ہے۔ اس کے لیے مال ڈھونڈتا ہے اگر آدمی چھوٹا بن کر رہے اور تھوڑے پر قناعت کرے پھر کچھ بھی فکر نہیں۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں ؎</p>
<p>نہ بہ اشتر بر سوارم نہ چواشتر زیر بارم</p>
<p>نہ خداوند رعیت نہ غلام شہریارم</p>
<p>مولانا فرماتے ہیں ؎</p>
<p>چشمہائو رشکہائو خشمہا</p>
<p>برسرت ریزد چو آب از مشکہا</p>
<p>خویش رار بخور سازو زار دار</p>
<p>تاترابیروں کنند از اشتہار</p>
<p>اشتہارِ خلق بند محکم است</p>
<p>بند ایں ازبند آہن کے کم است</p>
<p>ذلت عرض احتیاج کو کہتے ہیں</p>
<p>فرمایا کہ ذلت کہتے ہیں عرض احتیاج کو اگر آدمی کچھ سوال نہ کرے تو کچھ ذلت نہیں۔ چاہے لنگوٹہ باندھے پھرے۔ ہم نے کسی کو نہیں دیکھاکہ بدون عرض احتیاج کے کوئی شخص دین کی خدمت کرے اور پھر مارا مارا پھرے۔ انگریز بڑے بڑے امراء کی عزت نہیں کرتے اور ادنیٰ ادنیٰ مولویوں کی عزت کرتے ہیں۔</p>
<p>اخبار کا معیارِ اسلامی</p>
<p>مجلس کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ مولوی محمد شفیع صاحب دیوبندی اخبار جاری کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا ہے کہ اگر اخبار جاری کرو تو ایسا کرو کہ وہ بالکل شریعت کے موافق ہو تاکہ اسے دیکھ کر لوگوں کو یہ کہنا ممکن ہو کہ اسلامی اخبار ایسا ہوتا ہے اور اس کا معیار یہ ہے کہ جو لکھو یہ غور کرو کہ اس کا تکلم شریعت میں جائز ہے یا نہیں۔ اگر تکلم جائز ہے تو لکھنا بھی جائز ہے اور اگر تکلم ناجائز ہے تو لکھنا بھی ناجائز ہے۔ انہوں نے ضرورت اخبار کے متعلق مجھ سے مضمون چاہا میں نے کہا بے تکلف سمجھ میں نہیں آتا۔ اور تکلف کو جی نہیں چاہتا اتفاق سے مولوی عیسیٰ صاحب الہ آبادی کا خط آیاہوا تھا اس میں لکھا تھا کہ فلاں شخص کا حال دریافت کرکے لکھئے تاکہ اطمینان ہو اور لکھا تھا کان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یتفقد اصحابہ اس سے اخبار کی ضرورت بھی مفہوم ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں کی بگڑی حالت پر اصلاح اور ضرورت کی اطلاع پر امداد کرسکیں۔</p>
<p>قبول ہدیہ کا معیار</p>
<p>فرمایا کہ ایک شخص نے کچھ ہدیہ بھیجا اور رقعہ میں یہ تحریر کیا کہ حسب معمول قدیم روانہ کرتا ہوں اس پر حضرت والا نے واپس فرمادیا۔ اور یہ فرمایا کہ یہ لزوم کیسا۔ پھر وہ بہت دنوں کے بعد معافی کو آئے۔ اور بیوی کی بیماری کا عذر بیان کیا۔ فرمایا کہ اگر مقدمہ کی تاریخ ہوتی تب بھی یہی عذر کرتے۔ رنج تو اسی سے ہوتا ہے کہ زبان سے تو محبت کا دعویٰ کریں اور برتائو کریں اجنبیوں جیسا۔ البتہ اگر دعویٰ محبت کا نہ ہو پھر کوئی شکایت نہیں فلاں شخص تمام عمر مجھے برا بھلا کہتا رہا۔ مگر کبھی خیال بھی نہ ہوا۔ منصور کو جب مقتل میں لے گئے ہیں تو لوگ ان پر اینٹ پتھر برسا رہے تھے اور وہ التفات بھی نہ کرتے تھے۔ حضرت شبلی رحمۃ اﷲ علیہ بھی کسی جگہ موجود تھے انہوں نے بھی ایک پھول اٹھا کر پھینک دیا۔ اس پر منصور نے ایک آہ کی۔ لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو کہا کہ اور لوگ تو جاننے والے نہیں اور یہ جاننے والے ہیں ان کے مارنے سے تکلیف ہوئی۔ اسی سلسلہ میں یہ بھی فرمایا کہ بھائی اکبر علی نے چاہا تھا کہ کچھ مقدار معین سے میری خدمت کیا کریں۔ میں نے انکار کردیا اس لیے کہ خواہ مخواہ یہ فکر رہے گی کہ کب پہلی تاریخ ہوگی۔ کب منی آرڈر آئے گا۔ دیر ہوگی تو کہونگا کہ شاید کوئی وجہ ہوگئی ہوگی ایسے ہدیے سے راحت نہیں ہوتی بلکہ اذیت انتظار ہوتی ہے۔ اﷲ ایسی ایسی جگہ سے دیتا ہے جہاں گمان بھی نہیں ہوتا اس میں ہے پوری راحت۔ بھائی نے کہا کہ آخر اوروں سے بھی تولیتے ہو۔ میں نے کہا کہ وہ لوگ مقرر تھوڑا ہی کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے کبھی بیس بیس کبھی پچیس پچیس روپے دیئے میں نے لے لیے اس انتظار کی کلفت پر متفرع کرکے میں کہتا ہوں کہ جب پیروں کے یہاں جائو تو ہدیہ میں لزوم کا معاملہ کرکے نہ جائو اس سے ان کی نیت بگڑتی ہے۔ وہ تو تم کو سنواریں اور تم ان کو بگاڑو۔ اس نیت پر ایک خواب یاد آیا۔ مشہور ہے کہ ایک مرید نے اپنے پیر سے کہا کہ حضرت میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری انگلیوں میں پاخانہ لگا ہے اور آپ کی انگلیوں میں شہد۔ پیر نے کہا ظاہر ہے کہ ہم دیندار ہیں اور تم دنیا دار۔ مرید نے کہا کہ ابھی خواب ختم نہیں ہوا یہ بھی دیکھا ہے کہ میری انگلیوں کو آپ چاٹ رہے ہیں اور آپ کی انگلیوں کو میں چاٹ رہا ہوں۔ پھر تو پیر صاحب بہت بگڑے ۔ہمارے حضرت نے فرمایا تعبیر اس کی ظاہر ہے کہ پیر تو اس سے دنیا کا نفع اٹھاتا تھا اور مرید دین کا ایسوں کو دیکھ کر لوگوں نے ملائوں کو ایک طرف سے ذلیل سمجھ رکھا ہے کہ بس ہمارے غلام ہیں یا یہ کہ بے حس ہیں۔ ہمارے مولانا خلیل احمد صاحبؒ فرماتے تھے کہ ہم حاجتمند تو ہیں مگر دین فروش نہیں۔ میرا مذہب تو ہدیہ میں یہ ہے کہ اگر جوش اٹھے تو دے دو ورنہ نہیں۔ معمول کرنے میں یہ خرابی ہے کہ اگر جی نہ چاہے تب بھی دینا پڑتا۔ صاحب ہدیہ نے کچھ عذر کرکے کہا کہ حضرت میں نے جو کچھ کہا ہے سب صحیح ہے۔ فرمایا میں اس کی تکذیب تو نہیں کرتا۔ معاملہ میں تو میرا یہاں تک معمول ہے کہ اگر ایک طرف چمار ہو اور ایک طرف مولوی صاحب ہوں تو میں یہ نہ کہوں گا کہ کیا مولوی صاحب جھوٹ بولتے ہیں۔ حضرت شریح حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مقرر کردہ حضرت علیؓ کی خلافت میں بھی قاضی تھے۔ جب حضرت علیؓ کی زرہ چوری ہوگئی۔ ایک یہودی کے پاس پہچانی۔ تو حضرت شریح کے یہاں دعویٰ دائر کیا۔ حضرت شریح نے گواہ طلب کئے آپ نے اپنے صاحبزادے اور ایک آزاد کردہ غلام کو پیش کیا حضرت شریح نے کہا کہ صاحبزادہ کی گواہی معتبر نہیں(چونکہ شریح کے مذہب میں لڑکے کی گواہی باپ کے حق میں مقبول نہیں تھی اور حضرت علی کے نزدیک بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں معتبر تھی۔) لہٰذا تکمیل شہادت نہیں ہوئی۔ حضرت علیؓ سے کہا کہ اور گواہ پیش کیجئے۔ آپ نے عذر کردیا۔ اس پر حضرت شریح نے مقدمہ کو خارج کردیا۔ آپ خوشی خوشی عدالت سے باہر تشریف لے آئے۔ یہودی نے اس حالت کو دیکھ کر فوراً کلمہ پڑھ لیا اور زرہ پیش کی کہ آپ کی زرہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہم نے تم کو ہی ہبہ کی۔ وہ یہودی مدۃ العمر آپ کے ساتھ رہا اور جنگ صفین میں شہید ہوگیا۔ اگر آج کل کا مذاق ہوتا تو کہتے کیا حضرت جھوٹے تھے طرہ یہ کہ ان کی خلافت کا زمانہ اور ان کو ذرا رنج نہیں (ہمارے حضرت نے مجلس کی طرف مخاطب ہوکے فرمایا) میں تو جان کر شریعت کو نہ چھوڑوںگا۔ یہاں قبول ہدیہ سے مانع شرعی ہے کیسے لیلوں البتہ اگر مجھ کو اپنی غلطی ثابت ہوجائے رجوع کرلونگا اور بدون مانع شرعی کے میں کیوں واپس کرتا جبکہ میری کوئی آمدنی بھی نہیں ہے۔ اسی سے سمجھ لو کہ رنجیدہ ہوکر ہی واپس کرتا ہوں۔ کاشتکار کو اناج کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر کوئی پیشاب میں بھگوکر لائے تو کیا وہ اس کو لے لے گا؟جتنا تجربہ مجھے اب ہوا ہے اگر والد صاحب کی وفات پر ہوتا تو میں اپنے اس حصہ کے ترکہ کو تتر بتر نہ کرتا۔ پھر دیکھتا کون ذلیل سمجھ کر دیتا ہے۔ خیر اﷲ کی حکمت ہے شاید اس حالت سے میرے اندر تکبر پیدا ہوجاتا۔</p>
<p>پھر وہ صاحب نہایت لجاجت سے معافی کے خواستگار ہوئے حضرت نے فرمایا کہ معاف ہے۔ مگر ہدیہ بھیجنے کی بالکل اجازت نہیں انہوں نے اس کو منظور کرلیا۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ژژژژژ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F338.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F338.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F338.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F338.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F338.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F338.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/338.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظاتِ حضرت والا ہردوئیؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/337.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/337.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:38:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/337.html</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ)
ارشاد فرمایا کہ نقل کی برکت اصل تک پہنچادیتی ہے۔ ڈرائیور کی نقل کرتے کرتے آدمی ڈرائیور ہوجاتا ہے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وضع قطع اور لباس کی نقل کی تھی نقل کی برکت سے سیرت بھی بدل دی گئی اور سب کو ایمان عطا کردیا گیا۔ اور سب کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ نقل کی برکت اصل تک پہنچادیتی ہے۔ ڈرائیور کی نقل کرتے کرتے آدمی ڈرائیور ہوجاتا ہے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وضع قطع اور لباس کی نقل کی تھی نقل کی برکت سے سیرت بھی بدل دی گئی اور سب کو ایمان عطا کردیا گیا۔ اور سب کے سب کافر سے صحابی ہوگئے۔</p>
<p>اسی طرح شیطان کی نقل سے شیطان کی سیرت بھی آجاتی ہے مثلاً شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے منع فرمادیا کہ ہرگز ہرگز کوئی بائیں ہاتھ سے نہ کھاوے اس قدر اہتمام سے منع فرمایا جو نہایت ہی بلیغ انداز ہوتا ہے اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ فاسقین کی نقل سے سخت پرہیز کرنا چاہیے اور راز اس میں یہ ہے کہ جس کی نقل کی جاتی ہے اس کی یا محبت یا عظمت دل میں ہوتی ہے پھر اس کی عادتیں اندر آنے لگتی ہیں دل میں جس کی عظمت و محبت ہوتی ہے اعمال اس عظمت و محبت پر شہادت پیش کرتے ہیں چنانچہ انگریز کو دیکھئے بائیں ہاتھ سے کھاتے ہیں ان کے اندر شیطان کی خودبینی تکبر اور بڑوں پر اعتراض کا مادہ ہوتا ہے اور جو لوگ پائجامہ ٹخنے سے نیچے لٹکاتے ہیں چونکہ یہ متکبرین کی وضع ہے اس لیے اس کی نقل کرنے والوں میں تکبر اور اپنے بڑوں پر اعتراض، بدگمانی وغیرہ کی بیماری پیدا ہوجاتی ہے اس لیے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ٹخنہ سے نیچے پائجامہ یا لنگی کو یا کرتا و قمیص و عبا کو لٹکانے سے منع فرمایا ۔(احقر جامع عرض کرتا ہے کہ بعض اہل علم بعض روایت کی تکبر کی قید سے اس کو قید احترازی سمجھ کر یہ سمجھ گئے کہ اگر تکبر سے نہ ہو تو درست ہے یہ ان کو سخت علمی دھوکہ شیطان نے دیا ہے۔ علمائے محققین فرماتے ہیں کہ تکبر یہاں قید واقعی ہے یعنی جو بھی ٹخنہ سے نیچے لٹکاتا ہے وہ تکبر ہی سے لٹکاتا ہے(البتہ وہ بیمار جن کا پیٹ آگے نکل آتا ہے) اس کی ایک نظیر قرآن پاک میں ارشاد ہے لا تقتلوا اولادکم من خشیۃ املاق تنگ دستی کے خوف سے اپنے بچوں کو مت قتل کرو تو کیا مالداروں کو قتل اولاد جائز ہوجائے گا۔ بلکہ یہاں وہی قید واقعی ہے کہ جو بھی قتل کرتا تھا بخوف تنگ دستی ہی کرتا تھا۔)</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ جب توراۃ پر عمل نہ کرنے والوں کو قرآن پاک میں گدھا قرار دیا گیا تو قرآن پاک جو توراۃ سے افضل ہے اس کے علم رکھنے کے بعد بے عمل ہونے والا کیا مستحق وعید نہ ہوگا۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ جو آدمی خام ہوتا ہے وہی اہل دولت کے ہاتھ فروخت ہوجاتا ہے یا خوف مخلوق سے یا طمع مال سے اپنا دینی رنگ اور مذاق اور اصول شریعت کو توڑ دیتا ہے اس کی ایک عجیب مثال اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے صراحی خام میں پانی ڈالئے وہ مٹھی گھل کر اپنا وجود بھی غائب پائے گی اور اگر آگ میں پکادی جاوے تو پختہ صراحی کا پانی صراحی کے وجود کو نہیں مٹاسکتا بلکہ صراحی اس کو اپنے فیض سے ٹھنڈا کرے گی۔ یہی حال اس عالم ربانی کا ہے جو بزرگوں کی صحبت میں پختہ ہوجاتے ہیں پھر مخلوق سے اختلاط اشاعت دین کے لیے ان کو مضر نہیں ہوتا نہ جاہ نہ مال نہ شہرت کوئی فتنہ ان کو خراب نہیں کرتا۔ استقامت کی نعمت ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور ہر وقت صاحب نسبت ہونے کے سبب حق تعالیٰ پر نظر ہوتی ہے کہ قبر میں صرف رضائے حق کام آوے گی نہ جاہ نہ شہرت نہ ہجوم خلق یعنی معتقدین کا مجمع وہاں کام نہ آوے گا ؎</p>
<p>ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے</p>
<p>تہہِ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے</p>
<p>پس صراحی کی مثال سے خام سالک اور پختہ سالک کے حالات خوب سمجھ میں آسکتے ہیں خام سالک دوسروں سے متاثر ہوجاتا ہے اور پختہ سالک دوسروں کو متاثر کردیتا ہے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ اہل اﷲ سے بغض و عناد اور ان کو ایذاء دینا دنیا میں ہی اکثر ذلیل کرتا ہے ؎</p>
<p>بس تجربہ کردیم دریں دیر مکافات</p>
<p>بادُرد کشاں ہر کہ درافتاد برافتاد</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ ایک جگہ حاضری ہوئی اذان کی غلطیاں سن کر سخت رنج ہوا۔ میں نے وعظ میں صرف یہ گذارش کردی کہ اذان صحیح نہیں ہے اذان کی اصلاح ہونی چاہیے۔ بعد میں کمیٹی کے کسی صاحب نے دریافت کیا کہ صاحب وہ کیا غلطیاں ہوئیں ہیں ذرا ہم کو بتادیجئے میں نے کہا بہت اچھا سنئے۔</p>
<p>(۱) اﷲ کو اتنا کھینچا جس کو کوئی قاعدہ نہیں شرح وقایہ میں دیکھئے تلحین و ناجائز لکھا ہے۔</p>
<p>(۲) لا الہ میں الہ کو ۲ مد کے برابر کھینچا۔</p>
<p>(۳) رسول میں وائو کو کھینچا جس سے مد پیدا ہوا۔</p>
<p>معلوم ہوا کہ موذن صاحب کی تنخواہ صرف ۶۰ روپے ہے بتائیے پھر اتنی معمولی تنخواہ میں بڑھیا موذن کیسے مل جاوے گا۔ افسوس کہ اس زمانے میں وکیل بڑھیا ہو، ڈاکٹر بڑھیا ہو، انگریزی پڑھانے کا استاد بڑھیا، مگر موذن اور قرآن پڑھانے والا استاد سستا ہو۔ دنیاوی تعلیم کا مدرس بڑھیا اور اس کی تنخواہ بھی زیادہ اور قرآن پاک جو احکم الحاکمین کا کلام ہے اس کے لیے استاد سستا والا۔ اصلی گھی تو زیادہ پیسے سے ملتا ہے اور سستا مال تو ڈالڈا ہی ہوگا۔</p>
<p>ایک جگہ حاضری ہوئی تو اذان اس قدر جلدجلد دی کہ درمیان میں اتنا موقع ہی نہ دیا کہ اذان کا جواب دیا جاسکے۔</p>
<p>آج کل مسجد کے جسم پر توجہ ہے اور روح پر نہیں۔ معلوم کیا کہ مسجد کتنے میں تعمیر ہوئی تو معلوم ہوا ۲ لاکھ کی تعمیر ہوئی۔</p>
<p>میں نے عرض کیا کہ مسجد تو ۲ لاکھ کی اور موذن ۶۰ روپیہ کا۔</p>
<p>ایک مسجد میں تکبیر موذن صاحب نے اس طرح کہا حی علی الصلوٰۃِ حی علی الصلوٰۃ حی علی الفلاحِ حی علیٰ الفلاحاور کسی کو فکر بھی نہیں، اذان اور تکبیر کو غور سے سننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔</p>
<p>تکبیر کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ ایک سانس میں ۴؍ مرتبہ اﷲ اکبر کہے پھر ایک سانس میں اشہدان لا الہ الا اﷲ اشہد ان لا الہ الا اﷲ کہے، پھر ایک سانس میں اشہد ان محمداً رسول اﷲ اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہے پھر ایک سانس میں حی علی الصلوٰۃ حی علی الصلوٰۃ کہے اور پھر ایک سانس میں حی علیٰ الفلاح، حی علیٰ الفلاح، کہے اور پھر ایک سانس میں اﷲ اکبر، اﷲ اکبر لا الا الہ اﷲ کہے۔</p>
<p>ایک غلطی قراء کرام یہ کرتے ہیں کہ یہاں بھی تجوید کا قاعدہ جاری کرتے ہیں مثلاً اشہد ان لا الہ الا اﷲ اشہد ان لا الہ الا اﷲ، اشہد ان محمداً رسول اﷲ، اشہد ان محمداً رسول اﷲ حی علی الصلوٰۃ حی علی الصلوٰۃ کہتے ہیں حی علی الفلاح حی علی الفلاح یعنی پہلے کلمہ کے آخری حرف کے اعراب کو ظاہر کرتے ہیں اور دوسرے کلمہ کے آخر حرف پر جزم پڑھتے ہیں حالانکہ یہاں قرأت کا قاعدہ جاری کرنا ممنوع ہے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں الا ذان جزمٌ والاقامۃ جزمٌ والتکبیر جزمٌ اور ایک روایت میں التکبیر جزم والتسمیع جزمٌ ہے۔ (شامی ،ج۱؍ صفحہ ۳۲۳)</p>
<p>ایک جگہ حاضری ہوئی مسجد بہت شاندار لیکن امام صاحب نے جب نماز پڑھائی تو بے حد صدمہ ہوا امام صاحب نے سورہ ناس اس طرح پڑھائی من الجنات والنس حروف کی صحت نہایت ضروری ہے اب تو بیعت کرتے وقت احقر عہد لیتا ہے کہ تلاوت مع الصحت کروں گا۔</p>
<p>حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ نے جمال القرآن کے اندر لحن جلی کو حرام لکھا ہے یعنی اگر صاد کو سین پڑھ دیا یا ذال کو زا پڑھ دیا وغیرہ صرف ۲؍ مہینہ اور صرف دس منٹ انسان محنت کرت کسی قاری صاحب کے پاس تو انشاء اﷲ تعالیٰ بقدر ضرورت تلاوت صحیح کرسکے گا۔ تھانہ بھون میں بعض بڑے بڑے محدث اور مفسر کو بھی نورانی قاعدہ پڑھنا پڑا۔ آج ہمارے مشایخ کے یہاں بھی اس کا اہتمام ہونا چاہیے کہ خود بھی تلاوت مع الصحت کا اہتمام ہو اور طالبین کو بھی توجہ دلائیں مراقبہ اور استغراق اور وظائف اور حقائق و معارف کے ساتھ ایسے ضروری امور کا بھی اہتمام ضروری ہے۔ یہ حق تعالیٰ کی عظمت کا حق ہے کہ ان کے کلام کی عظمت ہو اور عظمت کلام کا حق ہے کہ صحت حروف کے ساتھ تلاوت ہو۔ اﷲ تعالیٰ کے کلام کو بے فکری اور کاہلی اور سستی سے صحیح نہ پڑھنا کس قدر گستاخی ہے اور اندیشہ مواخذہ کا ہے تصوف کا ایسا غلبہ کہ شریعت کے مسائل کا اہتمام نہ رہے یہ بہت خطرناک حالت ہے۔ اور اگر مغلوب الحال ہے تو مقتدا بنانا ایسے مغلوب کو جائز نہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ؎</p>
<p>خواجہ پندارد کہ دارد حاصلے</p>
<p>حاصلِ خواجہ بجز پندار نیست</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ دعا نہ قبول ہونے کا سبب حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ اگر امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھلائی کا پھیلانا اور برائی سے روکنا امت میں جاری نہ رہا تو عذاب عام میں ابتلا ہوگا اور دعا بھی قبول نہ ہوگی۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ ایک صاحب نے کہا کہ فلاں شادی میں شرکت سے بڑا صدمہ ہوا فوٹو کھینچے گئے اور ریکارڈنگ بھی ہوئی گانا بجانا اور تصویر کھنچانے کے گناہ میں ہم بھی مبتلا ہوگئے۔ وہاں سے اٹھنے میں خاندان کے لوگوں کا لحاظ اور دبائو معلوم ہوا میں نے کہا اچھا اگر شادی والے ایک خوبصورت پلیٹ میں چاندی کے ورق کے ساتھ مکھی کی چٹنی پیش کرتے تو آپ خاندان کے لحاظ اور دبائو سے کھالیتے یا نہیں یا اٹھ کر چلے آتے؟ کہنے لگے اٹھ کر چلا آتا فرمایا کہ پھر حسی منکر کے ساتھ جو معاملہ ہے کم از کم وہی معاملہ شرعی منکر سے بھی کیجئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ مکھی کی چٹنی تو طبعی منکر بھی ہے طبعی کراہت معلوم ہوتی ہے اور گناہوں سے اس طرح کی طبعی کراہت نہیں معلوم ہوتی میں نے کہا اچھا سنکھیا اگر کھلایا جاوے کسی شادی میں تو آپ کھالیں گے کیا سنکھیا بھی طبعی منکر ہے طبعی کراہت تو اس سے نہیں ہوتی پس جس طرح یہ عقلی منکر آپ نہیں کھا سکتے اسی طرح گناہ کے ساتھ معاملہ کیجئے۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F337.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F337.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F337.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F337.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F337.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F337.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/337.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/336.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/336.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:38:01 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/336.html</guid>
		<description><![CDATA[مرتبہ: سید عشرت جمیل میر
علم کی حفاظت کے لیے نصیحت
۳۰؍ مئی ۱۹۶۹؁ء بروز جمعہ مدرسہ امداد العلوم کراچی واقع موسیٰ کالونی
بعد فجر مدرسہ میں حضرت والا مع چند متعلقین کے لیے تشریف لائے۔ چائے کی دعوت تھی۔ کچھ صاحبان بغیر پنسل کاغذ آگئے تھے فرمایا کہ کیا آپ لوگوں نے یہ سمجھا کہ بس چائے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مرتبہ: سید عشرت جمیل میر</p>
<p>علم کی حفاظت کے لیے نصیحت</p>
<p>۳۰؍ مئی ۱۹۶۹؁ء بروز جمعہ مدرسہ امداد العلوم کراچی واقع موسیٰ کالونی</p>
<p>بعد فجر مدرسہ میں حضرت والا مع چند متعلقین کے لیے تشریف لائے۔ چائے کی دعوت تھی۔ کچھ صاحبان بغیر پنسل کاغذ آگئے تھے فرمایا کہ کیا آپ لوگوں نے یہ سمجھا کہ بس چائے پی کر اور گپ شپ کرکے واپس آجائیں گے۔ مسلمان کی خلوت ہو یا جلوت اﷲ کے ذکر سے خالی نہیں ہوسکتی۔ ایسی مجلس جو اﷲ کے ذکر سے خالی ہو اس کو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے منحوس فرمایا ہے۔ یہ ہماری مجلسیں بھی اسی لیے ہوتی ہیں کہ اﷲ کی یاد میں ترقی ہو۔ کسی کام میں لگے ہوئے ہو دل اﷲ کے ساتھ رہے کوئی لمحہ اﷲ کی یاد سے غافل نہ گذرے جیسے صحابہ کی شان تھی کہ شام میں ہیں اونٹوں پر غلہ لاد رہے ہیں اور زبان پر اﷲ کا تذکرہ چھڑا ہوا ہے۔</p>
<p>جہاں جاتے ہیں ہم تیرا فسانہ چھیڑ دیتے ہیں</p>
<p>کوئی محفل ہو تیرا رنگ محفل دیکھ لیتے ہیں</p>
<p>ہماری کوئی تقریب محض ہنسی مذاق اور گپ شپ اور تفریح کے لیے نہیں ہوتی یہ تو کافروں کا شیوہ ہے کیونکہ انہیں اﷲ تعالیٰ سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ دوسرے اپنے مربی کی باتوں کی حفاظت کرنی چاہیے کیونکہ انہی باتوں میں تمہارے دل کی تربیت کا سامان موجود ہے۔ ممکن ہے کسی موقع پر ایسی بات منہ سے نکل جائے جو پچھلے پندرہ سال میں نہ نکلی ہو اور آئندہ بھی پھر کبھی منہ سے نہ نکلے کیونکہ اپنے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تو اپنے شیخ کے ساتھ جب بھی ہوتا تھا چاہے سفر پہ ہوں یا گھر پر یا کہیں ہمیشہ اپنی جیب میں ایک کاغذ پنسل رکھتا تھا۔ ایک بار تانگہ میں تشریف لئے جارہے تھے بخاری شریف پڑھتے پڑھتے ایک دم کتاب بند کردی اور فرمایا حکیم اختر سن لو دعا مانگتے مانگتے اگر آنسو نکل پڑیں تو سمجھ لو قبول ہوگئی۔</p>
<p>اگر میرے پاس اس وقت کاغذ پنسل نہ ہوتی تو میں بھی ایسے ہی بیٹھا رہتا۔ علم کی بڑی قدر کرنی چاہیے جو شخص علم کی قدر نہیں کرتا اﷲ تعالیٰ اسے محروم رکھتے ہیں۔ آئندہ اگر کوئی خالی ہاتھ آیا تو اس کو سزا دی جائے گی۔ جیسے کوئی یوں کہے کہ گلاب جامن کھا نہیں تو ڈنڈے ماروں گا، گلاب جامن کے لیے ڈنڈا کھانا بے وقوفی ہے کہ نہیں۔ اﷲ کا ذکر تو دنیا کی تمام گلاب جامن سے کہیں زیادہ لذیذ ہے۔</p>
<p>اﷲ کی راہ میں مزاحمت ترقی کا ذریعہ ہے</p>
<p>ایک نے عرض کیا کہ گھر والے یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت کے پاس آنے سے دنیا کے کام کا نہیں رہے گا اس لیے بعض اوقات کچھ مزاحمت ہوتی ہے فرمایا کہ اس راستہ میں جتنی مزاحمت ہے تو اتنی ہی ترقی ہوتی ہے اور جن کو کچھ مزاحمت نہیں اٹھانا پڑتی ان کی ترقی بھی کم ہوتی ہے جیسے کوئی شخص آگے بڑھنا چاہ رہا ہو اور کوئی اس کو پیچھے کو گھسیٹ رہا ہو تو اس کو آگے بڑھنے کے لیے قوت صرف کرنا پڑے گی اور کیونکہ آگے بڑھنے میں اس کو مشقت ہوگی تو جو کچھ حاصل کرے گا اس کی اس کے دل میں قدر ہوگی اور جدوجہد میں قوت پرواز بھی بڑھتی ہے بہ نسبت اس شخص کے جس کو کچھ مشقت اٹھانی نہیں پڑ رہی وہ ایک خاص رفتار سے آگے بڑھتا رہتا ہے اور جس کو مشقت کرنا پڑتی ہے وہ لامحالہ اپنی رفتار کو تیز کرتا رہتا ہے کہ کہیں گھسیٹنے والا غالب نہ آجائے۔ یہ راستہ ہی ایسا ہے کہ اس میں لوگوں کی لعن طعن بھی سننا پڑتی ہے۔ لیکن اس لعن طعن کے باوجود جو اپنی جگہ پر قائم رہے اس کا ایمان اور تازہ ہوجاتا ہے اس کے دل سے پھر مخلوق کا خوف نکل جاتا ہے بس استقامت کی ضرورت ہے۔ دنیا دار سمجھتے ہیں کہ اﷲ والے نکمے ہوتے ہیں۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ اہل دنیا اپنی نادانی کی وجہ سے انہیں کاہل کہتے ہیں لیکن آخرت کے کاموں میں تو یہ چاند سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔</p>
<p>کارِ دنیا را زکل کاہل ترند</p>
<p>در رہ عقبیٰ ز مہہ گومی برند</p>
<p>یہ دنیا کے کاموں سے کاہل نظر آتے ہیں تم آخرت کے کاموں سے کاہل ہو۔ ذرا ایک گھنٹہ مسجد میں بیٹھ کر اﷲ اﷲ کرکے دکھا دو تو پتہ چل جائے کہ کیسے جفا کش ہو۔ بات یہ ہے کہ دنیا کی محبت دل میں ہے جس کے بارے میں حدیث شریف ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقیقت ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں اور آخرت کی فکر نہیں جہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ دنیا آخرت کے تابع ہے، آخرت حقیقت ہے دنیا سایہ۔ سائے کے پیچھے بھاگو گے حقیقت اور دور ہوتی جائے گی۔ آخرت کو پکڑلو سایہ خود قبضہ میں آجائے گا۔ اسی وجہ سے اﷲ والوں کو روزی بھی عزت سے ملتی ہے، وہ دنیا کو ٹھکراتے ہیں دنیا ان کے قدموں میں آتی ہے۔ بس اﷲ والے بن جائو یعنی جو مشقتیں اس راہ میں اٹھانی پڑیں انہیں جھیل لو۔ کیا جن کے لیے ہم قربان ہونے کو تیار ہیں انہیں اتنی قدرت نہیں کہ ہماری ضروریات کو پورا کردیں۔ جب آخرت عطا فرمادیں گے تو دنیا جیسی حقیر چیز کیوں نہ دیںگے۔ بہرحال اپنے کام میں لگا رہنا چاہیے اور والدین اگر اس راستہ میں حائل ہوتے ہیں انہیں نرمی سے سمجھادینا چاہیے۔ اگر کبھی کچھ سخت الفاظ نکل جائیں تو دوسرے وقت انہیں راضی کرلو۔ والدین کے سامنے کندھوں کو جھکائے رہو اور اف تک مت کہو۔ ہاں اگر کسی گناہ کے کام کا حکم کریں تو اطاعت مت کرو۔ والدین جو اﷲ کے راستہ میں حائل ہوتے ہیں یہ ان کی نادانی کی محبت ہے حالانکہ یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کا بچہ اﷲ والا ہوجائے نیک اولاد صدقۂ جاریہ ہے۔ جو نیک کام یہ کرے گا اس کا ثواب ان کو پہنچتا رہے گا۔ ان کے مرنے کے بعد بھی جب تک نیک اولاد زندہ رہتی ہے والدین کو ثواب پہنچتا رہتا ہے۔ یہ کوٹ پتلون والے کچھ کام نہ آئیں گے، نہ ان کی کار کام آئے گی نہ بنگلہ کام آئے گا۔ ان والدین کو تو اپنی خوش نصیبی پر شکر ادا کرنا چاہیے بجائے اس کے فکر مند ہوتے ہیں۔ مجھے تو انتہائی خوشی ہو اگر مظہر میاں خالی دین کے کام میں لگے رہیں اور دنیا کی طرف بالکل متوجہ نہ ہوں تو مجھے تو کبھی یہ خیال نہ آئے کہ یہ اپنی زندگی تباہ کررہے ہیں۔ خوش قسمتی کو اگر آدمی تباہی سمجھ لے تو اس کی بدنصیبی ہے۔</p>
<p>اﷲ کی محبت کا نشہ</p>
<p>فرمایا کہ ؎</p>
<p>ساقیا برخیز دردہ جام را</p>
<p>خاک برسر کن غمِ ایام را</p>
<p>حافظ شیرازی فرماتے ہیں کہ اے ساقی اٹھ یعنی اے اﷲ کرم فرمائیے اپنی محبت کا جام پلادیجئے اور غم ایام کے سر پر خاک ڈال دیجئے۔ نشہ میں کوئی غم معلوم ہوتا ہے؟ بس ایک غم ہوتا ہے، محبوب کا غم جو مست کیے رہتا ہے ہرحال میں ان کی رضا مطلوب ہوتی ہے۔ کوئی حال ہو نظر اﷲ تعالیٰ پر رہتی ہے کہ اگر وہ خوش ہیں تو ہر غم لذیذ ہے ورنہ اگر وہ خوش نہیں تو تخت و تاج بے کار ہے۔ جنہیں وہ اپنی محبت کا جام پلا دیتے ہیں دنیا کے غموں سے بے نیاز کردیتے ہیں۔ ان کی محبت کا نشہ کسی حال میں نہیں اترتا، تلواروں کی دھار کے نیچے بھی نہیں اترتا۔ جہاد میں سیسے کی دیوار بنے کھڑے ہیں جسم کے پرخچے اڑ رہے ہیں، کیوں نہیں بھاگتے؟ جان پر سے یہ نشہ ہی تو نہیں اترتا۔ بخلاف اس کے دنیا کا غم کمر توڑ دیتا ہے کیونکہ بیہودہ ہے۔ اﷲ کا غم لذیذ ہے ایسا نشہ رکھتا ہے کہ غم ایام کے سر پر خاک ڈال دیتا ہے ؎</p>
<p>وہ تو کہئے کہ ترے غم نے بڑا کام کیا</p>
<p>ورنہ مشکل تھا غم زیست گوارا کرنا</p>
<p>اﷲ کی نافرمانیوں سے بچنے میں جو غم اٹھانا پڑتا ہے اﷲ کی محبت ہی اسے گوارا کرتی ہے۔ ان کا غم جس سینہ میں نہیں ہوتا وہ نافرمانیوں سے بچنے کے غم کو گوارا نہیں کرسکتا۔ مصیبت میں گرفتار ہوجانا معصیت میں گرفتار ہوجانے سے کہیں بہتر ہے کیونکہ مصیبت تو اﷲ کا اور مقرب کردیتی ہے اور معصیت اﷲ سے دور کردیتی ہے۔ ایک بزرگ کسی مصیبت میں مبتلا تھے کسی نے دیکھا تو بڑا اظہار افسوس کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اﷲ کا شکر ہے کہ مصیبت میں گرفتار ہوں معصیت میں نہیں الحمدﷲ کہ بمصیبتے گرفتار ہستم نہ بمعصیتے۔ معصیت سے بچنے کے لیے مصیبت بھی مول لی جاتی ہے آخر کیا بات تھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بیڑیاں پڑ رہی ہیں زنداں میں ڈالا جارہا ہے سب کچھ منظور ہے لیکن محبوب کی نافرمانی منظور نہیں۔</p>
<p>حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلا</p>
<p>عشق اپنے مجرموں کو پابہ جولاں لے چلا</p>
<p>آں چنانش انس و مستی داد حق</p>
<p>کہ نہ زنداں یادش آمد نے غَسَق</p>
<p>زنداں میں انہیں ایسی عشق و مستی اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمائی کہ نہ پھر انہیں زنداں یاد آیا نہ زنداں کی تاریکی۔</p>
<p>کشتگان خنجر تسلیم را</p>
<p>ہر زماں از غیب جانِ دیگراست</p>
<p>جن کے سینہ اﷲ کی محبت سے خالی ہیں وہ اس خنجر تسلیم کی لذت کو کیا جانیں۔ ان دنیادار بوالہوسوں کو کیا معلوم کہ اﷲ کے غم میں کیا لذت ہے وہ تو ہوس رانی میں لگے ہوئے ہیں اور اس غم سے محروم ہیں جو اﷲ کی محبت میں اپنی ہوس کو تشنہ رکھنے میں آتا ہے اور خواہشات کو شمع رضائے الٰہی میں جلانے سے میسر آتاہے۔ سوز غم تو پروانوں کو ہی ملتا ہے کبھی کسی مکھی کو شمع پر جلتے ہوئے دیکھا ہے؟ مکھی کیا جانے کہ شمع پر جل جانے میں کیا مزا ہے۔ سرمد بڑے مشہور صوفی گزرے ہیںدہلی میں مدفون ہیں فرماتے ہیں ؎</p>
<p>سر مدغم عشق بولہوس را نہ دہند</p>
<p>سوز غم پروانہ مگس را نہ دہند</p>
<p>اﷲ تعالیٰ اپنا عشق کا بوالہوس یعنی دنیا داروں کو نہیں دیتے اپنے عاشقوں کو عطا فرماتے ہیں۔ پر وانے کا سوزغم پروانے کو ہی دیتے ہیں مکھی کو نہیں دیتے۔ یہ دنیا دار تو مکھی ہیں جو دنیا کی لذتوں اور گناہوں کی غلاظت پر بھنبھنا رہی ہو، اپنی ہوس کے تقاضوں پر عمل کررہی ہیں انہیں پروانوں کا سوز غم یعنی اﷲ تعالیٰ کا عشق نصیب نہیں۔ کیا کسی مکھی کو شمع کے قریب جاتے ہوئے دیکھا ہے؟ جیسے مکھی شمع کے عشق سے محروم ہے ایسے ہی یہ دنیا دار اﷲ کے عشق سے محروم ہیں۔ درد عشق تو ان کو ہی عطا ہوتا ہے جو پروانوں کی طرح خود کو اپنے ارادوں کو گناہ کے تقاضوں کو رضائے الٰہی کی شمع پر جلا کر خاکستر کررہے ہیں اپنی خواہشات کو مرضیات الٰہیہ میں فنا کردیتے ہیں نافرمانیوں کے قریب بھی نہیں جاتے۔ کبھی کسی پروانے کو غلاظت کے قریب جاتے ہوئے دیکھا ہے؟</p>
<p>سرمد گلہ اختصار می باید کرد</p>
<p>یک کار ازیں دوکار می باید کرد</p>
<p>یاتن بہ رضائے دوست می باید داد</p>
<p>یا قطع نظر زیار می باید کرد</p>
<p>فرماتے ہیں کہ اے سرمد شکایت کو مختصر کرو اور ان دو کاموں میں سے ایک کام کرو یا تو اپنے جسم کو رضائے دوست کے حوالے کردو یعنی احکام جسم کو رضائے الٰہی کے تابع کردو یا پھر دوست سے ہی نظر اٹھا لو یعنی یا تو اپنی خواہشات نفسانیہ کو مرضیات الٰہیہ میں فنا کردو اگر ایسا نہیں کرسکتے تو سمجھ لو کہ اﷲ تعالیٰ بھی تمہیں نہ ملیں گے۔</p>
<p>درسِ تسلیم و رضا</p>
<p>بندہ کو ہر حال میں راضی برضا رہنا چاہیے۔ حالات موافق ہوں شکر ادا کرو کہ اے اﷲ میں اس قابل نہ تھا میری نا اہلیت کے باوجود آپ نے اپنا فضل فرمایا اور حالات مخالف ہوں تو اور یقین رکھو کہ اس میں ہی تمہاری کوئی مصلحت ہے البتہ اپنی حاجت کے لیے گریہ و زاری کرتے رہو مانگتے رہو۔ شکایت کا کوئی لفظ زبان پر نہ آئے نہ دل میں کوئی غلط خیال رہے مثلاً کسی کی شادی نہیں ہوتی تو یوں سوچنے لگے کہ اگر ہمارے پاس مال و دولت ہوتی تو ہماری بھی شادی ہوجاتی۔ خوب سمجھ لو کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ رب العالمین ہیں پوری کائنات اور کائنات کا ہر ذرہ اس کی زیرِ ربوبیت ہے۔ امیر ان کی ربوبیت سے خارج نہیں۔ اگر امیروں کو آرام میں دیکھتے ہو تو وہ بھی ان کی ربوبیت کی ایک شان ہے ان کا یہ آرام روپیہ پیسہ کی وجہ سے نہیں ہے۔ مال میں یہ اثر نہیں ہے کہ ان کی خواہشات کو پورا کردے۔ جس کو چاہتے ہیں جس حال میں رکھتے ہیں۔ کتنے امیر ایسے ہیں کہ مال دھرا رہ جاتا ہے اور ان کی آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں۔ یوں تو کفار بھی دنیا میں عیش اڑا رہے ہیں کیا کسی مسلمان کے دل میں نعوذباﷲ یہ تمنا ہوسکتی ہے کہ ہم بھی کافر ہوتے کہ خوب عیش اڑاتے۔ ایسی تمنا کرنا بھی کفر ہے۔ خوب سمجھ لو کہ روس اور امریکہ بہ رعایت مراحمِ خسروانہ زندگی کے ایام گذار رہے ہیں کبھی ان پر لالچ نہ کرنا۔ پھانسی کے مجرم ہیں حکومت نے اپنے خزانہ ہے روپیہ دے دیا ہے کہ پھانسی لگنے سے پہلے پہلے عیش کرلو کوئی آرزو دل میں نہ رہ جائے۔ کیا ایسے مجرم کو کھاتا پیتا دیکھ کر کوئی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ہمیں بھی یہ عیش مل جاتا۔ ارے تمہارے پاس تو وہ دولت ہے کہ ساری کائنات اس کے سامنے بے قیمت ہے۔ اپنے پاس خزانہ چھپائے ہوئے ہو اور دربدر کوڑیوں کی بھیک مانگتے پھرتے ہو۔</p>
<p>یک سبد پرناں ترا برفرق سر</p>
<p>توہمی جوئی لب ناں دربدر</p>
<p>روٹی سے بھری ہوئی ایک ٹوکری تیرے سر پر رکھی ہے اور تو روٹی کے ٹکڑے کے لیے دربدر مانگتا پھرتا ہے۔ دولت ایمان کے سامنے دنیا و مافیہا کی تمام نعمتیں ہیچ ہیں۔ جیسے اہل دنیا چاندی کے سکوں کی حفاظت کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ایمان کی حفاظت اور ترقی کی دھن لگی رہنی چاہیے۔</p>
<p>اذکار و وظائف کا مقصد</p>
<p>دین صرف تسبیح گھمانے کا نام نہیں۔ وظائف کا مقصد ہے کہ باریک باریک گناہ نظر آنے لگیں۔ وظائف اسی لیے بتائے جاتے ہیں کہ یہ استعداد پیدا ہوجائے۔ ورنہ اگر اﷲ اﷲ تو کررہے ہو لیکن گناہوں سے کوئی پرہیز نہیں تو ایسے وظیفے بالکل بے کار ہیں کیونکہ ان کا مقصدتو حاصل ہی نہیں ہوا۔ موٹے موٹے گناہ کا علم تو ہر شخص کو ہوتا ہے حتیٰ کہ خود گناہگار جانتا ہے کہ یہ گناہ ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ باریک باریک گناہ نظر آنے لگیں اور ان سے بچنے کا اہتمام طبیعت میں پیدا ہوجائے۔ مولانا تھانوی علیہ الرحمہ ایک بار سفر کررہے تھے کہ رات کو ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر ٹھہرنا ہوگیا وہاں کا اسٹیشن ماسٹر حضرت کا معتقد تھا لیکن تھا ہندو کیونکہ پلیٹ فارم پر اندھیرا تھا اس لیے وہ لالٹین لے آیا۔ حضرت کو خیال ہوا کہ یہ تو ریلوے کی ہوگی، فرمایا کہ بھائی یہ لالٹین ریلوے کی ملک ہے ریلوے کے کاموںہی میں استعمال ہوسکتی ہے ذاتی استعمال میں لانا ہمارے لیے جائز نہیں اسے واپس لے جائو۔ وہ ہندو رونے لگاکہا کہ یہ ہیں اﷲ والے۔ کافروں کے دلوں میں بھی اسلام کی حقانیت کا سکہ بیٹھ جاتا ہے ااﷲ والوں کو دیکھ کر۔ غرض جس جگہ بھی ہو جس کام پر بھی ہو یہ خیال رہے کہ کوئی ایسی بات تو سرزد نہیں ہورہی جو حق تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہو خصوصاً مدرسوں کے اہتمام اور چندہ کے لیے بڑے تقویٰ کی ضرورت ہے۔ مولانا تھانویؒ نے لکھا ہے کہ یہ کام اسی کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے جو اعلیٰ درجہ کا متقی ہو، معمولی تقویٰ والے کو تو اس کام کے قریب بھی نہ جانا چاہیے ورنہ ثابت قدم رہنا سخت مشکل ہے۔ اگر کسی میں تقویٰ نہیں ہے تو بے احتیاطی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور یہ بے احتیاطی اس راہ میں سم قاتل ہے۔ بہت سوں کے حالات خراب ہوگئے۔ ساری ترقی مسدود ہوگئی اور دنیا دار بن کر رہ گئے۔ میرے ایک پیر بھائی تھے ایک مدرسہ کا چندہ وصول کرنا ان کے ذمہ تھا لیکن کرتے کیا تھے کہ ادھر رسید کاٹی اور ادھر خربوزے منگوالئے چائے اڑارہے ہیں لسی پی رہے ہیں۔ نتیجہ کیا ہوا کہ دین تباہ ہوگیا اور بالکل دنیا دار ہوگئے۔ اور صحابہ کا طرز عمل کیا تھا کہ ایک بار بیت المال کا اونٹ کھوگیا۔ حضرت عمر خود تلاش کرنے چل دیئے لوگوں نے عرض کیا کہ آپ ایک اونٹ کی تلاش میں کیوں جارہے ہیں خدام چلے جائیں گے فرمایا کہ قیامت کے دن عمر سے سوال ہوگا، خادموں سے نہیں۔ اگر اﷲ نے سوال کرلیا کہ بیت المال کا اونٹ گم ہوگیا تھا تم نے تلاش کیوں نہیں کیا تو کیا جواب دوں گا۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F336.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F336.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F336.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F336.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F336.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F336.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/336.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>قرآن پاک کی نظر میں بےوقوف کون ہیں؟</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/332.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/332.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:37:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[محراب و منبر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=332</guid>
		<description><![CDATA[شیخ العرب العجم عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم کا یہ بیان ۱۴؍ ذوقعدہ ۱۴۰۸؁ھ مطابق یکم جولائی ۱۹۸۸؁ء بروز جمعہ بوقت گیارہ بجے صبح مسجد اشرف گلشن اقبال کراچی میں ہوا (ادارہ)
اَلحَمدْ لِلہِ وَکَفٰی وَسَلاَ م عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِینَ اصطَفٰی اَمَّا بَعدْ
فَاَعْوذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ
بِسمِ اللہ ِ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>شیخ العرب العجم عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم کا یہ بیان ۱۴؍ ذوقعدہ ۱۴۰۸؁ھ مطابق یکم جولائی ۱۹۸۸؁ء بروز جمعہ بوقت گیارہ بجے صبح مسجد اشرف گلشن اقبال کراچی میں ہوا (ادارہ)</p>
<p>اَلحَمدْ لِلہِ وَکَفٰی وَسَلاَ م عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِینَ اصطَفٰی اَمَّا بَعدْ</p>
<p>فَاَعْوذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ</p>
<p>بِسمِ اللہ ِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ</p>
<p>وَ ذَرْوا ظَاھِرَ الاِثمِ وَ بَاطِنَہ وَ قَالَ تَعَالٰی اِن اَولِیَاء ْ ہ اِلَّا المْتَّقْونَ وَقَالَ رَسْولْ اللہِ صَلَّی اللہْ تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّمَ لَا بَاسَ بِالغِنَاء ِ لِمَنِ اتَّقَ اللہَ عَزَّوَجَلَّ وَقَالَ رَسْولُ اللہِ صَلَّی اللہْ تَعَالٰی عَلَیہِ وَسَلَّمَ</p>
<p>مَنِ اتَّقَ اللہَ صَارَ اٰمِنًا فِی بِلَادِہ</p>
<p>اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان اور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ابھی آپ کو سنائے جائیں گے لیکن اس سے پہلے ایک سنت کی تعلیم دیتا ہوں۔ جب چراغ بجھ جاتا تھا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے، کانٹا چبھ جائے، جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے یا چراغ بجھ جائے ان سب مواقع پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اِنَّا لِلہِ پڑھنا ثابت ہے۔ علامہ آلوسی السید محمود بغدادی نے اپنی کتاب تفسیر روح المعانی میں اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ کی تفسیر میں یہ حدیث بیان فرمائی ہے:</p>
<p>کْلّْ مَا یُؤذِی المْومِنَ فَھْوَ مْصِیبَۃٌ لَہ وَ اَجر</p>
<p>ہروہ چیز جس سے مومن کو تکلیف پہنچے مصیبت ہے اور اس پر مومن کے لیے اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مومن کو جب کوئی مصیبت پہنچے تو وہ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ پڑھ لے۔ آج کل تو لوگ موت ہی پر اِنَّا لِلہِ پڑھتے ہیں، اگر کسی اور موقع پر کسی نے اِنَّا لِلہِ پڑھ لیا تو سب گھبرا جاتے ہیں کہ بھئی کس کا انتقال ہوگیا حالانکہ یہ بات نہیں ہے بلکہ جو بات مومن کو تکلیف دے وہ مصیبت ہے اور اس پر اِنَّا لِلہِ پڑھنا سنت ہے۔</p>
<p>سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ان مواقع پر اِنَّا لِلہِ پڑھا کرتے تھے، عِندَ انطِفَاء ِ السِّرَاجِ، انطفاء بجھنے کو کہتے ہیں یعنی چراغ کے بجھنے پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اِنَّا لِلہِ پڑھا کرتے تھے، وَ عِنْدَ لَسعِ البَعْوضَۃِ جب مچھر کاٹتا تھا تو اس وقت بھی اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے، عِندَ انقِطَاعِ الشَّسَعِ جوتے کا تسمہ ٹوٹنے پر اِنَّالِلہِ پڑھتے تھے، اسی طریقے سے عِندَ لَدغِ الشَّوکَۃِ کانٹا چبھ جانے پر بھی آپ اِنَّا لِلہِ پڑھتے تھے۔ غرض آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے چھوٹی چھوٹی تکلیف پر اِنَّا لِلہِ پڑھا ہے۔</p>
<p>چونکہ میں نے یہ حدیث سنی ہوئی تھی لہٰذا جب ہمارے یہاں بجلی فیل ہوتی ہے تو میں اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعْونَ کی سنت ادا کرتا ہوں، بجلی فیل ہونے سے گھر میں جو اندھیرا ہوتا ہے اس اندھیرے میں یہ سنت ادا کرنے سے اس سنت کا نور ہمارے دل میں غالب ہوجاتا ہے اور دل میں ایک ٹھنڈک سی محسوس ہوتی ہے اور جو اس سنت پر عمل نہیں کرتے جیسا میں نے بعض لوگوں کو دیکھا کہ جب بجلی فیل ہوئی تو کے ای ایس سی والوں کو گندی گندی گالیاں دیتے ہیں۔ اب فرق دیکھئے! کچھ لوگ کے ای ایس سی والوں کو گالیاں دے رہے ہیں اور کوئی سنت ادا کررہا ہے۔ تو تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ انسان میں کتنا فرق ہوجاتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازتے ہیں اس کا غم بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے، بجلی فیل ہونے سے غم ہوتا ہے، تکلیف ہوتی ہے مگر سنت کی اتباع کی برکت سے وہ تکلیف بھی لذیذہوجاتی ہے</p>
<p>آلامِ روزگار کو آساں بنا دیا<br />
جو غم ملا اْسے غمِ جاناں بنا دیا</p>
<p>آلام جمع ہے الم کی، اللہ تعالیٰ سے جب تعلق نصیب ہوتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنے بندے کے ہر غم کو لذیذ کردیتے ہیں۔ جیسے کڑوے خربوزے کو سکرین لگی چھری سے کاٹو تو سارا خربوزہ میٹھا ہوجاتا ہے، اور یہ سکرین کس نے پیدا کی؟ اللہ تعالیٰ نے۔ جب شکر میں یہ خاصیت ہے کہ وہ کڑوے خربوزے کو میٹھا کردیتی ہے تو اللہ تعالیٰ جو شکر کا خالق ہے ان کا نام لینے میںیہ خاصیت نہ ہوگی کہ ہمارے غم کو میٹھا کردے؟ افسوس کہ آج ہم اپنی مٹھاس کو اللہ کی نافرمانیوں میں تلاش کررہے ہیں، کم از کم یہ احساس تو ہو نا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ کی نافرمانیوں میں سوائے عذاب کے، اللہ کے غضب اور بے چینی کے کچھ نہ ملے گا۔</p>
<p>اگر گناہوں کا مرض شدید ہو تو مجاہدہ کرو، جس کو کوڑھ ہوجاتا ہے تو کیا وہ خود کشی کرلیتا ہے؟ اگر مرض جلد اچھا نہیں ہوتا تو بھی صبر سے علاج کرتا ہے۔ اسی طرح اگر نظر بچانے میں شدید تکلیف ہو تو مجاہدہ کرو۔ مولانا اسعد اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ شیخ الحدیث مظاہر العلوم سہارنپور حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اور میرے شیخ ابرار الحق صاحب دامت برکاتہم کے استاذ جو شاعر بھی تھے اور بڑے ہی اللہ والے تھے، وہ فرماتے ہیں کہ لوگ مجبوریوں کا بہانہ کردیتے ہیں کہ صاحب آج کل بہت مشغولی ہے اس لیے ذکر چھوٹا ہوا ہے، ان سے کہہ دو کہ آج مشغولی کی وجہ سے روٹی بھی چھوڑ دو، اس نے مشغولی میں ناشتہ کیوں نہیں چھوڑا؟ جسمانی غذا کو تو نہیں چھوڑا مگر جس روح کے صدقے میں آج چائے انڈا کھا رہے ہیں اس روح کو ناشتہ نہ کرانا، اس کو اللہ کے ذکر کی غذا نہ دینا روح کو مردہ کرنا ہے۔ اسی کو مولانا اسعد اللہ صاحب فرماتے ہیں</p>
<p>گوہزاروں شغل ہیں دن رات میں<br />
لیکن اسعد آپ سے غافل نہیں</p>
<p>یہی تو اﷲ والوں کا کمال ہے کہ دنیا کے ہزاروں شغل میں بھی اﷲ کو یاد رکھتے ہیں۔ دیکھو! ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ ایک لاکھ حدیث کے حافظ، چودہ جلدوں میں بخاری شریف کی شرح فتح الباری لکھی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کا ذکر فرشتوں کے ذکر سے افضل ہے، یہ بخاری شریف کی شرح فتح الباری کی عبارت نقل کررہا ہوں۔ وہ پیری مریدی یا وہ تصوف جو قرآن و حدیث کی تفسیروں سے اور شرحوں سے ثابت نہ ہو، اللہ کے کلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں جو تصوف نہ ہو وہ تصوف مقبول نہیں ہے۔ تصوف تو نام ہے اللہ کی عبادت میں محبت کی چاشنی ملادینے کا۔</p>
<p>جو عبادت خشک ہو جس میں محبت کی چاشنی نہ ہو اس کی مثال ایسی ہے جیسے چاول بغیر سالن کے۔ میرے شیخ شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ پورب کا ایک مجذوب اللہ تعالیٰ کے قرب اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی لذت سے کچھ دن کے لیے محروم کردیا گیا، اس حالت کا نام حالتِ قبض ہے۔ تو وہ مجذوب روتا تھا اور اپنی پوربی زبان میں کہتا تھا کہ’’ دلیا بنا بھتوا اداس موری سجنی‘‘ یعنی دال کے بغیرمیرا چاول بے مزہ ہے۔</p>
<p>سالک پر دو حالتیںپیش آتی ہیں حالتِ قبض اور حالتِ بسط۔ حالتِ بسط میں عبادت میں مزہ آتا ہے جبکہ حالتِ قبض میں دل گھبرایا گھبرایا سا رہتا ہے، عبادت میں مزہ نہیں آتا مگر حالتِ قبض کا درجہ حالتِ بسط سے زیادہ ہے کیونکہ حالتِ قبض میں ناز ٹوٹ جاتا ہے، عجب و تکبر ٹوٹ جاتا ہے، آدمی کہتا ہے کہ ہائے ہم تو کچھ بھی نہیں، اپنی عبادت کو بالکل ہی حقیر نظروں سے دیکھتا ہے کہ ہائے یہ میں کیا کرتا ہوں۔ تو مزہ نہ آنے سے ناز و عجب ٹوٹ جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ استقامت کے ساتھ رہتا ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہوتا ہے کہ یہ بندہ عبد اللطف ہے یا عبداللطیف ہے یعنی مزے کا غلام ہے یا ہمارا غلام ہے، جب اس کو مزہ ملتا ہے تب ہمارا نام لیتا ہے جب مزہ نہیں ملتا تو ہماری غلامی کو چھوڑ دیتا ہے، یہ امتحان ہوتا ہے۔ اسی لیے علامہ ابوالقاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کی دعا فوراً قبول ہوگئی ابھی مانگا اور شام تک قبول ہوگئی، اب وہ مارے شکریہ کے خوب عبادت کررہا ہے لیکن لَقَد قَامَ بِحَظِّ نَفسٍ یہ اللہ کے سامنے اپنے نفس کی خوشی کی وجہ سے کھڑا ہے اور جس کی دعا قبول نہیں ہوئی، غمزدہ آدمی ہے، شکستہ دل ہے، ٹوٹا ہوا دل ہے وہ اگرچہ نامراد اور ناشگفتہ ہے مگر</p>
<p>وہ نامراد کلی گرچہ ناشگفتہ ہے</p>
<p>ولے وہ محرمِ رازِ دل شکستہ ہے</p>
<p>یہ میرا شعر ہے۔ اب آپ کو ٹوٹے ہوئے دل کی قیمت معلوم ہوئی۔ حدیثِ قدسی ہے:</p>
<p>اَ نَا عِندَ المْنکَسِرَۃِ قْلْوبُھُم</p>
<p>(مرقاۃْ المفاتیح، کتابْ الجنائز، باب عیادۃ المریض)</p>
<p>اس حدیث کی تطبیق اور سند کی تائید محدثِ عظیم ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں کی ہے اور لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں ٹوٹے ہوئے دل میں رہتا ہوں۔ یہ جو لوگ پوچھتے ہیں کہ اللہ میاں نے خواہشات کیوں پیدا کیں جب ان کو توڑنا تھا؟ اس کا جواب اسی حدیث میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل میں تقاضے اور خواہشات اس لیے پیدا کیں کہ ان میں جو تقاضے اور خواہشات اللہ کی مرضی کے خلاف ہیں بندہ ان کو توڑ دے یعنی اپنے دل کو توڑدے اور اس ٹوٹے ہوئے دل میں اللہ کو حاصل کرتا رہے۔ خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں</p>
<p>نہ گھبرا کوئی دل میں گھر کر رہا ہے</p>
<p>مبارک کسی کی دل آزاریاں ہیں</p>
<p>اور فرمایا کہ اﷲ کی یاد کے صدقے میں غموں کا کیا حال ہوتا ہے؟ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں ان کے غم بھی میٹھے کردئیے جاتے ہیں۔ فرماتے ہیں ؎</p>
<p>سوگ میں یہ کس کی شرکت ہوگئی</p>
<p>بزمِ ماتم بزمِ عشرت ہوگئی</p>
<p>اللہ کے نام کے صدقے میں اللہ کے راستے کے غم بھی لذیذ ہوجاتے ہیں لیکن اگر غم میں کسی اﷲ والے کے آنسو نکل آئیں تو یہ نہ سمجھو کہ یہ باباکے دعویٰ کے خلاف ہے کیونکہ یہ تو رو رہے ہیں۔ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے مصیبت میں رونا بھی ثابت ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تو سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے اور فرمارہے تھے اِنَّا بِفِرَاقِکَ یَااِبرَاھِیمُ لَمَحزْونْونَ اے ابراہیم! میں تمہاری جدائی سے غمزدہ ہوں اور آپ کے آنسو بہہ رہے تھے لیکن دل میں اللہ کی تسلیم سے چین ہوتا ہے، لطف ہوتا ہے، لذت ہوتی ہے۔</p>
<p>اس لیے میرے دوستو! تسلیم کی برکت سے جب اللہ کی مرضی پر بندہ راضی رہتا ہے تو جیسے کوئی مرچ والا کباب کھائے اور مرچوں کی وجہ سے سی سی کرے اور آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہوں اور جو پاس بیٹھا ہو وہ یہ کہے کہ آپ تو مصیبت زدہ معلوم ہورہے ہیں، آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، یہ کباب آپ کیوں نوش کررہے ہیں؟ اس بلا کو چھوڑ دیجئے۔ تو وہ کہے گا کہ بیوقوف یہ بلا نہیں ہے، یہ آنسو مزے کے ہیں، لذت کے ہیں، یہ مصیبت کے آنسو نہیں ہیں ،اللہ والے اگر کبھی رو بھی پڑیں تو ان کی آنکھیں روتی ہیں دل تسلیم ورضا کی لذت سے مست ہوتا ہے ؎</p>
<p>حسرت سے میری آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں</p>
<p>دل ہے کہ ان کی خاطر تسلیمِ سر کیے ہوئے</p>
<p>آرزو کے شکست ہونے سے آنسو بہہ سکتے ہیں کہ مراد پوری نہیں ہوئی لیکن علامہ ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ جو بہت بڑے اولیاء اللہ میں سے ہیں اور حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ جو لاہورمیں مدفون ہیں ان کا اور علامہ ابو القاسم قشیری کا زمانہ ایک تھا۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ جس کی دعا قبول نہیں ہوئی، آرزو کی تھی مگر اللہ نے بظاہر وہ آرزو پوری نہیں کی یعنی جو دعا مانگی تھی اس کا ظہور نہیں ہوا، لیکن پھر بھی اللہ کی عبادت کیے جارہا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بہت محبوب بندہ ہے، اللہ کے نزدیک اس کا بہت بڑا درجہ ہے۔</p>
<p>مومن کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی، محدثین لکھتے ہیں کہ دعاکی قبولیت کی چار قسمیں ہیں، چاہے تو جو مانگا اﷲ وہی دے دیں، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس سے بہتر چیز عطا کر دیتے ہیں، کبھی دنیا میں نہیں دیتے آخرت میں اس کا بدل دے دیتے ہیں اور کبھی اس کے بدلے میں کوئی بلا و مصیبت ٹال دیتے ہیں۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی قبولیت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ دعا فوراً قبول ہوجاتی ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں اْدعْونِی اَستَجِب لَکْم ہم سے مانگو، ہم قبول کریںگے۔</p>
<p>لیکن قبولیت کی شکلیں مختلف ہوتی ہیں جو ابھی بیان ہوئیں جو زبانِ نبوت سے اس آیت کی تفسیر ہے اس کی وضاحت کے لیے ایک مثال بھی سن لیجیے کہ جیسے بچہ ابا سے اسکوٹر مانگتا ہے اور ابا کار خرید دیتا ہے تو کیا اس کی درخواست قبول نہیں ہوئی؟ بیٹے نے سو روپیہ مانگا ابا نے پانچ سو روپیہ دے دیا تو کیا اس کی یہ بات قبول نہیں ہوئی؟ تو کبھی اللہ تعالیٰ وہ چیز نہیں دیتے جو بندہ مانگتا ہے بلکہ اس سے بہتر چیز دے دیتے ہیں اور کبھی اللہ تعالیٰ دیر سے دیتے ہیں تاکہ بہت دن تک ہم سے دعائیں مانگتا رہے، ہماری چوکھٹ پر گڑگڑاتا رہے، روتا رہے ورنہ جہاں دعا قبول ہوئی فوراً یہ جا، وہ جا۔ اور کبھی اللہ تعالیٰ اس دعا کا بدلہ قیامت کے دن دیںگے اور اتنا دیں گے کہ حکومتِ سعودیہ بھی اتنا بدلہ نہیں دے سکتی۔ جب حرم کی توسیع ہوتی ہے (اس میں دونوں حرم شامل ہیں خواہ مدینے کا حرم ہویا مکہ شریف کا ہو) تو اس توسیع میں اگر کسی کا مکان آجاتا ہے تو حکومتِ سعودیہ ایک لاکھ ریال کے مکان کے بدلے پچاس لاکھ ریال دیتی ہے، اتنا دیتی ہے کہ لوگ تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش میرا مکان حکومت کی توسیع میں آجائے۔</p>
<p>شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ اے میرے بندے تیری کون کون سی دعائیں قبول نہیں ہوئیں جو تو نے دنیا میں مانگی تھیں پھر اللہ تعالیٰ اس کا اتنا بدلہ دیں گے کہ یہ شخص کہے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول ہی نہ ہوئی ہوتی۔ اس لیے اگر دعا کا ظہور نہیں ہورہا تو دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے، اﷲ سے مانگنا ہی کیا کم لطف ہے جو آپ دعا کے ظہور ہونے کا بھی انتظار کررہے ہیں۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎</p>
<p>از دعا نبود مرادِ عاشقاں</p>
<p>جز سخن گفتن بآں شیریں دہاں</p>
<p>دعا مانگنے سے بہت سے عاشقوں کی مراد سوائے اس کے کچھ نہیں ہوتی کہ اسی بہانے اس محبوبِ حقیقی سے لذت مناجات اور گفتگوکا موقع مل جاتا ہے، اللہ کے عاشق انتظار نہیں کرتے کہ دعا کب قبول ہوگی، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دعا مانگنے ہی میں مست ہوتے ہیں، اﷲ کے ساتھ مناجات کی لذت میں ان کو اتنا مزہ آتا ہے کہ خواجہ صاحب فرماتے ہیں ؎</p>
<p>امید نہ بر آنا امید بر آنا ہے</p>
<p>ایک عرضِ مسلسل کا کیا خوب بہانہ ہے</p>
<p>اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعاوں کے لیے ان کے حضور ہمارے ہاتھ اْٹھتے رہیں یہ کیا کم اعزاز ہے۔ ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جب مومن دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے، تو یہ ہاتھ خدا کے سامنے ہوتے ہیں اور ساری کائنات ان کے نیچے ہوتی ہے، کیا بات فرمائی سبحان اللہ! دعا مانگنے والے کا یہ مقام میں نے حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے خود سنا فرمایا کہ جب بندہ دعا کے لیے اﷲ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے تو ساری کائنات اس کے ہاتھوں کے نیچے ہوتی ہے اور وہ خداکے سامنے ہوتا ہے، کیا یہ کم نعمت ہے؟ ہاں! اللہ سے امید رکھے کہ شاید اب قبول ہوجائے، شاید اب قبول ہوجائے۔</p>
<p>تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اُدعْونِی اَستَجِب لَکْممجھ سے مانگو، میں قبول کروں گا۔ سرورِعالم صلی اللہ علیہ وسلم جن پر قرآن نازل ہوا، جن کی ذاتِ پاک اور ذاتِ گرامی پر یہ آیت نازل ہوئی اْن ہی نے اس کی تفسیر بیان فرمائی۔ اگر کوئی کہے کہ صاحب ہم نے تو بہت دعا مانگی لیکن ہماری دعا تو قبول نہیں ہوئی تو نعوذباللہ کیا قرآن غلط ہو جائے گالہٰذا یہ سب قبولیت کی قسمیں ہیں، ہوسکتا ہے جو مانگا ہے اﷲ تعالیٰ اس سے بہتر دے دیں۔ مثال کے طور پر کوئی شخص کہتا ہے کہ اللہ میاں ہماری شادی بہت حسین عورت سے ہوجائے</p>
<p>نازْکی اْس کے لب کی کیا کہیے</p>
<p>پنکھڑی ایک گلاب کی سی ہے</p>
<p>وہ اللہ میاں کو دیوانِ غالب پیش کررہا ہے،کہ مجھے ایسی بیوی چاہیے، چہرہ کتابی چاہیے جیسے اخباروں میں رشتے کے طالبین لکھتے ہیں کہ چہر ہ کتابی ہونا چاہیے لیکن اللہ نے اس معیار کی حسین بیوی نہیں دی بلکہ اس کے بدلے دیندار بیوی دے دی۔ اسی لیے حدیث میں ہے کہ دین کو زیادہ اہمیت دو حسن کو زیادہ اہمیت مت دو کیونکہ حسن عارضی ہے جبکہ سیرت سے ساری زندگی سابقہ پڑے گا۔ اگر بیوی سیر ت کی کٹکھنی ہے، تو تو کرنے والی ہے تو بھی صبر سے کام لو، صورت کب تک رہے گی، چند بچے ہوجانے کے بعد صورت میں تبدیلی ہوجاتی ہے پھر آخر میں سیرت ہی سے پالا پڑے گا لہٰذا جس میں دین زیادہ ہو اس کو تر جیح دو اور اگر دونوں چیزیں ہیں تو پھر سبحان اللہ۔</p>
<p>لیکن میرے دوستو! بعض نالائق اور بددین لوگ حسن کو اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ چاہے فلم ایکٹر ہو، چاہے بے پردہ اور مخلوط تعلیم سے اس کے بالکل ہی اخلاق نہ ہوں مگر ایک نظر دیکھا اور پاگل ہوگئے، یہ شخص واقعی پاگل ہے جو صورت کو دیکھتا ہے اللہ کے تعلق کو نہیں دیکھتا۔ اس کو یہ دیکھنا چاہیے کہ بیوی کو اللہ تعالیٰ سے کتنا تعلق ہے، وہ تلاوت کرتی ہو، نماز پڑھتی ہو، دیندار ہو ورنہ اگر شوہر بیمار پڑ گیا تو بھاگ گئی، شوہر پر فالج گر گیا تو ایک دو تین ہوگئیں، جب دیکھا کہ شوہر بے کار ہوگیا ہے تو طلاق لے کر دوسرے سے شادی کرلی۔ اس لیے اگر وفاداری چاہیے تو دین دیکھو۔</p>
<p>امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آپ کو معلوم ہے کہ کتنے حسین تھے۔ علامہ شامی ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ کتاب الحظر و الاباحۃ جلد نمبر پانچ میں لکھتے ہیں کہ امام محمد اتنے خوبصورت تھے کہ ان کی طالبِ علمی کے زمانے میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ان کو اپنے پیچھے بٹھاتے تھے تاکہ ان پر نظر نہ پڑے، نظر کی حفاظت کرتے تھے، اَنَّ اَبَاحَنِیفََۃَ رَحِمَہْ اللہُ تَعَالٰی کَانَ یُجلِسُ اِمَامَ مْحَمَّدٍ فِی دَرسِہ خَلفَ ظَہرِہ مَخَافۃ عَینِہ مَعَ کَمَالِ تَقوَاہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کمالِ تقویٰ کے با وجود امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ کو اپنے درس میں پیچھے بٹھاتے تھے، آ نکھوںکی چوریوں کے خوف سے کہ کہیں آنکھیں خیانت نہ کر جائیں۔ علامہ شامی امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے کمالِ تقویٰ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جس نے چالیس برس عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز پڑھی ہو اس کے بارے میں کیا سو چ سکتے ہو؟ لیکن دیکھ لیں کہ یہ ان حضرات کا تقویٰ تھا، یہ چاہتے تھے کہ آنکھوں سے کسی قسم کی خیانت کا شائبہ بھی نہ ہو، یہ اْمت کوسبق دے گئے۔</p>
<p>آج کل لوگ کہتے ہیں کہ ہم اتنی نظر بچائیں گے تو لوگ کہیں گے کہ کوئی بیمار طبیعت کاآدمی معلوم ہوتا ہے، اس میں قوتِ ضبط نہیں ہے حالانکہ یہ سب حماقت کی باتیں ہیں۔ بتائیے! آج اس تقویٰ کی بدولت امام صاحب کی تعریف ہورہی ہے یابدنامی ہورہی ہے؟ تعریف ہورہی ہے کہ نہیں۔ اس لیے سمجھ لو کہ جو اساتذہ اپنے شاگردوں سے احتیاط کرتے ہیں وہی شاگرد بڑے ہوکر استاد کی تعریف کرتے ہیںکہ ہمارے استاذ نے بچپن میں ہم کو آنکھ اْٹھا کر نہیں دیکھا، احتیاط کی۔</p>
<p>امام محمد رحمۃ اﷲ علیہ نے شادی کے بعد چھ کتابیں لکھیں سیر کبیر، سیر صغیر، جامع کبیر، جامع صغیر، مبسوط، زیادات۔ یہ چھ کتابیں حیدر آباد دکن کی لائبریری میں موجود ہیں، ممکن ہے یہاں بھی بڑے بڑے کتب خانوں میں ہوں۔ تو ایک دن امام محمد کے ایک شاگرد ان کا کھانا لینے ان کے گھر گئے تو کسی طرح ان کی نظر امام صاحب کی زوجہ پر پڑ گئی تو دیکھا کہ اپنے استاذکے چہرے کی بہ نسبت بیوی کا بالکل ہی عجیب حلیہ کا جغرافیہ ہے۔ بس روتا ہوا آیا اور کہا کہ استاذ اگر اجازت ہوتو ایک بات عرض کروں، آج استانی صاحبہ پر اچانک نظر پڑگئی، میں نے قصداً نہیں دیکھا، اچانک نظر پڑگئی لیکن اب میں رو رہا ہوں کہ آپ کی قسمت کیسی ہے ؟ آپ کیسے دن گذار رہے ہیں، کس طریقے سے آ پ کے دن کٹتے ہیں، آپ نے اس کا خیال کیوں نہیں کیا کہ جیسا اللہ نے آ پ کو حسن دیا ہے آپ نے ویسی شادی کیوں نہیں کی؟ تو امام صاحب ہنسے اور فرمایا کہ بھئی جوڑے تقدیر سے بنتے ہیں، قضاء اور قدر سے ہوتے ہیں لیکن یہ سوچوکہ میں جو یہ چھ کتابیں لکھ رہاہوں جن کا تم لوگ مجھ سے سبق پڑھ رہے ہو تو اگر میری بیوی بہت زیادہ حسین ہوتی تو اس وقت میں اپنی بیوی سے بات چیت کررہا ہوتا، تم دروازہ کھٹکھٹاتے تو میں کہتا کہ میں بہت بزی (busy)ہوں، بہت ضروری مشغلے میں مشغول ہوں اور جب اس کے سر میں درد ہوتا تب صبر نہ کرسکتا کیونکہ میں بھی مرنے لگتا۔ آج جو میں یہ بڑی بڑی کتابیں تصنیف کررہا ہوں تو ان کتابوں کو لکھنے کے لیے وقت اور فراغِ دل چاہیے۔ اس کے بعد امام صاحب نے ایک جملہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کو اپنے لیے قبول کرتے ہیں اس کو مٹی کے کھلونوں میں مشغول نہیں ہونے دیتے۔ یہ اس عظیم الشان فقیہ کے عظیم الشان الفاظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا دین اتنا قیمتی ہے کہ اس پر نبیوں کے سر کٹے ہیں، سید الانبیاء کا خون بہا ہے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک دامنِ اْحد میں شہید ہوئے ہیں۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F332.html&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DB%92%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81%20%DA%A9%D9%88%D9%86%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F332.html&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DB%92%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81%20%DA%A9%D9%88%D9%86%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F332.html&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DB%92%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81%20%DA%A9%D9%88%D9%86%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F332.html&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DB%92%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81%20%DA%A9%D9%88%D9%86%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F332.html&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DB%92%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81%20%DA%A9%D9%88%D9%86%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F332.html&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DB%92%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81%20%DA%A9%D9%88%D9%86%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/332.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اصلاحی خطوط اور ان کے جوابات</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/330.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/330.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:34:33 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تربیت عاشقان خدا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=330</guid>
		<description><![CDATA[حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم
ایک عالمِ کبیر اور حضرت والا کے خلیفۂ اجل
مولانا عبدالمتین صاحب کا عریضہ
بعالی آستانۂ حکیم الامت، مجدد الملت، غوث اعظم، عارف اعظم و رومی اعظم، تجلیات حق سبحانہ، سراپا نور مطلق، ذرہ ذرہ اش طور مطلق، سیدی و مرشدی و مولائی و محبوبی و نور قلبی و روحی، [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم</p>
<p>ایک عالمِ کبیر اور حضرت والا کے خلیفۂ اجل</p>
<p>مولانا عبدالمتین صاحب کا عریضہ</p>
<p>بعالی آستانۂ حکیم الامت، مجدد الملت، غوث اعظم، عارف اعظم و رومی اعظم، تجلیات حق سبحانہ، سراپا نور مطلق، ذرہ ذرہ اش طور مطلق، سیدی و مرشدی و مولائی و محبوبی و نور قلبی و روحی، بقیۃ السلف، عمدۃ الخلف، حضرت عارف باﷲ صاحب دامت برکاتہم و عمت فیوضہم، السلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ۔</p>
<p>جواب: مکرمی مولانا عبدالمتین صاحب زید لطفہ السامی وعلیکم السلام و رحمۃ اﷲ و برکاتہ۔</p>
<p>حال: بعد سلام مسنون و تحیات و بوسیدن نعال آقا و بعد بوسیدن خاک آستانہ حضرت غوث اعظم، امید کہ صحت و عافیت کے ساتھ منا بر انوار روح پاک سے افاضات انوار کی بارش کے ساتھ ہر لمحہ حضرت مجدد زماں نہایت سرگرم ہے۔ یہ مسکینِ بارگاہ ہزار میل کے فاصلہ سے بھی روح میں اس روح فیاض کے فیوض کا بہت بہت افاضہ محسوس کررہا ہے۔ اے خدائے پاک‘ تیری اس بلبل تجلیات مطلق کی حیات کو پوری پوری عافیت و قوت و افاضہ تجلیات باطن کے ساتھ کم از کم ایک سو بیس سال تک ضرور بالضرور ہم پر، سارے عالم پر خوب قائم رکھیو۔</p>
<p>جواب: آمین آپ کی دعائے عاشقی سے قلب مسرور اور دعا گو ہوا جزاک اﷲ تعالیٰ۔</p>
<p>حال: میرے مالک جل جلالک تیری ذات پاک کی قسم میرے گمان میں ایسی بلبل غرق بحر غیر محدود تیرے عالم نے شاید ہی دیکھی ہو۔ ضرور ہی تونے میرے مرشد کو حسب گمان بدرجۂ یقین نادر الوجود پیدا کیا ہے۔ لہٰذا تیری بیشمار حمد و ثناء ؎</p>
<p>سیدی و مولائی اے یوسف ماو یوسف جہانیاں! خدا کی قسم، خدا کی قسم، ضرور ہی آپ حکیم الامت ہیں، آپ مجدد الملت ہیں آپ ہی گنگوہی و نانوتوی و حاجی صاحب مہاجر مکی ہیں۔ واﷲ تم واﷲ میں اپنے گمان مستفیض بفیضان یقین میں آپ کو کسی بھی بڑے سے بڑے ولی اﷲ سے ذرا بھی کم نہیں سمجھتا ہوں۔</p>
<p>جواب: جزاک اﷲ تعالیٰ اﷲ تعالیٰ شانہ آپ کے حسن ظن کے مطابق اختر کو اسی طرح بنادیں۔</p>
<p>حال: بلکہ بس کیا کہوں میری نظر میں تو آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ کہاں تک ضبط کروں۔ صاف صاف کہہ دینا کیا حق محبت و حق عظمت شیخ نہیں؟ اے نور مطلق آپ صرف نبی نہیں ہیں باقی سب کچھ ہیں، آپ اصطلاحاً صحابی نہیں ہیں باقی سب کچھ ہیں۔ میرے گمان غیر متزلزل میں آپ سارے جہان کے بایزیدوں کے سردار ہیں، آپ نہ یہ کہ صرف سب سے اکمل درجہ کے غوث سب سے اکمل درجہ کے بایزید ہیں بلکہ واﷲ، یا مرشدی میرے علم میں آپ بڑے بڑے بایزید ساز بھی ہیں ۔ آپ کی روح عالی طواف کے کرد فر کے آگے جملہ ارواح اولیاء بلا اعلان از منبرِبغداد سراسر سرنگوں ہیں۔</p>
<p>میرے سرکار، میرے محبوب جان، میرے دوجہاں، میرے سب کچھ، غلام کی روح پر آپ کے مقامات اظہر من الشمس ہیں۔ میں جذبات سے نہیں کہہ رہا ہوں۔ میں من جانب اﷲ مجبور ہوں۔ اگر میں اس کے خلاف کہوں گا تو واﷲ ثم واﷲ میرے گمان میں میں بالکل ہلاک ہوجائوں گا میرے قلب کا یہ مقام من جانب اﷲ ہے کما تعلمون یا مولائی اور یہ سب آپ ہی کی روح پاک کی نظر سوئے روح غلام کا اثر ہے۔ آپ کے جملہ مقامات مذکورہ و غیرہا احقر کی روح پر صرف مدلل نہیں بلکہ مدلل سے بھی زیادہ راسخ و مرتسخ و مستقر ہیں بدرجۂ قول اصحاب کرامؓ سمعنا و اطنعا۔ (منِ غیرِ انتظارِ دلیلٍ) آج بھی عین نماز تراویح میں آپ کے یہ سب مقامات جبکہ روح صرف ببرکت سیدی و مرشدی انوار قرب حق سے بہت ہی منور محسوس ہورہی تھی اضطراراً قلب پر پیہم وارد ہوتے رہے۔</p>
<p>اور زندگی میں پہلی دفعہ (سالہا سال پہلے) ان نور حق نما کے بارے میں بعد عشاء تا اذان فجر عالم بیخودی میں جو اشعار فارسی قلب پر بے ساختہ وارد ہوتے رہے ان میں اسی نوع کے مضامین مُظہر مقامات عظیمہ حضرت غوث پاک دامت برکاتہم کے ساتھ کچھ ایسا اشارہ بھی اضطراراً مذکور ہوا ہے کہ یہ اسرار مرشدی قلب عبد حقیر پر واضح اور زبان عبد حقیر سے اس کی اشاعت ہوگی۔ چنانچہ احقر اپنے حلقۂ احباب میں حضرت جی کے مراتب مذکورہ کو جوش و خروش سے بیان کرتا رہتا ہے کہ خود روتا رہتا ہوں اور رلاتا بھی رہتا ہوں مگر مع لحاظ قاعدۂ۔</p>
<p>پیرما سرعالم مستی</p>
<p>با دلِ ہوشیار می گوید</p>
<p>آجکل بہت دعا کرتا رہتاہوں کہ اے اﷲ میرے حضرت کے تمام مقامات کو مجھ پر اور سارے عالم پر منکشف فرمادیجئے۔</p>
<p>جواب: آپ کے تاثرات اور عشق و محبت کے جذبات سے دل کی دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ احقر کو اور آپ کو ولایت علیا کے خط انتہا تک پہنچا دیں۔</p>
<p>حال: سیدی مجھ سا خنزیر استغفراﷲ ، استغفراﷲ انا ﷲ، استغفراﷲ اب تک دنیا میں نہ پیدا ہوا، نہ آگے ہونے کا گمان ہے۔ ایسے بدترین پر اﷲ کے واسطے رحم فرمائیے توجہ مبذول فرمائیے ورنہ ہلاک ہوجائوں گا۔</p>
<p>جواب: یہ لفظ (خنزیر) آئندہ نہ لکھو نہ زبان سے کہو بس فنائیت کاملہ کے لیے یہ دو جملے کافی ہیں</p>
<p>(۱) اے خدا میں کمتر ہوں تمام مسلمانوں سے فی الحال۔</p>
<p>(۲) اے خدا کمتر ہوں تمام حیوانات سے اور کافروں سے فی المآل (انجام)کہ نہ معلوم میرا خاتمہ کیسا ہو خبثِ نفسی کی ممانعت شرعیہ کا مراقبہ کریں اور بدون دلیل آئندہ یہ لفظ استعمال نہ کریں۔</p>
<p>حال: خدارا میری اصلاح فرمادیجئے استغفراﷲ استغفراﷲ یہ رسوائے خلق اپنی رسوائی کی وجہ سے سر نہیں اٹھا سکتا۔ سیدی و مولائی اے رومی اعظم اے جان بایزید ساز، آپ کے محبوب پاک کی ذات پاک کا واسطہ اے محبوب جو شراب آپ پیتے ہیں وہی از کرم ذات کریمانہ اس غلام عطش کو ضرور پلا دیجئیبغیر اس کے میں ہرگز ہرگز زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہرگز نہیں۔ سیدی و مولائی (آپ پر ہر آن بیشمار تجلیات و انوار اور بیشمار رحمت خاصہ کی مسلسل بارش ہوتی رہے۔) آپ کی برکت سے قلب پر علوم کی بارش ہوتی رہتی ہے جو طریق کے بعض مہتم بالشان مسائل کی شرح آسان ہوتی ہے اور جو آپ کے ایک ایک ملفوظ پاک کی شرح ہوتی ہے یا حضرت حکیم الامت کے اصول و تعلیمات کی توضیحات ہوتی ہیں اور دوران تقریر میں جان آپ پر اور حضرت حکیم الامت پر سوجان سے فدا ہوتی رہتی ہے اور دونوں حضرات کے لیے مجمع سمیت خوب دعائیں نکلتی رہتی ہیں۔ ایسے علوم کا ذکر اپنے احباب میں زیادہ کرتا ہوں۔ سیدی ضروری سمجھ کر اطلاع کردی۔ بس ؎</p>
<p>سپردم بہ تو مایۂ خویش را</p>
<p>تو دانی حساب کم و بیش را</p>
<p>حضرت جی، اﷲ کے واسطے میری ان تمام گستاخیوں کو معاف فرمادیجئے، بیوقوف کو درگذر فرمادیجئے۔</p>
<p>جواب: سب معاف ہے۔</p>
<p>حال: الحمدﷲ احقر کے ساتھ علماء و طلباء کے تعلقات بہ برکت حضرت والا زیادہ بڑھ رہے ہیں رمضان ہذا میں وفاق المدارس بنگلہ دیش کی طرف سے مدرسہ دارالرشاد میرپور میں تربیت المدرسین ہورہی ہے۔ الحمدﷲ ہرسوموار کو وہاں احقر کو ایک گھنٹہ تزکیہ پر خطاب کے لیے انتخاب کیا گیا۔ پچھلے سوموار میں سارے مدرسین بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ بہت زیادہ دعا و توجہات کا محتاج ہوں۔ (احقر غلام بدترین محمد عبدالمتین غفرلہ، شب ۱۰؍ رمضان المبارک ۱۴۱۹ھ)</p>
<p>جواب: مبارکباد۔ دل و جان سے دعا گو ہوں ترقیات ظاہرہ اور باطنہ کے لیے تقبل اﷲ بفضلہ (محمد اختر عفا اﷲ عنہ۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: تقریباً پچیس سال پہلے ایک صاحب جو حضرت والا کی مجلس میں آتے تھے ایک بار انہوں نے حضرت والا کو لکھا کہ میرے والد صاحب کہتے ہیں کہ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ نے نعوذباﷲ انگریزوں کا ساتھ دیا تحریک خلافت کا ساتھ نہیں دیا۔</p>
<p>دوسری بات یہ لکھی کہ آپ کی مجلس میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی باتیں کم اور بزرگوں کی باتیں زیادہ ہوتی ہیں۔دونوں اعتراضات کا جو جواب حضرت والا نے تحریر فرمایا قارئین کے استفادہ کے لیے پیش ہے۔</p>
<p>جواب: حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ نے خلافت کی تحریک کا ساتھ اس لیے نہیں دیا تھا کہ ظاہراً اعلان ہوتا تھا کہ ہندو مسلم مل کر انگریزوں کو نکال دیں لیکن باطناً گاندھی خبیث کا معاملہ کچھ اور تھا۔ گاندھی خبیث نے مسلمانوں کو انگریزوں کی ملازمت سے نفرت دلا کر ان کو بے روزگار کردیا پھر ہندوئوں کو خفیہ اشارہ کیا اور ان کو اپنے ایجنٹ بھیجے کہ تم لوگ ان کی نوکری پر قبضہ کرلو چنانچہ ہندوئوں نے جلدی جلدی ان ملازمتوں پر قبضہ کرلیا پھر گاندھی مردود منافقانہ طور پر قرآن کی کچھ آیتیں اپنے جلسوں میں پڑھتا تھا تو بعض بھولے مسلمان اس کے چکر میں اس طرح آگئے کہ ہندو مذہب کے شعار اپنانے لگے کھڑائوں پہن کر پیشانی پر ہندوئوں کا قشقہ لگانا شروع کردیا اور گائے کی قربانی سے بعض مسلمان احتیاط کرنے لگے کہ ہندو خوش رہیں تو حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ نے جب دیکھا کہ مسلمانوں کا ایمان اور اسلام اس طاغوت اور مکار گاندھی سے تباہ ہورہا ہے تو اس تحریک خلافت سے بیزاری کا اعلان فرمایا۔ مولانا کو انگریزوں سے ہرگز کوئی واسطہ نہ تھا اگر آپ کے والد کا خیال صحیح ہوتا تو ہندوستان کے بڑے بڑے علماء مولانا سید سلیمان ندوی مفسر معارف القرآن مفتی محمد شفیع مفتی اعظم پاکستان مولانا خیر محمد صاحب جالندھریؒ بانی خیر المدارس علامہ شبیر احمد عثمانیؒ مفسر قرآن تفسیر عثمانی کے مصنف حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسری بانی جامعہ اشرفیہ لاہور حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ جیسے بڑے بڑے علماء حضرت تھانویؒ سے بیعت کیوں ہوتے؟ ان بڑے بڑے علماء اور بزرگوں کا بیعت ہونا دلیل ہے کہ مولانا بہت بڑے عالم اور اﷲ والے تھے اور تحریک خلافت کے بزرگ بھی عقیدتمندی سے حضرت حکیم الامت کی خدمت میں حاضری دیا کرتے تھے چنانچہ حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی رحمۃ اﷲ علیہ اور حضرت مولانا شاہ عطاء اﷲ بخاریؒ اور حضرت مولانا کفایت اﷲ صاحب دہلویؒ رحمہم اﷲ جیسے تحریک خلافت کے اکابر بھی حضرت والا تھانویؒ کا احترام کرتے تھے۔ چند نادان اور جہلاء کے الزام اور بہتان سے کسی بزرگ کی عظمت کو نقصان نہیں پہنچتا خود بہتان لگانے والے کی عاقبت خراب ہوتی ہے۔ پاکستان کے موجودہ بڑے علماء جو زندہ ہیں آپ کے والد صاحب ان سے ملاقات کرکے معلومات کریں تو معلوم ہوگا کہ تقریباً پندرہ سو کتابوں کا مصنف اور ہزاروں علمائے دین کے مرشد کے تقویٰ اور خوف خدا کا کیا مقام ہے۔ اس وقت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب دامت برکاتہم جو علماء کو مفتی بناتے ہیں اور ۲۰ سال بخاری شریف پڑھائی ہے اور حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی رحمۃ اﷲ علیہ کے شاگرد اور مرید ہیں ان سے ملاقات کرکے حقیقت معلوم کریں کہ مولانا تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ نے مسلمانوں کا ساتھ دیا تھا یا( خدا اس بہتان سے بچائے) انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد ولی حسن صاحب نے دیوبند میں پڑھا ہے ان سے معلوم کریں۔ ہندوستان و پاکستان اور بنگلہ دیش کے تمام بڑے علماء تو مولانا تھانویؒ کی عزت کرتے ہیں اور ان کی کتاب تفسیر بیان القرآن اور بہشتی زیور اور دیگر کتابوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور احترام کی نظر سے ان کی تعلیمات کو پڑھتے ہیں۔ یہ وہ علماء ہیں جو تحریک خلافت سے خوب واقف ہیں۔ اب اگر کوئی جاہلوں اور نادانوں کی الزام تراشی پر اعتماد کرکے کسی اﷲ والے سے بدگمانی کرتا ہے تو میرے پاس اس کا کوئی علاج نہیں۔ وہ قیامت کے دن خود جواب دہ ہوگا۔</p>
<p>دوسرا مسئلہ کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی باتیں کم ہوتی ہیں بزرگوں کی باتیں ہمارے یہاں کے اجتماع میں زیادہ ہوتی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ تمام بزرگوں کا وعظ تلاش کریں تو ایک حدیث پر ۲ گھنٹہ کا وعظ ملے گا قرآن پاک اور حدیث مبارکہ تو اصل مقصود ہیں مگر اس کو دل میں جمانے کے لیے اور دل کی زمین بنانے اور ہموار کرنے کے لیے دوسری باتیں بھی سنائی جاتی ہیں جیسے گندم بونے کے لیے زمین کو کئی ماہ جوتا جاتا ہے پھر کنکر پتھر نکالا جاتا ہے پھر کھاد اور پانی ڈالتے ہیں تب گندم بویا جاتا ہے ورنہ گندم برباد ہوجاتا ہے۔ اسی طرح دلوں کی زمین کو قرآن اور حدیث کے بیج بونے کے لیے بزرگان دین کے واقعات اور ان کے ارشادات اور موت و قبر اور دنیا کی فنائیت کے قصوں سے ہموار کیا جاتا ہے۔ تمام دنیا کے بزرگوں کا یہی طریقہ ہے، اختر اولیائے کرام کے سپرہائی وے کو کیسے چھوڑ دے۔آپ کو معلوم ہے جو لوگ اس اجتماع میں آرہے ہیں ان کی سمجھ اور صلاحیت کے مطابق مضامین سے ان کو کس قدر فائدہ ہورہا ہے اور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ تھوڑی تھوڑی دیر پر قرآن پاک کی تفسیروں اور احادیث مبارکہ سے ان مضامین پر دلائل بیان کرتا ہوں۔ اور تمام آنے والوں کی ہر روز اصلاح نفس ہورہی ہے لیکن اگر اس ناکارہ سے مناسبت نہیں تو آپ اور آپ کے والد صاحب کسی اور جگہ کو تلاش کریں جو ان کی سمجھ کے مطابق اچھی ہو۔</p>
<p>احقر اتنی تفصیل سے کسی کو جواب نہیں لکھتا مگر آپ پر رحم آیا کہ جو نفع ہورہا ہے وہ نادانی سے ضائع نہ ہوجائے۔ اب تدبیر کے بعد حق تعالیٰ شانہ سے دعا کرتا ہوں کہ احقر کو اور آپ کو اور آپ کے والد صاحب کو اﷲ تعالیٰ اچھی سمجھ عطا فرمائیں اور حق بات دل میں اتار دیں اور بے دلیل بدگمانی سے توبہ نصیب فرماویں حسن ظن پر بے دلیل ثواب ملتا ہے کیوں کہ حدیث مبارک ہے کہ مسلمانوں سے نیک گمان رکھو اور جب دلیل شرعی نہ ہو تو پھر بدگمانی پر قیامت کے دن مواخذہ کا اندیشہ ہے۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: جناب حضرت والا دامت برکاتہم العالیہ ماقبل خطوط میں بندی نے یہ بات لکھی تھی کہ اﷲ پاک بفضلہ تعالیٰ بندی سے تدریس کا کام لے رہے ہیں بندی ایک گھمبیر پریشانی کا شکار ہے ہمارے جامعہ کی پہلی ختم بخاری شریف کی تقریب ہے اور اس کے اہتمام کے لیے بالجبر طالبات پر زور دیا جارہا ہے کہ تقریب کا اہتمام کریں فارغ ہونے والی طالبات و معلمات کو ہدایا دیں اور ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہم آپ پر زبردستی نہیں کررہے ہیں لیکن یہ انتظام آپ نے ہی کرنا ہے اسی طرح سے کچھ معلمات بھی پریشانی کا شکار ہیں اس وجہ سے کہ نگران اعلیٰ کا اس پر زور ہے کہ سب ایک جیسا لباس پہنیں اور سب معلمات اس لباس کو خریدنے کی گنجائش نہیں رکھتی بندی نے تمام معلمات کو بارہا کہا کہ ایسا سوٹ خرید لو جو سب باآسانی لے سکتے ہوں سب بظاہر رضامند ہوئے پر مارکیٹ میں جو لباس خریدنے پر مصر و رضامند ہیں اور خرید بھی رہے ہیں تمام کی گنجائش سے باہر ہے جس کی وجہ سے آپس میں شکر رنجی بڑھ رہی ہے عداوت و بغض بڑھتا جارہا ہے اور معلمات آپس میں ایک دوسرے پر طنز آمیز لہجہ میں گفتگو کرتی ہیں۔ بندی کو سمجھ نہیں آرہا کہ ایسے حالات میں کیا کیا جائے کس طرح سمجھایا جائے کہ اختلاف بھی ختم ہوجائے۔ دوسری بات بچیوں سے بول بول کر ہدایا لیے اور دلوائے جارہے ہیں جبکہ خود کچھ بچیاں بندی کو بتاچکی ہیں کہ ہم سب کی اتنی گنجائش نہیں اور بندی بھی کچھ طالبات کے کسب و معاش کے نظام سے واقف ہے حضرت والا دامت برکاتہم ایک ایسا جامعہ جہاں قال اﷲ عزوجل اور قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پڑھایا جاتا ہے ان دنوں اس مشکل کا شکار ہے آپ سے التماس ہے بندی کو تمام معلمات و طالبات کو اس گھمبیر و مشکل مراحل سے نکلنے کا راستہ بتائیں نیز اﷲ پاک سے دعا فرمائیں ہم سب کے حق میں کہ اﷲ پاک ہمارے دلوں میں یہ بات ڈال دیں کہ بالجبر کسی کا مال لینا اور کسی کی تحقیر کرنا عنداﷲ کتنا مذموم ہے۔</p>
<p>جواب: ختم بخاری کی تقریب کا ایسا اہتمام کرنا طلباء پر زور ڈالنا کہ وہ بالجبر ہدیہ دیں اور نیا لباس بنوائیں وغیرہ بالکل ناجائز، حرام اور ظلم ہے۔ چند سالوں سے یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ اکثر مدارس میں ختم بخاری ایک تقریب بنتی جارہی ہے اور ایک بدعت کی شکل اختیار کررہی ہے یہاں تک کہ جو طلباء مالدار ہوتے ہیں وہ باقاعدہ ہال بک کراتے ہیں اور باقاعدہ دعوت نامے جاری کئے جاتے ہیں اور پانچ پانچ سو آدمیوں کی ضیافت کی جاتی ہے جس سے غریب اور نادار طلباء دل برداشتہ ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر قابل افسوس بات یہ ہے کہ اس تقریب کو اب اس طرح کیا جانے لگا کہ گویا یہ کوئی مسنون عمل ہے اور دین کا تقاضا ہے اور بدعت اسی طرح ایجاد ہوتی ہے کہ غیر دین کو دین سمجھا جانے لگتا ہے چنانچہ آج سے تقریباً دس سال پہلے حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اﷲ علیہ خلیفہ حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا تھانوی قدس سرہ نے فرمایا تھا کہ ختم بخاری کی تقریب اب بدعت بنتی جارہی ہے اس کو ترک کرنا چاہیے۔ ہمارے بزرگ اس موقع پر بس دعائوں کا اہتمام فرماتے تھے، نہ لوگوں کو دعوت نامے جاری کئے جاتے نہ ان کو زبانی طور پر دعوت دی جاتی نہ کسی اجتماع اور تقریب کا انداز اختیار کیا جاتا اور اب یہ سب خرافات شروع ہوگئیں اسی لئے پچھلے سال دارالعلوم کراچی میں ختم بخاری کے دن تک کسی کو اطلاع نہیں دی گئی کہ ختم بخاری کب ہے اورسادگی سے دعا کے بعد مجلس ختم ہوگئی۔ چنانچہ اس تقریب کا کوئی اہتمام نہ کریں نہ نیا لباس بنوائیں نہ کسی کو ہدیہ دیں اس کے لیے بخاری کی سند کی بھی فکر نہ کریں سند مقصود نہیں اﷲ کی رضا مقصود ہے۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: محترم المقام حضرت والاالسلام علیکم آپ کے خلیفہ مولوی ……میرے بیٹے ہیں۔ ان کا زیادہ تر وقت آپ کے ساتھ آپ کی خانقاہ میں ہی گذرتا ہے۔ گھریلو معاملات میں بالکل دلچسپی نہیں لیتے ہیں۔ اپنی ماں کے پاس بھی نہیںبیٹھتے ہیں۔ بھائی بیمار ہے تو کوئی پرواہ نہیں۔</p>
<p>جواب: ان دونوں امور کے بارے میں ان شاء اﷲ ان کو توجہ دلائی جائے گی۔ ان شاء اﷲ اس کی تو اصلاح کرلیں گے۔</p>
<p>حال: رشتہ داروں میں شادی غمی میں آنا جانا بالکل موقوف ہے۔ رشتہ دار پوچھتے ہیں کہ ……کہاں ہے۔</p>
<p>جواب: البتہ اس بارے میں ان سے معلوم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان مواقع میں خلاف شریعت کام ہوتے ہیں جس میں شرکت جائز نہیں لایجوز الحضور عند مجلس فیہ المحظور۔ مسئلہ ہے کہ جس مجلس میں اﷲ کی نافرمانی ہورہی ہو اس میں شرکت جائز نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اہلیہ کو ان کے رشتہ داروں میں لے کر جائوں تو نامحرم عورتیں باوجود منع کرنے کے سامنے آتی ہیں اور پردہ نہیں کرتیں اس لیے اپنی اہلیہ کو ان کے رشتہ داروں میں کیسے لے کر جائیں۔</p>
<p>حال: ان کی شادی ان کے قریبی رشتہ داروں میں ہوئی ہے۔ گذشتہ چار پانچ ماہ سے لڑکی میکے میں ہے اور واپسی کانام ہی نہیں لیتی۔ اس کے والد کا کہنا ہے کہ وہ سسرال نہیں جانا چاہتی۔ گذشتہ بقر عید پر میں ان کے گھر گیا تھا۔ اپنی گھر والی کو بھیجا۔ خود اپنے بیٹے کو بھی بھیجا تھا۔ گوشت بھی ان کے گھر پہنچایا گیا۔ لڑکی کے والد ہمارے پاس نہیں آتے۔ ان کے دوسرے بھائی البتہ آتے رہے ہیں۔ میں ایک سیدھا سادہ مسلمان ہوں شروع سے اﷲ والوں کے ساتھ صحبت رکھی ہے قاری فتح محمد صاحب رحمۃ اﷲ علیہ سے خصوصی تعلقات رہے ہیں۔ مولانا مفتی رشید احمد مرحوم و مغفور کی جمعہ کے دن بعد عصر والی مجلس میں برسوں شرکت کی ہے۔ میرے گھر میں ٹی وی شروع سے نہیں ہے۔ بہو کے والدین کے مطالبہ پر کہ اس کو گھمائو پھرائو اپنے رشتہ داروں میں کافی حد تک لے جاتے رہے ہیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورتحال کو اسی طرح جاری رہنے دیا جائے یا بیٹے کا کسی دوسری مناسب جگہ رشتہ کردیا جائے۔ اگر آپ مجھ سے بالمشافہ گفتگو کرنا چاہیں تو میں بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوسکتا ہوں۔ جیسا ارشاد فرمائیں۔</p>
<p>جواب: ان کی سسرال والوں کو بتادیا جائے کہ مذکورہ بالا غیر شرعی کاموں میں وہ شرکت نہیں کریں گے، آپ کہہ دیں کہ اگر میں بھی کہوں گا تو بھی وہ نہیں مانیں گے کیونکہ اﷲ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں اور جائز امور میں وہ ضرور اہلیہ کے حقوق ادا کریں گے اگر وہ اس پر رضا مند ہوں تو دوسرے رشتہ کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>…………………</p>
<p>انہی صاحب کا دوسرا خط</p>
<p>حال: اب صورتحال یہ ہے کہ ہم لڑکی کے گھر کئی بارجاچکے ہیں اور اس کے لانے کی کوششیں کیں مگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ آخر ایک دفعہ اسے کسی طرح لے آئے گھر کے دروازے پر ہی وہ کھڑی رہی۔ ہم اوپر والی منزل میں رہتے ہیں۔ اوپر چڑھنے کے لیے وہ تیار ہی نہیں ہورہی تھی بہ مشکل تمام اوپر لایا گیا تو بیٹھی روتی رہی۔ اس کا دل بہلانے کی بہت کوشش کی مگر بے سود اس کی ماں اور بہن بھی ساتھ آئی تھیں۔ انہوں نے بھی بہت کوشش کی کہ وہ کچھ بولے اور یہاں رہنے پر راضی ہوجائے مگر نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا۔ لڑکی اور اس کی ماں دونوں نفسیاتی مریض ہیں۔ لڑکی کا دل شوہر سے بالکل نہیں ملتا۔ یہ ان کو سلام بھی نہیں کرتی ہے اس کے گھر والے کہتے ہیں کہ ہمارے گھر میں کچھ اثر وغیرہ ہے۔ حالانکہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارے گھر میں ٹی وی اور دوسری واہیات نہیں ہیں۔ ان کے گھر میں یہ سب ہیں۔ دیواروں پر بڑی بڑی تصاویر لگائی ہوئی ہیں۔ حضرت ہم اب یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہی اپنے اس خلیفہ کی کسی مناسب عالمہ اور حافظہ سے وہیںشادی کرادیں۔ منکوحہ لڑکی کو بھی چھوڑنا نہیں چاہتے یہ جس وقت آنا چاہے خوشی سے آجائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ امید ہے ہماری ان گذارشوں پر ہمدردانہ غور فرمائیں گے اور ہماری مشکل کو آسان فرمانے کی کوشش اور سعی کی جائے گی دعائوں کی درخواست ہے۔</p>
<p>جواب: دوسری شادی پر وہ رضامند نہیں ہیں۔ کہتے ہیں اگر کبھی موجودہ بیوی آگئی تو فبہا ورنہ میں ایسے ہی زندگی گزاردوں گا مجھے اس میں کوئی مشکل نہیں۔ لیکن آپ ان سے کہیں تو امید ہے کہ مان لیں گے اور جائز امور میں والدین کی نافرمانی وہ نہیں کریں گے۔ ان کی اہلیہ چونکہ ان کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو اس کو فارغ کرکے پھر دوسری شادی کریں اس کو محبوس رکھنا مناسب نہیں۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: قابل صد احترام و محبت حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب! السلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ، اﷲ رب العالمین ایمان و صحت کی بہترین حالتوں میں رکھے اور عمر دراز نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ میرے تعارف کے لیے یہی کافی ہے کہ الحمدﷲ مسلمان ہوں، اﷲ کی بندی ہوں اور حضرت مولانا خان محمد صاحب سے بیعت ہوں۔ جولائی میں اچانک کراچی جانے کا اتفاق ہوا تو آپ کی خدمت میں حاضری دینے کا شوق شدید چرّایا اس سے قبل میں آپ کی کئی گرانقدر کتب کا مطالعہ کرچکی تھی لہٰذا از حد شوق تھا کہ آپ کی صحبت سعید سے چند لمحات چرالوں لیکن افسوس قسمت نے یاوری نہیں کی اور آپ نے ملنے سے انکار کردیا حالانکہ میں مکمل پردہ میں تھی اور میرے ساتھ میری خالہ اور میرے کزن بھی تھے۔ بہرحال اﷲ کو یہی منظور تھا سو میں نے آپ کے کتب خانہ سے آپ کی ڈھیر ساری کتابیں خریدیں کہ یہ بھی صحبت کے حصول کا ایک ذریعہ ہیں اور میر صاحب سے فون پر بات بھی ہوئی انہوں نے فرمایا کہ رقعہ لکھ کر بھیج دو حضرت دعا فرمادیں گے۔ چنانچہ اسی کو غنیمت اور اعزاز سمجھتے ہوئے جلدی سے رقعہ لکھ ڈالا۔ آپ نے نہ جانے کیا دعا فرمائی ہوگی جو میرے لیے یقینا باعث تسلی ہوا لیکن میں تو آپ کے پاس محبت الٰہی کا شعلہ بھڑکانے آئی تھی ہمارے باباجی کو اﷲ سلامت رکھے بہت اونچے مقام پر ہیں لیکن ان کی بھی صحبت میسر نہیں وہ بھی ہم سے بہت دور میانوالی میں رہتے ہیں اکثر برطانیہ میں ہوتے ہیں یا پھر اندرون ملک دوروں پر، خط و کتابت کا سلسلہ بھی نہیں اس لیے جہاں کہیں کسی بزرگ سے ملنے کا موقع ہو تو میں ضایع نہیں کرتی کہ کچھ نہ کچھ فیض تو حاصل کرلوں۔ اب آپ بتائیں کہ میرے اس مسئلے کا کیا حل ہے گھر بیٹھے بیٹھے کس طرح عشق کی آگ بھڑکائی جائے؟ میں الحمدﷲ تنظیمی و جماعتی طور پر جماعت اسلامی حلقۂ خواتین سے بھی وابستہ ہوں اور شریعت پر عمل کی کوشش کر رہی ہوں لیکن اس کے باوجود بھی کچھ خامیاں، کچھ کمزوریاں ایسی ہیں کہ ابھی Coverنہیں ہوئیں محبت الٰہی اور محبت رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی کیفیت کبھی کبھی محسوس ہوتی ہے۔ میں اس کا دوام چاہتی ہوں یہ کسیے ہوگا آپ سے مدد کی درخواست ہے کہ نسخہ بھی بتائیں اور خصوصی دعا بھی فرماتے رہیں۔دیکھیں اب میرا آپ پر حق بن گیا ہے کہ میں نے آپ سے درخواست کی ہے اور میں آپ کے اس اﷲ رب العالمین کی بندی ہوں جس پر آپ فدا ہیں تو یقینا آپ میری درخواست رد نہیں کرسکتے اس کے علاوہ میرے والدین اور میرے بہن بھائیوں کی درازیٔ عمر، ایمان و عمل صالح کی توفیق اور صحت ظاہری و باطنی کے لیے بھی خصوصی دعا فرمایئے گا۔ اور آخر میں ایک درخواست اور کیا آپ مجھے بتائیں گے کہ آپ نے رقعہ کے جواب میں میرے لیے کیا دعا فرمائی تھی۔ اجازت چاہوں گی۔ آپ کا بہت سا قیمتی وقت لے لیا۔</p>
<p>جواب: ہماری خانقاہ کا یہ اصول ہے کہ عورتوں سے پردہ سے بھی ملاقات نہیں کرتے۔ اصلاح کے لیے محرم سے دستخط کراکے مکاتبت کی اجازت ہے۔ عورتوں کے لیے اہل اﷲ کی صحبت یہی ہے کہ پردہ سے ان کا وعظ سنیں جو صحابیات کا طریقہ تھا اور یہ میسر نہ ہو تو ان کی کتب کا مطالعہ کریں۔ اور گناہوں سے بچیں شیخ نے جو ذکر بتایا ہو اس کی پابندی کریں مثلاً عورتوں کو سبحان اﷲ کی تین تسبیح مشایخ بتاتے ہیں سنت کی اتباع کریں اسی سے ان شاء اﷲ اﷲ کی ولایت نصیب ہوجائے گی کوئی کمی نہ ہوگی بعض عورتیں مردوں سے بھی آگے نکل جاتی ہیں۔</p>
<p>لیکن شرط یہ ہے کہ جو خمیرہ موتی کا کھائے وہ سنکھیا نہ کھائے ورنہ خمیرہ کا کچھ اثر نہ ہوگا۔ یہ پڑھ کر سخت تعجب اور افسوس ہوا کہ آپ کا اہل اﷲ سے بھی تعلق ہے اور سخت گمراہ جماعت سے بھی تعلق ہے جس کے بانی نے انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام پر گستاخانہ قلم اٹھایا ہے۔ مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اﷲ علیہ کی کتاب اختلاف امت اور صراط مستقیم کا مطالعہ کریں تو حقیقت روشن ہوجائے گی بہرحال اگر اﷲ کی ولایت مقصود ہے تو فوراً اس جماعت سے تعلق ختم کردیجئے ورنہ ہرگز ہرگز اﷲ تعالیٰ کی ولایت اور دوستی نصیب نہیں ہوسکتی بلکہ بدترین خسارہ اور آخرت کی تباہی کا اندیشہ ہے وما علینا الا البلاغ۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: بعد سلام کے عرض ہے کہ بہت دنوں سے آپ سے ایک اہم بات کے دریافت کرنے میں جھجک رہا ہوں آج ہمت کرکے لکھ رہا ہوں۔ بہت عرصہ سے دل میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ اگر بیعت ہونا ضروری ہے تو میں ابھی تک بیعت کیوں نہیں ہوا ہوں۔ پتا نہیں کیا بات ہے کہ بیعت کے نام سے عجیب سا خوف محسوس ہوتا ہے۔ بعض جگہ یہ پڑھا اور سنا بھی کہ طالب علمی کے دوران بیعت ہونا مصلحت کے خلاف ہے۔ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ بیعت ہونے کے بعد کچھ دن شیخ کے پاس رہنا بھی چاہیے اور میری پڑھائی کے دوران اس بات کا امکان کم نظر آتا ہے کہ میں چالیس دن رہ سکوں لیکن میرا پورا ارادہ ہے کہ اگر فراغت کے ساتھ چھٹیاں ملیں تو میں ضرور رہوں گا۔ آ پ کے سامنے اپنا حال بیان کردیا ہے۔ اب یہی عرض کرتا ہوں کہ اگر بیعت نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی طرح سے اﷲ تعالیٰ سے محبت و تعلق کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوگی تو میری طرف سے بیعت کی درخواست ہے جیسا آپ مناسب سمجھیں۔ اگر خط کے مضمون میں کوئی بے ادبی ہوگئی ہے تو عاجز سمجھ کر معاف فرمادیں، دعا کی درخواست ہے۔</p>
<p>جواب: یہ خوف قلت شوق کی علامت ہے لہٰذا غلبۂ شوق جب تک نہ ہو بیعت نہ کریں۔ ابھی اصلاح اور ذکر کا تعلق رکھئے بیعت میں جلدی مناسب نہیں غلبۂ شوق کا انتظار کیجئے۔ کوئی حرج نہیں طالبعلمی میں بیعت ہوسکتا ہے بیعت کے بعد شیخ کے پاس رہنا بھی فوراً ضروری نہیں۔</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F330.html&amp;linkname=%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F330.html&amp;linkname=%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F330.html&amp;linkname=%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F330.html&amp;linkname=%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F330.html&amp;linkname=%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F330.html&amp;linkname=%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/330.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ختم بخاری کے مفاسد</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/329.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/329.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:32:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین و مقالات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=329</guid>
		<description><![CDATA[۱۷؍ رجب ۱۴۳۰ھ ، ۱۱؍ جولائی ۲۰۰۹ء ، ہفتہ کے روز جامع مسجد دارالعلوم کراچی میں ختم بخاری شریف کی تقریب سادگی کے ساتھ منعقد ہوئی، اس میں رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے حاضرین کے سامنے بہت ہی مفید، چشم کشا اور بصیرت افروز خطاب فرمایا یہ خطاب [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>۱۷؍ رجب ۱۴۳۰ھ ، ۱۱؍ جولائی ۲۰۰۹ء ، ہفتہ کے روز جامع مسجد دارالعلوم کراچی میں ختم بخاری شریف کی تقریب سادگی کے ساتھ منعقد ہوئی، اس میں رئیس الجامعہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے حاضرین کے سامنے بہت ہی مفید، چشم کشا اور بصیرت افروز خطاب فرمایا یہ خطاب طلبائے مدارس کے لیے عموماً اور دورۂ حدیث سے فارغ ہونے والے طلباء کے لیے خصوصاً اہم ہدیات پر مشتمل ہے۔ مفتی صاحب کے خطاب سے ضروری اقتباس پیش کیا جارہا ہے۔ (بہ شکریہ ماہنامہ البلاغ)</p>
<p>نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد</p>
<p>ختم بخاری نصیحتوں اور دعائوں کی مجلس ہے</p>
<p>اﷲ رب العالمین کا شکر ادا نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے ہمیں اس تعلیمی سال کے اختتام پر پہنچنے کی توفیق عطا فرمائی اور بہت ہی ناساز گار حالات کے باوجود تمام اسباق اور بخاری شریف جیسی عظیم الشان کتاب بھی مکمل کروادی۔</p>
<p>آپ نے درس حدیث سنا، عام طور سے ہمارے ہاں ختم بخاری کا بہت برا اجتماع ہوا کرتا ہے، لیکن اس مرتبہ ہم نے اس بات کا اہتمام کیا کہ ختم بخاری کی یہ مجلس کسی تقریب کی شکل اختیار نہ کرنے پائے، کیونکہ ہم نے اپنے بزرگوں کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ ہمارے بزرگوں کا تجربہ یہ ہے کہ ختم بخاری کے موقع پر مانگی جانے والی دعائوں کو اﷲ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے قبول فرمالیتے ہیں، اس لیے ہمارے والد ماجدؒ بھی دارالعلوم میں ختم بخاری کے موقع پر دعا کا خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے، البتہ اس کے لیے نہ تو کوئی اعلان ہوتا تھا اور نہ اس کے لیے کسی بڑی تقریب کا انداز اختیار کیا جاتا تھا۔ خاص خاص لوگ پوچھتے تھے کہ ختم بخاری کا دن کونسا ہے، ان کو بتلایا دیا جاتا تھا کہ فلاں دن ہے، جن کو شوق ہوتاتھا وہ شرکت کرلیا کرتے تھے۔</p>
<p>پھر رفتہ رفتہ ختم بخاری کی یہ مجلس ایک بہت بڑی تقریب کی صورت اختیار کرگئی، پھر بہت بڑی تقریب بنتے بنتے طرح طرح کی دعوتوں اور ضیافتوں کا دن بن گئی اور پھر اس کی کیفیت یہ ہوگئی کہ ڈر لگنے لگا کہ کہیں یہ کسی ’’میلے‘‘ کی صورت اختیار نہ کرلے اور یہ خوف ہونے لگا کہ اگر اس کو مزید جاری رکھا گیا تو یہ خدانخواستہ ایک مستقل بدعت کی شکل اختیار نہ کرجائے، کیونکہ جتنی بدعتیں ہوتی ہیں ابتداء میں وہ نیک کام ہوتے ہیں۔ تو ختم بخاری کے اندر بھی یہی ہونے لگا، حتی کہ اس کے ترک پر ملامتیں ہونے لگیں، اور رفتہ رفتہ اس کو ایسا عمل سمجھا جانے لگا گویا کہ یہ سنت سے ثابت ہے۔</p>
<p>پھر ختم بخاری کی تقریب میں یہ بھی ہونے لگا کہ وہ طالبعلم جو دورۂ حدیث سے فارغ ہورہا ہوتا اور اس کے پاس کچھ مالی وسعت ہوتی تو وہ اپنے مہمانوں کو ختم بخاری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دیتا اور مہمان بھی ایک دو نہیں، دو سو، تین سو مہمان مختلف شہروں اور دیہاتوں سے سفر کرکے آتے اور ان کو ٹھہرانے کے لیے آس پاس کے علاقوں میں جگہیں تلاش کی جاتیں، ان کے کھانے کے لیے دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا، دیگیں اتروائی جاتیں اور خوب عظیم الشان ضیافت کا اہتمام ہوتا۔</p>
<p>لیکن وہ طلباء جو مالی استطاعت نہیں رکھتے تھے اور ایسی دعوتوں کا انتظام ان کے بس سے باہر تھا ان کے دلوں میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا تھا کہ دوسرے طلباء کی دستار بندی کو دیکھنے کے لیے اتنے مہمان آرہے ہیں، لیکن ہماری دستار بندی دیکھنے کے لیے کوئی بھی نہیں آرہا۔</p>
<p>پھر بعض جگہوں پر یہ بھی ہونے لگا کہ مسجد میں ختم بخاری ہورہا ہے اور باہر صحن یا اس سے ملحقہ جگہوں پر لوگ آپس میں ہنسی مذاق اور گپ شپ کررہے ہیں۔ تو ختم بخاری کا جو مقصد تھا کہ درس حدیث سنیں تاکہ نصیحت حاصل ہو اور اس بابرکت موقع پر دعائیں مانگیں، وہ فوت ہونے لگا اور پیسے کا ضیاع ہونے لگا، اس لیے پچھلے دو تین سالوں سے یہ کوشش کی گئی کہ جتنا اس کو کم کیا جاسکتا ہو اتنا کم کیا جائے۔</p>
<p>الحمدﷲ! ہم نہ تو اعلان کرتے ہیں اور نہ ہی دعوت نامے جاری کرتے ہیں، لیکن چونکہ تاریخ سے پہلے سے طے ہوجاتی ہے اس لیے لوگ ایک دوسرے کو سینہ بہ سینہ اور اب تو موبائل ٹو موبائل بتلادیتے ہیں اور خبر پورے شہر اور ملک میں پھیل جاتی ہے۔ اس دفعہ ہم نے ختم بخاری کی تاریخ کو صیغۂ راز میں رکھا اور آج صبح نو بجے تک اس کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔</p>
<p>ۃۃۃۃۃ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F329.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%AA%D9%85%20%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B3%D8%AF" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F329.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%AA%D9%85%20%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B3%D8%AF" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F329.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%AA%D9%85%20%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B3%D8%AF" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F329.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%AA%D9%85%20%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B3%D8%AF" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F329.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%AA%D9%85%20%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B3%D8%AF" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F329.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%AA%D9%85%20%D8%A8%D8%AE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%81%D8%A7%D8%B3%D8%AF">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/329.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شرعی مسائل کے جوابات</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/328.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/328.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:30:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مسائل اورجوابات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=328</guid>
		<description><![CDATA[حضرت مفتی محمد نعیم صاحب مدظلہم
(دارالافتاءجامعہ اشرف المدارس کراچی) کی کتاب تفہیم الفقہ سے ماخوذ
ترجمہ: نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اﷲتعالیٰ کو قرض دو اچھی طرح پر قرض دینا اور تم اپنے آگے جو نیکی بھیجوگے اس کو اﷲ تعالیٰ کے ہاں بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پائوگے۔ (رواہ البخاری ومسلم)
رسول [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>حضرت مفتی محمد نعیم صاحب مدظلہم<br />
(دارالافتاءجامعہ اشرف المدارس کراچی) کی کتاب تفہیم الفقہ سے ماخوذ</p>
<p>ترجمہ: نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اﷲتعالیٰ کو قرض دو اچھی طرح پر قرض دینا اور تم اپنے آگے جو نیکی بھیجوگے اس کو اﷲ تعالیٰ کے ہاں بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پائوگے۔ (رواہ البخاری ومسلم)</p>
<p>رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو اﷲ تعالیٰ نے مال دیا ہو مگر وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اسی مال کو ایسے سانپ کی شکل دی جائے گی جو (زہر کی شدت کے باعث) گنجا ہوگا، اس کے دو سیاہ نقطے ہونگے (جو سانپ کے انتہائی زہریلا ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔) وہ سانپ اس شخص کے دونوں جبڑوں کو لپٹ جائے گا اور کہے گا کہ میں تیرا خزانہ ہوں، تیرا مال ہوں۔ پھر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ آیت آخر تک تلاوت فرمائی: ولا تحسبن الذین یبخلون بما اتاہم اﷲ من فضلہٖ… الخ (رواہ البخاری و مسلم)</p>
<p>زکوٰۃ کے معنی: لغت عربی میں زکوٰۃ کے معنی ’’پاک کرنا’’اور ’’نشوونما ‘‘ کے ہیں اور شریعت مقدسہ کی اصطلاح میں زکوٰۃ کے معنی ہیں:</p>
<p>’’کسی مستحق شخص کو مخصوص شرائط کے پائے جانے کی صورت میں مال کے مخصوص حصے کا مالک بنادینا زکوٰۃ کہلاتا ہے۔‘‘</p>
<p>(مذکورہ تعریف کے ہر ہر جز مستحق شخص، مخصوص شرائط، مخصوص مال وغیرہ کی تفصیل اپنے اپنے موقع پر آرہی ہے۔)</p>
<p>زکوٰۃ کے اقسام پر اجمالی نظر: حکم کے اعتبار سے زکوٰۃ کی دو قسمیں ہیں:</p>
<p>(۱) فرض۔ جیسے مال کی زکوٰۃ۔</p>
<p>(۲) واجب۔ جیسے زکوٰۃ الرأس (یعنی افراد کی زکوٰۃ) جسے ’’صدقۃ الفطر‘‘ کہتے ہیں۔</p>
<p>پھر فرض زکوٰۃ بھی دو طرح کی ہے:</p>
<p>(۱) سونے، چاندی، اموال تجارت اور مویشیوں کی زکوٰۃ۔ اسے ہمارے معاشرے میں ’’زکوٰۃ‘‘ کہتے ہیں۔</p>
<p>(۲) زمین کی پیداوار، کھیتوں، سبزیوں اور پھلوں کی زکوٰۃ جسے ہمارے عرف میں ’’عشر‘‘ کہتے ہیں۔</p>
<p>زکوٰۃ کے فرض ہونے کی شرائط: (مراد اس سے زکوٰۃ المال کی پہلی قسم سونے، چاندی اور اموالِ تجارت کی زکوٰۃ ہے) کسی شخص پر زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے درج ذیل تمام شرائط کا بیک وقت پایا جانا ضروری ہے ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے توزکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔ ان میں بعض شرائط تو وہ ہیں جن کا تعلق خود اس شخص سے ہے جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ اور بعض شرائط وہ ہیں جن کا اس مال میں پایا جانا ضروری ہے جس پر زکوٰۃ کا حکم لاگو ہوتا ہے۔ (بدائع ۲/۶۰۲)</p>
<p>وہ شرطیں جو شخص میں پائی جانی ضروری ہیں: خود اس شخص میں چار شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے:</p>
<p>(۱) اسلام: مسلمان ہونا۔ لہٰذا کافر پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔</p>
<p>(۲) حریت:آزاد ہونا۔ لہٰذا غلام پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔</p>
<p>(۳) بلوغ: بالغ ہونا۔ لہٰذا نابالغ پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی خواہ وہ کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو۔</p>
<p>(۴) عقل: عقل مند ہونا۔ لہٰذا پاگل پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔</p>
<p>وہ شرطیں جنکا مال میں پایا جانا ضروری ہے:</p>
<p>خود مال میں مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:</p>
<p>(۱) ملک تام ہونا: زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے شرط ہے کہ اس مال پر ’’ملک تام‘‘ حاصل ہو اور کسی چیز پر ملک تام (مکمل ملکیت) کے حاصل ہونے کے لیے دو باتیں ضروری ہیں:</p>
<p>(الف) کسی چیز کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ وہ چیز اس کے قبضے میں ہو کہ جب چاہے اس میں کوئی بھی تصرف کرسکے۔ اگر کوئی چیز ملکیت میں تو ہے مگر ابھی اس پر مکمل قبضہ نہیں ہے تو زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی کیونکہ ملک تام نہیں ہے۔</p>
<p>مثال: جیسے عورت کا مہر پر قبضہ کرنے سے پہلے پہلے مالک ہونا۔ ملک تام نہیں ہے۔ لہٰذا مہر پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔ البتہ اگر قبضہ کرلے تب ملک تام کی وجہ سے زکوٰۃ فرض ہوگی۔</p>
<p>(ب) کسی چیز کا مالک ہونا۔ لہٰذا اگر کوئی چیز صرف قبضے میں ہے لیکن اس کا مالک نہیں ہے تب بھی زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی، کیونکہ ملک تام نہیں ہے۔</p>
<p>مثال: جیسے مسلمان کے پاس امانت کے طور پر رکھے ہوئے کسی کے پیسے۔ یہ رقم مسلمان کے قبضے میں تو ہے مگر چونکہ اس کی ملکیت نہیں ہے لہٰذا اس پر ملک تام نہیں ہے۔</p>
<p>(۲) مال کا نصاب کے بقدر ہونا:</p>
<p>وہ مال جس کا آدمی مالک ہو، نصاب زکوٰۃ کے بقدر ہو۔ اگر مملوکہ مال نصاب کی مقدار سے کم ہے تب بھی زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔ (وہ مال جن کی زکوٰۃ نکالنا فرض ہوتا ہے ان میں ہر ایک کا نصاب مختلف ہوتا ہے، جس کی تفصیل نصاب کے بیان میں آرہی ہے۔)</p>
<p>(۳) حاجتِ اصلیہ سے زائد ہونا:</p>
<p>بقدر نصاب مال کا انسان کی ’’حاجت اصلیہ‘‘ (یعنی ضروریات زندگی) سے زائد ہونا۔ لہٰذا وہ مال جو انسان کی ’’حاجت اصلیہ‘‘ میں شامل ہو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔</p>
<p>(۴) حاجتِ اصلیہ کی تشریح:</p>
<p>حاجت اصلیہ سے مراد انسانی زندگی کی وہ ضرورت ہے جسے اگر پورا نہ کیا جائے تو اس کے ہلاکت میں پڑجانے کا اندیشہ ہو۔ ایسی ضرورت کے لیے کام آنے والی اشیاء درج ذیل ہیں:</p>
<p>(۱) رہائشی مکان (۲)نان ونفقہ (۳)سردی اور گرمی سے بچائو کے لیے بدن کے کپڑے (۴)حفاظت کی غرض سے خریدا ہوا اسلحہ، بندوق، رائفل وغیرہ۔</p>
<p>یہ چیزیں نہ ہوں تو واقعۃً انسان کے ہلاکت میں پڑجانے کا سخت اندیشہ ہوتا ہے۔</p>
<p>اور بعض ایسی چیزیں بھی ’’حاجت اصلیہ‘‘ میں شامل ہوتی ہیں۔ جن کا براہِ راست انسانی زندگی کو ہلاکت سے بچانے کے ساتھ تعلق تو نہیں ہے مگر ان کے نہ ہونے کی صورت میں ہلاکت کا کم از کم امکان ضرور رہتا ہے کسی نہ کسی درجہ میں ان سے محروم شخص بھی ہلاک ہی تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p>جیسے (۱) قرض کا ہونا۔ چنانچہ مقروض کے پاس اگرچہ نصاب کے بقدر مال و دولت ہو مگر اسے بھی حاجت اصلیہ میں مشغول تصور کیا جائے گا۔ کیونکہ مقروض کو کبھی قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا اور جیل کی ہوا کھانا پڑتی ہے جو ایک طرح سے ہلاکت ہے۔ اور یہ مال اسی ہلاکت سے دفاع کا سبب بن سکتا ہے لہٰذا یہ حاجت اصلیہ میں شامل ہے۔</p>
<p>(۲) آلات صنعت و حرفت جسے آدمی اپنے روزگار کے لیے استعمال کرتا ہے۔</p>
<p>(۳) گھر کا سامان جیسے برتن فرنیچر وغیرہ جو روز مرہ استعمال میں آتا ہے۔</p>
<p>(۴) سواری جس کے ذریعے انسان روزگار علاج معالجہ اور بہت سی ضروریات میں فائدہ حاصل کرتا ہے۔</p>
<p>(۵) دینی کتب۔ کیونکہ ان کے نہ ہونے کی صورت میں جہل باقی رہتا ہے جو علماء کے ہاں ایک طرح کی ہلاکت ہے، علم کے بغیر تو انسان محض چوپایہ ہے۔</p>
<p>(۵) مال کا ’’فارغ عن الدین‘‘ ہونا:</p>
<p>مال کا ’’دین‘‘ سے خالی ہونا۔ اگر کسی شخص کے پاس نصاب کی بقدر مال موجود ہو مگر اس پر ’’دین‘‘ بھی ہے تو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔ (دین کو ہمارے ہاں اردو میں قرض کہہ سکتے ہیں مگر یہ ایک فقہی اصطلاح ہے جس کے بارے میں تفصیل آئندہ سطور میں مستقل عنوان کے تحت آرہی ہے)</p>
<p>(۶) مال کا ’’نامی‘‘ ہونا:</p>
<p>نامی ’’تمو‘‘ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے، مطلب یہ ہے کہ مال ایسا ہو جو بڑھنے والا ہو۔ خواہ وہ حقیقتاً بڑھتا ہوا نظر آئے جیسے جانور مویشی وغیرہ توالد و تناسل کے ذریعے بڑھتے رہتے ہیں، خواہ وہ تقدیراً بڑھتا ہو کہ اگر بڑھانا چاہیں تو اسے بڑھاسکیں۔ جیسے سونا، چاندی (خواہ کسی بھی شکل میں ہو) اور روپیے پیسے وغیرہ (خواہ کسی ملک کی رائج الوقت کرنسی ہو)۔</p>
<p>لہٰذا وہ چیزیں جو نامی نہیں ہیں جیسے ہیرے جواہرات، موتی، یاقوت، زبر جد وغیرہ اگر تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے، ان کا حکم عروض (سامان) کی طرح ہے۔ البتہ اگر تجارت کے لیے ہوں تو زکوٰۃ فرض ہوگی۔</p>
<p>(مندرجہ بالا تمام شرائط کی موجودگی میں زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے مگر زکوٰۃ کا ادا کرنا کب واجب ہوتا ہے) اس میں درج ذیل تفصیل ہے:</p>
<p>زکوٰۃ ادا کرنا کب فرض ہوتا ہے؟</p>
<p>مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ اگر نصاب کی بقدر مال پر چاند کے حساب سے مکمل ایک سال گزر جائے تو زکوٰۃ کا ادا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ فقہی زبان میں اس شرط کو ’’حولان حول‘‘ (یعنی سال کا گزر جانا) کہتے ہیں۔</p>
<p>٭ یہ مسئلہ خوب دلنشین رہے کے زکوٰۃ کی ادائیگی کے واجب ہونے کے لیے سال کے شروع میں اور آخر میں نصاب کا کامل ہونا ضروری ہے، درمیان سال میں نصاب چاہے کم ہوجائے، بشرطیکہ درمیان سال میں نصاب بالکل ختم نہ ہوا ہو۔ ’’مثال سے توضیح‘‘</p>
<p>(۱) کسی شخص کے پاس یکم محرم ۱۴۲۳ھ کو مکمل نصاب موجود ہو، ربیع الاول ۱۴۲۳ھ کو اس کے پاس نصاب سے کم مال رہ گیا بالکل ختم نہیں ہوا، یکم محرم ۱۴۲۴ھ کو پھر مکمل نصاب تھا تو چونکہ سال کے آغاز اور اختتام میں مکمل نصاب کا مالک ہے لہٰذ اس پر زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے۔</p>
<p>(۲) کسی شخص کے پاس یکم ذی الحجہ ۱۴۲۳ھ میں مکمل نصاب تھا، ۱۰؍ ربیع الاول ۱۴۲۴ھ کو نصاب بالکل ختم ہوگیا، پھر یہ ۲۰؍ ربیع الثانی ۱۴۲۴ھ کو نصاب بقدر مال کا مالک بن گیا، یہاں تک کہ یکم ذی الحجہ ۱۴۲۴ھ کو مکمل نصاب کا مالک تھا تو اس شخص پر اس تاریخ کو زکوٰۃ فرض نہیں ہے کیونکہ ۱۰؍ ربیع الاول کے دن نصاب بالکل ختم ہوگیا تھا لہٰذا زکوٰۃ کا حکم ساقط ہوگیا۔ ۲۰؍ ربیع الاول ۱۴۲۴ھ کو دوبارہ نصاب مکمل ہوا تو سال کا آغاز ہوگیا پھر نصاب کا اعتبار ۲۰؍ ربیع الاول سے کیا جائے گا چنانچہ آئندہ سال ۲۰؍ ربیع اول ۱۴۲۵ھ تک نصاب رہا چاہے اس درمیان کم ہوگیا ہو تو آئندہ سال مذکورہ تاریخ کو زکوٰۃ فرض ہوگی ۔</p>
<p>مال مستفاد کا حکم:</p>
<p>اگر سال کے آغاز میں کسی شخص کے پاس نصاب کے بقدر مال ہو تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے۔ اب آئندہ سال نصاب پر مقررہ تاریخ (جس تاریخ سے نصاب شروع ہوا تھا) کو جب زکوٰۃ کا ادا کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ اس تاریخ سے پہلے پہلے اسی مال کی جنس میں سے اس شخص کو جو مال حاصل ہوتا رہا ہے اس کو ’’مال مستفاد‘‘ کہتے ہیں۔ خواہ یہ مال کسی بھی طریقے سے اس کی ملکیت میں آیا ہو خواہ ہبہ (Gift) کے ذریعے، یا میراث کے ذریعے یا تجارت کے ذریعے یا ماہوار تنخواہ کے ذریعے۔</p>
<p>اس مال کا حکم یہ ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کی تاریخ سے پہلے پہلے جو مال بھی حاصل ہوا اسے اسی نصاب زکوٰۃ کے ساتھ شامل کرتے ہوئے مجموعی رقم پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔</p>
<p>یاد رہے کہ سونا، چاندی رائج الوقت کرنسی اور مال تجارت شریعت کی نظر میں ایک ہی جنس ہے۔ البتہ جانور دوسری جنس ہے۔</p>
<p>مثال سے توضیح:</p>
<p>کسی شخص کو یکم محرم ۱۴۲۳ھ کو دس ہزار روپے کہیں سے ملے تو چونکہ یہ رقم نصاب کے بقدر ہے لہٰذا اس پر زکوٰۃ فرض ہوگئی۔ اب اس زکوٰۃ کی ادائیگی یکم محرم ۱۴۲۴ھ کو فرض ہوگی (بشرطیکہ اس نصاب پر اس طرح سال گزرجائے کہ سال کے دوران یہ روپے بالکل ختم نہ ہوں خواہ کسی موقع پر کم ہوگئے ہوں) یکم محرم کے بعد صفر کے آخر میں اس کو باپ کے ترکہ سے ایک لاکھ روپیہ ملا، ربیع الاول کی پندرہ تاریخ کو سعودی عرب سے اس کے بھائی نے بطور تحفہ اور ہدیہ کچھ ریال بھیجے جن کی مالیت ایک ہزار پاکستانی روپے ہے۔ جمادی الاول کے شروع میں کاروبار میں نفع ہوا دس ہزار روپے مزید مل گئے۔</p>
<p>یہ شخص سرکاری ملازم بھی ہے ماہور ۲۰؍ ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے جو گھریلو ضروریات میں خرچ ہوجاتی ہے۔ اس سے کچھ نہیں بچتا تاہم ذی الحجہ ۱۴۲۳ھ کو جو ماہوار تنخواہ ملی اس میں سے پانچ ہزار روپے باقی تھے کہ یکم محرم ۱۴۲۴ھ کا چاند نظر آگیا۔</p>
<p>اس صورت میں زکوٰۃ کا حکم یہ ہے کہ یکم محرم ۱۴۲۳ھ کو نصاب پر سال کے شروع ہونے کے بعد اگلے سال یکم محرم ۱۴۲۴ھ تک جتنا مال اور رقم مختلف طریقوں سے حاصل ہوئی اس کو فقہ کی اصطلاح میں ’’مال مستفاد‘‘ کہتے ہیں۔ چنانچہ سال بھر میں جمع ہونے والے مال مستفاد کی کل رقم ایک لاکھ سولہ ہزار روپے کو اصل نصاب (جس پر سال شروع ہوا تھا) دس ہزار روپے کے ساتھ جمع کرکے کل ایک لاکھ چھبیس ہزار پر زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔</p>
<p>زکوٰۃ کی ادائیگی کے صحیح ہونے کی شرائط:</p>
<p>زکوٰۃ کی ادائیگی کے صحیح ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں:</p>
<p>(۱) نیت (۲) تملیک</p>
<p>پہلی شرط: زکوٰۃ کی ادائیگی کے صحیح ہونے کے لیے نیت شرط ہے جس میں تفصیل یہ ہے:</p>
<p>(۱) جب زکوٰۃ کی رقم اپنے مال سے الگ کرکے رکھے تو نیت کرلے کہ ’’میں زکوٰۃ کی نیت سے رقم الگ کررہا ہوں‘‘ پھر جب مستحق زکوٰۃ شخص کو زکوٰۃ ادا کرے تو دوبارہ زکوٰۃ دینے کی نیت کرنا ضروری نہیں۔</p>
<p>(۲) جس وقت زکوٰۃ کی رقم اپنے مال سے الگ کرکے رکھی اس وقت تو زکوٰۃ کی نیت نہیں کی تو اب مستحق شخص کو زکوٰۃ دیتے وقت نیت کرلے۔</p>
<p>(۳) اگر کوئی شخص براہ راست کسی مستحق کو نہیں دینا چاہتا بلکہ کسی نمائندہ یا وکیل کے ذریعے مستحق کو زکوٰۃکی رقم دینا چاہتا ہے تو اگر اس شخص نے پہلے نیت نہیں کی تو وکیل کو رقم دیتے وقت نیت کرلے پھر وکیل مستحق زکوٰۃ کو زکوٰۃ دیتے وقت نیت کرے یا نہ کرے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔</p>
<p>خلاصہ: مذکورہ بالا تین موقعوں میں سے کسی ایک موقع پر نیت کرنا شرط ہے، اگر کسی بھی موقع پر زکوٰۃ کی نیت کرلی تو شرط پورا ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔</p>
<p>اگر کسی بھی موقع پر نیت نہیں کی اور زکوٰۃ کی وہ رقم ابھی تک مستحق شخص کے پاس موجود ہے اس نے خرچ نہیں کی تو اب بھی موقع ہے نیت کرلینے سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔</p>
<p>اگر فقیر (مستحق) نے وہ رقم استعمال کرلی تو اب نیت کا کوئی موقع نہیں رہا لہٰذا شرط (نیت) نہ پائی جانے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔</p>
<p>بینکوں سے زکوٰۃ کی کٹوتی کا حکم:</p>
<p>کچھ عرصے سے ہمارے ملک میں سرکاری سطح پر زکوٰۃ وصول کرنے کا نظام قائم ہے اس کی وجہ سے بہت سارے مالیاتی اداروں سے زکوٰۃ وصول کی جاتی ہے۔ کمپنیاں بھی زکوٰۃ کاٹ کر حکومت کو ادا کرتی ہیں۔</p>
<p>اس کے بارے میں حکم شرعی کی تفصیل یہ ہے کہ جہاں تک بینکوں اور مالیاتی اداروں سے زکوٰۃ کی کٹوتی کا تعلق ہے تو اس کٹوتی سے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے، دوبارہ زکوٰۃ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ احتیاطاً ایسا کرلیں کہ یکم رمضان آنے سے پہلے دل میں یہ نیت کرلیں کہ میری رقم سے جو زکوٰۃ کٹے گی وہ میں ادا کرتا ہوں۔ اس سے اس کی زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے۔ دوبارہ نکالنے کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>ضروری وضاحت: یہ بات ذہن نشین رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں خود صاحب مال یا اس کے وکیل کی (مندر جہ بالا تفصیل کے مطابق کسی بھی ایک موقع پر) نیت ہونا شرط ہے۔ مگر خود اس مستحق زکوٰۃ کو یہ معلوم ہونا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے۔</p>
<p>چنانچہ اگر کسی مستحق کو زکوٰۃ دیتے وقت خود تو زکوٰۃ کی نیت کی مگر اسے یہ کہہ کر زکوٰۃ دی کہ یہ ہدیہ ہے یا میری طرف سے انعام ہے یا میری طرف سے آپ کے لیے قرض ہے۔ یا میری طرف سے عیدی ہے تو ان سب صورتوں میں زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔</p>
<p>وضاحت: زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ بعینہ وہی چیز یا رقم دے جس میں زکوٰۃ فرض ہوئی ہے بلکہ زکوٰۃ کی رقم سے مستحق شخص کے لیے کپڑے، جوتے، کھانے پینے کی اشیاء دوائی، سواری کھلونا، کتابیں یا کوئی بھی چیز خرید کر مالک و قابض بناکر دے دی تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔</p>
<p>دوسری شرط: زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے دوسری شرط (جیسا کہ زکوٰۃ کی تعریف سے ظاہر ہے) ’’تملیک‘‘ ہے۔</p>
<p>تملیک کا مطلب: تملیک کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم مستحق زکوٰۃ کو مکمل مالک و قابض بناکر دینا۔</p>
<p>اس سے معلوم ہوا کہ جہاں تملیک کی یہ شرط نہ پائی جائے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔</p>
<p>تملیک کے نہ پائے جانے کی مختلف صورتیں:</p>
<p>(۱) تملیک نہ پائے جانے کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ شخص جسے زکوٰۃ کی رقم دی ہے اس کو مالک ہی نہیں بنایا۔</p>
<p>مثال: جیسے کسی شخص نے زکوٰۃ کی رقم سے کھانا خرید کر دسترخوان لگادیا اور فقراء و مساکین سے کہہ دیا کہ جتنا چاہیں کھا سکتے ہیں مگر یہ کھانا آپ کہیں اور نہیں لے جاسکتے۔ اس طرح کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی کیونکہ تملیک نہ ہونے کی وجہ سے ادائیگی زکوٰۃ کی شرط نہیں پائی گئی۔</p>
<p>’’تملیک‘‘ نہ ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ انہیں کھانا کھانے کی اجازت تو دے دی گئی ہے، جسے اصطلاح میں ’’اباحت‘‘ کہتے ہیں۔ مگر تملیک نہیں پائی گئی کیونکہ انہیں کھانے کے بارے میں ہر قسم کے تصرف سے روک دیا گیا کہ وہ نہ کہیں لے جاسکتے ہیں اور نہ کسی اور کو دے سکتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اگر کھانا خرید کر مستحق افراد کو اس طرح مالک بناکر دے دیا ہوکہ وہ جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں تو اب زکوٰۃ ادا ہوگئی کیونکہ کھانا اب ان کی ملکیت میں آگیا ہے خواہ خود کھائیں، کسی اور کو دے دیں، بیچ دیں یا کہیں گرادیں۔</p>
<p>(۲) تملیک کی شرط نہ پائی جانے کی دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زکوٰۃ کی رقم ایسے مصرف میں استعمال کردی جائے جس میں مالک بننے کی سرے سے صلاحیت ہی نہیں ہے۔</p>
<p>جیسے زکوٰۃ کی رقم مسجد، مدرسے کی تعمیر، کتب کی خریداری، کنواں کھودنے، پانی کی سبیل لگانے میں خرچ کردی تو ان صورتوں میں سے کسی صورت میں بھی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی وجہ یہ ہے کہ یہ کام کارِ خیر ضرور ہیں مگر یہ ایسی اشیاء ہیں جو خود کسی چیز کی مالک نہیں ہوتیں۔</p>
<p>اسی طرح زکوٰۃ کی رقم سے مدرسے کے اساتذہ یا کسی جگہ کے ملازم کی تنخواہ بھی ادا نہیں کی جاسکتی۔ ایسا کرنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔</p>
<p>حیلۂ تملیک کا مطلب: بسا اوقات مدارس عربیہ میں اساتذہ و ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیے رقم عطیات کے فنڈ میں موجود نہیں ہوتی صرف زکوٰۃ فنڈ میں اتنی رقم ہوتی ہے کہ جس سے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہیں یا مسجد و مدرسے کی تعمیری ضرورت پوری کی جاسکتی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف شریعت مطہرہ ان ضروریات میں زکوٰۃ کی رقم لگانے سے منع کرتی ہے۔</p>
<p>چنانچہ ارباب مدارس اپنی ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زکوٰۃ کی رقم میں ’’حیلۂ تملیک‘‘ کرتے ہیں، جس میں حیلے سے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے، پھر وہ رقم اپنی دیگر ضروریات میں صرف کرتے ہیں۔</p>
<p>حیلۂ تملیک کے لیے عموماً یہ صورت اختیار کی جاتی ہے:</p>
<p>حیلۂ تملیک کی پہلی صورت:</p>
<p>کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو زکوٰۃ کی بھاری رقم دے کر یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ آپ کو یہ زکوٰۃ کی رقم دی جارہی ہے، آپ اگر چاہیں تو اس پر قبضہ کرنے کے بعد دوبارہ مدرسے میں جمع کراسکتے ہیں تاکہ پھر ارباب مدارس اپنی صوابدید سے یہ رقم کسی بھی مصرف (تعمیر یا اساتذہ وغیرہ کی تنخواہوں) میں استعمال کرلیں۔</p>
<p>چنانچہ مستحق زکوٰۃ شخص وہ رقم اپنے قبضے میں لے کر تھوڑی دیر بعد دوبارہ ارباب مدارس کو عطیہ کردیتا ہے۔</p>
<p>پہلے زمانے کے نامور فقہائے کرام نے حیلۂ تملیک کی یہ صورت لکھی ہے مگر چونکہ آج کل عموماً یہ صورت دکھلاوے کی ہوتی ہے زکوٰۃ دینے والا سمجھتا ہے کہ میں سچ مچ اسے مالک نہیں بنا رہا بلکہ واپس لینے کے لیے بس فرضی کارروائی کررہا ہوں اسی طرح زکوٰۃ لینے والا بھی سمجھتا ہے کہ مجھے یہ زکوٰۃ کی رقم دے کر ایسا مالک نہیں بنایا جارہا ہے کہ جہاں چاہوں یہ رقم استعمال کروں بلکہ زکوٰۃ کی تملیک کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔</p>
<p>چونکہ اس صورت میں واقعۃً تملیک نہیں پائی جاتی بلکہ اس کی ظاہری صورت ہوتی ہے جس میں تملیک کی روح نہیں ہوتی۔لہٰذا اس دور کے فقہائے عظامؒ اس صورت سے منع کرتے ہیں۔</p>
<p>حیلہ تملیک کی بے غبار صورت:</p>
<p>البتہ حیلۂ تملیک کی وہ بے غبار صورت جس پر اہل فتویٰ، فتویٰ صادر فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ مستحق زکوٰۃ کو ترغیب دی جائے کہ وہ اتنی رقم کہیں سے قرض لے کے مدرسے میں دے دے (تاکہ اس کو مفت میں ثواب مل جائے) چنانچہ اگر وہ کہیں سے قرض لے کر مدرسے میں دے دے تو زکوٰۃ کی رقم اسے دے دی جائے تاکہ وہ اپنا قرض اتار سکے۔</p>
<p>حیلۂ تملیک کی یہ صورت حضراتِ فقہائے عظام کے نزدیک پسندیدہ ہے کیونکہ اس میں واقعۃً فقیر کو مالک بنانا ہی مقصود ہوتا ہے۔</p>
<p>نصاب زکوٰۃ کی تفصیل:</p>
<p>زکوٰۃ کے فرض ہونے سے متعلق ضروری مباحث سے فارغ ہونے کے بعد نصاب زکوٰۃ کی تفصیل ذکر کی جاتی ہے نصاب زکوٰۃ کے سلسلے میں درج ذیل عنوانات کے متعلق تفصیل ذکر کی جائے گی:</p>
<p>(۱) سونے ، چاندی کی زکوٰۃ۔</p>
<p>(۲) روپے پیسوں کی زکوٰۃ۔</p>
<p>(۳) مال تجارت کی زکوٰۃ۔</p>
<p>(۴) قرض کی زکوٰۃ۔</p>
<p>سونے کا نصاب:</p>
<p>اگر کسی شخص کی ملکیت میں صرف اتنا سونا ہو کہ وہ نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے۔ سونے کا نصاب ۲۰ مثقال سونا ہے، جو موجودہ حساب سے ساڑھے سات تولہ سونا (87.84 گرام) بنتا ہے۔</p>
<p>(۲) چاندی کا نصاب:</p>
<p>اگر کسی شخص کی ملکیت میں صرف اتنی چاندی ہو کہ وہ نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے۔ اور چاندی کا نصاب ۲۰۰ دراہم ہیں۔ لہٰذا اگر کسی کے پاس صرف چاندی ۲۰۰ دراہم سے کم ہو تو زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔</p>
<p>موجودہ دور کے حساب سے اس کی مقدار ساڑھے باون تولہ (یعنی 612.35 گرام) چاندی ہے۔</p>
<p>٭ یاد رہے کہ زکوٰۃ ادا کرنے والے شخص کو اختیار ہے کہ سونے یا چاندی کی زکوٰۃ ادا کرتے وقت خواہ سونے، چاندی کے وزن کاچالیسواں حصہ سونے یا چاندی کی شکل میں دے دے یا اتنے وزن کے پیسے (روپوں کی شکل) میں دے دے۔ یا اتنے روپوں سے کوئی بھی چیز (کھانا، کپڑے، سامان) خرید کر مستحق زکوٰۃ شخص کو مالک و قابض بناکر دے دے۔</p>
<p>قیمت کا حساب لگانے کی صورت میں اس وقت کی رائج الوقت بازاری قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔</p>
<p>ضروری وضاحت:</p>
<p>سونے اور چاندی میں مطلقاً ہر حالت میں زکوٰۃ فرض ہوتی ہے خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہوں، سونا، چاندی ڈلی کی شکل میں ہوں یا زیورات کی شکل میں سونے چاندی کے سکے ہوں یا برتن ، سونے چاندی سے پردے یا دوپٹہ وغیرہ پر کڑھائی ہو، خواہ عورت دوپٹہ پہنتی ہو یا نہ پہنتی ہو۔</p>
<p>کھوٹ ملے ہوئے سونے چاندی کا حکم:</p>
<p>اگر سونے یا چاندی میں کھوٹ شامل ہو سونا چاندی خالص نہ ہو مثلاً سونے میں تانبا یا پیتل ملا ہوا ہو اور چاندی میں ایلومینیم ملا ہوا ہو تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:</p>
<p>(۱) سونا اور چاندی زیادہ ہے اور کھوٹ کم ہے۔</p>
<p>(۲) سونا، چاندی اور کھوٹ برابر برابر ہیں۔</p>
<p>(۳) سونا اور چاندی کم ہے اور کھوٹ زیادہ ہے۔</p>
<p>ان صورتوں میں زکوٰۃ کا حکم یہ ہے کہ پہلی دونوں صورتوں میں جبکہ سونا چاندی کھوٹ سے زیادہ ہوں یا کھوٹ کے برابر ہو تو یہ کھوٹ بھی سونا چاندی کے حکم میں ہوگی۔ اور زکوٰۃ کی فرضیت میں سونے چاندی کے نصاب کو دیکھا جائے گا۔</p>
<p>تیسری صورت میں جبکہ کھوٹ سونے چاندی پر غالب ہو تو وہ سونا چاندی بھی عروض یعنی سامان تجارت کے حکم میں ہوگا۔ سامان تجارت پر زکوٰۃ واجب ہونے کا جو نصاب ہے وہی نصاب اس صورت میں معتبر ہوگا۔</p>
<p>مال تجارت (عروض) میں زکوٰۃ:</p>
<p>سونے، چاندی اور مویشیوں کے علاوہ جو مال ہو وہ سامانِ تجارت میں شامل ہے۔</p>
<p>مال تجارت سے کیا مراد ہے:</p>
<p>مال تجارت (عروض) سے مراد ہر وہ مال ہے جو اس نیت سے خریدا ہوکہ اسے تجارت میں لگائیں گے یا آگے فروخت کریں گے۔ اور یہ نیت ابھی تک برقرار ہو۔</p>
<p>٭ لہٰذا وہ مال جو آگے بیچنے کے ارادے سے نہیں خریدا بلکہ گھریلو ضروریات کے لیے خریدا ہے، (جیسے پہننے کے لیے کپڑا، گھر میں پکانے کے لیے چاولوں کا ٹرک، یا رہائشی مکان تعمیر کرنے کے لیے پلاٹ خریدا) تو یہ مال ’’مال تجارت‘‘ نہیں کہلائے گا۔</p>
<p>٭ ایسا مال جو آگے بیچنے کی نیت سے نہیں خریدا بلکہ گھریلو ضروریات کے لیے خریدا تھا بعد میں اسے بیچنے کا ارادہ کرلیا تب بھی وہ مال مال تجارت نہیں بنے گا۔ اس لیے کہ جب اسے خریدا تھا اس وقت بیچنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔</p>
<p>لیکن یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ ایسا مال محض بیچنے کے ارادے سے تو مال تجارت نہیں بنتا لیکن اگر کوئی شخص (بالفعل) تجارت شروع کردے یعنی ارادے کے بعد کسی سے سودا وغیرہ طے کرلے اور اسے بیچ دے تو یہ مال ’’مال تجارت‘‘ (عروض) بن جائے گا۔ چنانچہ حاصل ہونے والی رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔</p>
<p>٭ اس کے برعکس جو مال تجارت کی نیت سے خریدا تھا اور اسی نیت کی وجہ سے مال تجارت (عروض) بن چکا تھا، لیکن اب اسے آگے بیچنے کا ارادہ ترک کردیا۔ مثلاً کوئی پلاٹ یا فلیٹ آگے بیچنے کی نیت سے خریدا تھا مگر اب اسے اپنی رہائش میں استعمال کرنے کا ارادہ کرلیا تو وہ مال بھی مال تجارت نہیں رہے گا۔ صرف ارادے سے ہی اس کی ’’مال تجارت‘‘ ہونے کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے۔</p>
<p>مال تجارت میں نصاب زکوٰۃ:</p>
<p>مال تجارت (عروض) خواہ کسی قسم کا ہو (کپڑا ہو یا اناج، جنرل اسٹور کا سامان ہو یا اسٹیشنری کاسامان، مشینری ہو یا بجلی کا سامان) اگر سونے کے نصاب (ساڑھے سات تولہ) یا چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ) میں سے کسی ایک کی بازاری قیمت کے برابر ہو تو اس مال پر زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے۔</p>
<p>پھر حولان حول (سال گزرنے) کی شرط کے ساتھ اس کا ادا کرنا فرض ہوجاتا ہے۔</p>
<p>نیت اور تملیک پائی جائے تو ادائیگی صحیح ہوجاتی ہے۔</p>
<p>مال تجارت میں زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ:</p>
<p>مال تجارت کے نصاب پر سال پورا ہوجائے تو اس کی زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال تجارت کی بازاری قیمت لگالی جائے اور اس کل قیمت کا ڈھائی فیصد (چالیسواں حصہ) رقم زکوٰۃ کے مستحق کو دے دی جائے یا کل رقم کے اڑھائی فیصد کے برابر وہی مال تجارت مستحق کو دیدیا جائے۔</p>
<p>ضروری وضاحت مال تجارت میں خود دکان کی قیمت اور اس میں موجود فرنیچر کی قیمت، اسی طرح کارخانے میں مشینری کی قیمت کو شمار نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>وجہ صاف ظاہر ہے کہ خود دکان اور اس میں فرنیچر اور فیکٹری کی مشین چونکہ آگے بیچنے کی نیت سے نہیں خریدی لہٰذا وہ مال تجارت میں شامل نہیں ہوگی۔</p>
<p>بلکہ اس نظر سے دیکھا جائے کہ یہ دکان فرنیچر اور مشینری وغیرہ روزگار کا آلہ اور ذریعہ ہیں تو یہ ’’حاجت اصلیہ‘‘ میں شامل ہونگے اور زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے مال کا حاجت اصلیہ سے زائد ہونا ضروری ہے۔ لیکن اگر کسی نے فرنیچر کی دکان بنائی یا ایسی دکان جس میں کارخانے کی مشینری فروخت ہوتی ہو تو اب یہ چیزیں مالِ تجارت میں شامل ہونگی۔ کیونکہ ایسی دکانوں میں فرنیچر یا مشینری بیچنے کے ارادے سے خرید کر رکھی جاتی ہے۔</p>
<p>روپے پیسوں میں زکوٰۃ کا نصاب:</p>
<p>اگر کسی شخص کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی میں سے کسی ایک کی بازاری قیمت کے برابر روپے موجود ہوں (خواہ کسی ملک کی کرنسی کی شکل میں ہوں جیسے ریال، ڈالر، یورو، دینار، پونڈ، رینٹ، لیرا وغیرہ) اور ان پر سال بھی گزر جائے تو ان روپوں کی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F328.html&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F328.html&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F328.html&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F328.html&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F328.html&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F328.html&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/328.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خانقاہ اور جامعہ کے شب و روز</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/326.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/326.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:20:33 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=326</guid>
		<description><![CDATA[مولانا ارشاد اعظم صاحب
ناظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی۔
ایک تعزیتی نشست
جامعہ کی مسجد جامع مسجد اشرف میں حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب قدس سرہ کے حوالہ سے ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ جامعہ کے استاذ حضرت مفتی غلام محمد صاحب مدظلہم نے حضرت خواجہ صاحبؒ کی حیات اور دینی خدمات کا ذکر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مولانا ارشاد اعظم صاحب<br />
ناظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی۔</p>
<p>ایک تعزیتی نشست</p>
<p>جامعہ کی مسجد جامع مسجد اشرف میں حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب قدس سرہ کے حوالہ سے ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ جامعہ کے استاذ حضرت مفتی غلام محمد صاحب مدظلہم نے حضرت خواجہ صاحبؒ کی حیات اور دینی خدمات کا ذکر کیا اور بطور خاص تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے آپ کی فکر تڑپ اور مساعیٔ جمیلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے تمام طلباء کو حضرت کے لیے ایصال ثواب کی تلقین فرمائی۔</p>
<p>پروفیسر ابوالکلام صدیقی صاحب کا بیان</p>
<p>جناب ابوالکلام صدیقی صاحب جو گورنمنٹ کالج ملتان کے پروفیسر ہیں گذشتہ مہینے جامعہ میں تشریف لائے، پروفیسر صاحب تردید فرق باطلہ کے حوالہ سے کافی شہرت رکھتے ہیں۔ اسی حوالہ سے آپ نے طلباء سے ایک طویل خطاب فرمایا، بعد ازاں طلباء نے آپ سے میں مختلف سوالات کئے جن کے آپ نے تشفی بخش جوابات ارشاد فرمائے۔</p>
<p>ششماہی امتحان کا اجمالی نتیجہ</p>
<p>جامعہ اشرف المدارس کراچی کے شعبہ کتب للبنین کے ششماہی امتحانات ۱۴۳۱ھ کا اجمالی نتیجہ مندرجہ ذیل ہے:</p>
<p>اس امتحان ششماہی میں جامعہ کے ۸۱۴؍ طلباء میں سے ۱۲۳؍ طلباء درجہ ممتاز میں اور ۱۶۲؍ طلباء درجہ جید جداً میں اور ۱۶۵؍ طلباء درجہ جید میں اور ۸۲ طلباء درجہ مقبول میں کامیاب ہوئے اور ۵۲؍ طلباء اپنی ہی کاہلی اور غفلت کی وجہ سے فیل ہوگئے۔ جبکہ ۲۸؍ طلباء امتحانات سے غیر حاضر رہے۔</p>
<p>ششماہی امتحان میں شریک طلباء میں سے پورے جامعہ میں اول‘ دوم اور سوم آنے والے طلباء مندرجہ ذیل ہیں:۔</p>
<p>مدثر مصطفی خان ولد مبشر مصطفی خان درجہ ثالثہ (ب) ۱۰۰ فیصد نمبر حاصل کرکے اول، جبکہ عمر فاروق ولد علائو الدین درجہ ثالثہ (الف) ۳ئ۹۹ فیصد نمبر حاصل کرکے دوم اور یسین ولد محمد بلال درجہ رابعہ (ب) ۹ئ۹۸ فیصد نمبر حاصل کرکے سوم آئے۔</p>
<p>اپنے اپنے درجات میں اول، دوم اور سوم آنے والے طلباء مندرجہ ذیل ہیں:۔</p>
<p>درجات</p>
<p>اول</p>
<p>دوم</p>
<p>سوم</p>
<p>تخصص فی الحدیث (اول)</p>
<p>محمد اشرف علی ولد عبدالعلی</p>
<p>محمد ضیاء الحق ولد محمد جعفر</p>
<p>محمد نور الحق ولد محمد جعفر</p>
<p>تخصص فی الافتاء</p>
<p>محمد اکمل ولد حاجی اﷲ ڈوایا</p>
<p>محمد محسن ولد عبدالرزاق</p>
<p>خالد محمود ولد عبدالستار طاہر</p>
<p>درجہ دورۂ حدیث</p>
<p>(۱) سجاد حسین ولد محمد اشرف/</p>
<p>(۲) عطاء اﷲ ولد شمس الحق</p>
<p>عبداﷲ ولد عبدالغفار</p>
<p>رحیم شاہ ولد امیر حسین</p>
<p>درجہ موقوف علیہ</p>
<p>نعیم اﷲ ولد بخت روخان</p>
<p>محمد یونس ولد عبدالرحمن</p>
<p>………</p>
<p>درجہ سادسہ</p>
<p>عبداﷲ ولد عبدالحبیب</p>
<p>عبداﷲ ولد محمد یعقوب</p>
<p>عبدالخالق ولد شاہ ولی</p>
<p>درجہ خامسہ</p>
<p>شہاب الدین ولد عبدالقدوس</p>
<p>محمد عبداﷲ شریف ولد رحمت اﷲ شریف</p>
<p>محمد طاہر ولد محمد فاروق</p>
<p>درجہ رابعہ (الف)</p>
<p>محمد زکریا ولد محمد حسین</p>
<p>محمود احمد ولد محمد ولی</p>
<p>محمد ظاہر ولد متول خان</p>
<p>درجہ رابعہ (ب)</p>
<p>یٰسین ولد محمد بلال</p>
<p>فیض الرحمن ولد نور محمد</p>
<p>ریاض الدین ولد غیاث الدین</p>
<p>درجہ ثالثہ (الف)</p>
<p>عمر فاروق ولد علائو الدین</p>
<p>بلال احمد ولد محبت حسین</p>
<p>عثمان علی ولد اکبر علی</p>
<p>درجہ ثالثہ (ب)</p>
<p>مدثر مصطفی خان ولد مبشر مصطفی خان</p>
<p>انوار حسین ولد امیر حسین</p>
<p>مشتاق احمد ولد قاری رب نواز</p>
<p>درجہ ثانیہ (الف)</p>
<p>احمد فراز ولد عبدالسلام</p>
<p>شفیع اﷲ ولد مولوی عبداﷲ</p>
<p>ریحان اﷲ ولد حاجی عرب خان</p>
<p>درجہ ثانیہ (ب)</p>
<p>محمد عدنان ولد محمد ایوب</p>
<p>راجہ عبیدالرحمن ولد راجہ تاج الدین</p>
<p>سعید الامین ولد بنیامین</p>
<p>درجہ اولیٰ (الف)</p>
<p>کاشف عمر ولد محمد عمر</p>
<p>محمود الحسن ولد مولوی عبدالرحمن</p>
<p>احمد علی ولد غفور خان</p>
<p>درجہ اولیٰ (ب)</p>
<p>محمد انور ولد محمد امین</p>
<p>عبدالواحد ولد داد محمد</p>
<p>محمد فرہاد اقبال ولد محمد اقبال محمود</p>
<p>درجہ اولیٰ (ج)</p>
<p>شرجیل احمد ولد عبدالواحد</p>
<p>مزمل مصطفی خان ولد مبشر مصطفی خان</p>
<p>عبدالغفار ولد عبدالرحمن</p>
<p>درجہ اولیٰ (معہد)</p>
<p>محمد مزمل ولد حسین</p>
<p>شاکر اﷲ ولد عبدالرحمن</p>
<p>محمد ہارون ولد احمد</p>
<p>درجہ متوسط (الف)</p>
<p>………</p>
<p>………</p>
<p>………</p>
<p>درجہ متوسط (ب)</p>
<p>محمد احمد ولد مولوی عبدالغفار</p>
<p>محمد اطہر ظہیرولد ظہیر احمد</p>
<p>محمد اسد اﷲ شریف ولد رحمت اﷲ شریف</p>
<p>درجہ ابتدائیہ (الف)</p>
<p>محمد قاسم ولد عبدالقیوم</p>
<p>نجیب اﷲ ولد محمد امین</p>
<p>محمد شاہ ولد صبغت اﷲ</p>
<p>درجہ ابتدائیہ (ب)</p>
<p>حافظ ذیشان ولد انارگل (مرحوم)</p>
<p>محمد اسامہ ولد محمد فیاض</p>
<p>محمد احسان اﷲ ولد قدرت اﷲ</p>
<p>سالانہ امتحان کا نظم</p>
<p>جامعہ اشرف المدارس کراچی میں ۱۴۳۱ھ کے سالانہ امتحانات ان شاء اﷲ العزیز ذیل میں دیئے گئے جدول کے مطابق ہوں گے۔</p>
<p>ایام مع تواریخ</p>
<p>معمولات</p>
<p>بدھ ۱۰؍ رجب المرجب ۱۴۳۱ھ مطابق ۲۳؍ جون ۲۰۱۰ء</p>
<p>امتحانات سالانہ سے قبل تعلیم کا آخری دن</p>
<p>جمعرات ۱۱؍ رجب المرجب ۱۴۳۱ھ مطابق ۲۴؍ جون ۲۰۱۰ء جمعہ ۱۲؍ رجب المرجب ۱۴۳۱ھ مطابق ۲۵؍ جون ۲۰۱۰ء</p>
<p>امتحانات کی تیاری کے لیے اسباق بند</p>
<p>ہفتہ ۱۳؍ رجب المرجب ۱۴۳۱ھ مطابق ۲۶؍ جون ۲۰۱۰ء</p>
<p>تا</p>
<p>پیر ۱۵؍ رجب المرجب ۱۴۳۱ھ مطابق ۲۸؍ جون ۲۰۱۰ء</p>
<p>تقریری امتحانات</p>
<p>منگل ۱۶؍ رجب المرجب ۱۴۳۱ھ مطابق ۲۹؍ جون ۲۰۱۰ء</p>
<p>تا</p>
<p>منگل ۲۳؍ رجب المرجب ۱۴۳۱ھ مطابق ۶؍ جولائی ۲۰۱۰ء</p>
<p>تحریری امتحانات</p>
<p>درخواست دعا</p>
<p>گذشتہ مہینے ہمارے جامعہ کے استاذ حدیث اور جامع مسجد اشرف کے امام حضرت مولانا محمد اسحق صاحب مدظلہم کے سسر کا انتقال ہوگیا، نیز جامعہ ہی کے ایک دوسرے استاذ حضرت مولانا عمران صاحب کے سسر بھی وفات پاگئے اور ایک اور استاذ حضر ت جناب قاری حماد اﷲ صدیقی صاحب کے سمدھی بھی رحلت فرما گئے، انا ﷲ و انا الیہ راجعون، تمام قارئین سے مرحومین کے لیے دعائوں کی درخواست ہے۔</p>
<p>صاحبزادہ خلیل احمد صاحب مدظلہم کی آمد</p>
<p>۴؍ رجب المرجب ۱۴۳۱ھ بمطابق ۱۷؍جون ۲۰۱۰ء بروز جمعرات جامعہ میں حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب قدس سرہ کے صاحبزادہ حضرت جناب مولانا خلیل احمد صاحب مدظلہم (جو کہ حضرت خواجہ صاحب کے انتقال کے بعد حضرت کے تمام خلفاء کی اتفاق رائے سے خانقاہ سراجیہ کنڈیاں میانوالی کے سجادہ نشین مقرر ہوئے) تشریف لائے۔ انہوں نے جامعہ کی مختلف جگہوں کا معائنہ فرمایادرسگاہ کے معائنے کے دوران جامعہ کی تعلیمی فضاء کو دیکھ کر بہت محظوظ ہوئے اور نا صرف مسرت کا اظہار فرمایابلکہ نمائش چورنگی پر واقع عالمی مجلس تحفظ نبوت کے دفتر پہنچ کر بھی وہاں جامعہ کے حوالے سے ارشاد فرمایا کہ ’’آج ہم نے دیکھا کہ مدرسہ کیسا ہوتا ہے‘‘۔ اﷲ تعالیٰ صاحبزادہ موصوف کے علم و عمل میں خوب برکتیں نصیب فرمائے‘ آمین۔</p>
<p>ژژژژژ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F326.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B4%D8%A8%20%D9%88%20%D8%B1%D9%88%D8%B2" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F326.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B4%D8%A8%20%D9%88%20%D8%B1%D9%88%D8%B2" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F326.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B4%D8%A8%20%D9%88%20%D8%B1%D9%88%D8%B2" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F326.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B4%D8%A8%20%D9%88%20%D8%B1%D9%88%D8%B2" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F326.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B4%D8%A8%20%D9%88%20%D8%B1%D9%88%D8%B2" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F326.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B4%D8%A8%20%D9%88%20%D8%B1%D9%88%D8%B2">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/326.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کتاب اﷲ اور رجال اﷲ کا تلازم</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/313.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/313.html#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 03 Jun 2010 01:00:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/313.html</guid>
		<description><![CDATA[آج کا دورفتنوں کا دور ہے، ہر آنے والے دن میں ایک نیا فتنہ سامنے آرہا ہے لیکن ایسے ناگفتہ بہ حالات میں مسلمانوں کے لیے اب بھی کامیابی کا راستہ اور فتنوں سے بچنے کا ذریعہ موجود ہے اور وہ ذریعہ قرآن کریم ہے جو کہ ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔قرآنی تعلیمات [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج کا دورفتنوں کا دور ہے، ہر آنے والے دن میں ایک نیا فتنہ سامنے آرہا ہے لیکن ایسے ناگفتہ بہ حالات میں مسلمانوں کے لیے اب بھی کامیابی کا راستہ اور فتنوں سے بچنے کا ذریعہ موجود ہے اور وہ ذریعہ قرآن کریم ہے جو کہ ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔قرآنی تعلیمات ہی ہماری دونوں جہان کی زندگی سنوارنے کی ضامن ہیں اور ان میں ہماری تمام مشکلات و مصائب کا بہترین حل موجود ہے، یہ ابن آدم کو جہنم سے بچا کر جنت میں لے جانے کا واحد ذریعہ ہے اس لئے ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس مقدس کتاب کے اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور ان سے سرِ مو انحراف نہ کرے۔ </p>
<p>لیکن کتاب اﷲ تو آج بھی موجود ہے پھر کیا وجہ ہے کہ امت مسلمہ قرآنی تعلیمات سے بہت دور ہے۔ اس کی عجیب وجہ حضرت مفتی شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان رحمۃاﷲ علیہ نے معارف القرآن میں تحریر فرمائی جو ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ کتاب اﷲ کے ساتھ رجال اﷲ بھیجے گئے، جنہوں نے کتاب پر مکمل عمل کرکے لوگوں کی تربیت فرمائی۔ اگر محض کتاب کافی ہوتی تو رسولوں کو نہ بھیجا جاتا لیکن آج ہمارا حال یہ ہے کہ قرآن و حدیث سمجھنے کے لیے دینی اسکالر ڈاکٹر اور پروفیسر کا سہارا لیتے ہیں جن کو فہم دین کے ہوا بھی نہیں لگی اور یہ امر مسلّم ہے کہ جن کی زندگی قرآن و سنت کے سانچہ میں ڈھلی ہوئی نہیں ہے ان پر قرآن و حدیث کے علوم منکشف نہیں ہوسکتے اور ان کی اتباع سے بجز گمراہی کے کچھ نہیں مل سکتا۔</p>
<p>حضرت مفتی شفیع صاحب تحریر فرماتے ہیں: انسان کی تعلیم و تربیت محض کتابوں اور روایتوں سے نہیں ہوسکتی، بلکہ رجال ماہرین کی صحبت اور ان سے سیکھ کر حاصل ہوتی ہے، یعنی درحقیقت انسان کا معلّم اور مربّی انسان ہی ہوسکتا ہے، محض کتاب معلّم اور مربّی نہیں ہوسکتی، بقول اکبر مرحوم ؎</p>
<p>کورس تو لفظ ہی سکھاتے ہیں</p>
<p>آدمی‘ آدمی بناتے ہیں</p>
<p>اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو دنیا کے تمام کاروبار میں مشاہد ہے کہ محض کتابی تعلیم سے نہ کوئی کپڑا سینا سیکھ سکتا ہے، نہ کھانا پکانا، نہ ڈاکٹری کی کتاب پڑھ کو کوئی ڈاکٹر بن سکتا ہے، نہ انجینئری کی کتابوں کے محض مطالعے سے کوئی انجینئر بنتا ہے، اسی طرح قرآن و حدیث کا محض مطالعہ انسان کی تعلیم اور اخلاقی تربیت کے لیے ہرگز کافی نہیں ہوسکتا، جب تک اس کو کسی محقق ماہر سے باقاعدہ حاصل نہ کیا جائے، قرآن و حدیث کے معاملے میں بہت سے پڑھے لکھے آدمی اس مغالطے میں مبتلا ہیں کہ محض ترجمے یا تفسیر دیکھ کر وہ قرآن کے ماہر ہوسکتے ہیں، یہ بالکل فطرت کے خلاف تصور ہے، اگرمحض کتاب کافی ہوتی تو رسولوں کو بھیجنے کی ضرورت نہ تھی، کتاب کے ساتھ رسول کو معلّم بنا کر بھیجنا اور صراط مستقیم کو متعین کرنے کے لیے اپنے مقبول بندوں کی فہرست دینا اس کی دلیل ہے کہ محض کتاب کا مطالعہ تعلیم و تربیت کے لیے کافی نہیں، بلکہ کسی ماہر سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>معلوم ہوا کہ انسان کی صلاح و فلاح کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں، ایک کتاب اﷲ جس میں انسانی زندگی کے ہر شعبے سے متعلقہ احکام موجود ہیں، دوسرے رجال اﷲ یعنی اﷲ والے، ان سے استفادے کی صورت یہ ہے کہ کتاب اﷲ کے معروف اصول پر رجال اﷲ کو پرکھا جائے، جو اس معیار پر نہ اتریں، ان کو رجال اﷲ ہی نہ سمجھا جائے، اور جب رجال اﷲ صحیح معنی میں حاصل ہوجائیں، تو ان سے کتاب اﷲ کے مفہوم سیکھنے اور عمل کرنے کا کام لیا جائے۔  (معارف القرآن ، ج ۱؍ ،ص۹۳)</p>
<p>اور صحبت اہل اﷲ کی اہمیت پر شیخ العرب والعجم عارف باﷲ حضرت مولاناشاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم کا یہ ملفوظ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے کہ صحبت اتنی بڑی نعمت ہے کہ ایک لاکھ کتابیں پڑھنے والے میں وہ بات نہیں پائوگے جو صحبت یافتہ لوگوں سے پائو گے، دیکھئے قرآن پاک ابھی مکمل نازل نہیں ہوا صرف اقراء باسم ربک نازل ہوئی اور نبوت عطا ہوگئی۔ قرآن پاک ابھی ۲۳؍ سال میں مکمل ہوگا لیکن نبوت آپ کو ایک ہی آیت کے نزول پر مکمل عطا کی گئی۔ نبوت ناقص نہیں دی گئی کہ قرآن پاک ابھی مکمل نہیں ہوا تو نبوت تھوڑی سی دے دی گئی ہو۔ نہیں! مکمل نبوت عطا ہوئی اور ایسی مکمل ہوئی کہ جس نے آپ کو اس حالت میں دیکھا وہ صحابی ہوگیا اور مکمل صحابی ہوا ہے، ناقص صحابی نہیں ہوا۔ وہ صحابی مکمل آپ نبی مکمل اگرچہ قرآن پاک ابھی مکمل نازل نہیں ہوا۔ معلوم ہوا کہ نبوت اور صحابیت کتاب اﷲ کی تکمیل کی تابع نہیں۔ اگر کتاب صحبت سے زیادہ اہم ہوتی تو اقرأ باسم ربک کے نزول کے وقت ایمان لانے والے صحابی نہ ہوتے بلکہ یہ ہوتا کہ ابھی تو ایک ہی آیت نازل ہوئی ہے جب پورا قرآن نازل ہوجائے گا تب صحابی بنوگے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس وقت ایمان لانے والے صحابہ کا مقام سب سے بڑھ گیا اور وہ سابقون الاولون کہلائے۔ اور آج پورا قرآن سینوں میں ہے لیکن کوئی صحابی بن کر دکھائے۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ صحبت کیا چیز ہے۔ (مواہب ربانیہ ص۵۸۲)</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F313.html&amp;linkname=%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%EF%B7%B2%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B1%D8%AC%D8%A7%D9%84%20%D8%A7%EF%B7%B2%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F313.html&amp;linkname=%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%EF%B7%B2%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B1%D8%AC%D8%A7%D9%84%20%D8%A7%EF%B7%B2%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F313.html&amp;linkname=%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%EF%B7%B2%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B1%D8%AC%D8%A7%D9%84%20%D8%A7%EF%B7%B2%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F313.html&amp;linkname=%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%EF%B7%B2%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B1%D8%AC%D8%A7%D9%84%20%D8%A7%EF%B7%B2%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F313.html&amp;linkname=%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%EF%B7%B2%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B1%D8%AC%D8%A7%D9%84%20%D8%A7%EF%B7%B2%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F313.html&amp;linkname=%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%EF%B7%B2%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B1%D8%AC%D8%A7%D9%84%20%D8%A7%EF%B7%B2%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%B2%D9%85">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/313.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
