<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ماہنامہ الابرار</title>
	<atom:link href="http://alabrar.khanqah.org/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://alabrar.khanqah.org</link>
	<description>خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کا ترجمان - شمارہ: شعبان ۱۴۳۱ بمطابق آگست ۲۰۱۰</description>
	<lastBuildDate>Sun, 31 Oct 2010 04:01:47 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>توبہ کی ضرورت</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/372.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/372.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:50:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/372.html</guid>
		<description><![CDATA[دورِ حاضر میں امّتِ مسلمہ ذلّت و رسوائی کے جس گڑھے میں گری ہوئی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے دین کو چھوڑ دیا ہے، ہم نے اللہ اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے۔ بظاہر تو ہم کہتے ہیں کہ ہم اﷲ کو مانتے ہیں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>دورِ حاضر میں امّتِ مسلمہ ذلّت و رسوائی کے جس گڑھے میں گری ہوئی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے دین کو چھوڑ دیا ہے، ہم نے اللہ اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے۔ بظاہر تو ہم کہتے ہیں کہ ہم اﷲ کو مانتے ہیں اسلامی شریعت کو مانتے ہیں مگر عمل ہمارا اس کے برعکس ہوتا ہے چاہے اجتماعی طور پر اس کا مشاہدہ کریں یا انفرادی ۔ آج ہم کافروں کے ہاتھوں اپنے اعمال کے باعث ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔ ہم ہی ایسے ظالم اور ناشکرے ہیں کہ اپنے اللہ سے اور اس کے احکام سے منہ موڑ رکھا ہے اور دنیا کی ختم ہوجانے والی فانی اور نفسانی لذات میں محو ہوگئے ہیں اور اس میں اتنا مشغول ہوچکے ہیں کہ نہ صرف اپنے رحیم و کریم مالک کی نافرمانیاں کررہے ہیں بلکہ اس کے بندوں کے حقوق بھی غضب کرنے کو اپنا کارنامہ سمجھتے ہیں ۔ خدارا غور کریں کہ آج ہم بے حسی کے کس مقام تک پہنچ چکے ہیں۔ کتے کو بھی جہاں سے ایک وقت روٹی مل جائے تو وہ اْس در کا وفادار بن کر رہتا ہے۔ لیکن ہم نے کتنی وفا کی اپنے مالک سے جو ہمیں کھلا رہا ہے، پلا رہا ہے، سْلا رہا ہے، ان گنت نعمتیں عطا کر رکھی ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم سب سچے دل سے توبہ کریں اور آئندہ کے لئے گناہوں سے باز آجائیں۔ وہ تو ایسا رحیم و کریم رب ہے کہ فرما رہا ہے ’’ اے میرے بندوں جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، خدا کی رحمت سے نااْمید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ (زمر: ۵۳)۔ دیکھیں کہ کس محبت سے مالک اپنے نافرمان بندوں سے مخاطب ہے۔ اگر ہم اب بھی ایسے رب کو بھلا دیں تو ہم سے بڑا احسان فراموش اور کون ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’کیا اب بھی مومنوں کے لئے یہ وقت نہیں آیا کہ اْن کے دل خدا کی یاد سے نرم ہو جائیں۔‘‘(الحدید:۱۶)۔</p>
<p>آج ہم گناہوں اور فتنوں کی جس دلدل میں پھنس چکے ہیں اْس سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے۔ اور وہ ہے توبہ۔ اللہ رب العزّت کا ارشادِ ہے ’’مومنو! خدا کے آگے صاف دل سے توبہ کرو۔ امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا‘‘ (تحریم:۶۶)۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میں اللہ تعالیٰ سے روزانہ ستر مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔‘‘ اب ہم ذرا اپنی حالت کو دیکھ کر اندازہ لگائیں کہ ہمیں توبہ و استغفار کی کتنی ضرورت ہے‘ جبکہ سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم جن سے بڑھ کر کوئی نیک اور تقویٰ والا نہیں ہوسکتا وہ فرما رہے ہیں۔</p>
<p>توبہ سے روکنے کے لئے عام طور پر نفس جو کہ شیطان کا ایجنٹ ہے دو طرح کی پٹّی پڑھاتا ہے۔ ایک تو یہ کہ ابھی تو بڑی عمر پڑی ہے، ابھی توجوان ہیں، ابھی تو ہنسنے کھیلنے کے دن ہیں، مزے کرو، بعد میں توبہ کر لیں گے۔ تو سب سے پہلے تو ہمیں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ موت کے وقت کی کسے خبر ہے‘ ممکن ہے اگلے لمحے موت سر پر کھڑی ہو اور دوسرے توبہ کی توفیق بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔ آج اگر دل میں توبہ کا خیال پیدا ہو رہا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کا پیغام ہے۔ اس کو غنیمت جانیں اور آج ہی فوراً اس پر عمل کر لیں، کیا خبر کل یہ توفیق حاصل ہو یا نہ ہو۔</p>
<p>دوسری پٹی نفس یہ پڑھاتا ہے کہ تم نے تو اتنے گناہ کئے ہیں کہ تمہاری بخشش ہو ہی نہیں سکتی۔ یا تم گناہ تو چھوڑ نہیں سکتے اس لئے توبہ سے کوئی فائدہ نہیں۔ایک بات کا جواب تو ہمیں اس حدیثِ قدسی سے مل جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’جو شخص ساری زمین بھر کر گناہ کر لے اور پھر میرے پاس آجائے بشرطیکہ اس نے میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو میں اس کو اتنی ہی مغفرت عطا کروں گا جتنے اس کے گناہ تھے۔‘‘ اور فرمایا کہ ’’میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی‘‘۔</p>
<p>ابھی بھی وقت ہے آئیے ہم سب مل کر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں، اپنے اللہ کو راضی کر لیں۔ آج ہمیں چھوٹے بچوں سے سبق لینا چاہیے جنہیں کوئی بھی تکلیف پہنچے وہ صرف رونا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسی سے ہمارا کام بنے گا۔ آج ہمارے پاس بھی اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کہ اپنے رب کے سامنے روئیں، گڑگڑائیں اور توبہ کریں۔</p>
<p>اور سب سے بڑھ کر یہ کہ توبہ کے بعد دوسرا کام یہ کرنا ہے کہ جتنے غلط کام ماضی میں کئے ان کی تلافی کی کوشش کی جائے۔ یعنی جو فرائض واجبات، نمازیں، روزے، زکوٰۃ، رہ گئے ان کو ادا کرنے کا اہتمام کریں اور اگر کسی کی کوئی مالی یا جانی حق تلفی کی تو اس کا ازالہ کریں یا کسی کو ناحق تکلیف پہنچائی تو اْس سے معافی مانگیں۔ اور توبہ کے بعد پھر ہر قسم کے گناہ سے بچیں۔ اگر کبھی نادانی سے غلطی ہو جائے تو پھر فوراً توبہ کرلیں۔ اپنی ظاہری و باطنی اصلاح کی ہر طرح سے کوشش کرتے رہیں۔</p>
<p>اﷲ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو توبہ کی توفیق اور اس پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین</p>
<p>ژژژژژ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F372.html&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F372.html&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F372.html&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F372.html&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F372.html&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F372.html&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/372.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آپ کے فضل نے کام آساں کیا</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/371.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/371.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:50:05 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[حمد باري تعالي]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/371.html</guid>
		<description><![CDATA[جناب خالد اقبال تائب خود کو رسمِ جہاں سے گریزاں کیا توڑ کر ہمہ نے گھر اُن کو مہماں کیا میری دیوانگی تو بہانہ بنی آپ کے فضل نے کام آساں کیا تیز ہوتا رہا دردِ دل دن بدن آپ نے درد کا ایسا درماں کیا آبلے روپڑے اور کہنے لگے تونے شوقِ سفر ہم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جناب خالد اقبال تائب</p>
<p>خود کو رسمِ جہاں سے گریزاں کیا<br />
توڑ کر ہمہ نے گھر اُن کو مہماں کیا</p>
<p>میری دیوانگی تو بہانہ بنی<br />
آپ کے فضل نے کام آساں کیا</p>
<p>تیز ہوتا رہا دردِ دل دن بدن<br />
آپ نے درد کا ایسا درماں کیا</p>
<p>آبلے روپڑے اور کہنے لگے<br />
تونے شوقِ سفر ہم پہ احساں کیا</p>
<p>پھر ضیاء پاشیاں اُن کی مت پوچھئے<br />
میں نے پلکوں پہ کیا اِک چراغاں کیا</p>
<p>زخمِ حسرت کی تائب جو لذت چکھی<br />
عمر بھر دل نے کوئی نہ ارماں کیا</p>
<p>ژژ…ژ…ژژ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F371.html&amp;linkname=%D8%A2%D9%BE%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D9%84%20%D9%86%DB%92%20%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D8%A2%D8%B3%D8%A7%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F371.html&amp;linkname=%D8%A2%D9%BE%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D9%84%20%D9%86%DB%92%20%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D8%A2%D8%B3%D8%A7%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F371.html&amp;linkname=%D8%A2%D9%BE%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D9%84%20%D9%86%DB%92%20%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D8%A2%D8%B3%D8%A7%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F371.html&amp;linkname=%D8%A2%D9%BE%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D9%84%20%D9%86%DB%92%20%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D8%A2%D8%B3%D8%A7%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F371.html&amp;linkname=%D8%A2%D9%BE%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D9%84%20%D9%86%DB%92%20%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D8%A2%D8%B3%D8%A7%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F371.html&amp;linkname=%D8%A2%D9%BE%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D9%84%20%D9%86%DB%92%20%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D8%A2%D8%B3%D8%A7%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/371.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خوابِ دیرینہ کو مولیٰ تو حقیقت کردے</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/370.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/370.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:49:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[نعت شریف]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/370.html</guid>
		<description><![CDATA[جناب خالد اقبال تائب خوابِ دیرینہ کو مولیٰ تو حقیقت کردے جائوں طیبہ تو وہیں سے مجھے رخصت کردے ترے محبوب کا یارب میں پڑوسی بن جائوں دور افتادہ کو تو صاحب قربت کردے مالکِ زیست ہے تو تیرے لیے کیا مشکل موت کو میرے لیے باعثِ برکت کردے کردے پیوند زمیں یوں کہ فلک [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جناب خالد اقبال تائب</p>
<p>خوابِ دیرینہ کو مولیٰ تو حقیقت کردے<br />
جائوں طیبہ تو وہیں سے مجھے رخصت کردے</p>
<p>ترے محبوب کا یارب میں پڑوسی بن جائوں<br />
دور افتادہ کو تو صاحب قربت کردے</p>
<p>مالکِ زیست ہے تو تیرے لیے کیا مشکل<br />
موت کو میرے لیے باعثِ برکت کردے</p>
<p>کردے پیوند زمیں یوں کہ فلک رشک کرے<br />
اپنی قدرت سے تو اونچی میری قسمت کردے</p>
<p>تائب خستہ کی حسرت نہ ملے مٹی میں<br />
تو عطا اس کو مدینے میں جو تربت کردے</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F370.html&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8%D9%90%20%D8%AF%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%81%20%DA%A9%D9%88%20%D9%85%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%D8%AA%D9%88%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DB%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F370.html&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8%D9%90%20%D8%AF%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%81%20%DA%A9%D9%88%20%D9%85%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%D8%AA%D9%88%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DB%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F370.html&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8%D9%90%20%D8%AF%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%81%20%DA%A9%D9%88%20%D9%85%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%D8%AA%D9%88%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DB%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F370.html&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8%D9%90%20%D8%AF%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%81%20%DA%A9%D9%88%20%D9%85%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%D8%AA%D9%88%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DB%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F370.html&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8%D9%90%20%D8%AF%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%81%20%DA%A9%D9%88%20%D9%85%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%D8%AA%D9%88%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DB%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F370.html&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8%D9%90%20%D8%AF%DB%8C%D8%B1%DB%8C%D9%86%DB%81%20%DA%A9%D9%88%20%D9%85%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%D8%AA%D9%88%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%DA%A9%D8%B1%D8%AF%DB%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/370.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بناتے ہیں سب کو امیرِ محبت</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/368.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/368.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:49:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[در مدح شیخ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=368</guid>
		<description><![CDATA[جناب خالد اقبال تائب اشعار در محبت حبیبی و صدیقی و رفیقی وسیلۃ یومی وغدی مرشدی و مولائی عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب ادام اﷲ ظلہم علینا بناتے ہیں سب کو اسیرِ محبت دراصل اہلِ دل ہیں سفیرِ محبت قریب اہل دل کی بھی مٹی وہیں تھی جہاں سے اٹھا تھا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جناب خالد اقبال تائب</p>
<p>اشعار در محبت حبیبی و صدیقی و رفیقی وسیلۃ یومی وغدی مرشدی و مولائی عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب ادام اﷲ ظلہم علینا</p>
<p>بناتے ہیں سب کو اسیرِ محبت<br />
دراصل اہلِ دل ہیں سفیرِ محبت</p>
<p>قریب اہل دل کی بھی مٹی وہیں تھی<br />
جہاں سے اٹھا تھا خمیرِ محبت</p>
<p>محبت خدا کی ہمارے دلوں میں<br />
جواں کررہے ہیں یہ پیرِ محبت</p>
<p>جو شاہوں کو خاطر میں لاتا نہیں ہے<br />
کوئی لائے ایسا فقیرِ محبت</p>
<p>جگالو اسے باضمیروں سے مل کر<br />
کہیں مر نہ جائے ضمیرِ محبت</p>
<p>مقدر میں اب کوئی دوجا نہیں ہے<br />
وہ کھینچی ہے تم نے لکیرِ محبت</p>
<p>کماں اب ترے ہاتھ ہے زندگی کی<br />
چبھا اس طرح دل میں تیرِ محبت</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F368.html&amp;linkname=%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%92%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%A8%20%DA%A9%D9%88%20%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%90%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F368.html&amp;linkname=%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%92%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%A8%20%DA%A9%D9%88%20%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%90%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F368.html&amp;linkname=%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%92%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%A8%20%DA%A9%D9%88%20%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%90%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F368.html&amp;linkname=%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%92%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%A8%20%DA%A9%D9%88%20%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%90%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F368.html&amp;linkname=%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%92%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%A8%20%DA%A9%D9%88%20%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%90%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F368.html&amp;linkname=%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%AA%DB%92%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%A8%20%DA%A9%D9%88%20%D8%A7%D9%85%DB%8C%D8%B1%D9%90%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/368.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خزائن القرآن</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/367.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/367.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:47:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین قرآن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/367.html</guid>
		<description><![CDATA[عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم (گذشتہ سے پیوستہ) رب العٰلمین کے بعد الرحمٰن الرحیم نازل کرکے بتا دیا کہ میری ہر ادائے ربوبیت میں شانِ رحمت شامل ہے، ہر ادائے تربیت میں شانِ رحمانیت اور شانِ رحیمیت ہوگی۔ رحمٰن اور رحیم میں کیا فرق ہے؟ رحمٰن کے معنیٰ ہیں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم</p>
<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>رب العٰلمین کے بعد الرحمٰن الرحیم نازل کرکے بتا دیا کہ میری ہر ادائے ربوبیت میں شانِ رحمت شامل ہے، ہر ادائے تربیت میں شانِ رحمانیت اور شانِ رحیمیت ہوگی۔ رحمٰن اور رحیم میں کیا فرق ہے؟ رحمٰن کے معنیٰ ہیں مہربانی کرنے والا اور رحیم کے معنیٰ ہیں بہت زیادہ مہربانی کرنے والا، بار بار رحمت کرنے والا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ رحمٰن میں جو رحمت ہے وہ مومن اور کافر سب پر عام ہے، اسی صفتِ رحمانیت کے صدقے میں دنیا میں کافر رزق پارہا ہے، اگر شانِ رحمانیت نہ ہوتی تو اﷲتعالیٰ کسی کافر کو روٹی نہ دیتا غرض صفتِ رحمانیت مشترک ہے مومن اور کافر کے درمیان اور رحیم خاص ہے مؤمنین کے لیے، شانِ رحیمیت صرف مومنین کے لیے ہے لہٰذا مؤمنین جب جنت میں جائیں گے تو اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے: نُزُلاً مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ (سورۃ فصلت، آیت:۳۲)</p>
<p>یہ مہمانی ہے غفور رحیم کی طرف سے۔</p>
<p>دوسرا فرق علامہ آلوسی السید محمود بغدادی نے یہ بیان کیا ہے کہ رحمانیت کی شان کبھی ممزوج بالالم ہو سکتی ہے یعنی اس رحمت میں تکلیف کی آمیزش ہوسکتی ہے جیسے گردے کی پتھری نکالنے کے لیے آپریشن ہورہا ہے اس میں بھی رحمت ہے کہ پتھری نکل جائے گی مگر اس میں تکلیف شامل ہے اور رحیم میں وہ صفتِ رحمت ہے جو کبھی ممزوج بالالم نہیں ہوتی۔ جنت میں چونکہ کوئی تکلیف نہ ہوگی اس لیے اﷲ تعالیٰ نے نُزُلاً مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍنازل فرمایا یہاں رحمٰن نازل نہیں فرمایاکیونکہ جنت میں کوئی الم نہیں ہے کوئی تکلیف نہیں ہے لیکن وہاں کی خوشیاں اُنہی کو ملیں گی جو یہاں اﷲ کے لیے غم اٹھا چکے ہیں، جنہوں نے گناہوں سے بچنے کا غم اٹھایا ہے، عبادت کی مشقت برداشت کی ہے۔ اس لیے جب جنت میں پہلا قدم داخل ہوگا تو ہر جنتی کے منہ سے یہ بات نکلے گی: اَلْحَمْدُ ِﷲِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (سورۃ فاطر، آیت:۳۴)</p>
<p>شکر ہے اس اﷲ کا جس نے ہم سے غم کو اٹھا لیا کہ آج غم ہمیشہ کے لیے ختم ہورہا ہے، اب کبھی غم کا تصور بھی نہ ہوگا۔ علامہ آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں یہی دعا مانگی ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہمیں اپنی شانِ رحیمیت کا مظہر بنائے اپنی وہ شانِ رحمت دے جو کبھی ممزوج بالا لم نہیں ہوتی یعنی اے خدا! اپنی شانِ رحیمیت کے صدقے میں ہمیشہ ہم کو عافیت سے رکھئے، کبھی کوئی تکلیف نہ دیجئے۔</p>
<p>مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ میں بتا دیا کہ میں قیامت کے دن تابعِ قوانین نہیں ہوں گا قیامت کے دن کا مالک ہوں گا۔ اُس دن میری حیثیت قاضی اور جج کی نہیں ہوگی مالک کی ہوگی۔ دنیا کی عدالتوں کے قاضی اور قاضی القضاۃ یعنی سپریم کورٹ کے جسٹس اور چیف جسٹس سب قوانین و فرامینِ سلطنت کے پابند ہوتے ہیں، پابندِ قانونِ مملکت ہوتے ہیں، قانون کے دائرے کے خلاف نہیں جاسکتے لیکن اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن میں قاضی اور جج کی حیثیت سے فیصلے نہیں کروں گا، میں قیامت کے دن کا مالک رہوں گا جس کو چاہوں گا بخش دوں گا جس کو چاہوں سزادوں گا، میں کسی قانون کا پابند نہیں ہوں، تابعِ قانون نہیں ہوں بلکہ مالک ہوں جس کو چاہوں سزا دوں جس کو چاہوں بخشوں، بخشش کے لیے بس ایمان شرط ہے۔ اگر قانون کی رو سے کوئی بخشش نہیں پارہا ہے تو جس کو چاہوں گا اپنے مراحمِ خسروانہ، اپنے شاہی رحم سے بخش دوں گا۔</p>
<p>شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ کے صاحبزادے شاہ عبد القادر صاحب تفسیر موضح القرآن میں لکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے عرشِ اعظم کے سامنے لکھا یا ہوا ہے سَبَقَتْ رَحْمَتِیْ غَضَبِیْ یعنی میری رحمت اور میرے غصہ میں دوڑ ہوئی تو میری رحمت غصہ سے آگے بڑھ گئی۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے یہ از قبیل مراحمِ خسروانہ یعنی شاہی رحم کے طور پر لکھا یا ہے تا کہ جو بندے قانون کی رُو سے مغفرت نہ پاسکیں میں ان کو اپنے شاہی رحم سے معاف کر دوں جس طرح اخباروں میں آپ پڑھتے ہیں کہ سزائے موت کے مجرم نے سپریم کورٹ سے مایوس ہوکر شاہ سے رحم کی اپیل کر دی۔ بادشاہ کو قانوناً اختیار ہوتا ہے کہ جس کو چاہے معاف کر دے۔ لیکن دنیا کے بادشاہ معاف کرنے میں بھی پابندِ قانون ہوتے ہیں مگر اﷲ تعالیٰ نے مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ فرماکر بتا دیا کہ میں قیامت کے دن کا مالک رہوں گا، قوانین کا پابند نہیں رہوں گا جس کو چاہوں گا سزا دوں گا جس کو چاہوں گا اپنے مراحمِ خسروانہ سے، شاہی رحم سے معاف کردوں گا۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F367.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F367.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F367.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F367.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F367.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F367.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/367.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خزائن الحدیث</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/366.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/366.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:47:09 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[احادیث نبویہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/366.html</guid>
		<description><![CDATA[عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ (سننُ الترمذی،کتابُ الدعوات،ج:۲،ص:۱۹۱) بعض کتبِ احادیث میں عفو کے بعد کریم کا اضافہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے اللہ آپ بہت معافی دینے والے ہیں۔ ملا علی قاری نے عفو کی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم</p>
<p>اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ</p>
<p>(سننُ الترمذی،کتابُ الدعوات،ج:۲،ص:۱۹۱)</p>
<p>بعض کتبِ احادیث میں عفو کے بعد کریم کا اضافہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے اللہ آپ بہت معافی دینے والے ہیں۔ ملا علی قاری نے عفو کی شرح کی ہے کثیر العفو یعنی جو بہت زیادہ معاف کرنے والا ہو اور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارحم الراحمین کے دریائے رحمت میں جوش دِلانے کے لیے کریم کا اضافہ فرمایا تاکہ میری امت کے نالائقوں، نااہلوں، گنہگاروں اور خطا کاروں کی بھی معافی ہو جائے اور امت کا کوئی فرد ایسا نہ رہے جس کو معاف نہ کر دیا جائے کیونکہ کریم وہ ہے جو اپنے کرم سے نالائقوں کو بھی محروم نہ کرے اور نا قابلِ معافی کو معاف فرما دے۔ (درسِ مثنوی، ص:۱۰۶-۱۰۵)</p>
<p>حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے شبِ قدر میں پڑھنے کے لیے یہ دعا سکھائی:</p>
<p>اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ</p>
<p>آپ نے پہلے اللہ تعالیٰ کی ثناء و تعریف فرمائی کیونکہ ثَنَائُ الْکَرِیْمِ دُعَائٌ کریم کی تعریف کرنا اس سے مانگنا ہے اور جو چیز کریم سے لینی ہوتی ہے اسی صفت کی تعریف کرتے ہیں۔ چونکہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو اُمت کو معافی دلوانی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ کی صفتِ عفو کا واسطہ دیا اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ اَیْ اِنَّکَ اَنْتَ کَثِیْرُ الْعَفْوِاے اللہ! آپ بہت معاف کرنے والے ہیں اور کریم کیوں فرمایا؟ تاکہ اُمت کے گنہگار بندے بھی محروم نہ رہیں کیونکہ کریم کے معنی ہیں اَلَّذِیْ یُعْطِیْ بِدُوْنِ الْاِسْتِحْقَاقِ وَالْمِنَّۃِکریم وہ ہے جو نالائقوں پر بھی فضل فرما دے اگرچہ استحقاق نہ بنتا ہو تو کریم فرما کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گنہگاروں کو مایوسی سے بچا لیا کہ تم مانگو، تمہارا پالا کریم مالک سے ہے جو بدونِ استحقاق اپنے نالائقوں کو بھی عطا فرماتا ہے۔ تُحِبُّ الْعَفْوَ کی شرح ہے کہ اَنْتَ تُحِبُّ ظُھُوْرَ صِفَۃِ الْعَفْوِ عَلٰی عِبَادِکَ اپنے بندوں کو معاف کرنا یہ عمل آپ کو بہت محبوب ہے فَاعْفُ عَنِّیْ پس ہم کو معاف کردیجئے، اپنا محبوب عمل ہم گنہگاروں پر جاری فرما کر ہمارا بیڑا پار کر دیجئے۔</p>
<p>کعبہ شریف میں جا کر یہ دعا مانگنے کا بہترین موقع ہے کہ اے اللہ! ہم اپنے اپنے ملکوں سے آئے ہیں آپ کو کریم جان کر۔ ہر آدمی جب بادشاہ کے پاس جاتا ہے تو کوئی تحفہ لے کر جاتا ہے۔ اپنے اپنے ملکوں سے ،آپ کے پاس ہم اپنے گناہوں پر ندامت اور توبہ و استغفار اور طلب معافی کی درخواست کا تحفہ لائے ہیں تاکہ آپ ہم کو معاف کر کے اپنی صفتِ عفو کا ہم پر ظہور فرما کر اپنا محبوب عمل ہم پر جاری فرما دیں کیونکہ ہم نالائقوں کے پاس آپ کے لائق اس سے بہتر کوئی تحفہ نہیں مگر یہ تحفہ ہم نے آپ کے رسول سرورِ عالم سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم سے سیکھا جن سے زیادہ آپ کا کوئی مزاج شناس نہیں۔ (فیوضِ ربانی، صفحہ ۸۲۔۸۳)</p>
<p>کریم کے چار معانی</p>
<p>محدثین نے کریم کے چار معانی بیان کیے ہیں:</p>
<p>۱۔ اَلَّذِیْ یَتَفَضَّلُ عَلَیْنَا بِدُوْنِ الْاِ سْتِحْقَاقِ وَالْمِنَّۃِ کریم وہ ہے جو اپنے کرم سے نالائقوں کو بھی محروم نہ کرے، جس کا حق نہ بنتا ہو اس کو بھی عطا فرما دے،(درسِ مثنوی، ص:۱۰۶) جو ہم پر بغیر اہلیت کے، باوجود ہماری نالائقی کے مہربانی کر دے جیسے ایک بادشاہ نے اپنے خادم سے کہا کہ رمضانی مگساں می آیند۔ رمضانی میرے پاس مکھیاں آ رہی ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ حضور ناکساں پیش کساں می آیند۔ حضور نالائق لائق کے پاس آ رہی ہیں۔ پس کریم حقیقی تو ہمارا اللہ ہے کہ بُرے اعمال سے ہمارا ظاہر بھی گندا اور ہمارا باطن بھی گندا کہ اندر پیشاب پاخانہ بھرا ہوا ہے لیکن ہم جیسے نالائقوں کو بھی اپنے پاس آنے سے منع نہیں کرتے بلکہ حکم دے دیا کہ وضو کر لو اور میرے حضور میں آجائو۔ اسی طرح باوجود ہماری باطنی گندگی یعنی گناہوں میں ملوث ہونے کے ہر سانس اور ہر لمحہ ہم پر انعامات کی بارش ہو رہی ہے۔ (فغانِ رومی، ص:۲۹۸)</p>
<p>۲۔ اَلَّذِیْ یَتَفَضَّلُ عَلَیْنَا فَوْقَ مَا نَتَمَنّٰی بِہٖ یعنی ہماری تمنائوں سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا کہ ہم اگر ایک بوتل شہد مانگیں تو وہ ڈھائی من کامشک دے دے،(فغانِ رومی، ص:۲۹۸) جو ہماری تمنائوں سے زیادہ دے دے جیسے ایک کریم سے کسی نے ایک بوتل شہد مانگا اس نے ایک مشک دے دیا۔ کسی نے کہا کہ اس نے تو ایک بوتل مانگا تھا آپ نے پوری مشک کیوں دی۔ کہا کہ اس نے مانگا اپنے ظرف کے مطابق، میں نے دیا اپنے ظرف کے مطابق۔ جب دنیاوی کریموں کا یہ حال ہے جن کو کرم کی ایک ذرّہ بھیک مل گئی ہے تو اس کریمِ حقیقی کے کرم کا کیا ٹھکانہ ہے ؎</p>
<p>میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا</p>
<p>دریا بہا دئیے ہیں دُر بے بہا دئیے ہیں</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F366.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F366.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F366.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F366.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F366.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F366.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D8%A6%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/366.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت تھانویؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/365.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/365.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:46:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/365.html</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ) پردہ امر فطری اور غیرت کا تقاضہ ہے فرمایا کہ پردہ ایسی چیز ہے کہ اگر شریعت بھی نہ تجویز کرتی تب بھی فطری امر اور غیرت کا مقتضاء ہے کہ عورتوں کو پردہ میں رکھا جائے ایک شخص نے شبہ کیا کہ پردہ کا ذکر کونسی آیت یا حدیث میں آیا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>پردہ امر فطری اور غیرت کا تقاضہ ہے</p>
<p>فرمایا کہ پردہ ایسی چیز ہے کہ اگر شریعت بھی نہ تجویز کرتی تب بھی فطری امر اور غیرت کا مقتضاء ہے کہ عورتوں کو پردہ میں رکھا جائے ایک شخص نے شبہ کیا کہ پردہ کا ذکر کونسی آیت یا حدیث میں آیا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ آپ جو سو دوسو کے نوٹ جاکٹ کی جو سب سے اندر کی جیب ہے اس میں رکھتے ہیں اور بڑی حفاظت کرتے ہیں یہ کونسی حدیث میں آیا ہے۔ کیا عورت کی قدر آپ کے نزدیک نوٹ کے برابر بھی نہیں ہے۔ افسوس ہر وز اس بے پردگی کی بدولت نئے نئے شرمناک واقعات سننے میں آتے ہیں مگر پھر بھی ہوش نہیں آتا۔ ابھی ایک اخبار میں دیکھا ہے کہ حیدرآباد میں ایک باغ عامہ ہے۔ وہاں ایک رئیس زادی زیب و زینت کے ساتھ ٹہل رہی تھی اسے بدمعاشوں نے چھیڑنا شروع کیا۔ وہ عورتوں کے غول کی طرف بھاگی وہاں بھی پناہ نہ ملی۔ تو پولیس نے بچایا۔ اور لیجئے ایک جینٹلمین جنہوں نے نیا نیا پردہ توڑا تھا وہ اپنی بیگم کو بغرض تفریح منصوری پہاڑ لے گئے اور تفریح کے لیے اس سڑک پر گئے جہاں بڑے بڑے آفیسر انگریزوں کے بنگلے تھے۔ وہاں ایک کوٹھی کے سامنے سے گزرے جو کسی بڑے افسر کی تھی اور تین گورے پہرے پر تھے ان کو دیکھ کر انہوں نے کچھ آپس میں گفتگو کی اور ایک ان میں سے چلا اور ان کی بیگم کا ان کے ہاتھ میں سے ہاتھ چھڑا کر ایک طرف لے گیا اور اسے خراب کرکے لے آیا۔ پھر دوسرے اور تیسرے نے بھی یہی عمل کیا اور یہ اپنا سا منہ لے کے چلے آئے (جامع کہتا ہے کہ یہ شخص علاوہ بد دین ہونیکے حد درجہ بے غیرت بھی تھا جو ایسی بے غیرتی پر اف نہ کی دیندار ہوتا تو ان تینوں کو فنا فی النار کرکے خود جام شہادت پیتا) ہمارے حضرت نے مجمع کی طرف مخاطب ہوکے فرمایا۔ بس جی لوگوں کو شرم و غیرت نہیں رہی یہ تو شریعت کی رحمت ہے کہ اس کا بھی حکم دے دیا۔ باقی غیرت ایک ایسی چیز ہے کہ اس کو برداشت ہی نہیں کرسکتا۔ وہ تو ایک قسم کی محبوبہ ہوتی ہے۔ عاشق کب چاہتا ہے کہ میرے محبوب پر کوئی دوسرا نظر ڈالے۔ شاہ قلندر رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ؎</p>
<p>غیرت از چشم برم روی تو دیدن ندہم</p>
<p>گوش رانیز حدیث توشنیدن ندہم</p>
<p>گریباید ملک الموت کہ جانم بیرد</p>
<p>تانہ بینم رخ توروح رمیدن ندہم</p>
<p>ایک شخص نے عرض کیا کہ حضرت پردہ میں بھی تو ایسے قصے ہوجاتے ہیں۔ پھر پردہ سے کیا فائدہ ہوا۔ فرمایا سبحان اﷲ جب اول تعلق ہوا ہے تو بے پردگی ہی سے ہوا ہے۔ وہ عورت اول اس سے بے پردہ ہی تو ہوئی تھی جب ہی تو تعلق ہوا۔</p>
<p>پردہ میں کوئی خرابی نہیں ہوسکتی۔ جہاں خرابی ہوتی ہے بے پردگی سے ہوتی ہے۔ جہاں خرابی ہوتی ہے وہاں پردہ ہی نہیں ہوتا اگر ہوتا ہے تو محض نام کا ہوتا ہے۔ پردہ کے متعلق اکبر الہ آبادی نے خوب لکھا ہے ؎</p>
<p>کل بے حجاب چند نظر آئیں بیبیاں</p>
<p>اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑگیا</p>
<p>پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ کیا ہوا</p>
<p>کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑگیا</p>
<p>اس وقت پردہ اٹھانے کی تحریک کا ثمرہ سوائے اس کے کچھ نہیں ہوسکتا کہ عورتیں بے شرم و حیا ہوکر علانیہ فسق و فجور میں مبتلا ہوں اور خاوندوں کے تصرف سے نکل کے عیش کو منغض کریں (تبسم کے ساتھ فرمایا) کہ ایک ظریف شخص سے پوچھا گیا کہ آپ پردہ توڑنے کی تحریک میں کیوں شریک نہیں ہوتے فرمایا بھائی اگر ہماری جوانی ہوتی تو ہم بھی شریک ہوجاتے اب یہ خیال ہے کہ تم بے پردگی سے مزے اڑائو اور ہم دیکھ دیکھ کر حسرت کریں۔</p>
<p>حضرت تھانویؒ کا عامۃ الناس کے ساتھ حسن ظن</p>
<p>اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن تربیت کا معاملہ</p>
<p>فرمایا کہ عام لوگوں میں سے تو اگر کسی کے اندر ننانویں عیب ہوں اور ایک بھلائی ہو تو میری نظر اس بھلائی پر جاتی ہے اور ان ننانویں عیبوں پر نہیں جاتی۔ اور جس نے اپنے کو تربیت کے واسطے میرے سپرد کیا ہو تو اس میں اگر ننانویں بھلائی ہوں اور ایک عیب ہو تو میری نظر اس عیب پر جاتی ہے۔ ان ننانویں بھلائیوں پر نہیں جاتی (جامع کہتا ہے سبحان اﷲ اس سے حضرت والا کا عامۃ الناس کے ساتھ حسن ظن اور غلاموں کے ساتھ حسن تربیت ظاہر ہے۔) واقعی حضرت رحمت محض ہیں جیسے کوئی شفیق طبیب اپنے مریض کے اندر تھوڑی سی کسر بھی گوارا نہیں کرتا۔ ایسے ہی ہمارے حضرت بھی اپنے خادموں میں کسی کوتاہی کو گوارا نہیں فرماتے اور یہی وجہ ہے جو بعض ناواقف لوگ حضرت کوسخت مزاج اور سخت گیر کہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ذوق صحیح نہیں یا حضرت والا کی کبھی صحبت میسر نہیں ہوئی ورنہ ہمارے حضرت میں تو سختی کا پتہ بھی نہیں۔ سراسر رحمت ہی رحمت ہیں ؎</p>
<p>بندۂ پیر خرابا تم کہ لطفش دائم است</p>
<p>زانکہ لطف شیخ و زاہدہ گاہ ہست وگاہ نیست</p>
<p>احقر کو بارہا کم اور زیادہ مدت حاضری کا اتفاق ہوا مگر آج تک کوئی بھی سختی سوائے ترحم کے نظر ہی نہ آئی اب اگر کوئی بے تمیزی کرے اور اس پر اسے نہ روکا جائے تو یہ تو بے حسی ہے جو نقص ہے۔ اس سے تو حضرت کی اعلیٰ درجہ کی حس اور فہم و ادراک کا پتہ چلتا ہے ہمیں تو یہی روک ٹوک مرغوب ہے ؎</p>
<p>نشود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت</p>
<p>سرخادماں سلامت کہ تو خنجر آزمائی</p>
<p>اور جن کو یہ پسند نہیں وہ اس پر عمل کریں ؎</p>
<p>ہاں وہ نہیں وفا پرست جائو وہ بیوفا سہی</p>
<p>جن کو ہوجان و دل عزیز انکی گلی میں جائیں کیوں</p>
<p>سرمد رحمۃ اﷲ علیہ نے خوب فیصلہ کیا ہے ؎</p>
<p>سرمد گلہ اختصار می باید کرد</p>
<p>یک کارازیں دوکارمی بایدکرد</p>
<p>یاتن برضائے دوست میباید داد</p>
<p>یاقطع نظر زیارمے باید کرد</p>
<p>ایک مرتبہ احقر حاضر خدمت تھا کہ حضرت کو ایک کار ڈکی ضرورت ہوئی۔ مجلس میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ ڈاکخانے سے میں لادوں حضرت والا نے فرمایا نہیں بھائی سخت گرمی ہے (گرمی کا زمانہ تھا) تکلیف ہوگی۔ لوگ تو مجھے سنگ دل کہتے ہیں۔ مگر مجھے سے کسی کی تکلیف بھی نہیں دیکھی جاتی تحدث بالنعمۃ کے طور پر کہتا ہوں کہ اگر کسی مجمع میں سو آدمی (جامع کہتا ہے لاکھ) جمع کئے جائیں اور اس میں میں بھی موجود ہوں۔ تو انشاء اﷲ مجھ سے زیادہ نرم و رحمدل کوئی بھی نہ نکلے گا۔</p>
<p>آج کل لوگوں میں اتباع کا مادہ بالکل نہیں رہا</p>
<p>فرمایا کہ آجکل لوگوں کے اندر اتباع کا مادہ بالکل نہیں رہا۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ طواف کررہے تھے اسی حال میں آپ نے ایک عورت جذامی کو طواف کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے منع فرمایا کہ لوگوں کو تکلیف نہ دو۔ اس سے بہتر تمہارا گھر بیٹھ جانا ہے کچھ دنوں کے بعد وہ پھر آئی تو لوگوں نے کہا کہ خوش ہو جنہوں نے تجھے طواف سے روکا تھا ان کا انتقال ہوگیا اس عورت نے کہا کہ میں تو یہ سمجھتی تھی کہ وہ زندہ ہیں۔ اس لیے آگئی تھی کہ ان سے معذرت کرونگی۔ لیکن جب وہ زندہ نہیں تو وہ ایسے شخص نہ تھے کہ ان کے سامنے تو ان کے حکم کو مانا جائے اور ان کے بعد نافرمانی کی جائے وہ تو ایسے تھے کہ جیسا ان کا حکم زندگی میں ماننا چاہیے ایسا ہی بعد وفات بھی۔ یہ کہہ کر وہ عورت چلی گئی اور پھر کبھی نہ آئی۔ ایسے ہی حضرت کعب ابن مالکؓ کا قصہ ہے کہ جب ان سے مقاطعہ کیا گیا تو ان کو یہ فکر تھی کہ اگر میں معافی سے پہلے مرگیا تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہؓ کوئی شریک نہ ہونگے اور اگر خدا نہ کرے آپ کا وصال ہوگیا تو مدۃ العمر صحابہ مکالمت نہ کریں گے۔ حضرت کعب ابن مالکؓ کو یہ پختہ خیال تھا۔ کہ صحابہؓ بعد وفات بھی حضور کے حکم کا ایسا ہی اتباع کریں گے جیسا حیات میں ہے اب یہ مذاق کہاں یہ تو لوگوں کے اندر سے مفقود ہی ہوگیا۔ چونکہ کعبؓ ابن مالک سے اجتہادی غلطی ہوئی تھی اور وہ توبہ کرکے اﷲ تعالیٰ کو راضی کرچکے تھے۔ اور جب کوئی ان کو راضی کرلیتا ہے تو وہ سب کو راضی کردیتے ہیں ؎</p>
<p>تو ہم گردن از حکم دا ورپیچ</p>
<p>کہ گردن نہ پیچد زحکم توہیچ</p>
<p>حضور صلی اﷲ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی کہ ہم نے کعب ابن مالکؓ کا قصور معاف کردیا آپ بھی معاف فرمادیجئے (سبحان اﷲ) ؎</p>
<p>اس کے الطاف تو ہیں عام شہیدی سب پر</p>
<p>تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہوتا</p>
<p>روزہ خوروں کے لیے ایک سبق</p>
<p>فرمایا کہ بکثرت بعض کتوں کی نسبت یہ واقعہ سنا ہے کہ ہفتہ میں ایک دن ایسا ہوتا ہے جس میں وہ کتا نہیں کھاتا تھا اس کے بہت سے واقعات ہیں۔ روزہ خوروں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ژژژژژ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F365.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F365.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F365.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F365.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F365.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F365.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/365.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظاتِ حضرت والا ہردوئیؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/364.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/364.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:45:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/364.html</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ) ارشاد فرمایا کہ بعض وقت روشنی ہے علم ہے۔ یقین بھی ہے مگر عمل کی قوت نہیں ہوتی مثلاً کمرے میں روشنی ہے اور الماری میں سیب نظر آرہا ہے اور اس کے باوجود اور نافع ہونے پر یقین بھی ہے ڈاکٹروں نے اس کو کھانے کے لیے حکم بھی دیا ہوا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p> (گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ بعض وقت روشنی ہے علم ہے۔ یقین بھی ہے مگر عمل کی قوت نہیں ہوتی مثلاً کمرے میں روشنی ہے اور الماری میں سیب نظر آرہا ہے اور اس کے باوجود اور نافع ہونے پر یقین بھی ہے ڈاکٹروں نے اس کو کھانے کے لیے حکم بھی دیا ہوا ہے اور دل بھی چاہتا ہے مگر سیب تک اٹھ کر جانے کی قوت نہیں ہوتی۔ پھر ڈاکٹر طاقت کا انجکشن لگاتا ہے اور وٹامن کے کیپسول کھلاتا ہے جب طاقت آجاتی ہے تو خود اٹھ کر الماری تک جاکر سیب کھاتا ہے یہی حال ان اہل علم کا ہے کہ علم کی روشنی بھی ہے۔ یقین بھی ہے۔ مگر عمل کی قوت نہیں ہے اﷲ والوں کی صحبت میں آنے جانے سے کچھ ہی دن میں قوت آنی شروع ہوجاتی ہے اور اعمال میں ترقی شروع ہوجاتی ہے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ بعض وقت سردی لگتی ہے بارش ہورہی ہے سستی محسوس ہورہی ہے کہ ایک پیالی چائے پی لینے کے بعد مزاج بدل جاتا ہے جب ایک پیالی چائے مزاج بدل دیتی ہے تو اﷲ والوں کی صحبت کیا روحانی سستی دور نہیں کرسکتی کیا صالح کی صحبت ایک پیالی چائے سے بھی کم درجہ رکھتی ہے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ ظاہری اعمال کا فساد اس کے دل کے فساد و خرابی پر دلالت کرتا ہے۔ دلیل حدیث یہ ہے اذا فسدت فسدت کلہ جب دل صالح ہوجاتا ہے تو تمام اعضاء صالح ہوجاتے اور جب دل فاسد ہوجاتا تو تمام اعضاء فاسد ہوجاتے ہیں۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ صالحین سے ملنا جلنا جاری رکھے ایک عام غلطی یہ ہورہی ہے کہ اﷲ والوں سے ملنے جلنے اور تھوڑی دی کی ملاقات کو نافع نہیں سمجھا جاتا صرف وعظ اور مجلس میں ملفوظات کے سننے پر نفع کو موقوف سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ صرف ملاقات بھی مفید ہے صالحین کے قلب کا عکس حاضرین کے قلب پر پڑتاہے۔ جو اہل ادراک کو صرف ملاقات سے محسوس ہوجاتا ہے ایک نظر اﷲ والوں کو دیکھنے سے نفع محسوس ہوجاتاہے۔ کسی ہاتھ کو مصافحہ کرنے سے ہاتھوں کی سردی گرمی کا احساس نہ ہو تو یہی کہا جاوے گا ہاتھوں پر فالج ہے۔ بے حس ہے۔ بجلی کی روشنی بجلی کا پنکھا نافع ہے مگر ناطق نہیں ہے رات کی رانی نافع ہے دماغ کو فرحت دیتی ہے مگر بولتی نہیں ہے صالح کی صحبت خاموش بھی نافع ہے ایک مغلوب الغضب نے حضرت تھانویؒ کی خدمت میں اپنا حال لکھا کہ مجھے غصہ جلد آتا ہے اور تیز آتا ہے اور دیر سے جاتا ہے حضرت والا نے جواب لکھا کہ آپ مولوی محمد حسن صاحب (انور بک ڈپو لکھنؤ) کی صحبت میں تھوڑی دیر بیٹھ لیا کریں چند روز یہ جاکر دوکان پر مولوی صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ غصے کی بیماری میں کمی محسوس کرنے لگے تو کیا بات تھی مولانا کے مزاج میں حلم بہت غالب ہے ان کی خاموش صحبت کا اثر ان پر کس طرح ہوا ان کے قلب کا عکس ان کے دل پر پڑنا شروع ہوگیا اور دل کی کیفیت آہستہ آہستہ بدل گئی حالانکہ مولوی صاحب نے کوئی وعظ یا تقریر نہیں کیا تو صحبت صالح کی خاموشی کے باوجود نافع ہوتی ہے۔ اس لیے آپس میں ملنے جلنے کا صالحین سے اہتمام ہونا چاہیے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ نے فرمایا ہے کہ جو بات نامناسب دیکھو تو اگر وہ لوگ دین کے قدردان ہیں تو اس وقت مناسب عنوان سے کہہ دیا جاوے اور اگر وہ ناقدر دان ہیں تو تنہائی میں سمجھا دیا جاوے‘ فتویٰ عالمگیری میں یہ مسئلہ تصریح سے مذکور ہے کہ اگر مخاطب کے قبول کرنے کی پوری امید ہو تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہوجاتا ہے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ میں نے ایک جگہ ظاہر کی اصلاح پر بہت تاکید کیا تو ایک صاحب نے کہا کہ اگر باطن ٹھیک ہو تو ظاہری وضع قطع یعنی داڑھی وغیرہ کے اوپر سختی کی کیا ضرورت ہے میں نے کہا کہ آپ تاجر ہیں آپ اپنی دوکان کا سائن بورڈ الٹ کر لگادیجئے تو کہنے لگے لوگ مجھے پاگل کہیں گے اور دماغی توازن کے خراب ہونے پر دلیل قائم کرلیں گے تو میں نے کہا کہ اس وقت اس سائن بورڈ کا باطن تو ٹھیک ہوگا صرف ظاہر خراب ہوا تو آپ نے کیوں پاگل ہونے اور دماغی توازن کی خرابی کا سرٹیفکیٹ خود ہی دے دیا تو کہنے لگے مولانا اب سمجھ میں بات آگئی بعض وقت مثالوں سے بات خوب سمجھ میں آجاتی ہے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ ہر ملک اپنی سرحد کی حفاظت کرتا ہے اگر ایک گز زمین پر دوسرا پڑوسی ملک قبضہ کرلے تو تمام ملک میں حتیٰ کہ مرکز یعنی دارالخلافہ تک ہلچل مچ جاتی ہے دیکھئے یہاں ظاہر کی حفاظت کا کس قدر اہتمام ہے کار کی ٹائر خراب ہے‘ صرف ظاہر خراب ہے انجن درست ہے کیا کار بے کار نہ ہوجاوے گی ہوائی جہاز کی تمام مشینیں اندر سے بالکل درست ہیں صرف ٹائر خراب ہے کیا وہ بے کار نہیں ہوجاتا ایک ڈاکٹر ہے اعلیٰ درجہ کی ڈگری ہے مگر آنکھ سے اندھا کان سے بہرا زبان سے گونگا ہوگیا اور ہاتھ پر فالج گرگیا تو اس ڈاکٹر کو زندہ ہونے کا سرٹیفکیٹ تو مل سکتا ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ بے کار ہونے کا بھی سرٹیفکیٹ مل جاوے گا بس آج امت کا یہی حال ہے۔ امت نے جب سے ظاہری وضع قطع اور ظاہری اسلامی دوری سے غفلت کی۔ اس کی جو ہیبت غیر مسلمین پر تھی ختم ہوگئی۔ بیت المقدس نکل گیا اور مصر کی کیا حالت ہوئی۔ بیت المقدس جب حاضری ہوئی تو نماز میں مقامی حضرات کی ایک صف بھی پوری نہ تھی۔</p>
<p>وعدۂ غلبہ ہے مومن کے لیے قرآن میں</p>
<p>پھر جو تو غالب نہیں کچھ ہے کسر ایمان میں</p>
<p>کنتم خیر امۃ الخ یہ بہترین امت تھی جو تمام کائنات کے لیے بھلائی پھیلانے اور برائی سے روکنے کے لئے پیدا کی گئی تھی لیکن وہی امت آج خود ہی جرائم کی عادی ہورہی ہے۔</p>
<p>تو نہیں ہے اس جہاں میں منہ چھپانے کیلئے</p>
<p>تو نمونہ بن کے آیا ہے زمانے کیلئے</p>
<p>تو نہیں ہے وقت غفلت میں گنوانے کیلئے</p>
<p>تو ہے دنیا بھر کے سوتوں کو جگانے کیلئے</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ بے پردگی کے مفاسد کو اہل فتاویٰ سے پوچھئے ایک عورت نے خط لکھا کہ میری بہن بے پردہ آتی جاتی تھی میرے شوہر کا دل اس پر آگیا ہے مجھے بھنگن کی طرح ذلیل رکھتا ہے کوئی تعویذ دے دیجئے۔ بعض لوگ دل صاف اور نظر پاک یا نظر صاف دل پاک کا بہانہ کرتے ہیں ان سے پوچھتا ہوں کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا دل اور ان کی نظر کے بارے میں کیا خیال ہے کہنے لگے کہ ارے صاحب کیا کہنا ہے ان کے دل تو پاک اور نظر بھی پاک تھی میں نے کہا پھر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو کیوں حکم دیا کہ اے علیؓ پہلی اچانک نظر معاف ہے۔ مگر خبردار دوسری نظر مت ڈالنا پھر میں نے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کی نظر اور آپ لوگوں کا دل حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے زیادہ صاف اور پاک ہے۔</p>
<p>دیکھئے اگر بجلی کا تار ننگا ہو اور پاور ہائوس سے اس وقت بجلی نہ آرہی ہو تو بھی اس کو عقلمند نہیں چھوتے اور کہتے ہیں کہ ارے بھائی پاور ہائوس سے بجلی آنے میں دیر تھوڑا ہی لگتی ہے بس یہی حال نظر کا ہے ابھی پاک ہے مگر اسی نامحرم سے جس سے نظر ابھی پاک ہے ذرا تنہائی ہوئی تو ناپاک ہونے میں ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں لگتی۔ جنہوں نے اپنے نفس پر بھروسہ کیا عمر بھر کا تقویٰ اور دین ذرا سی دیر میں غارت ہوگیا۔ اسی کو حضرت خواجہ صاحبؒ نے فرمایا ؎</p>
<p>نفس کا اژدھا دلا دیکھ ابھی مرا نہیں</p>
<p>غافل ادھر ہوا نہیں اس نے ادھر ڈسا نہیں</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ صرف اخلاص قبول نہیں اگر شریعت اور سنت کے مطابق وہ عمل نہ ہو اس لیے قانون کا معلوم کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص اﷲ تعالیٰ کی محبت میں نماز عصر کے بعد تنہائی میں گھر کے اندر ۲۰؍ رکعت نفل پڑھتا ہے اور یہ سمجھ رہا ہے کہ میں خدا سے قریب ہورہا ہوں لیکن کیا اس کا یہ اخلاص قبول ہوگا اور کیا اس کو قرب ملے گا؟ کیونکہ عصر کے بعد نفل پڑھنا جائز نہیں۔ پس اس صورت میں اخلاص تو ہے مگر مقبول نہیں کیونکہ اخلاص کے ساتھ صدق شرط ہے یعنی قانون کے مطابق ہونا ضروری ہے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ نے تقویٰ کا حکم دیا اور اس کو آسانی سے حاصل کرنے کی تدبیر یہ فرمائی کہ صادقین کی صحبت میں رہو۔ صادقین کا مفہوم کیا ہے اس کی تفسیر کاملین و مشایخ یعنی بزرگان دین سے ہمارے اکابر کرتے ہیں لیکن الحمدﷲ تلاوت کرتے ہوئے ایک دن ایک علم عظیم عطا ہوا کہ صادقین اور متقین دونوں ایک ہی ہیں یہ عنوان تنوع کا نفع دیتے ہیں مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں اور یہ بات بالکل واضح بھی ہے کہ تقویٰ کہاں سے ملے گا تقویٰ والوں سے ملے گا کپڑا کپڑے والوں سے‘ پھل پھل والوں سے‘ بس تقویٰ بھی تقویٰ والوں سے ملے گا۔ وہ آیت جس کی برکت سے یہ مفہوم سمجھ میں آیا۔ یہ ہے لیس البر ان تولو وجوہکم قبل المشرق والمغرب سے شروع کریں اور چند آیات کے بعد ہی ارشاد ہے اولئک الذی صدقوا و اولئک ہم المتقون (پارہ۲؍ رکوع۵)</p>
<p>اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے صادقین ہی کو متقین فرمایا ہے۔ (جس کا ترجمہ یہ ہے حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کچھ سارا کمال اسی میں نہیں ہے کہ تم اپنا منہ مشرق کو کرلو یا مغرب کو لیکن کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ تعالیٰ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتب پر اور پیغمبروں پر اور مال دیتا ہو اﷲتعالیٰ کی محبت میں رشتہ داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردن چھڑانے میں اور نماز کی پابندی رکھتا ہو اور زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہو اور جو اشخاص اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہوں جب عہد کرلیں اور وہ لوگ جو مستقل رہنے والے ہوں تنگدستی میں اور بیماری میں اور قتال میں یہ لوگ ہیں جو سچے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو متقین ہیں۔ جامع)</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F364.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F364.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F364.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F364.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F364.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F364.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/364.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/363.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/363.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:45:12 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/363.html</guid>
		<description><![CDATA[مرتبہ: سید عشرت جمیل میر {گذشتہ سے پیوستہ} عُجب کا نہایت موثر علاج غرض ظاہری و باطنی گناہوں سے بچنے کی ہر وقت فکر رہنی چاہیے۔ بعض دفعہ آدمی ظاہری گناہوں سے بچتا ہے۔ لیکن باطنی گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے مثلاً چندہ اور اہتمام کا کام تو دیانت سے کیا مخلوق میں واہ واہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مرتبہ: سید عشرت جمیل میر<br />
{گذشتہ سے پیوستہ}</p>
<p>عُجب کا نہایت موثر علاج</p>
<p>غرض ظاہری و باطنی گناہوں سے بچنے کی ہر وقت فکر رہنی چاہیے۔ بعض دفعہ آدمی ظاہری گناہوں سے بچتا ہے۔ لیکن باطنی گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے مثلاً چندہ اور اہتمام کا کام تو دیانت سے کیا مخلوق میں واہ واہ ہوگئی اور عجب پیدا ہوگیا کہ واقعی میں بڑا اچھا کام کرتا ہوں میں بھی کچھ ہوں۔ بس سمجھ لو کہ کام خراب ہوگیا۔ جب آدمی اپنے آپ کو اچھا سمجھتا ہے تو اﷲ کی نظر میں برا ہوتا ہے۔ اس لیے جب مخلوق تعریف کرے یا دل تعریف کرے تو سالک کو کیا کرنا چاہیے؟ دشمن خارجی ہو یا داخلی دونوں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور داخلی اور خارجی دونوں دفاع مضبوط رکھناچاہیے۔ جب دل تعریف کرے تو داخلی دفاع کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت یہ سوچنا چاہیے کہ میں پیشاب پاخانے سے بدتر ہوں، مجھ سے اچھا وہ کتا ہوگا بلکہ پاخانے کا کنستر مجھ سے اچھا ہوگا اگر میرا خاتمہ خراب ہوگیا۔ کیونکہ اس غلاظت سے حساب کتاب نہیں ہوگا۔ جب تک خاتمہ بالخیر نہیں ہوجاتا اس وقت تک اپنے آپ کو کیسے اچھا سمجھ لوں کیوں کہ خاتمہ پر ہی اچھا یا برا ہونا منحصر ہے اور مجھے ابھی اپنے خاتمہ کا علم نہیں کہ کیا مقدر ہے۔ ہاں جس دن خاتمہ صحیح ہوجائے گا اس دن سمجھ لوں گا کہ میں اچھا تھا اگر آج اپنے آپ کو اچھا سمجھ لوں اور خدانخواستہ خاتمہ خراب ہوجائے تو کیا میں حقیقت میں اچھا ہوں گا اور کیا یہ اپنے آپ کو اچھا سمجھنا مجھے اﷲ کی نظر میں اچھا کرے گا۔ اس لئے جب تک خاتمہ بالخیر نہیں ہوجاتا اس وقت تک میں پیشاب پاخانہ سے کتے اور سور سے بدتر ہوں۔ اسی طرح جب مخلوق تعریف کرے تو گویا خارجی دشمن حملہ آور ہوا ہے۔ اس لیے خارجی دفاع کو مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اپنے اﷲ سے یوں کہو کہ اے اﷲ آپ کی ستاری ہے کہ آپ نے میرے عیوب کو مخلوق سے چھپا دیا۔ اگر ان عیوب میں سے کسی ایک عیب کی آپ پردہ دری فرمادیں تو لوگ مجھ سے بات کرنا بھی پسند نہ کریں۔ میرے اندر تو ہزاروں عیوب ہیں یہ آپ کا کرم ہے کہ آپ نے لوگوں سے ان کو چھپادیا۔ اے اﷲ بھلائیاں آپ کو زیبا ہیں برائیاں ہم کو لائق ہیں۔ جس طرح پیٹ کے اندر پاخانہ چھپا ہوا ہے اگر پیٹ میں کوئی سوراخ ہوجائے تو لاکھ عطر لگائوں لوگ تعفن سے قریب نہ پھٹکیں آپ نے نیکی کا یہ تھوڑا سا عطر لگادیا اور میرے عیوب کے پاخانہ کو جو میرے اندر موجود ہے چھپا دیا۔ ہر بیماری کا علاج اپنے اﷲ سے مشغول ہوجانا ہے۔ شیطان نے تو تمہارے کان میں پھونک ماری تھی دشمنی سے کہ اﷲ سے دور ہوجائے وہ دشمنی ذریعۂ قرب بن گئی پیر کے راستہ بتانے سے۔ کیونکہ اگر دل کی تعریف کرنے سے یا مخلوق کی تعریف سے خوش ہو کر تم اپنے آپ کو اچھا سمجھ لیتے تو شیطان کامیاب ہوجاتا لیکن تم نے اپنے آپ کو اور حقیر کرلیا اور اﷲ سے مشغول ہوگئے۔ شیطان نے جو دشمنی کرنی چاہی تھی وہ ذریعۂ قرب ہوگئی۔</p>
<p>اﷲ والے کسی کی تعریف سے متاثر نہیں ہوتے اسی لیے انہیں قطب کہتے ہیں۔ قطب ستارہ اپنی جگہ سے ہلتا نہیں۔ نہ مخلوق کی تعریف ان پر اثر انداز ہوتی ہے نہ برائی۔ مدح و ذم ان کے لیے برابر ہوتی ہے۔ حضرت جنید بغدادی اپنے مریدوں کے ساتھ ایک بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک بڑھیا نے انہیں مکار کہا۔ حضرت جنید بغدادی نے فرمایا کہ صرف اس بڑھیا نے جنید کو صحیح پہچانا ہے۔ حضرت حاجی امداد اﷲ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ امداداﷲ پر اﷲ کی ستاری ہے ورنہ یہ علماء مجھ سے بیعت ہوسکتے تھے؟ اﷲ والوں کی نظر اپنے کمالات پر نہیں ہوتی اپنے عیوب پر ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو دنیا کی ہر شے سے حقیر سمجھتے ہیں۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں ؎</p>
<p>ببانگ دھل ہولم از دور بود</p>
<p>بغیب اندرم عیب مستور بود</p>
<p>میرے ڈھول کی آواز سے میرا رعب و ہیبت دور دور پہنچ گیا ہے لیکن میرے اندر کا جو پول نظر نہیں آرہا اس کی بدولت میرا عیب پوشیدہ ہوگیا ہے۔ ڈھول کے اندر پول ہوتا ہے۔ میرا رعب و ہیبت مثل ڈھول کی آواز کے ہے کہ آواز تو دور دور جارہی ہے لیکن اندر سے خالی ہے عیب دار ہے۔ کیونکہ وہ نظر نہیں آرہا ہے اس لئے عیب پوشیدہ ہوگیا۔</p>
<p>۳؍شعبان المعظم ۱۳۸۹؁ھ، مطابق ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۶۹؁ء</p>
<p>گناہگاروں کے لیے طلوعِ آفتابِ امید</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ گناہوں کا استحضار اپنی فنائیت و بے مائیگی کی نیت سے تو جائز اور مستحسن ہے کہ بندے کی نگاہ پھر اپنے عمل پر نہیں رہتی۔ اپنی پچھلی زندگی کے اعمال دیکھ کر اپنے دامن کو خالی پاتا ہے تو اس کی نگاہ اﷲ کی رحمت پر رہتی ہے کہ میں تو کسی قابل نہیں میاں کی رحمت بڑی ہے، اپنے عمل کے اعتبار سے تو میں مستحق عذاب ہوں لیکن حق تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھتا ہوں کہ اپنی قدرت کاملہ قاہرہ سے وہ ایک منٹ میں نہ جانے کیا سے کیا بناسکتے ہیں۔ ان کی عطا کسی استعداد و قابلیت کسی قاعدہ قانون کی پابند نہیں ہے۔ مطلع ابر آلود ہوتا ہے ایک ہوا چلتی ہے اور گھنگھور گھٹائوں کو اڑا کر لے جاتی ہے۔ اسی طرح اگرچہ ہمارے قلب کا افق گناہ کی گھٹائوں سے گھر گیا، نور کی کہیں گنجائش نہیں رہی لیکن اپنی گھٹائوں کو مت دیکھو ان کی نسیم کرم پر نظر رکھو، اس کے سامنے یہ گناہ کیا چیز ہیں۔ تو اپنی بے مائیگی اور فنائیت کے اعتبار سے اپنی سابقہ زندگی کے گناہوں کو یاد کرنا یہ تو پسندیدہ ہے، اﷲ کو یہ بات پسند ہے کہ بندہ مٹا ہوا رہے۔ ایسا شخص کہ جس نے کبھی کوئی گناہ تو نہیں کیا لیکن اپنے اعمال پر نظر ہوگئی کہ میں ایسا ہوں، میرے ان اعمالِ حسنہ سے مجھ کو بڑا قرب حاصل ہوگیا ہوگا۔ سمجھ لو شیطان نے اس کا راستہ ماردیا، ایسا شخص ہرگز مقرب نہیں ہوسکتا جو قرب حاصل تھا وہ بھی ختم ہوگیا۔اس سے تو وہ گنہگار اچھا ہے جو اپنے گناہوں کی وجہ سے نادم رہتا ہے۔ ندامت اور شرمندگی اﷲ کو پسند ہے لیکن کبھی کبھی شیطان کان میں پھونک دیتا ہے کہ تم نے تو ساری زندگی گناہوں میں کاٹ دی حتیٰ کہ اب گناہوں کی استعداد بھی نہ رہی اور ولایت موقوف ہے استعداد ہوتے ہوئے تقاضے پر عمل نہ کرنا، اب تمہیں کیا قرب نصیب ہوگا، ولایت کا اعلیٰ مقام اب تمہیں نصیب نہیں ہوسکتا۔ جب دل میں یہ خیالات آئیں تو سمجھ لو کہ یہ شیطان کا زبردست دھوکہ ہے۔ وہ مایوس کرنا چاہتا ہے کہ اسے اﷲ کا قرب حاصل نہ ہوسکے۔ گناہ کا ایک تعلق تو بندے کی ذات سے ہے کہ واقعی ہم اپنے عمل کے اعتبار سے کسی قرب خاص کے مستحق نہیں لیکن دوسرا تعلق اﷲ کی ذات سے ہے کہ وہ ہمارے گناہوں سے بھی عظیم ہیں ایک منٹ میں گناہوں کو دھوکر تاج خلافت پہناسکتے ہیں اس لحاظ سے ان کی رحمت سے ہرگز ہرگز کسی حال میں نا امید نہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>اے عظیم از ما گناہان عظیم</p>
<p>تو توانی عفو کردن در حریم</p>
<p>یہ ہے معرفت۔ اصل میں ہم دنیا کے اور جسم کے معاملات پر ان کی رحمت کو قیاس کرتے ہیں اس وجہ سے ناامیدی ہوجاتی ہے جیسے دنیا میں کسی مریض کے پھیپھڑوں میں سوراخ ہوتا ہے اور ناقابل علاج ہوجاتا ہے تو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ ناقابل علاج ہوگیا، اب اسے کسی علاج سے فائدہ نہ ہوگا کیونکہ اس میں اب استعداد صحت ختم ہوچکی ہے لیکن روح کے معاملات کو کبھی اس مثال پر قیاس نہ کرنا کیونکہ روح کا معاملہ اﷲ کے ساتھ ہے اور اﷲ تعالیٰ کی الوہیت کیا ہماری استعداد سے چھوٹی ہے یا ہماری استعداد کی پابند ہے یا اﷲ تعالیٰ مجبور ہیں کہ فلاں بندے نے کیونکہ گناہ کرکے خود کو تباہ کرلیا اس لیے نعوذ باﷲ اب ہم اس کو اپنا بنانے پر قادر نہیں لہٰذا سند اعمال صالحہ یعنی سند استعداد ولایت دکھائو تو ہم اپنا بنائیں گے۔ ارے خوب یاد رکھو کہ اﷲ کی رحمت کسی سند و استعداد کی پابند نہیں، جب وہ فضل فرماتے ہیں تو ایک منٹ میں بغیر سند و استعداد کے اپنا بنالیتے ہیں، بندہ جس قابل نہیں ہوتا اس قابل بنادیتے ہیں۔ وہ قابلیت کے پابند نہیں ہیں، نجاست پر جب ان کے آفتاب کرم کی شعاعیں پڑتی ہیں تو آفتاب کی گرمی سے اس کا ایک حصہ تو زمین میں جذب ہوجاتا ہے اور ایک حصہ خشک ہوجاتا ہے۔ اسی نجاست کے ذرات برسات میں کھاد ہوجاتے ہیں اور وہ حصۂ زمین سبزہ زار ہوجاتا ہے۔ اور خشک حصہ تنور میں جل کر نور بن جاتا ہے۔ بولئے نجاست میں کیا خوبی و استعداد تھی؟ ان کی رحمت نجاست کو سبزہ زار بنادیتی ہے نور بنادیتی ہے۔ سبزۂ و نور بننے سے پہلے اگر نجاست یوں کہے کہ میں تو کسی قابل نہیں کیونکہ میرے اندر تو سبزہ زار بننے کی صلاحیت ہی نہیں تو یہ اس کی حماقت اور معرفت کی کمی ہے۔ ارے تونے اپنی استعداد کو دیکھا اﷲ کی رحمت کو نہ دیکھا جو خالق قابلیت و استعداد ہے۔ تہجد کے وقت حضرت بڑے پیر صاحب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ کو الہام ہوا کہ دو ہزار میل کی دوری پر ایک ابدال کا انتقال ہورہا ہے جائو اس کی نماز جنازہ پڑھانی ہے اور فلاں عیسائی کو جو صلیب ڈالے ہوئے گرجا میں پوجا کررہا ہے کلمہ پڑھا کر کرسی ابدالیت پر بیٹھانا ہے۔ بولئے اس عیسائی میں کیا استعداد تھی، کفرو طغیان میں مبتلا تھا ابھی تو کوئی عمل بھی نہ کیا تھا اور درجہ ابدال کا عطا ہورہا ہے، اتنے شواہد ہیں کہ تاریخ بھری ہوئی ہے۔ حضرت فضیل ابن عیاض ڈاکہ ڈالتے تھے جوانی ڈاکہ زنی قتل و غارت میں گذاری اپنے آپ کو تباہ کرلیا تھا، بڑھاپے میں توبہ کی اور ہمارے سلسلے کے اتنے بڑے ولی اﷲ ہوئے کہ آج سلسلہ ان سے جاری ہوا۔ بولیے کیا کسی استعداد کی وجہ سے انہیں یہ قرب عطا ہوا۔ اﷲ کی رحمت پر نظر رکھو ان کی رحمت سے بڑے سے بڑے درجہ ولایت کی امید رکھو ان کا فضل کسی قاعدہ قانون کا پابند نہیں روتے رہو اور مانگتے رہو ان کا فضل جس کو چاہتا ہے مقام عالیہ عطا کرتا ہے وہ کسی کی استعداد و قابلیت کا پابند نہیں ان کے فضل سے امید رکھو کہ کس وقت نہ جانے کیا سے کیا بنادیں۔</p>
<p>بعض دفعہ تباہ شدہ زندگیوں کو زیادہ قرب نصیب ہوجاتا ہے جیسے ایک ملک میں زلزلہ آیا تھا تو اس ملک کے بادشاہ نے شاہی خزانے کو عام کردیا تھا کہ جس کا مکان تباہ ہوگیا ہو وہ پہلے سے اچھا مکان بنالے، جن کی جھونپڑیاں تھیں ان کے محل بن گئے۔ تو کیا ہمارا اﷲ دنیاوی بادشاہوں سے بھی نعوذ باﷲ کم ہے؟ اگرچہ ہم نے گناہوں کے زلزلوں سے اپنے آپ کو تباہ کرلیا ہے لیکن ہمارا شاہ تو ایسا غنی ہے کہ ہماری عمارت قرب کو پہلے سے کہیں اچھی اور عالی شان تعمیر کرسکتا ہے، وہ پہلے سے زیادہ اور عظیم الشان قرب عطا فرمانے پر قادر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے مایوس نہ ہونا چاہیے چاہے کیسا ہی حال ہو بلکہ توبہ کرکے ولایت کے اعلیٰ ترین مقام کی امید رکھنا چاہیے۔</p>
<p>نظر کی حفاظت شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ جو اپنی آنکھوں کو ننگا کرتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کی شرمگاہ کو ننگا کردیتے ہیں اور جو اپنی آنکھ پر اﷲ کے حکم کا پردہ ڈالتا ہے اس کی برکت سے اس کی شرمگاہ پر بھی پردہ ڈالے رکھتے ہیں۔ اس لیے ارشاد ہے قل للمومنین یغضوا من ابصارہم و یحفظوا فروجہم اے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی آنکھوں کو نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ معلوم ہوا کہ اگر آنکھیں نیچی رکھی جائیں گی تو شرمگاہ بھی محفوظ رہے گی ورنہ بس بے حیائی کی پہلی سیڑھی بدنظری ہے، یہ وہ لفٹ ہے کہ اگر اس میں سوار ہوگئے تو بس پھر آخری منزل (بدفعلی) پر لے جاکر چھوڑے گا کیونکہ جب آدمی لفٹ میں بیٹھ جاتا ہے اور اس کا بٹن دبادیتا ہے تو اب درمیان میں نہیں رک سکتا منزل پر ہی جاکر لفٹ رکتی ہے۔ یہ وہ لفٹ ہے کہ اس کا چلانے والا شیطان ہے لہٰذا اس میں سوار ہی نہ ہو۔ اﷲ تعالیٰ نے آنکھوں میں روشنی دی ہے تو اوپر چلمن بھی بنادی ہے اس لیے جب کوئی خوبصورت نظر آئے تو یہ چلمن (یعنی پپوٹے) ڈال دو، شعاع نظر کو آگے نہ بڑھنے دو۔ جو ایسا کرے گا انشاء اﷲ کبھی شرمگاہ کو ننگا کرکے ذلیل نہ ہوگا۔ اگرچہ اس میں مجاہدہ کرنا پڑے گا تقاضا ہوگا تکلیف ہوگی لیکن سب کچھ جھیلنا چاہیے۔ اس وقت یہ سوچنا چاہیے کہ جس صورت پر آج جان و مال قربان کرنا بلکہ سلطنت قربان کرنا آسان معلوم ہوتا ہے کل یہی صورت ایسی ہوجائے گی کہ اس کی طرف نظر کرنے کو جی نہ چاہے گا، ایک پیالی چائے پلانے کو دل نہ چاہے گا۔ کوئی لڑکا ہے کہ آج جی چاہ رہا ہے کہ ا س پر جان و مال قربان کردو لیکن کل جب اس کے ڈاڑھی نکل آئے گی تو اس کو دیکھ کر بھاگوگے۔ یہ شیطان و نفس نقد نفع دکھاتے ہیں اور صورت اتنی حسین نہیں ہوتی جتنی وہ دکھاتے ہیں حالانکہ ہر چیز کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھنا چاہیے ؎</p>
<p>گر بہ آرد رو بہ تو آں رو قفا ست</p>
<p>زادۂ دنیا چو دنیا بے وفا ست</p>
<p>شیطان اگر کسی کی صورت کو اچھا دکھائے تو اسے گدی سمجھو یعنی جس چیز کو وہ اچھا دکھائے اس کو اس کا عکس یعنی برا سمجھو۔ وہ آغاز میں شہوت کو پاک محبت کرکے دکھاتا ہے کہ تمہیں ا اس سے صرف پاک محبت ہے کوئی نفسانی تعلق نہیں ہے شہوت کو وفا دکھاتا ہے تو سمجھ لو کہ دنیازادہ دنیا کی طرح بے وفا ہے۔ حرام تعلق ایک دن نفرت میں تبدیل ہوجاتا ہے اور آپس میں ہمیشہ کے لیے عداوت ہوجاتی ہے۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F363.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F363.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F363.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F363.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F363.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F363.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/363.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>قرآن پاک کی نظر میں بےوقوف کون ہیں؟</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/361.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/361.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:44:28 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[محراب و منبر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=361</guid>
		<description><![CDATA[عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم {آخری قسط} صحابہ پر رحمت کا نزول اگرچہ دین پر چلنے میں صحابہ کو تھوڑی سی تکلیف تو ہوئی لیکن عین اس وقت بھی رحمت کی بارش ہورہی تھی، جب جنگ احد میں کفار جیت کر واپس چلے گئے صحابہ کے دلوں پر غم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم</p>
<p>{آخری قسط}</p>
<p>صحابہ پر رحمت کا نزول</p>
<p>اگرچہ دین پر چلنے میں صحابہ کو تھوڑی سی تکلیف تو ہوئی لیکن عین اس وقت بھی رحمت کی بارش ہورہی تھی، جب جنگ احد میں کفار جیت کر واپس چلے گئے صحابہ کے دلوں پر غم تھا تو ان کے دلوں کو سکون دینے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے چین کی ہوا بھیج دی، اَمَنَۃً نُعَاسًا اس ہوا سے صحابہ کا غم غلط ہوگیا۔ صحابہ فرماتے ہیں کہ اﷲ نے ہم پر اونگھ بھیج دی اور جب وہ اونگھ آئی کَانَ یَسْقُطُ سُیُوْفُنَا ہماری تلواریں ہمارے ہاتھوں سے گری جارہی تھیں جنہیں ہم بار بار اٹھاتے تھے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اپنے صحابہ کی پریشانیوں پر مجھ کو رحم آیا، میں نے ایک ہوا بھیجی جس سے سوائے سید الانبیاء صلی اﷲ علہ وسلم کے سارے صحابہ پر اونگھ طاری ہوگئی جس کی وجہ سے ان کی تھکاوٹ و پریشانی دور ہوگئی۔ جنگ بدر میں جب صحابہ پر اونگھ بھیجی گئی تو اس وقت بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بھرپور عبادت کرتے رہے کیونکہ نبیوں کو اونگھ کی ضرورت نہیں ہوتی۔</p>
<p>شکست کے اسرار</p>
<p>جنگ بدر میں اﷲ کی کھلی مدد و نصرت کے بعد جب جنگ احد میں دشمنوں کو کچھ کامیابی ہوئی تو منافقین کے دل میں شبہات پیدا ہونے لگے کہ اگر ہم مقبول ہیں تو یہ مصیبت کیوں آگئی؟ ہم کو یہ تھوڑی دیر کی شکست کیوں ہوئی؟ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم دن بدلتے رہتے ہیں:</p>
<p>اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ فَرْخٌ مِثْلُہٗ وَ تِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اﷲُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَآئَ وَاﷲُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ o وَلِیُمَحِّصَ اﷲُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَمْحَقَ الْکٰفِرِیْنَ o (سورہ اٰل عمران۔ آیت:۱۴۲۔۱۴۱)</p>
<p>اگر تمہیں صدمہ پہنچا ہے تو پہلے جنگ بدر میں کافروں کو بھی شکست کا زخم پہنچ چکا ہے وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ اور ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں تاکہ ظاہری طور پر ثابت ہوجائے کہ کون مخلص اور کون منافق ہے کیونکہ اگر مسلمانوں کو ہمیشہ فتح ہوتی تو ہر منافق کہتا کہ چلو میاں وہاں مالِ غنیمت سمیٹ لو، وہاں تو شکست کا کوئی سوال ہی نہیں چنانچہ غیر مخلص بھی اسلام میں داخل ہوجاتے لہٰذا اﷲ تعالیٰ لوگوں کے درمیان دنوں کو بدل دیتے ہیںکبھی فتح دے دی اور کبھی شکست تاکہ مخلص مومن کا پتہ چل جائے۔ مؤمن کے اخلاص کا پتہ جب چلتا ہے جب ابتلاء و مصیبت آئے کیونکہ مومن مصیبت میں بھی اﷲ کو نہیں چھوڑتا۔ اسی لیے اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ دن اس لیے بدلے وَلِیَعْلَمَ اﷲُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تاکہ اﷲ تعالیٰ ایمان والوں کے ایمان کو ظاہری طور پر بھی دکھادیں کہ یہ ہیں اصلی مومن جو ہمارے ہیں اور ہمارے ہی رہتے ہیں، یہ منافقین نہیں ہیں اور دوسری وجہ اس شکست کی یہ ہے کہ وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَآئَ ہمیں تم میں سے بہت سے لوگوں کو شہادت بھی دینی تھی، چنانچہ جنگ احد میں ستر صحابہ شہید ہوئے۔ اگر صحابہ شہید نہ ہوتے تو کفار قرآن پر اعتراض کرتے کہ اﷲ تعالیٰ نے انعام یافتہ بندوں میں انبیائ، صدیقین، شہداء اور صالحین کا ذکر کیا ہے تو شہداء کا طبقہ کہاں ہے لہٰذا اﷲ تعالیٰ نے صحابہ کو شہادت سے سرفراز فرمایا تاکہ قرآن پاک کی صداقت پر حرف نہ آسکے۔ آگے اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ظلم کرنے والوں سے یعنی کافروں اور مشرکوں سے محبت نہیں فرماتے لہٰذا یہ گمان نہ کیا جائے کہ شاید محبوب ہونے کی وجہ سے ان کو غالب کردیا ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ اس غم اور پریشانی سے ایمان والوں کے دلوں کو پاک صاف کرنا تھا وَلِیُمَحِّصَ اﷲُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تاکہ اﷲ ایمان والوں کو گناہوں کے میل کچیل سے صاف کردے وَیَمْحَقَ الْکٰفِرِیْنَ اور کافروں کو مٹادے کیونکہ ایک بار غالب آجانے سے ان کی جرأت بڑھے گی اور پھر مقابلہ میں آئیں گے اور ہلاک ہوں گے۔</p>
<p>اور ایک احسان اﷲ نے یہ فرمایا کہ کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا کہ فتح کی ہوئی جنگ چھوڑ کر بھاگ گئے اور جب بہت آگے بڑھ گئے تب سوچا کہ ارے بھئی بڑی غلطی ہوگئی، ہم لوگ کیوں آگئے، اگر ہم مدینے پر قبضہ کرلیتے تو ہمارا جھنڈا لہرا جاتا، اب پچھتارہے ہیں۔ تو اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم واپس کیسے آسکتے تھے جبکہ ہم نے تمہارے دلوں میں ہیبت اور رعب ڈال دیا تھا۔</p>
<p>اﷲ تعالیٰ نے صحابہ کی عظمتوں کی حفاظت کے لیے اتنے فضائل اس لیے بیان کئے تاکہ کل کو ایسے نالائق اہل قلم جو قابلِ سر قلم ہیں صحابہ کی ناموس کو نقصان نہ پہنچاسکیں۔ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ تفسیر بیان القرآن میں لکھتے ہیں کہ بعض گستاخانِ قلم اور بغض صحابہ رکھنے والے بدبختوں نے صحابہ کی شان میں بدتمیزیاں کی ہیں لیکن اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَلَقَدْ عَفَا اﷲُ عَنْہُمْ ہم نے صحابہ کی چوک اور خطا کو معاف کردیا۔</p>
<p>صحابہ کے دنیا کی لالچ سے پاک ہونے کا ثبوت</p>
<p>اور حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے فرمایا کہ صحابہ جنگ ختم ہونے کے بعد اس ٹیلہ پر سے جہاں انہیں سرور عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مقرر کیا تھا دنیا کی لالچ میں نہیں اترے تھے اس لیے کہ دنیا کی لالچ تو جب ثابت ہوتی جب مالِ غنیمت ان ہی کو ملتا جو یہ مال سمیٹتے۔ مالِ غنیمت کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے چاہے کوئی بھی اٹھائے سب کو برابر برابر حصہ ملے گا لہٰذا یہ کہنا کہ وہ مال کے لالچ میں اترے تھے بالکل غلط ہے۔ حکیم الامت بیان القرآن کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ صحابہ نے وہ مقام اس لیے چھوڑا تھا کہ اب جنگ فتح ہوگئی ہے لہٰذا اب ہمارے لیے ٹیلہ پر کھڑے رہنے کا حکم نہیں رہا جبکہ مالِ غنیمت کی حفاظت کرنا اور اس کو اٹھانا بھی عبادت ہے لہٰذا انہیں مالِ غنیمت سمیٹنے کا لالچ نہیں ہوسکتا کیونکہ انہیں یہ مسئلہ معلوم تھا کہ مال غنیمت جو چاہے اٹھائے مگر سب میں برابر تقسیم ہوگا۔ تو جب انسان کو معلوم ہو کہ مال لوٹنے میں چاہے جتنی محنت کرو لیکن ملے گا برابر تو کون آدمی لالچ کرے گا؟ یہ بہت احمق اور پاگل قسم کے لوگ ہیں جو صحابہ کے بارے میں گستاخانہ باتیں لکھتے ہیں، ان کو قرآن کے تفقہ کی ہوا بھی نہیں لگی، یہ بے علم لوگ ہیں۔</p>
<p>ناقدین صحابہ پر بے وقوفی کی قرآنی مُہر</p>
<p>اسی لیے اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ صحابہ پر تنقید کرنے والے، جنہوں نے میرے صحابہ کو بے وقوف کہا اَنُؤْمِنُ کَمَا اٰمَنَ السُّفَہَآئُ کیا ہم ایسا ایمان لائیں جیسا کہ یہ بے وقوف لوگ یعنی (معاذ اﷲ) صحابہ ایمان لائے، تو ان لوگوں کے بارے میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے صحابہ کو جو بے وقوف کہتے ہیں یہ خود سفیہ یعنی بے وقوف ہیں، سفیہ سفاہت سے ہے اور اس کی جمع سفہاء ہے اور سفاہت کے معنی ہیں خِفَّۃُ الْعَقْلِ وَالْجَہْلُ بِالْاُمُوْرِ جس کی عقل ہلکی ہو اور جو حقائق امور سے ناواقف ہو۔ تو اﷲ تعالیٰ نے صحابہ پر اعتراض کرنے والوں کو دو خطاب دیئے۔ نمبر ۱۔ خِفَّۃُ الْعَقْلِ ہلکی عقل والے نمبر۲۔ وَالْجَہْلُ بِالْاُمُوْرِ اور حقائق امور سے ناواقف۔</p>
<p>سفاہت کی یہ تفسیر علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ نے روح المعانی میں بیان فرمائی ہے کہ یہ خفیف العقل ہیں، عقل کے ہلکے ہیں اس لیے میرے صحابہ پر اعتراض و تنقید کررہے ہیں اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو بے وقوف کہہ رہے ہیں۔ بتائیے! اگر کوئی بندہ اپنے مالک کو خوش کرے تو وہ بے وقوف ہے؟ اگر کوئی بیٹا اپنے باپ کو راضی کرے تو وہ بے وقوف ٹھہرے گا؟ بے وقوف تو تم ہو اَلاَ اِنَّہُمْ ہُمُ السُّفَہَآئُ یہ خود پاگل اور بے وقوف ہیں وَلٰکِنْ لَا یَعْلَمُوْنَ لیکن اس کا علم نہیں رکھتے یہ بے علم لوگ ہیں، اﷲ تعالیٰ نے صحابہ پر تنقید کرنے والوں کے علم پر لا داخل کردی کہ یہ بے علم ہیں لہٰذا ہر وہ شخص اس آیت کے ذیل میں شامل ہے جو صحابہ پر تنقید کرتا ہے یا صحابہ پر تنقید کرنے والے کو مولانا کہتا ہے، ایسے لوگوں کو مولانا کہنا جائزنہیں ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ اس کے علم پر لا داخل کررہے ہیں، یہاں لا کے معنی نہیں کے ہیں۔ یہ وہ لا نہیں ہے جو ایک ہندوستانی نے ایک عرب سے کہا تھا کہ یہ چیز ہے؟ عرب نے کہا لایعنی یہ نہیں ہے، تو اس نے سوچا پیسہ مانگ رہا ہے کیونکہ وہ دہلی کا تھا۔ عربی کا لااور ہے اور اردو کا لا اور ہے۔</p>
<p>لفظ حلیم سے عجیب استدلال</p>
<p>تو اﷲ تعالیٰ نے وَلَقَدْ عَفَا اﷲ عَنْہُمْ نازل فرمایا کہ ہم نے صحابہ کی اس چوک اور خطا کو معاف کردیا، ان کی خطائے اجتہادی کو معاف کردیا۔ اِنَّ اﷲَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ اﷲ تعالیٰ غفور ہیں یعنی بڑے مغفرت کرنے والے ہیں اور حَلِیْمٌ ہیں یعنی بڑے حلموالے ہیں کہ عین صدور خطا کے وقت بھی سزا نہیں دی۔ حضرت تھانویؒ آیت اِنَّ اﷲَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌمیں حلیمسے استدلال فرماتے ہیں کہ جو کچھ تکلیف صحابہ کو پہنچی یہ عتاب و سزا نہیں تھی ورنہ حلیمنازل نہ ہوتا، کیونکہ عتاب کے ساتھ حلم نہیں ہوتا۔ حلیمکے معنی ہیں جو عتاب کو روک لے، قدرت رکھتے ہوئے انتقام نہ لے۔ پس اﷲ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے اس اعتراض کو رفع کردیا کہ یہ شکست معاذ اﷲ عذاب تھی، اس لیے اﷲ تعالیٰ نے حلیم نازل کیا تاکہ معلوم ہو کہ یہ قوت قہریہ نہیں تھی پاداش اصلاحی تھی، صحابہ کی تربیت و اصلاح کے لیے اﷲ نے یہ معاملہ کیا تھا۔</p>
<p>فَاَثَابَکُمْ غَمًّا بِغَمٍّ اﷲ نے ان کو یہ غم اس لیے دیا تھا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو ان کی خطائے اجتہادی سے غم ہو اتھا، اگر اﷲ تعالیٰ یہ غم نہ دیتے تو صحابہ ساری زندگی شرمندہ رہتے، سرور عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے لہٰذا اﷲ تعالیٰ نے تھوڑا سا زخم پہنچا کر ان کا دامن صاف کردیا۔ اس لیے فرمایا وَلَقَدْ عَفَا اﷲُ عَنْہُمْ ہم نے ان کو معاف کردیا۔ حکیم الامت لکھتے ہیں کہ جب خدا نے معاف کردیا تو پھر کسی کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔</p>
<p>اسم اعظم تواب اور رحیم کا ربطہ</p>
<p>قرآن پاک کا ایک ایک لفظ اپنے اندر حکمت و معانی کا دریا رکھتا ہے جیسے یہاں حلیم نازل کرکے اﷲ تعالیٰ نے ظاہر کردیا کہ یہ شکست عذاب نہیں تھی بلکہ اس سے مقصود صحابہ کی تربیت تھی اور جیسے علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ آیت اِنَّ اﷲَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس آیت کا نزول فرقۂ معتزلہ کے رد میں ہوا ہے۔ اگرچہ نزول قرآن کے وقت یہ فرقہ موجود نہیں تھا لیکن اﷲ تعالیٰ کے علم میں تو تھا کہ یہ فرقہ پیدا ہوگا۔ فرقۂ معتزلہ ایک باطل فرقہ ہوا ہے جو کہتا ہے کہ جب بندہ توبہ کرلیتا ہے تو اﷲ تعالیٰ کو مجبوراً معاف کرنا پڑے گا، قانونی طور پر ضابطے سے اﷲ تعالیٰ کو بندے کو معاف کرنا پڑے گا۔ تو علامہ آلوسی السید محمود بغدادی فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے التواب کے ساتھ الرحیم کا لفظ نازل کرکے قیامت تک کے لیے اس فتنہ کا جواب دے دیا کہ میں جو تمہاری توبہ قبول کرتا ہوں وہ ضابطے اور قانون سے نہیں کرتا، شان رحمت سے قبول کرتا ہوں کیونکہ میں رحیم ہوں۔ علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں فِیْہِ رَدُّ عَلٰی فِرْقَۃٍ ضَآلَۃٍ مُعْتَزِلَۃٍ اس آیت میں رد ہے فرقہ ضالہ معتزلۃ کا۔</p>
<p>اسم اعظم عزیز اور غفور کا ربط</p>
<p>اسی طرح قرآن پاک میں اﷲ تعالیٰ نے سورۂ ملک میں وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ نازل فرمایا۔ غفور کے معنی ہیں معاف کردینے والا لیکن اﷲ تعالیٰ نے اس کے ساتھ عزیز کیوں نال کیا۔ عزیز کے معنی ہیں زبردست طاقت والا۔ تو اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں الفاظ ایسے تھوڑے ہی نازل کردیئے، لہٰذا علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ چونکہ مغفرت اس شخص کی معتبر ہوتی ہے جس میں طاقت ہو۔ ایک شخص ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہے، کمزور ہے، بیمار ہے اس کو کسی نے تھپڑ مار دیا، اب وہ کہتا ہے کہ جائو میں نے معاف کردیا، تو تھپڑ مارنے والا کہتا ہے کہ تم میں انتقام کی طاقت ہے ہی نہیں، تم چالیس دن سے ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہو، بستر سے اٹھ نہیں سکتے، مجھ کو دوڑا کر پکڑ نہیں سکتے لہٰذا مجبوراً معاف کردیا، میرے نزدیک تمہاری معافی کی کوئی حیثیت نہیں۔ مفسر عظیم علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے غفور سے پہلے عزیز نازل کردیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ میں زبردست طاقت والا ہوں اس کے باوجود تمہیں بخشتا ہوں لہٰذا میری مغفرت کی قدر کرنا، ناقدری نہ کرنا۔ اس طاقت والے نے اپنی صفتِ مغفرت کی عظمت شان کے لیے عزیز نازل کیا، زبردست طاقت والے نام کو پہلے نازل کیا۔</p>
<p>خیر میں یہ عرض کررہا تھا کہ مولانا اسعد اﷲ صاحب رحمۃ اﷲ علیہ محدث سہارنپوری فرماتے ہیں ؎</p>
<p>گو ہزاروں شغل ہیں دن رات میں</p>
<p>لیکن اسعدؔ آپ سے غافل نہیں</p>
<p>نظر بازی اور حسن پرستی کا بھیانک عذاب</p>
<p>اس کے بعد ایک شعر اور فرمایا جس کا آج کل بڑا مرض پھیلا ہوا ہے، وہ مرض ہے نظر بازی کا، حسن پرستی کا، ہر شخص سوچتا ہے کہ کوئی حسین مل جاتا تو بڑا چین ملتا، بڑا مزہ آتا، بڑے اچھے دن گذرتے حالانکہ اس سے خراب اور بدترین دن نہیں گذریں گے، جو سانس اﷲ کی نافرمانی میں گذرتی ہے وہ دوزخیوں کی زندگی ہے، جس نے دوزخ نہ دیکھی ہو وہ اﷲ کے قہر اور عذاب کو خرید کر دیکھے کہ نافرمان کی زندگی کیسی ہوتی ہے۔ مولانا شاہ محمد احمد صاحب ایک اﷲ والے کا شعر ہے ؎</p>
<p>اف کتنا ہے تاریک گنہگار کا عالم</p>
<p>انوار سے معمور ہے ابرار کا عالم</p>
<p>اور ایسے موقعوں پر اپنا ایک شعر اور یاد آتاہے کہ گنہگاروں کی دنیا بہت بھیانک، بڑی تاریک ہے، بڑی بے چین ہے، پریشانیاں اور ذلتیں ہیں، اﷲ تعالیٰ جس سے ناراض ہوجائے اس کے دل کا گلستان اجڑ جائے گا ؎</p>
<p>جس طرف کو رخ کیا تونے گلستاں ہوگیا</p>
<p>تونے رخ پھیرا جدھر سے وہ بیاباں ہوگیا</p>
<p>جس دل سے اﷲ راضی ہوتا ہے اس کا دل گلستان ہوجاتا ہے اور جس دل سے اﷲ رخ پھیر لے، ناراض ہوجائے اس کا دل جنگل ہوجاتا ہے، ویران ہوجاتا ہے، تباہ و برباد ہوجاتا ہے اور جب دل میں چین نہیں تو تمہارا مرغی فارم، تمہارے کپڑوں کی فیکٹریاں، تمہارے جتنے ائیرکنڈیشن کمرے ہیں ان سب سے کچھ نہیں ہوتا، ائیرکنڈیشن میں بیٹھے ہیں کھال تو ٹھنڈی ہورہی ہے مگر دل عذاب الٰہی سے پگھلتا رہتا ہے۔ ایک بزرگ شاعر فرماتے ہیں ؎</p>
<p>دل گلستاں تھا تو ہر شے سے ٹپکتی تھی بہار</p>
<p>دل بیاباں ہوگیا عالم بیاباں ہوگیا</p>
<p>دوستو! یقین کرلو ہم اﷲ کے بندے ہیں، ہمارا مالک طاقت والا ہے، اس کی ناراضگی میں سانس لینا عذاب و بے چینی کے سوا کچھ نہیں ہے، نفس مردانہ حملے سے مغلوب ہوتا ہے بار بار کہتا ہوں کہ میری اس بات پر یقین کرلو اور نفس کو کچل دو، نفس پر مردانہ حملہ کرو، زنانہ حملہ مت کرو، چوڑیاں مت پہنو۔ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ؎</p>
<p>ہیں تبر بردار مردانہ بزن</p>
<p>چوں علی وار ایں درِ خیبر شکن</p>
<p>اے نفس پرستو! ذرا مردانہ حملہ کرو، زنانہ حملے سے نفس چت نہیں ہوتا، اس سے گناہ نہیں چھوٹتا، لہٰذا مردانہ حملہ کرو اور فرماتے ہیں کہ جیسے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے خیبر کے دروازے کو توڑ دیا تھا تم بھی اپنے نفس کے بابِ خیبر کو توڑ دو، ابھی اگر دنیا ہی کا کوئی کام پڑجائے تو ساری طاقت آجاتی ہے لیکن چونکہ ابھی دل میں اﷲ تعالیٰ کی عظمت نہیں ہے اس لیے طاقت اور ہمت استعمال نہیں کرتے لہٰذا جو طریقہ بتایا جات اہے اس پر عمل کرکے دیکھو لیکن اگر کوئی عمل ہی نہ کرے تو الگ بات ہے۔</p>
<p>دل کو غیر اﷲ سے پاک کرنے کا نسخہ</p>
<p>مشایخ لکھتے ہیں کہ جب بدنظری ہوجائے تو آٹھ رکعات توبہ پڑھو، پانچ روپیہ خیرات کرو، اگر اس سے زیادہ وسعت ہے تو سو روپیہ خیرات کرو، قبر و موت کا مراقبہ کرو اور میدان حشر کو‘ قیامت کے دن کو یاد کرو‘ عطر لگا کر نہادھو کر خوب صاف کپڑے پہن کر لا الٰہ الا اﷲ کی پانچ تسبیح پڑھو‘ پھر دیکھو کہ قلب سے غیر اﷲ کیسے نہیں نکلتا۔</p>
<p>حکیم الامت کی کتاب التکشف کے اندر یہ سب مواد موجود ہے لیکن کوئی عمل ہی نہ کرے‘ کوئی طاقت کا کیپسول ہی نہ کھائے پھر بھی کہے کہ میرے اندر تو طاقت ہی نہیں ہے۔ گناہ کرنا یہ ذکر اﷲ کا کیپسول نہ کھانے کا عذاب ہے لہٰذا عمل کرکے دیکھو، اﷲ کا نام بہت بڑا نام ہے۔ ایک بزرگ دعا کررہے تھے کہ اے خدا آپ کا نام بہت برا نام ہے، جتنا بڑا آپ کا نام ہے اتنا ہم پر احسان و فضل کردے۔ اﷲ اﷲ کیا دعا ہے! یہ دعا تو وجد پیدا کرتی ہے، یا اﷲ آپ کا نام تو بہت بڑا نام ہے، جتنا بڑا آپ کا نام ہے ہمارے اوپر اتنی رحمت کردے، اﷲ کے نام کے صدقہ دوزخ بجھ سکتی ہے۔ دوزخ کو کون بجھا سکتا ہے؟ ا ﷲ تعالیٰ دوزخ سے پوچھیں گے ہَلِ امْتَلَئْتِ کیا تیرا پیٹ بھرگیا؟ وہ کہے گی ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ اﷲ میاں کچھ اور مال ہے؟ جب دوزخی ختم ہوگئے تو کیا اﷲ میاں نیک بندوں کو دوزخ میں ڈالیں گے؟ نہیں۔ بخاری شریف میں ہے فَیَضَعُ قَدَمَہ اﷲ تعالیٰ دوزخ پر اپنا قدم مبارک رکھ دیں گے فَتَقُوْلُ جَہَنَّمُ قَطْ قَطْ وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَطْ قَطْ قَطْ تو دوزخ دو مرتبہ کہے گی کہ بس بس اور ایک روایت میں ہے کہ تین مرتبہ کہے گی بس بس بس یعنی اے اﷲ! میرا پیٹ بھر گیا۔ اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ یہاں قدم سے مراد اﷲ تعالیٰ کی ایک خاص تجلی ہے۔</p>
<p>تو دوستو! جب اﷲ تعالیٰ کے انوار و تجلیات سے دوزخ کا پیٹ بھر سکتا ہے تو ہمارے نفس کی دوزخ کا پیٹ نہیں بھرسکتا؟ ہمارا نفس تو دوزخ کی ایک برانچ ہے اور برانچ ہیڈآفس کے مقابلے میں چھوٹی اور حقیر ہوتی ہے، تو اتنی بڑی اور وسیع دوزخ کے مقابلے میں نفس کی دوزخ کیا ہے؟ ارے اﷲ سے تعلق بناکر تو دیکھو کہاں خوابوں خیالوں کی دنیا میں پڑے ہوئے ہو‘ کیوں شک و شبہات کے اندھیروں میں پڑے ہوئے ہو‘ امیدوں کی خوشیوں اور امیدوں کے اسباب کی طرف آجائو‘ اﷲ کا نام بہت بڑا نام ہے‘ ان کا نام لے کر تو دیکھو۔</p>
<p>اس لیے دوستو! نا امیدمت ہو‘ پابندی سے اﷲ کا نام لینا شروع کردو، جو لوگ محروم ہیں یا محروم ہوں گے یا محروم مرگئے یہ وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اہل اﷲ سے مشورہ نہیں کیا اور اگر مشورہ لیا مگر ان کے مشوروں پہ عمل نہیں کیا، اﷲ کا نام نہیں لیا اور گناہوں سے پرہیز نہیں کیا۔ کیا پیر ہرجگہ پہنچ سکتا ہے؟ پیر تو کہے گا کہ تم یہ کام کرو اور یہ کام نہ کرو، مرشد کا کام تو صرف اتنا ہے ؎</p>
<p>راہبر تو بس بتادیتا ہے راہ</p>
<p>راہ چلنا راہ رو کا کام ہے</p>
<p>تجھ کو مرشد لے چلے گا دوش پر</p>
<p>یہ تیرا رہرو خیالِ خام ہے</p>
<p>حسینوں کا عشق عذابِ الٰہی ہے</p>
<p>یہ خواجہ صاحب کا شعر ہے۔ مولانا اسعد اﷲ صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے نظر بازوں پر ایک شعر فرمایا ہے اور اس شعر میں اپنا نام لیا ہے، اﷲ والوں کا کمال یہی ہے کہ اپنے ہی کو گنہگار کہتے ہیں، دوسروں کو نہیں کہتے، تو فرماتے ہیں ؎</p>
<p>عشقِ بتاں میں اسعدؔ کرتے ہو فکرِ راحت</p>
<p>دوزخ میں ڈھونڈتے ہو جنت کی خوابگاہیں</p>
<p>ادھر ادھر جھانک کر حسینوں کے عشق میں راحت تلاش کرتے ہو؟ ذرا شعر تو دیکھو! یہ ایک عالم، محدث اور اﷲ والے کا شعر ہے، یہ حکیم الامت کے خلیفہ ہیں اور میرے شیخ مولانا شاہ ابرار الحق صاحب کے استاذ ہیں۔</p>
<p>فرماتے ہیں کہ اﷲ کے قہر و عذاب میں تم چین تلاش کرتے ہو، خدا تمہاری کھوپڑیوں میں اور ہماری کھوپڑیوںں میں عقلِ سلیم ڈال دے،یہ بہت بڑی گمراہی ہے، جو یہ سمجھتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کی راہوں سے حرام لذت کی چوریاں کرکے ہم چین سے رہ لیں گے، تو یاد رکھو کہ جب حرام لذت آتی ہے تو حلال کو بھی لے جاتی ہے، تمہاری جو بیویاں گھر میں ہیں بدنگاہی کی وجہ سے ان سے بھی محبت ختم ہوجائے گی۔</p>
<p>دیکھو ایک شخص کہیں سے کچھ چراتا تھا اور اس کے پاس حلال کمائی ایک ہزار تھی، ایک دن دوسرے چور نے اس کی جیب کاٹ لی اور حرام کے ساتھ ساتھ وہ حلال کمائی بھی چلی گئی۔ اسی طرح یہ حرام لذتیں ہمارے گھر کے آرام و سکون کو بھی چھین لیں گی، اﷲ تعالیٰ تو بہت سی نعمتیں دے رہے ہیں‘ انڈے کھا رہے ہو، پراٹھے کھا رہے ہو، چائے پی رہے ہو، مرنڈا پی رہے ہو، کتنی نعمتیں کھارہے ہو، اﷲ کی بے شمار نعمتیں ہیں اور پھر سب سے بڑی بات یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں ایمان کی نعمت سے نوازا، نماز کی توفیق دی اور اﷲ والوں کی، اپنے پیاروں کی، اپنے دوستوں کی شکل عطا فرمائی توکتنی نعمتیں دیں پھر پرائی چیز پر کیوں اپنا دل خراب کرتے ہو؟</p>
<p>مسلمان بیویاں جنت میں حوروں سے زیادہ حسین ہوں گی</p>
<p>اب ایک حدیث پاک عرض کرتا ہوں جس کے سنانے پر مسلمان خواتین مجھے زوردار ناشتہ بھجواتی ہیں۔ میں نے الٰہ آباد میں ایک عالم کے گھر میں اس حدیث کو بیان کیا، وہ عالم بھی وہاں موجود تھے کہ حضرت اُمّ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے پوچھا کہ یا رسول اﷲ جنت میں مسلمان بیویوں کا حسن زیادہ ہوگا یا حوریں زیادہ حسین ہوں گی؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ام سلمہ مسلمان عورتوں کا حسن حوروں سے کہیں زیادہ ہوگا، پوچھا کیوں؟ فرمایا کہ بِعِبَادَتِہِنَّ وَبِصِیَامِہِنَّ وَبِصَلَاتِہِنَّ ان کی نمازیں،ان کے روزے کہاں جائیں گے؟ حوروں نے تو نماز نہیں پڑھی، انہوں نے تو روزہ نہیں رکھا، حوروں نے بچہ نہیں جنا، حوروں نے شوہر کے ناز نخرے نہیں اٹھائے، اَلْبَسَ اﷲُ وَجُوْہَہُنَّ النُّوْرَ اﷲ عبادات کا نور عورتوں کے چہروں پر ڈال دے گا جیسے رضائی کے اوپر کے کپڑے اور نیچے کے استر میں فرق ہوتا ہے اتنا فرق ہوگا مسلمان بیویوں اور حوروں کے حسن میں۔ یہ حدیث آج ہی جاکر اپنی بیویوں کو سنادو کہ اﷲ تعالیٰ ایمان پر آپ کا خاتمہ نصیب فرمائے تو جنت میں آپ حوروں سے زیادہ حسین ہوں گی۔</p>
<p>بیویوں سے حسن سلوک کی ترغیب</p>
<p>لہٰذا ا ﷲ تعالیٰ نے جیسی بیوی دی ہے ایمان والی ہے اس کی قدر کرو، ان کی خطائوںں کو معاف کرو اور ان سے مت لڑو۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ان کی مثال ٹیڑھی پسلی کی سی ہے۔ بخاری شریف کی حدیث ہے:</p>
<p>اَلْمَرْأَۃُ کَالضِّلَعِ اِنْ أَقَمْتَہَا کَسَرْتَہَا وَاِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِہَا اسْتَمْتَعْتَ بِہَا وَفِیْہَا عِوَجٌ</p>
<p>(صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب المدارۃ قامع النسائ)</p>
<p>عورت ٹیڑھی پسلی کی طرح ہے، اگر تم ٹیڑھی پسلی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو فائدہ اٹھاسکتے ہو، اگر اسے سیدھی کرنے کی کوشش کرو گے تو توڑ بیٹھو گے۔ علامہ قسطلانی رحمۃ اﷲ علیہ بخاری شریف کی شرح میں لکھتے ہیں فِیْہِ تَعْلِیْمٌ لِلرِّفْقِ بِالنِّسَآئِ اس میں خواتین کے ساتھ شفقت و رحمت اور محبت کی تعلیم ہے وَالصَّبْرِ عَلٰی عِوَجِہِنَّ اور ان کے ٹیڑھے پن پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے لِضُعْفِ عُقُوْلِہِنَّ کیونکہ ان کی عقل ضعیف و کمزور ہے، ان کی عقل آدھی ہوتی ہے، جلد غصہ آجاتا ہے۔ ذرا سوچو اگر تمہارے کسی بچہ کی عقل کم ہو تو تم کیا اس پر غصہ کرو گے؟</p>
<p>تو ہماری بیویوں کے بارے میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم بھی سفارش فرمارہے ہیں اور اﷲ تعالیٰ نے بھی سفارش نازل فرمائی عَاشِرُوْ ہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ اپنی بیویوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آئو۔ لہٰذا اﷲ کی سفارش کو رد نہ کرو اور جب غصہ آئے اس آیت کو یاد کرلو۔ اﷲ کی سفارش کو رد کرنے میں بہت خسارہ ہے، بہت گھاٹا ہے لہٰذا ان کی بندیوں پر رحم کرکے اﷲ سے انعام لے لو۔ اس کی مثال بتاتا ہوں کہ ایک شخص کی بیٹی تیز مزاج والی ہے، غصے والی ہے۔ اس کی شادی کے بعد اب ماں باپ ہر وقت ڈررہے ہیں کہ پتا نہیں غصے میں کیا کہے گی اور اپنے شوہر سے کتنے جوتے کھائے گی۔ ایک مرتبہ وہ داماد کے گھر مہمان ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی بیٹی نے بدتمیزی شروع کردی مگر شوہر نے اسے کچھ نہیں کہا برداشت کرلیا تو باپ نے سوچا کہ دیکھو مجھے اﷲ تعالیٰ نے اتنا شریف داماد دیا ہے کہ میری نالائق بیٹی کو برداشت کررہا ہے تو سوچو کہ وہ اپنے داماد کو کیسی دعا دے گا اور اس کو کیا کیا انعام دے گا۔ ربا بھی ایسے ہی ہیں کہ جو ان کی بندیوں کے ساتھ نباہ کرتا ہے اس پر اﷲ تعالیٰ کی عظیم الشان رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔</p>
<p>مرزا مظہر جانِ جاناں رحمۃ اﷲ علیہ کو الہام ہوا کہ اگر تم تلخ کلام والی فلاں عورت سے شادی کرلو تو تم کو میں اپنے قرب و محبت سے نواز دوں گا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسی کی برکت سے کہاں سے کہاں جاپہنچے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ ہماری بیوی نے ہماری عزت کو نقصان پہنچادیا، ہم سے لڑجاتی ہے تو عزت کے بارے میں بھی سن لو۔ کیا ہماری آپ کی عزت سرور عالم صلی اﷲ علیہ وسلم سے زیادہ ہے؟ علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں کہ سرور عالم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں یَغْلِبْنَ کَرِیْمًا یہ عورتیں کریم شوہر پرغالب ہوجاتی ہیں یعنی تو تو، میں میں بھی کرلیتی ہیں، کریم کہتے ہیں جو نا اہل پر بھی مہربانی کردے وَیَغْلِبُہُنَّ لَئِیْمٌ اور کمینے شوہر اپنی ماردھاڑ سے، گالی گلوچ سے، ڈنڈوں سے ان پر غالب ہوجاتے ہیں، لَئِیْمٌ کریم کی ضد ہے۔ تو سرور عالم صلی اﷲ علیہ وسلم جن کو اﷲ نے دونوں جہاں کی عزت دی ان کا ارشاد گرامی ہے فاحب ان اکون کریما مغلوبا میں محبوب رکھتا ہوں کہ میں مغلوب رہوں اپنی بیویوں سے، یہ زبان سے چاہے کچھ کہیں، اپنے مطالبات میں تھوڑی سی تیزی بھی کرلیں لیکن میں ان پر کرم اور مہربانی ہی کرتا رہوں گا، وَلَا اُحِبُّ اَنْ اَکُوْنَ لَئِیْمًا غَالبًا میں ان پر کمینہ بن کر غالب ہونا پسند نہیں کرتا۔</p>
<p>ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، ازواج مطہرات اپنے سالانہ خرچہ کے سلسلے میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے گفتگو کررہی تھیں، کچھ تھوڑا سا ناز کا لہجہ تھا، اسے بدتمیزی نہیں کہیں گے، عورتوں کو اپنے شوہروں سے ناز کرنے کا حق حاصل ہے۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے عائشہ! جب تم مجھ سے روٹھ جاتی ہو تو مجھے پتا چل جاتا ہے۔ حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کو کیسے پتا چلتا ہے؟ فرمایا کہ جب تم مجھ سے روٹھتی ہو تو کہتی ہو وَرَبِّ اِبْرَاہِیْمَ ابراہیم کے رب کی قسم اور جب تم خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو وَرَبِّ مُحَمَّدٍ محمد کے رب کی قسم۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ بیویوں کو روٹھنے کا حق ہے اور یہ شانِ محبوبیت کی علامت ہے۔</p>
<p>تو دوستو! جب حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے تو ہماری مائوں کی تھوڑی سی آواز ناز کی وجہ سے، محبوبیت کی شان کی بنا پر وہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے اونچی آواز میں باتیں کررہی تھیں اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم ان سے کریمانہ گفتگو فرمارہے تھے، اپنے کریم ہونے کا ثبوت پیش کررہے تھے، قیامت تک کے لیے لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اس طرح کی زندگی گذارو کیونکہ نبی کا ہر عمل ہماری رہنمائی کے لیے آفتاب ہے۔ تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جیسے ہی داخل ہوئے سب خاموش ہوگئیں کیونکہ ان کی ہیبت بہت زیادہ تھی۔ تاریخ میں ہے کہ یہ جارہے تھے اور صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین ان کے پیچھے تھے، انہوں نے مڑ کر ایک نظر دیکھا تو سب صحابہ گھٹنے کے بل گر گئے، ان میں شان ہیبت بہت تھی لہٰذا سب امہات المومنین انہیں دیکھ کر خاموش ہوگئیں تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ نبی سے نہیں ڈرتی ہیں اور عمر سے ڈرتی ہیں، ابھی تو خوب آواز آرہی تھی اور اب ایک دم سے خاموش ہوگئیں تو ہماری مائوں نے کیا شاندار جواب دیا کہ اے عمر! تم سخت دل ہو جبکہ ہمارے نبی رحمۃ اللعٰلمین ہیں، سراپا رحمت ہیں۔</p>
<p>حدیث شریف میں ہے کہ اﷲ کے بندوں پر رقیق القلب، رحیم المزاج اور حلیم الطبع ہوجائو۔ پھر دیکھو کتنا جلد سلوک طے ہوتا ہے، کتنے جلد اﷲ کے قریب ہوتے ہو اور ولی اﷲ بنتے ہو، مخلوق کی خطائوں کو معاف کرو، ان پر رحم کرو، ان کے دکھ درد میں کام آئو، خون کے رشتوں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ اور بیوی کے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک بھی صلہ رحمی میں داخل ہے۔ علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں اَلْمُرَادُ بِالْاَرْحَامِ الْاَقْرِبَآئُ مِنْ جِہْۃِ النَّسَب وَ مِنْ جِہْۃِ النِّسَآئِ بیویوں کی طرف سے جو رشتے ہیں یعنی ساس، سسر یہ سب بھی صلہ رحمی میں داخل ہیں، ان کا بھی وہی حق ہے جو سگے ماں باپ کا ہے اور برادر نسبتی کا سگے بھائی جیسا حق ہے۔</p>
<p>دیکھو تفسیر روح المعانی پیش کررہا ہوں۔ اس طریقے سے سلوک جلد طے ہوتا ہے، لوگ تہجد اور تسبیحات تو بہت پڑھتے ہیں لیکن گھر میں چین سے نہیں ہیں، جہاں دیکھو وظیفوں کی بھرمار ہے لیکن ڈنڈے گالی کی بھی بھرمار ہے۔ عزیزوںسے، پڑوسیوں سے، بال بچوں سے ہر وقت غصے ہورہے ہیں۔ کیا کہیں بزرگوں سے مشورہ کرو کہ کہاں کس موقع پر کیا کرنا چاہیے۔</p>
<p>خواتین کو شوہروں کے اکرام کی نصیحت</p>
<p>خواتین کو بھی چاہیے کہ اپنے شوہر کا اکرام کریں اور ان کی نہایت ہی عظمت کریں کیونکہ عورت لاکھ عبادت کرے، لاکھ تسبیح پڑھے لیکن اگر شوہر ناراض ہوگا تو اس پر رات بھر خدا کی لعنت برسے گی، اﷲ کی رحمت نہیں ملے گی، چاہے لاکھ تہجد پڑھتی ہو۔ اور شوہر کے سوا بیوی کے کوئی کام بھی نہیں آتا، نہ ماں کام آتی ہے، نہ باپ کام آتا ہے، نہ بھائی کام آتا ہے، اﷲ تعالیٰ نے بیویوں کے لیے شوہر ہی کے ساتھ ساری زندگی کے گذارنے کا انتظام کیا ہے۔ جن لوگوں نے اکڑفوں کرکے بیویوں کو الگ کردیا تو ساری زندگی ان کی بہنیں اور ان کی بیٹیاں بھی مصیبت میں رہیں اور بے عزت رہیں۔</p>
<p>دوستو! یہ بات اس لیے عرض کرتا ہوں کہ بیویوں کو بھی چاہیے کہ اپنے شوہر جس سے تم ہزاروں آرام اٹھاتی ہو اگر اس سے کبھی تکلیف بھی پہنچ جائے کیونکہ وہ بھی انسان ہی تو ہے لہٰذا اگر اس سے کبھی غصے کی کوئی بات ہوجائے تو اس کو برداشت کرو۔ کیا وجہ ہے کہ جس کے ہاتھ سے ہر وقت روح افزا پی رہی ہو اگر کبھی ذرا سی کڑوی دا پلادی تو ناراض ہوگئیں لہٰذا اس کی کڑوی بھی کبھی برداشت کرلو اور ایک وظیفہ بھی بتائے دیتا ہوں یَا سُبُّوْحُ یَا قُدُّوْسُ یَا غَفُوْرُ یَا وَدُوْدُ یہ اﷲ تعالیٰ کے چار نام ہیں، اگر افسر اعلیٰ ستارہا ہو یا نیچے کا کوئی کلرک اوپر والے کو ستا رہا ہو، کسی کی بیوی ستارہی ہو یا کسی کا شوہر تیز مزاج کا ہے اور بیوی کو پریشان کررہا ہے تو اﷲ تعالیٰ کے یہ چار نام پڑھ کر دیکھو، اس کی برکت سے کسی سے لڑنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، ان ناموں کی برکت سے دل نرم ہوجاتا ہے۔</p>
<p>جب مکے شریف سے مدینے شریف جائیں تو جگہ جگہ شرطے انکوائری کرتے ہیں، سب چیزیں دیکھتے ہیں اور ذرا سی غلطی پر روک لیتے ہیں۔ تو ہماری سب چیزیں درست تھیں لیکن وہ شاہی لوگ ہیں، وہاں ڈر ہی لگتا ہے، بعض لوگ تو چھوڑ دیتے ہیں لیکن بعض لوگ سختی کرتے ہیں کیونکہ شاہی مزاج ہے لہٰذا میرے شیخ مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہمیں فرماتے تھے کہ بھئی پولیس چوکی آرہی ہے جلدی پڑھو یَا سُبُّوْحُ یَا قُدُّوْسُ یَا غَفُوْرُ یَا وَدُوْدُ۔ الحمدﷲ حضرت کی بتائی ہوئی دعا کی برکت سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔</p>
<p>ایک مرتبہ ہمارے سید عشرت جمیل میر صاحب جب بس میں داخل ہوئے تو ان سے کسی نے پاسپورٹ ہی نہیں مانگا کیونکہ احرام میں تھے اور احرام بھی گرمی کی وجہ سے گرا ہوا تھا اور سینے کے سب بال نظر آرہے تھے، سینے پر صحرائے سینائی نظر آیا اور پیٹھ پر چھاتہ بردار تو شرطے نے کہا یا شیخ الاسلام السلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہٗ اور یہ کہہ کر آگے بڑھ گیا اور ان کا پاسپورٹ نہیں دیکھا۔ اس پر حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب بہت ہنسے۔ بہرحال اﷲ تعالیٰ کے ان چار اسماء کو پڑھو، ان شاء اﷲ تعالیٰ ان کی برکت سے آپ کو اپنے بڑوں سے پیار ملے گا۔</p>
<p>میرے شیخ جب یہاں کراچی آتے ہیں تو میں بھی ان اسماء حسنیٰ کو پڑھتا ہوں، ہر آدمی اپنے بڑوں کے سامنے یا جس سے کوئی کام ہو اس کے لیے ان اسماء کو پڑھے پھر دیکھو کہ مخلوق کے دل کس طرح نرم ہوجاتے ہیں۔ ان چاروں ناموں کو پڑھنے کی تعداد کچھ نہیں ہے جتنا چاہو پڑھو اور اگر مستقل طور پر کوئی مصیبت ہے ، کوئی ستا رہا ہے تو ہر فرض نماز کے بعد سات مرتبہ پڑھ کر یوں کہو کہ اے اﷲ اپنے ان ناموں کے صدقے میں جو مجھ کو ستا رہا ہے اس کا دل نرم کردیجئے، اس کو مجھ پر شفیق و مہربان کردیجئے۔</p>
<p>بس اب دعا کیجئے کہ اﷲ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے، اس مجلس کو اﷲ اپنی رحمت سے قبول فرمالے۔ یا اﷲ جو لوگ یہاں آرہے ہیں خواتین ہیں یا ہمارے دوست احباب ہیں یا اﷲ ہم سب کی اپنی رحمت سے اصلاح فرمادے، یا اﷲ ہم سب کا تزکیہ فرمادے، یا اﷲ ہم سب کو گناہوں سے نفرت اور کراہت نصیب فرمادیجئے ، اور ہم سب کو تقویٰ نصیب فرمادیجئے‘ یا اﷲ ہماری جانوں کو جذب فرماکر اپنا بنالیجئے، یا اﷲ اسباب معصیت سے ہمیں دوری اور تحفظ نصیب فرمائیے، ہم سب کو اور خواتین، بہنوں کو، بیٹیوں کو، مائوں کو سب کو اﷲ اپنا بنالیجئے۔ یا اﷲ ہم سب کو اؤلیاء صدیقین اور اپنے دوستوں میںشامل فرما اور ان کے اخلاق اور اعمال و یقین نصیب فرما، آمین۔</p>
<p>وَاٰخِرُدَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَصَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ بِرَحْمَتِکَ یَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ o</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F361.html&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DB%92%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81%20%DA%A9%D9%88%D9%86%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F361.html&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DB%92%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81%20%DA%A9%D9%88%D9%86%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F361.html&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DB%92%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81%20%DA%A9%D9%88%D9%86%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F361.html&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DB%92%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81%20%DA%A9%D9%88%D9%86%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F361.html&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DB%92%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81%20%DA%A9%D9%88%D9%86%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F361.html&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A2%D9%86%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DB%92%D9%88%D9%82%D9%88%D9%81%20%DA%A9%D9%88%D9%86%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/361.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اصلاحی خطوط اور ان کے جوابات</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/360.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/360.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:42:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[تربیت عاشقان خدا]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/360.html</guid>
		<description><![CDATA[عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم ایک اجازت یافتہ عالم کا عریضہ منجانب بندہ … بخدمت مرشدی و مولائی‘ سیدی و سندی وسیلۃ یومی وغدی شیخ العرب والعجم عارف باﷲ حضرت اقدس دامت برکاتہم العالیہ السلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ۔ حال:اﷲ تعالیٰ سے شب و روز حضرت والا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم</p>
<p>ایک اجازت یافتہ عالم کا عریضہ</p>
<p>منجانب بندہ … بخدمت مرشدی و مولائی‘ سیدی و سندی وسیلۃ یومی وغدی شیخ العرب والعجم عارف باﷲ حضرت اقدس دامت برکاتہم العالیہ السلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ۔</p>
<p>حال:اﷲ تعالیٰ سے شب و روز حضرت والا دامت برکاتہم کی روز افزوں صحت و عافیت اور خدمات دینیہ مقبولہ کے ساتھ کم از کم ایک سو تیس سال کی حیات مبارکہ مطلوب ہے۔ تمام فرض نمازوں کے بعد اوراجابت دعا کے اوقات میں بندے کا حضرت والا دامت برکاتہم کے لیے ان الفاظ میں دعا کا معمول ہے۔ رب اشف مرشدی شفائً کاملا عاجلا مستمرا اﷲ تعالیٰ اپنی رحمت سے قبول فرمائیں۔ آمین</p>
<p>جواب: عزیزم سلمہ ، وعلیکم السلام و رحمۃ اﷲ و برکاتہ۔ آپ کی محبت سے دل مسرور ہوا۔ تقبل اﷲ تعالیٰ ادعیتکم جزاک اﷲ تعالیٰ احسن الجزائ۔</p>
<p>حال: الحمدﷲ حضرت والا دامت برکاتہم کی برکت سے اﷲ تعالیٰ نے مجھ کم ہمت کو بھی تقویٰ کے راستے پر چلنے کی نعمت عطا فرمائی ہے اس راستے پر چلتے ہوئے قدم قدم پر حضرت والا دامت برکاتہم کی یاد بندے کے دل میں ہے۔ سچ عرض کرتا ہوں کہ میں جہاں کہیں بھی ہوں مگر حضرت والا دامت برکاتہم اور خانقاہ کے خیالات اور مناظر بلااختیار گویا میری نگاہوں کے سامنے رہتے ہیں اور اس کی وجہ سے ایک عجیب سی طمانینت حاصل رہتی ہے۔ الحمدﷲ</p>
<p>جواب: مبارک ہو حالت رفیعہ ہے اس راہ میں جس کو جو ملا ہے شیخ کی محبت سے ملا ہے۔ محبت شیخ تمام مقامات سلوک کی کنجی ہے۔</p>
<p>حال:آج کل رات تقریباً بارہ بجے تک مطالعہ میں مشغولیت رہتی ہے نیز بندے کے بچے ابھی کم سن ہیں وہ رات کو یا تو تاخیر سے سوتے ہیں یا رات میں کسی وقت ان کے رونے کی وجہ سے بیدار ہونا پڑتا ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے نماز فجر میں تکبیر اولیٰ اور کبھی ایک رکعت چھوٹ جاتی ہے۔ حضرت والا دامت برکاتہم سے رہنمائی مطلوب ہے۔</p>
<p>جواب: حالت مذکورہ میں نماز قضا نہیں ہوتی اور جماعت نہیں چھوٹتی یہ بھی نعمت ہے آپ کے لیے آٹھ گھنٹہ نیند ضروری ہے اس لیے دن میں نیند کی قضا کرلیا کریں۔</p>
<p>حال: لوگوں کی طرف سے اکرام اور تعظیم کے وقت بندہ ایک گناہ کا خیال لاکر (جس سے بندہ توبہ کرچکا ہے اور حالاً اس میں ابتلا نہیں ہے) عجب سے بچنے کی کوشش کرتا ہے مگر چونکہ حالاً اس گناہ میں ابتلا نہیں ہے اس لیے صرف عجب سے بچنے کے لیے بندہ ایسا کرتا ہے جس کا بندے کو فائدہ بھی ہوتا ہے کیا بندے کا ایسا کرنا درست ہے؟ حضرت والا دامت برکاتہم کی رہنمائی درکار ہے۔</p>
<p>جواب: اگر باہی گناہ ہے تو اس کا خیال لانے سے امکان ہے کہ نفس لذت کا کوئی ذرہ چرالے جس کا بعض دفعہ احساس بھی نہیں ہوتا اس لیے اس کا تفصیلی مراقبہ نہ کریں بس اجمالاً سوچ لیں کہ میں گناہوں کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا اﷲ تعالیٰ نے اس دلدل سے نکال دیا اور جاہی گناہوں کو یاد کرنے میں مضائقہ نہیں کہ اپنی حماقت کا احساس ہوگا اور ندامت پیدا ہوگی۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: بعد سلام کے عرض ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ کے بتائے ہوئے ذکر کی باقاعدگی ہورہی ہے اور زندگی خوش و خرم گذر رہی ہے۔</p>
<p>جواب: آپ کی خوشی سے مجھے بھی بہت خوشی ہوئی۔</p>
<p>حال: آپ کے حج کے سفر کے دوران بعض اوقات ایمانی قوت میں بہت کمی محسوس ہوتی تھی۔ میں یرقان میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے آپ کے پیچھے میں جمعہ کو صرف ایک دفعہ آسکا اس وجہ سے ہر عمل میں کمزوری پارہا تھا۔ نماز میں بھی وسوسوں کی کثرت ہوگئی ذکر کرنا بھی بعض دفعہ بہت بھاری لگتا لیکن اﷲ کے فضل سے ناغہ نہیں ہوا۔ البتہ بیماری کے دوران کچھ کمی ہوگئی تھی۔</p>
<p>جواب: بیماری میں وظیفہ کی کمی سے کچھ حرج نہیں۔</p>
<p>حال: ایک اور بات یہ بھی تھی کہ یونیورسٹی کھلتے ہی پریشانی بہت بڑھ گئی کہ یہاں عورتوں کے فتنے سے کیسے بچا جائے۔ ایک طرف تو کلاس میں لڑکیاں ساتھ پڑھتی ہیں اور ان سے بھی بڑا مسئلہ خواتین پڑھانے والیوں کا ہے سب بے پردہ اور کافی بے ہودہ لباس میں ہوتی ہیں۔ اب تک تو یہ کررہا ہوں کہ نظریں دوسری طرف کرکے پڑھنے کی کوشش کررہا ہوں لیکن پھر بھی بلیک بورڈ کی طرف دیکھتے ہوئے اکثر نظر پڑجاتی ہے یا ٹیچر مجھ سے کوئی سوال کرلے تو اور مشکل میں پھنس جاتا ہوں۔ اس سلسلے میں کیا کیا جائے۔</p>
<p>جواب: کلاس میں لڑکیوں سے دور بیٹھیں۔ آپ کی نگاہ بہت کمزور ہے چشمہ اتاردیں اور پڑھانے والیوں کی طرف رخ کرنے سے بھی کچھ نظر نہیں آئے گا بلیک بورڈ کے سامنے سے جب پڑھانے والی ہٹ جائے تو چشمہ لگا کر بورڈ کی طرف دیکھ لیں اگر نظر پڑے گی تو اچٹی پچٹی پڑے گی۔ اگر بالفرض چشمہ اتارنے کے بعد بھی صاف نظر آتا ہے تو کالا چشمہ لگالیں کہ چہرہ تو ٹیچر کی طرف ہو لیکن چشمہ کے اندر نگاہ نیچی ہو وہ سمجھے گی کہ میری طرف دیکھ رہا ہے لیکن آپ کی نگاہ محفوظ ہوگی۔</p>
<p>حال: حضرت والا کی طرف سے کچھ ہدایات کا خواستگار ہوں۔</p>
<p>جواب: اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی ایک لمحہ ایک سیکنڈ بھی نہ کریں اور خطا ہوجائے تو فوراً توبہ کرلیا کریں۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: حضرت محترم! السلام علیکم و رحمۃ اﷲ ۔ بعد سلام کے عرض ہے کہ اﷲ کے فضل و کرم سے ذکر باقاعدگی سے جاری ہے۔ مغرب کی نماز کے بعد چار رکعات صلوٰۃ توبہ بھی ادا کررہا ہوں لیکن یہ بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں پھر ان چکروں میں نہ پھنس جائوں کیونکہ یہ میرا بہت پرانا مرض ہے۔ بالغ ہونے سے پہلے ہی سے میں اس گناہ میں ملوث ہوچکا تھا اس نظروں کی بیماری کے ذریعہ میں نے اپنے آپ کو جسمانی و ذہنی طور سے تباہ کیا ہے۔ سکون مجھ سے کوسوں دور تھا اکثر اکثر وقت دل پریشان رہتا تھا اور صحت تو میں نے خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کی۔ اگر میں آپ کے پاس نہ آیا ہوتا تو شاید خود کو بالکل تباہ کرچکا ہوتا۔ اب اﷲ کا شکر ہے کہ آپ کی بار بار ہر وعظ میں نصیحت سے ان چکروں سے جان چھوٹ گئی ہے لیکن یہ خطرہ ہر وقت رہتا ہے کہ کہیں پھر اس مصیبت میں گرفتار نہ ہوجائوں خاص طور سے جب کہ ماحول بھی ایسا ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی تقاضہ بھی شدید ہوجاتا ہے اور دیکھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ آپ اکثر کہتے ہیں کہ اگر کیچڑ زیادہ ہو تو ہاتھی بھی پھسل جاتا ہے۔ میری تو اتفاقی طور پر بھی روزانہ کم از کم ۲۰؍سے ۲۵؍مرتبہ تو غلط جگہ نظر پڑجاتی ہوگی اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ میں روزانہ ایمان کے لحاظ سے کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہا ہوں آپ سے دعا و نصیحت کی درخواست ہے۔</p>
<p>جواب: عشق مجازی کے علاج کا پرچہ ہرروز پڑھو اور اسی پر عمل کرو۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: معمولات کے بارے میں آپ نے جو حکم فرمایا تھا (کہ ذکر کم کریں لیکن ناغہ نہ کریں) تو اس پر الحمدﷲ کافی حد تک عمل ہورہا ہے (ایک دو دفعہ یہ ہوا تھا‘ البتہ کہ میں سونے سے قبل معمولات کے کچھ حصے کو پورا کرنا بھول گیا تھا ورنہ ویسے الحمدﷲ ناغہ نہیں کررہا)</p>
<p>جواب: جہاں تک ہوسکے ذکر پورا کریں جان بوجھ کر کم یا ناغہ نہ کریں البتہ کبھی عدم فرصت یا کسی ناگزیر وجہ سے تعداد کم کردیں تو مضائقہ نہیں۔</p>
<p>حال: اس کے علاوہ ایک حالت کا ذکر کرتا چلوں کہ پچھلے دنوں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کی طرف کچھ دھیان ہوا۔ اس سے قبل فرائض‘ واجبات اور سنت موکدہ پر عمل کی توسعی کرتا تھا لیکن اس کے علاوہ کی جو دن بھر کی سنتیں تھیں ان کی طرف خصوصی التفات نہیں تھا۔ کچھ تو کرلیا کرتا تھا اور کچھ ایسی ہی تھیں کہ باوجود علم ہونے کے عمل میں کوتاہی ہوتی تھی۔ آپ کا خط آنے سے دو تین دن قبل یہ کیفیت ہوئی وار اس کے بعد حضرت والا دامت برکاتہم کی تصنیف لطیف ’’پیارے نبیﷺ کی پیاری سنتیں‘‘ از سر نو مطالعہ شروع کی اس جذبے سے کہ ان سب پر بتوفیق تعالیٰ عمل بھی کرنا ہے۔ چند اوراق پڑھنے کے بعد (تقریباً نصف سے کچھ کم کتاب پڑھی ہوگی) تاحال باقی کتاب تو نہیں پڑھ سکا تاہم جن سنتوں پر عمل نہیں ہورہا تھا ان پر کافی حد تک عمل کرنے کی توفیق ہورہی ہے۔</p>
<p>جواب: یہ ہمارے سلسلہ کے بزرگوں کا فیض ہے۔ اتباع سنت اﷲ تعالیٰ کا محب اور محبوب بننے کا واحد ذریعہ ہے۔ آپ کی اس توفیق پر بہت مسرت ہے۔</p>
<p>حال: آپ نے خط میں فرمایا تھا کہ ’’خط کے ذریعے آپ کو بیعت کرلیا‘‘ ویسے تو میں نے سلسلہ مکاتبت شروع کرنے کی غرض سے خط لکھا تھا۔ بیعت کا ارادہ بعد کو کرنے کا تھا‘ تاہم آپ نے بیعت کرلیا تو سو ۱۰۰ بسم اﷲ بلکہ یہ زیادہ اچھا ہوگیا کہ اب میں آپ کے ساتھ بندھ گیا۔ جزاک اﷲ خیراً۔احقرچونکہ صحیح طور پر بیعت کے متعلق علم نہیں رکھتا لہٰذا استفسار کرتا ہے کہ بیعت کے لیے کچھ عہدیہ الفاظ بھی کہے جاتے ہیں یا بس یہ بیعت ہوگئی؟</p>
<p>جواب: چونکہ آپ نے خط میں لکھا تھا کہ بیعت ہونا چاہتا ہوں اس لیے بیعت کرلیا تھا لیکن بیعت مرید کے ارادہ سے ہوتی ہے شیخ کے ارادہ سے نہیں۔ اگر آپ کا ارادہ نہیں تھا تو بیعت منعقد نہیں ہوئی۔ ویسے بھی بیعت سنت ہے اصلاح فرض ہے اگر کوئی بیعت نہ بھی ہو لیکن اصلاح کراتا ہے تو مقصود حاصل ہے۔</p>
<p>حال: آغا خان میڈیکل کالج کا آپ سے ذکر کیا تھا تو الحمدﷲ اس کے ٹیسٹ میں تو پاس ہوگیا ہوں (جس کی خبر آپ کو پچھلا خط بھیجنے کے قریب ہی موصول ہوئی تھی) اب انٹرویو ہے۔ آپ دعا فرمادیجئے۔ کہ اگر بہتر ہو تو داخلہ ہو ورنہ بالکل نہ ہو اور جو بھی ہو تو اﷲ مجھے اس پر راضی رہنے اور شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین۔</p>
<p>جواب: اگر داخلہ ہوجائے تو ماحول وہاں کا بہت خراب ہے۔ لڑکیوں سے دور رہیں نگاہوں کی سختی سے حفاظت کریں اﷲ تعالیٰ سے استقامت کی دعا مانگتے رہیں۔</p>
<p>حال: آخر میں آپ سے دعائوں کی درخواست ہے کہ اﷲ مجھے اپنے اخص الخواص میں سے بنائے اﷲ میرے والدین کو بھی ہدایت دے جو ڈاڑھی کی سنت پر عمل کرنے سے روکتے ہیں اور ڈاڑھی نہ رکھنے پر زور دیتے ہیں۔</p>
<p>جواب: ڈاڑھی صرف سنت ہی نہیں واجب ہے اور واجب کا درجہ فرض کے برابر ہوتا ہے پس ڈاڑھی ایک مشت سے کم کرنا یا مونڈنا حرام ہے لہٰذا کسی کے کہنے اور زور ڈالنے سے (خواہ والدین ہی کیوں نہ ہوں) ڈاڑھی کٹانا یا مونڈنا جائز نہیں۔ حدیث پاک میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔</p>
<p>حال: پڑھائی کے لیے بعض اوقات پریشانی اور تشویش بھی ہونے لگ جاتی ہے تاہم اﷲ کا بہت کرم ہے کہ اس وجہ سے اﷲ کی اب کسی بڑی نافرمانی میں بظاہر ابتلا نہیں ہورہا اور ایک آدھ دفعہ کچھ کوتاہی ہوگئی تو فوری طور پر اﷲ سے معافی بھی مانگ لی اور اگر بالفرض اچھے نمبر نہ بھی آئے توا اﷲ مجھے خوب خوب صبر کرنے کی اور رضا بالقضاء سے سرشار رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ پڑھائی کے بارے میں ذرا حساس ہوں اس لیے احتمال ہے کہ اگر اچھے نمبر نہ آئے تو صبر کا دامن کھو بیٹھوں۔ ہوتا یہ ہے کہ اگر میں بذات خود صبر کرنے کی کوشش بھی کروں تو لیکن جب والدین اظہار افسوس و ناراضگی کرتے ہیں تو حالت بری ہوجاتی ہے تو اس کے لیے بھی دعا فرمائیے۔</p>
<p>جواب: دل سے دعا ہے لیکن رزق پڑھائی پر موقوف نہیں وہ تو ازل میں مقدر ہوچکا ہے اتنا ہی ملے گا جتنا لکھا جاچکا ہے اسی لیے حدیث پاک میں ہے کہ روزی کی تلاش میں اجمال اختیار کرو۔لیکن دعا کرتا ہوں کہ آپ کے نہایت اعلیٰ نمبر آئیں تاکہ آپ کے والدین کو دین کی قدر ہو۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: محترم المقام حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم ۔ السلام علیکم و رحمۃ اﷲ و برکاتہ۔ امید ہے خیریت سے ہونگے چند دن ہوئے ہمارے ایک دوست نے آپ کا ارسال کردہ خط دکھایا اور خط سے بہت متاثر ہوا اور دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ہم بھی آپ حضرت کے برکات سے مستفید ہوجائے۔ اصل بات یہ ہے کہ سائل بہت سخت گناہ گار ہے۔ لیکن آپ حضرات جیسے لوگوں کی مجلس میں کثرت سے رہ چکا ہوں حضرت مولانا عبدالحقؒ سے قریبی تعلق تھا مولانا فقیر محمد پشاوری سے بھی واسطہ تھا۔ لیکن کسی کے ساتھ بات کرنے کی ہمت نہیں امید ہے آپ حضرات مایوس نہیں کرینگے سائل بچپن سے اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم اور والدین کے زیر سرپرستی صوم صلوٰۃ کا پابند ہے گھر بار رشتہ دار اور گائوں میں بھی اچھے لوگوں میں شمار ہوتا ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی دل میں غرور بھی پیدا ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی استغفار بھی کرتا ہوں آپ بھی اس بارے میں کچھ لکھیں۔ سائل آپ حضرات کے سارے تصانیف دنیا کی حقیقت ‘مجالس الابرار ‘کشکول معرفت‘ بہشتی زیور اور بزرگوں کے کتابیں فضائل مسائل پڑھ کر عمل کی کوشش کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سائل ایک خطرناک مرض بدنظری اور امرد لڑکوں کو دیکھنے کے مرض میں سخت مبتلا ہے۔ ساتھ ہی وظائف بھی کرتا ہوں حضرت تھانویؒ کے ملفوظات کے ساتھ ہی بدنظری کے علاج بھی مطالعہ کرچکا ہوں۔ اس لیے اب مہربانی کرکے خصوصی دعائوں کے ساتھ دل کی گہرائیوں سے ایسا وظیفہ ارسال کریں تاکہ سائل کو شفاء کاملہ نصیب ہوجائے آخر میں پھر دعا کی التماس ہے۔</p>
<p>جواب: تمام گناہ خصوصاً بدنظری و عشق مجازی وظیفوں سے نہیں چھوٹتے ہمت سے چھوٹتے ہیں۔ ذکر و وظائف معین ہیں گناہ چھوڑنے میں لیکن کوئی ذکر و تسبیحات کرتا رہے‘ بزرگوں کی صحبت میں بھی آتا جاتا رہے لیکن گناہ چھوڑنے کا ارادہ اور ہمت نہ کرے تو ہمیشہ گناہ میں مبتلا رہے گا۔ لہٰذا سب سے پہلے خود ہمت کیجئے اور اﷲ تعالیٰ سے استعمال ہمت کی دعا کیجئے اور خاصان خدا سے دعا کرائیے اور اپنے حالات سے ان کو مطلع کیجئے جو علاج وہ تجویز کریں اس پر عمل کیجئے غرض ہر اچھی بری عادت کی اطلاع کریں۔ پرچہ حفاظت نظر روزانہ ایک بار پڑھیں بہ نیت اصلاح۔ اور ہدایات پر عمل کریں۔ پندرہ دن کے بعد حالت کی اطلاع کریں جملہ مقاصد حسنہ کے لیے دل و جان سے دعا ہے۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: بدنظری الحمدﷲ کافی حد تک ختم ہوگئی ہے۔ لیکن غیر محرم پر پہلی نظر سے ہلکا سا میلان ہوتا ہے۔ دوبارہ دیکھنے کو بہت دل کرتا ہے۔ لیکن روک لیتا ہوں حضرت والا سے ہدایات کی درخواست ہے تاکہ یہ ختم ہو۔</p>
<p>جواب: ماشاء اﷲ یہی مطلوب ہے اللّٰہم زد فزد۔ میلان ہونا گناہ نہیں میلان پر عمل کرنا گناہے۔ میلان کے ختم ہونے کا انتظار نہ کریں کیونکہ یہ خلاف فطرت ہے۔ مقصود صرف یہ ہے کہ میلان پر عمل نہ ہو او راس میں جو غم اور تکلیف ہو اس کو برداشت کرو کیونکہ تقویٰ کا یہ غم اٹھانے ہی سے اﷲ کی ولایت نصیب ہوتی ہے۔ اور پہلی نظر بھی عمداً نہ ڈالیں ورنہ وہ پہلی نظر نہیں‘ بدنظری ہے۔</p>
<p>حال: لایعنی باتوں میں بہت وقت گزرتا ہے ۔ اس کے لیے حضرت والا سے ہدایات کی درخواست ہے۔</p>
<p>جواب: بولنے سے سوچیں پھر بولیں گناہ کی بات ہو تو زبان کو بالکل بند رکھیں‘ دین کی بات ہو تو خوب کریں اور مباح بات ہو تو اتنی کریں کہ کوئی بات مرضی حق کے خلاف نہ ہو البتہ تھوڑا سا جائز ہنسی مزاح بھی اس زمانہ میں صحت کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>حال: احقر ناچیز بہت ہی نالائق اور بہت گناہ گار ہے۔ لیکن دل میں کبھی عُجب و تکبر محسوس ہوتا ہے اعلانیہ گناہوں میں لوگوں کو دیکھ کر عُجب پیدا ہوتا ہے کچھ ہدایات دیں کہ احقر ناچیز کی یہ بیماری دو ہو۔</p>
<p>جواب: اپنے عیوب کو یاد کریں جو یقینی ہیں اور دوسروں کے گناہ یقینی نہیں۔ اگر کسی کے گناہ پر نظر جائے تو سوچو کہ ممکن ہے وہ توبہ کرلے اور سب معاف ہوجائے اور میرے کسی عیب پر قیامت کے دن پکڑ ہوجائے تو قیامت سے پہلے اپنے کو اچھا سمجھنا حماقت ہے۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: بعد از سلام مسنون عرض یہ ہے کہ راقم بندہ آپ سے انتہائی عقیدت رکھتا ہے کافی عرصہ سے بندہ کو اپنے لیے اصلاح کی فکر دامن گیر ہوئی اس سلسلہ میں قلبی تمنا آپ سے بیعت کی خواہش کا اظہار کررہی ہے۔ لیکن والد محترم فرمارہے ہیں کہ اپنے مدرسہ کے بانی و مہتمم حضرت مولانا… دامت برکاتہم سے بیعت کرو کہ قربت بھی نصیب ہوگی اور نظروں میں بھی رہو گے مگر بندہ کا دل حضرت والا کی طرف زیادہ مائل ہے بلکہ بندہ نے اس سلسلہ میں استخارہ بھی کیا جس میں کچھ معلوم نہ ہو حتیٰ کہ سات یوم بیت گئے مگر پھر بھی کچھ بات آشکارا نہیں ہوئی۔ بعض اوقات بندہ نے آپ کی مجالس میں حاضر ہونے کا شرف بھی حاصل کیا۔ بندہ نے آپ کو اپنے حالات سے کچھ واقف کرنا چاہا کہ اس سلسلہ میں آسانی اور حضرت والا کی بالغ نظری کی مدد حاصل ہو کہ تعلق مع اﷲ اور قلبی راہ درست ہو اور اصلاح باطن و تزکیہ حاصل ہو۔ امید ہے کہ حضرت والا اس سلسلہ میں بندہ کی صحیح رہنمائی فرمائیں گے کہ بندہ والد کی رائے لے کر مدرسہ میں بیعت ہو یا اپنی دلی تمنا کے مطابق حضرت والا سے بیعت ہو۔</p>
<p>جواب: جس سے دلی مناسبت ہو اسی سے تعلق کرنا چاہیے کیونکہ نفع کا مدار مناسبت پر ہے ورنہ عمر بھر ساتھ رہو وصول الی اﷲ نصیب نہ ہوگا۔ میرا شعر ہے ؎</p>
<p>آنکھ سے آنکھ ملی دل سے مگر دل نہ ملا</p>
<p>عمر بھر نائو پہ بیٹھے رہے ساحل نہ ملا</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: حضرت والا آج کل مجھے ناشکری اور دنیا کی محبت کا احساس بہت بڑھ گیا ہے مارکیٹ میں جس دکاندار کو دیکھوں وہ روز افزوں ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ آج ایک دکان خرید رہا ہے تو کل کو دکان بڑھا رہا ہوتا ہے۔</p>
<p>جواب: اسی لیے حکم ہے کہ دنیا کے معاملہ میں اپنے سے کمتر کو دیکھو تو شکر پیدا ہوگا اور دین کے معاملہ میں اپنے سے برتر کو دیکھو تو دین میں ترقی کا شوق پیدا ہوگا۔ آپ جب اس کے خلاف کررہے ہیں تو ناشکری اور دنیا کی محبت کیوں پیدا نہ ہوگی۔</p>
<p>حال: حضرت والا یہ ضرور ہے کہ میرا کام میں دل نہیں لگتا۔سخت سست و نکما ہوں۔ حالانکہ آگے بڑھنے کے مواقع اب بھی مجھے حاصل ہیں۔ پر کیا کروں مجھ سے نہیں ہوپاتا۔ حضرت والا سے دعا کی عاجزانہ درخواست ہے کہ اﷲ تعالیٰ میرا کام میں دل لگا دے اور میری سستی و کاہلی کو چستی و پھرتی سے مبدل فرمادے آمین ثم آمین۔ اﷲ تعالیٰ مجھے اپنی مرضیات کے سائے میں بے حساب رزق حلال عطا فرمائے آمین‘ ثم آمین۔ اور کسی کی محتاجی میں نہ رکھے صرف اپنی محتاجی میں رکھے۔ آمین ثم آمین</p>
<p>حضرت والا شکرانے کے طور پر لکھ دیا کہ جب سے میری دکان کا آدمی چھٹی پر گیا ہوا ہے الحمدﷲ کام میں دل لگاتا ہوں اور یہ سب بھی حضرت والا دامت برکاتہم کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔</p>
<p>جواب: اﷲ تعالیٰ دنیا سے اتنا دل لگانے کی توفیق دے جتنا یہاں رہنا ہے اور آخرت سے اتنا دل لگانے کی توفیق دے جتنا وہاں رہنا ہے ؎</p>
<p>جو دین کے ہوئے انہیں دنیا مل بھی گئی</p>
<p>دنیا پہ جو مرے تھے وہ دیں کے نہیں رہے</p>
<p>اس لیے اﷲ والے ہوجائو دنیا خود پیچھے پیچھے آئے گی ورنہ ہائے دنیا ہائے دنیا کی ادھیڑ بن میں لگے رہو گے۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: چند احباب نے پوچھا ہے کہ غوث کسے کہتے ہیں اور قطب‘ ابدال کی تعریف کردیں۔ اور ہر زمانے میں ان کی کتنی تعداد ہوتی ہے۔</p>
<p>جواب: یہ اولیاء اﷲ کے درجات ہیں لیکن ان باتوں کے علم پر مغفرت و نجات موقوف نہیں اس لیے بزرگوں نے غیر ضروری معلومات کے درپے ہونے کو منع فرمایا ہے۔ سیدھے سیدھے سنت و شریعت پر عمل کرو۔ اسی سے سب درجات حاصل ہوتے ہیں۔</p>
<p>حال: جناب شیخ صاحب آپ کی کتاب کشکول معرفت خصوصیات امت محمدیہ میں ہے کہ بنی اسرائیل میں (نجاست کی جگہ لباس یا بدن کو کاٹنا پڑتا تھا) اسکی وضاحت کردیںتاکہ سمجھانے اور سمجھنے میں آسانی پیدا ہوجائے۔</p>
<p>جواب: اس سے زیادہ وضاحت کی تحقیق نہیں ہوسکی۔</p>
<p>حال: اس بات پر بڑی حیرانی ہوئی جب ایک تبلیغی بھائی نے بتایا کہ ہمارے کوہاٹ مرکز میں روزانہ سنت رسولﷺ کا مذاکرہ ہوتا ہے جس میں بتایا ہے کہ کھڑے ہوکر پھل کھانا سنت رسول ہے۔</p>
<p>جواب: اس تبلیغی بھائی یا مرکز سے معلوم کریں کہ اس کا حوالہ کیا ہے؟</p>
<p>حال: انگریزی میں نام اور پتہ لکھنے پر آپ سے معافی کا طلب گار ہوں۔ امید ہے کہ بندہ کو اس غلطی پر معاف فرمادیں گے جس کی آپ نے پچھلے خط میں تنبیہ فرمائی تھی کہ لفافہ پر اردو میں اپنا نام و پتہ کیوں نہیں لکھتے‘ اغیار کی غلامی کو چھوڑنا چاہیے۔</p>
<p>جواب: معافی کی ضرورت نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بے ضرورت غیروں کی زبان استعمال نہ کریں اور ضرورت میں حرج نہیں بلکہ تبلیغ دین کی نیت سے سیکھنا اور لکھنے بولنے میں مہارت حاصل کرنا بھی برا نہیں۔</p>
<p>حال: جناب شیخ صاحب ایک ساتھی نے پوچھا ہے کہ اگر ایک مرید کو ایک پیر سے خلافت مل جائے۔ بعد میں اس کا پیر صاحب فوت ہوجائے تو کیا وہ دوسرے پیر سے بیعت ہوگا یا کہ ضرورت نہیں۔</p>
<p>جواب: آخر دم تک کسی کو اپنا بڑا بنائے رہے اور اصلاح کا تعلق رکھے ‘ اگر بڑے نہ رہیں تو اپنے چھوٹوں سے ہی مشورہ کرلے‘ یہ حضرت تھانویؒ کی نصیحت ہے۔</p>
<p>حال: جناب شیخ صاحب بعض احباب بندہ کو سردرد کی شکایت کرتے ہیں یا دانت درد کے بارے میں تو میں کیا پڑھ کر دم کروں۔</p>
<p>جواب: ان کو بتادیں کہ جہاں درد ہوا پنا ہاتھ رکھ کر خود یہ دعا سات مرتبہ پڑھ لیں۔ بسم اﷲ بسم اﷲ بسم اﷲ اَعُوْذُبِاﷲِ وَقُدْرَتِہٖ مِنْ شَرِّمَا اَجِدُ وَ اُحَاذِرُ۔</p>
<p>…………………</p>
<p>حال: حضرت اقدس میں آپ کی بتائی ہوئی تسبیحات ۵؍سو دفعہ لا الہ اﷲ اور ایک تسبیح درود شریف اور باقی اعمال نظروں کی حفاظت ٹی وی سے بچنا اور پانچ وقت الحمدﷲ باجماعت نماز کی پابندی ہورہی ہے مگر حضرت والا سے گذارش ہے کہ ہر وقت ریاکاری کا خوف لگا رہتا ہے۔</p>
<p>جواب: خوف دلیل اخلاص ہے۔ ریا مخلوق کو دنیوی غرض سے عبادت کو دکھانے کا نام ہے مخلوق کے دیکھنے کا نام نہیں۔ ریا ایسی چیز نہیں کہ اڑ کے لگ جائے۔ ریاء تونیت سے ہوتی ہے لہٰذا نیت کو درست رکھیں۔</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F360.html&amp;linkname=%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F360.html&amp;linkname=%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F360.html&amp;linkname=%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F360.html&amp;linkname=%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F360.html&amp;linkname=%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F360.html&amp;linkname=%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C%20%D8%AE%D8%B7%D9%88%D8%B7%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/360.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>صراطِ مستقیم</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/358.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/358.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:41:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مضامین و مقالات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=358</guid>
		<description><![CDATA[ملفوظات حضرت پھولپوریؒ مرتب شیخ العرب والعجم عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم (گذشتہ سے پیوستہ) قرآن حکیم نے شراب کے قلیل منافع کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے نقصانات کثیرہ کو بیان فرمایا ہے اور یہ اسلام کی بہت بڑی صداقت کا بین ثبوت ہے کہ اسلام مشاہدات کا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ملفوظات حضرت پھولپوریؒ مرتب شیخ العرب والعجم عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم</p>
<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>قرآن حکیم نے شراب کے قلیل منافع کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے نقصانات کثیرہ کو بیان فرمایا ہے اور یہ اسلام کی بہت بڑی صداقت کا بین ثبوت ہے کہ اسلام مشاہدات کا انکار نہیں کرتا کیونکہ مشاہدات کا انکار کرنا باطل ہے۔</p>
<p>ان آیات مذکورہ کے بعد شراب کے متعلق حسب ذیل آیتیں نازل فرمائی گئیں۔</p>
<p>یا ایہا الذین اٰمنوا انما الخمروالمیسرو الانصاب والازلام رِجسٌمن عمل الشیطٰن فاجتنبوہ لعلکم تفلحونoانما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اﷲ وعن الصلوٰۃ فہل انتم منتہون (سورہ مائدہ)</p>
<p>ترجمہ: اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرعہ کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں سو اس سے بالکل الگ رہو تاکہ تم کو فلاح ہو شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض ڈال دے اور اﷲ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو اب بھی باز آئوگے۔</p>
<p>آیات مذکورہ بالا سے شراب کے متعلق مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں۔</p>
<p>(۱) انما الخمروا المسیرو الانصاب والازلام حق تعالیٰ اپنے مومنین بندوں کو اطلاع فرمارہے ہیں کہ تم کافروں کی ریت مت کرو یہ شراب اور جوا اور بت اور قرعہ کے تیر گندی باتیں اور شیطانی عمل ہیں۔</p>
<p>شراب کو جوا اور بت اور قرعہ کے تیر کے ساتھ ذکر فرماکر یہ بتادیا کہ شراب ایسی بری چیز ہے کہ جوا اور بت و قرعہ کے تیر جیسی بری باتوں میں صف اول کی چیز ہے شراب کو مقدم فرماکر اس کی زیادہ گندگی پر اشارہ فرمادیا۔</p>
<p>مسلمانو! غور کرو کہ شراب کو حق تعالیٰ نے بت پرستی کے ساتھ ذکر فرمایا ہے تاکہ اور نفرت پیدا ہو کہ یہ فعل کفر سے قریب ہے کیونکہ شراب نماز سے جو کہ اعظم شعار اسلام اور علامات ایمان سے ہے روک دیتی ہے جب اس طور پر ایمان سے بُعد ہوا تو کفر سے قرب ہوا۔</p>
<p>(۲) رجسٌ شراب کو حق تعالیٰ شانہ نے رجس فرمایا ہے یعنی شراب گندی چیز ہے۔ سبحان اﷲ کیا نفسیاتی علاج فرمایا ہے۔ طبعی نفرت کے بعد اب آگے شراب کی اور مضرتوں کو بغور سننے اور ماننے کی استعداد پیدا فرمادی قرآن کی حکمت و بلاغت کا ہم احاطہ ہی نہیں کرسکتے۔</p>
<p>نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی راسخن پایاں</p>
<p>بمیرد تشنہ مستسقی و دریا ہمچناں باقی</p>
<p>(۳) من عمل الشیطٰن شراب شیطانی عمل ہے۔ مسلمانو! غور کرو کہ ہم مومن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت پر ہمار ا ایمان ہے اور خدا تعالیٰ جس چیز کو شیطانی عمل فرمارہے ہیں اس کو ہم جائز کرنے کی تدبیریں کررہے ہیں۔ دعویٰ اطاعت کا اور عمل بغاوت کا۔ حق تعالیٰ شانہ نے شراب کو شیطانی عمل فرماکر یہ بتادیا کہ جس طرح شیطان خدا کی نافرمانی اور سرکشی سے مردود ہوا ہے شراب کے اندر بھی یہی خاصیت ہے یعنی شراب نوشی سے تمہارے اندر طغیانی اور بغاوت و نافرمانی کا مادہ پیدا ہوگا اور انجام کار مسلسل نافرمانیوں کی نحوست سے شیطان کی طرح مردود ہوجانے کا اندیشہ ہے۔</p>
<p>(۴) فاجتنبوہ سو اس سے الگ رہو مسلمانو! حق تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ شراب سے الگ رہو اور امر کا صیغہ استعمال فرمایا ہے جس سے شراب نوشی سے سخت پرہیز کا حکم ثابت ہورہا ہے۔ اب ہر مسلمان غور کرسکتا ہے کہ شراب سے الگ رہنے کا صاف حکم جو ہورہا ہے اس سے کیا کوئی اور مفہوم ہوسکتا ہے جیسا کہ بعض نادان یہ سمجھتے ہیں کہ شراب نوشی کی وہ مقدار حرام ہے جو نشہ آور ہو آیات قرانیہ میں آخر کہاں سے اس کا ثبوت موجود ہے کیا وحی الٰہی کے مقابلہ میں اپنی رائے کو استعمال کرنے کا حق کسی کو حاصل ہے؟</p>
<p>(۵) لعلکم تفلحون تاکہ تم کو فلاح ہو۔ مسلمانو! حق تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ تمہاری فلاح اسی میں ہے کہ تم شراب سے الگ رہو اس کے قریب بھی نہ جائو اور ہم آج اپنی کامیابی اور ترقی کا راز شراب نوشی میں منحصر سمجھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F358.html&amp;linkname=%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D8%B7%D9%90%20%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%DB%8C%D9%85" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F358.html&amp;linkname=%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D8%B7%D9%90%20%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%DB%8C%D9%85" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F358.html&amp;linkname=%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D8%B7%D9%90%20%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%DB%8C%D9%85" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F358.html&amp;linkname=%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D8%B7%D9%90%20%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%DB%8C%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F358.html&amp;linkname=%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D8%B7%D9%90%20%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%DB%8C%D9%85" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F358.html&amp;linkname=%D8%B5%D8%B1%D8%A7%D8%B7%D9%90%20%D9%85%D8%B3%D8%AA%D9%82%DB%8C%D9%85">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/358.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شرعی مسائل کے جوابات</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/356.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/356.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:39:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[مسائل اورجوابات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=356</guid>
		<description><![CDATA[{آخری قسط} قرض اور زکوٰۃ کا حکم قرض کی دو صورتیں ہیں: (۱) خود مالدار آدمی پر قرض ہو‘ خود اس نے دوسروں کا قرض ادا کرنا ہے‘ ایسے شخص کے پاس نصاب کی بقدر کسی قسم کا مال ہے لیکن اس پر اتنا قرض بھی ہے کہ اگر وہ قرض ادا کرے تو بقیہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>{آخری قسط}</p>
<p>قرض اور زکوٰۃ کا حکم</p>
<p>قرض کی دو صورتیں ہیں: (۱) خود مالدار آدمی پر قرض ہو‘ خود اس نے دوسروں کا قرض ادا کرنا ہے‘ ایسے شخص کے پاس نصاب کی بقدر کسی قسم کا مال ہے لیکن اس پر اتنا قرض بھی ہے کہ اگر وہ قرض ادا کرے تو بقیہ مال نصاب سے کم رہ جاتاہے تو اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے۔</p>
<p>کیونکہ حضرات فقہائے کرام کے نزدیک قرض ’’حاجات اصلیہ‘‘ میں شامل ہے جبکہ زکوٰۃ کے فرض ہونے کے لیے مال کا ’’حاجتِ اصلیہ‘‘ سے زائد ہوکر نصاب کی بقدر ہونا ضروری ہے۔ (حاجتِ اصلیہ کی تعریف اور اس سے متعلق ضروری تفصیل آپ زکوٰۃ کے فرض ہونے کی شرائط کے بیان میں پڑھ چکے ہیں)</p>
<p>قرضوں کی دو قسمیں: قرضوں کے سلسلے میں ایک بات اور سمجھ لینی چاہیے‘ وہ یہ کہ قرضوں کی دو قسمیں ہیں: ایک تو معمولی قرضے ہیں جن کو انسان اپنی ذاتی ضروریات اور ہنگامی ضروریات کے لیے مجبوراً لیتا ہے۔ دوسری قسم کے قرضے وہ ہیں جو بڑے بڑے سرمایہ دار پیداواری اغراض کے لیے لیتے ہیں۔</p>
<p>مثلاً: فیکٹریاں لگانے‘ یا مشینریاں خریدنے یا مال تجارت امپورٹ کرنے کے لیے قرضے لیتے ہیں یا مثلاً ایک سرمایہ دار کے پاس پہلے ہی سے دو فیکٹریاں موجود ہیں لیکن اس نے بینک سے قرض لے کر تیسری فیکٹری لگالی۔ اب اگر اس دوسری قسم کے قرضوں کو مجموعی مالیت سے منہا کیا جائے تو نہ صرف یہ کہ ان سرمایہ داروں پر ایک پیسے کی بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی بلکہ وہ لوگ الٹے مستحق زکوٰۃ بن جائیں گے‘ اس لیے کہ ان کے پاس جتنی مالیت کا مال موجود ہے‘ اس سے زیادہ مالیت کے قرضے بینک سے لے رکھے ہیں‘ وہ بظاہر فقیر اور مسکین نظر آرہا ہے۔ لہٰذا ان قرضوں کے منہا کرنے میں بھی شریعت نے فرق رکھا ہے۔</p>
<p>تجارتی قرضے کب منہا کئے جائیں: اس میں تفصیل یہ ہے کہ پہلی قسم کے قرضے تو مجموعی مالیت سے منہا ہوجائیں گے اور ان کو منہا کرنے کے بعد زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ اور دوسری قسم کے قرضوں میں یہ تفصیل ہے کہ اگر کسی شخص نے تجارت کی غرض سے قرض لیا‘ اور اس قرض کو ایسی اشیاء خریدنے میں استعمال کیا جو قابل زکوٰۃ ہیں‘ مثلاً اس قرض سے خام مال خرید لیا‘ یا مالِ تجارت خرید لیا‘ تو اس قرض کو مجموعی مالیت سے منہا کریں گے۔ لیکن اگر اس قرض کو ایسے اثاثے خریدنے میں استعمال کیا جو ناقابل زکوٰۃ ہیں تو اس قرض کو مجموعی مالیت سے منہا نہیں کرینگے۔</p>
<p>قرض کی مثال: مثلاً ایک شخص نے بینک سے ایک کروڑ روپے قرض لیے اور اس رقم سے اس نے ایک پلانٹ باہر سے امپورٹ کرلیا۔ چونکہ یہ پلانٹ قابلِ زکوٰۃ نہیں ہے اس لیے کہ یہ مشینری ہے تو اس صورت میں یہ قرضہ منہا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر اس نے اس قرض سے خام مال خرید لیا تو چونکہ خام مال قابل زکوٰۃ ہے اس لیے یہ قرض منہا کیا جائے گا۔ کیونکہ دوسری طرف یہ خام مال ادا کی جانے والی زکوٰۃ کی مجموعی مالیت میں پہلے سے شامل ہوچکا ہے۔</p>
<p>خلاصہ یہ ہے کہ نارمل قسم کے قرض تو پورے کے پورے مجموعی مالیت سے منہا ہوجائیں گے۔ اور جو قرضے پیداواری اغراض کے لیے لئے گئے ہیں‘ اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر اس سے ناقابل زکوٰۃ اثاثے خریدے ہیں تو وہ قرض منہا نہیں ہوگا اور اگر قابل زکوٰۃ اثاثے خریدے ہیں تو وہ قرض منہا ہوگا۔</p>
<p>(۲) کسی شخص کے پاس دوسرے لوگوں پر قرض ہو جو اس نے ان سے وصول کرنا ہے۔</p>
<p>’’قرض‘‘ سے کیا مراد ہے؟</p>
<p>یہاں قرض سے مراد ہر وہ چیز ہے جو کسی کے ذمہ واجب ہو خواہ وہ کسی بھی وجہ سے ہو خواہ وہ دوسروں کے ذمہ واجب ہونے والی چیز رقم ہو یا سامان یا اور کوئی چیز۔ فقہ کی زبان میں ایسی چیز کو’’دین‘‘ کہتے ہیں۔ اردو میں سمجھانے کے لی اسے قرض کہہ دیا جاتا ہے حالانکہ خود قرض ’’دین‘‘ کا ایک فرد ہے۔ ہر قرض کو ’’دین‘‘ کہہ سکتے ہیںلیکن ہر دین کا قرض ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔</p>
<p>ایسا دین اور قرض جو دوسروں سے وصول کرنا ہے اس پر زکوٰۃ کا حکم سمجھنے کے لیے دین کی اقسام سمجھنا ضروری ہیں۔ دین کی تین قسمیں ہیں:</p>
<p>(۱)دین قوی (۲)دین متوسط (۳)دین ضعیف</p>
<p>دین قوی کی تعریف: دین قوی کی دو صورتیں ہیں:</p>
<p>(ا) کسی شخص کو نقدی یا سونا چاندی کچھ مدت کے لیے بطور قرض دیا ہے جو مقررہ مدت کے بعد اس سے وصول کرنا ہے۔</p>
<p>مثال: (الف) محسن نے حسیب کو ایک ہزار روپیہ بطور قرض دیا جو ایک ماہ کے بعد اس سے وصول کرنا ہے۔ اسے یوں کہیں گے کہ محسن کا حسیب پر ’’دین قوی‘‘ ہے۔</p>
<p>(ب) ہر وہ مال جو کسی کے ذمہ اس لیے واجب ہو کہ اسے مال تجارت بیچا ہو۔</p>
<p>مثال: فرحان کی کمپیوٹر کی دکان ہے۔ اس نے دو مہینے کے ادھار پر سلیمان کو ایک کمپیوٹر بیچ دیا جس کی قیمت پندرہ ہزار روپے طے ہوئی۔ اسے یوں کہیں گے کہ فرحان کا سلیمان پر پندرہ ہزار ’’دین قوی‘‘ ہے۔</p>
<p>دین قوی پر زکوٰۃ کا حکم: اس قسم کے دین پر تمام ائمہ کے ہاں زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے تاہم اس زکوٰۃ کا ادا کرنا اس وقت فرض ہوتا ہے جب وہ دین مکمل وصول ہوجائے یا کم از کم ساڑھے دس تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم وصول ہوجائے‘ اگر کسی شخص نے کئی برسوں کے بعد دین قوی ادا کیا ہے تو لینے والے پر گزشتہ تمام برسوں کی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>ظظظظظ</p>
<p>دین متوسط تعریف:</p>
<p>اگر کوئی شخص دوسرے کو ایسی چیز ادھار بیچ دے جو مال تجارت نہ ہو تو ایسی چیز کے بدلے جو دین خریدار کے ذمہ واجب ہو اسے ’’دین متوسط‘‘ کہتے ہیں۔</p>
<p>مثال: جیسے کوئی شخص اپنی حاجت اصلیہ میں سے کوئی چیز بیچ دے مثلاً پہننے کے کپڑے‘ گھر کا اسباب‘ استعمال کی گاڑی‘ اسلحہ وغیرہ کسی کو ادھار بیچ دیا۔ تو ان چیزوں کے بدلے خریدار پر جو ادائیگی واجب ہے وہ دین متوسط ہے۔</p>
<p>دین متوسط پر زکوٰۃ کا حکم:</p>
<p>دین متوسط پر زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے لیکن ادا کرنا کب فرض ہوتا ہے اس میں ائمہ احنافؒ کا اختلاف ہے۔</p>
<p>سیدنا امام اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک جب تک یہ شخص اپنے مدیون (مقروض) سے دین میں سے نصاب کی بقدر وصول نہ کرلے۔ اس وقت تک زکوٰۃ ادا کرنا فرض نہیں ہوتا۔</p>
<p>مگر امام اعظمؒ کے دونوں جلیل القدر شاگرد حضرت امام ابو یوسفؒ اور حضرت امام محمدؒ ارشاد فرماتے ہیں اگر کسی شخص کو اپنے دین متوسط سے کچھ بھی رقم وصول ہوجائے تب بھی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہوجاتا ہے خواہ وہ وصول ہونے والی رقم نصاب سے کم ہی کیوں نہ ہو۔</p>
<p>مثال سے وضاحت:</p>
<p>کسی شخص نے دوسرے آدمی کو گھر کے استعمال کا فرنیچر ادھار بیچ دیا جس کی قیمت دوسوتولہ چاندی مقرر کی گئی ایک سال کے بعد اسے پچاس تولہ چاندی وصول ہوگئی اور ایک سوپچاس تولہ اس کے ذمہ بطور دین متوسط باقی رہ گئی اس شخص پر بالاتفاق زکوٰۃ فرض ہوچکی ہے لیکن زکوٰۃ ادا کرنا کب ضروری ہے؟</p>
<p>تو اس کے بارے میں حضرت امام اعظمؒ کے مذہب کے مطابق جو چاندی سال کے بعد وصول ہوئی ہے چونکہ چاندی کے مقررہ نصاب ساڑھے باون تولہ سے کم ہے لہٰذا اس پر فی الحال زکوٰۃ ادا کرنا فرض نہیں ہے‘ جب تک وصول ہونے والی چاندی نصاب کے بقدر نہ ہوجائے۔</p>
<p>چند ہفتوں کے بعد مزید پانچ تولے چاندی وصول ہوگئی تو اب چونکہ مجموعی طور پر وصول ہونے والی چاندی پچپن تولہ ہوچکی ہے لہٰذا حضرت امام اعظمؒ کے نزدیک زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہوچکا ہے۔</p>
<p>اسی صورت میں حضرات صاحبینؒ کے نزدیک جب اسے پچاس تولہ چاندی وصول ہوچکی تھی اس وقت ہی ادا کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ اگرچہ وہ نصاب سے کم ہی کیوں نہ تھی۔</p>
<p>اس اختلاف میں فتویٰ حضرت امام اعظمؒ کے مذہب پر دیا جاتا ہے۔</p>
<p>آدمی جس وقت دین متوسط کا مالک ہوجائے اور وہ دین نصاب کی بقدر ہو تو زکوٰۃ اسی وقت فرض ہوجاتی ہے لیکن اگر وہ دین کئی برسوں کے بعد وصول ہوا تو سب برسوں کی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہوجاتی ہے۔</p>
<p>ظظظظظ</p>
<p>دین ضعیف کی تعریف:</p>
<p>دین ضعیف وہ دین ہوتا ہے جو دوسروں کے ذمہ میں ایسی چیز کے بدلے میںواجب ہو جو سرے سے مال ہی نہ ہو۔</p>
<p>مثال: جیسے مہر کی رقم شوہر کے ذمہ واجب ہوتی ہے چونکہ یہ عقدِ نکاح کے بدلے میں واجب ہوتی ہے جو کہ مال نہیں ہے لہٰذا مہر بیوی کے لیے شوہر پر دین ضعیف ہے۔</p>
<p>مثال: اگر کسی سے ایسا قتل ہوجائے جس کی وجہ سے قاتل پر دیت آتی ہو یا قصاص آتا ہو مگر مقتول کے ورثاء دیت لینے پر قاتل سے صلح کرلیں۔ تو چونکہ دیت کی رقم کسی تجارتی یا غیر تجارتی مال کے بدلے میں واجب نہیں ہوئی بلکہ قتل کے بدلے میں ہے جو سرے سے مال ہی نہیں ہے اسے یوں کہیں گے کہ قاتل پر مقتول کے ورثاء کے لیے دیت کی رقم ’’دین ضعیف‘‘ ہے۔</p>
<p>مثال:کسی عورت نے گھریلو ناچاقی کی بنیاد پر اپنے شوہر سے خلع کرلیا اور خلع کے عوض میں جو رقم طے کی (جسے فقہ کی اصطلاح میں ’’بدل خلع‘‘ کہتے ہیں) یہ رقم بیوی کے ذمہ شوہر کے لیے دین ضعیف ہے کیونکہ یہ فسخ نکاح (نکاح توڑنے) کے بدلے میں واجب ہوئی ہے جو کہ مال نہیں ہے۔</p>
<p>مثال: کسی شخص نے مرتے وقت بلال کے لیے وصیت کردی کہ مرنے کے بعد میری جائیداد میں سے فلاں دکان یا دس ہزار روپے بلال کو دے دیئے جائیں۔ تو وصیت کی یہ دکان یا رقم بلال کے لیے چونکہ بغیر کسی عوض یا مال کے ورثاء کے ذمہ واجب ہے لہٰذا اسے یوں کہیں گے کہ فلاں دکان یا دس ہزار روپے بلال کا ورثاء کے ذمہ ’’دین ضعیف‘‘ ہے۔</p>
<p>دین ضعیف پر زکوٰۃ کا حکم:</p>
<p>دین ضعیف پر زکوٰۃ کا حکم یہ ہے کہ جب تک درج ذیل شرائط نہ پائی جائیں زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی:</p>
<p>(۱) دین ضعیف پر قبضہ کرلے (یعنی وصول ہوجائے)۔</p>
<p>(۲) دین ضعیف نصاب کی بقدر ہو۔</p>
<p>(۳) دین ضعیف پر قبضہ کے بعد حولانِ حول ہوجائے یعنی مکمل سال گزرجائے۔</p>
<p>لہٰذا دین ضعیف کی وصولی میں اگر کئی برس گزرجائیں تو وصول ہونے کے بعد گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ فرض نہیں ہوگی۔</p>
<p>ظظظظظ</p>
<p>پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ:</p>
<p>سرکاری ملازم کو ریٹائر ہونے کے بعد جو پراویڈنٹ فنڈ ملتا ہے جب تک وہ ملازم کو نہ ملے اس پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی کیونکہ یہ فنڈ دین ضعیف میں شامل ہے۔</p>
<p>حج کے لیے جمع شدہ رقم پر زکوٰۃ:</p>
<p>جو رقم حج کے لیے رکھی ہے اس کے لیے دو صورتیں ہیں:</p>
<p>(۱) اگر وہ رقم اپنے پاس موجود ہے تو سال پورا ہونے پر زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے۔</p>
<p>(۲) اگر وہ حکومت کو جمع کراچکا ہے تو وہ رقم جو آمدورفت کا کرایہ اور معلم وغیرہ کی فیس کاٹنے کے بعد اپنے ذاتی خرچ کے لیے حاجی کو ملتی ہے سال پورا ہونے پر اس رقم کی زکوٰۃ نکالنا واجب ہے۔</p>
<p>ظظظظظ</p>
<p>زکوٰۃ کے نصاب سے متعلق مندرجہ بالا تفصیل سمجھنے کے بعد ایک نظر میں ان تمام اموال کو ملاحظہ کیجئے جن پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اور وہ قابل زکوٰۃ اثاثے کہلاتے ہیں۔</p>
<p>اور وہ اموال جن پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی‘ یہ ناقابل زکوٰۃ اثاثے کہلاتے ہیں۔</p>
<p>مزید تفصیل کے لیے درج ذیل ’’نقشہ‘‘ ملاحظہ فرمائیں:</p>
<p>نمبر</p>
<p>قابل زکوٰۃ اثاثے</p>
<p>ناقابل زکوٰۃ اثاثے</p>
<p>۱</p>
<p>سونا 7.50تولہ</p>
<p>رہائشی مکان (ایک ہو یا زیادہ)</p>
<p>۲</p>
<p>چاندی 52.50 تولہ</p>
<p>دکان (دکان کا مال قابل زکوٰۃ ہے)</p>
<p>۳</p>
<p>کرنسی (روپیہ‘ دینار‘ ڈالر‘ یورو وغیرہ)</p>
<p>فیکٹری کی زمین</p>
<p>۴</p>
<p>بینک میں جمع شدہ رقم</p>
<p>فیکٹری کی مشین</p>
<p>۵</p>
<p>جمع کرائی ہوئی کمیٹی</p>
<p>دکان‘ گھر‘ دفتر‘ فیکٹری کا فرنیچر</p>
<p>۶</p>
<p>دکان یا گودام میں جمع کیا ہوا مال</p>
<p>زرعی زمین</p>
<p>۷</p>
<p>تجارت کی نیت سے خریدا ہوا پلاٹ</p>
<p>کرایہ پر دیا ہوا مکان‘ دکان یا فلیٹ (یاد رہے کہ کرایہ قابل زکوٰۃ ہے)</p>
<p>۸</p>
<p>جمع کرائی ہوئی حج کی اتنی رقم‘ جو معلم کی فیس‘ کرایہ جات کاٹ کر حاجی کو واپس کردی جاتی ہے</p>
<p>مکان‘ دکان‘ اسکول یا فیکٹری بنانے کے لیے خریدا ہوا پلاٹ</p>
<p>۹</p>
<p>کارخانہ کا تیار مال</p>
<p>کرایہ پر چلانے کے لیے ٹرانسپورٹ (ٹیکسی‘ رکشہ‘ ٹرک‘ منی بس‘ لانچ)</p>
<p>۱۰</p>
<p>کارخانے کا وہ مال جو تیاری کے مراحل میں ہے</p>
<p>لیئر مرغی (انڈے‘ مال تجارت میں شامل ہوکر قابل زکوٰۃ ہیں)</p>
<p>۱۱</p>
<p>کمپنی کے شیئرز</p>
<p>۱۲</p>
<p>وہ قرضہ جو دوسروں سے وصول کرنا ہے</p>
<p>۱۳</p>
<p>کسی کے پاس امانت رکھی ہوئی رقم</p>
<p>۱۴</p>
<p>جنگل میں چرنے والے جانور</p>
<p>۱۵</p>
<p>برائیلر مرغی</p>
<p>انتباہ! فیکٹری کی مشینری اور فرنیچر قابل زکوٰۃ اثاثے میں شامل نہیں ہے لیکن اگر کسی شخص نے ایسی دکان بنائی جس میں مشینری یا فرنیچر بکتا ہو تو اب یہ اشیاء ’’مال تجارت‘‘ ہونے کی وجہ سے قابل زکوٰۃ اثاثوں میں شامل ہیں۔</p>
<p>ظظظظظ</p>
<p>زکوٰۃ کا خود تشخیصی فارم</p>
<p>ذیل میں ایک فارم کا ذکر کیا جارہا ہے جس کی مدد سے زکوٰۃ کا حساب نکالنا بہت آسان ہوجاتا ہے</p>
<p>(۱) سونا: (کسی بھی شکل میں کسی بھی مقصد کے لیے ہو، نیز دیکھئے ہدایت نمبر ا) ……</p>
<p>(۲) چاندی:(کسی بھی شکل میں کسی بھی مقصد کے لیے ہو‘ نیز دیکھئے ہدایت نمبر ۱) ……</p>
<p>(۳) نقد رقم:</p>
<p>(ا) ہاتھ میں بینک بیلنس‘ کسی کے پاس امانت رکھی ہوئی۔ ……</p>
<p>(ب) غیر ملکی کرنسی (پاکستانی روپے میں قیمت لکھی جائے) ……</p>
<p>(۴) قابل وصول قرضے: (Receiveables) (دیکھئے ہدایت نمبر۲)</p>
<p>(ا) کسی کو دیا ہوا قرض ……</p>
<p>(ب) بیچی ہوئی اشیاء کی واجب الوصول رقم ……</p>
<p>(ج) نقد پذیر مالی دستاویزات جیسے ڈرافٹ‘ چیک بل آف ایکسچینج</p>
<p>ہر قسم کے بچت سرٹیفکیٹ‘ ہر قسم کے بانڈز اور گورنمنٹ سیکورٹیز وغیرہ۔ ……</p>
<p>(د) کمیٹی (بی سی) کی جو قسطیں اب تک جمع کرائی گئی ہیں۔ ……</p>
<p>(و) کسی بھی قسم کا قابل واپسی زر ضمانت جو کہیں جمع کرایا گیا ہو۔ ……</p>
<p>(۵) مال تجارت: (دیکھئے ہدایت نمبر۳)</p>
<p>(ا) خام مال (Raw Material) ……</p>
<p>(ب) تیار کردہ مال برائے فروخت ……</p>
<p>(ج) کمپنیوں کے شیئرز (دیکھئے ہدایت نمبر ۴) ……</p>
<p>(د) دیگر ایسی اشیاء اور جائیداد جنہیں نفع پر بیچنے کی نیت سے ہی خریدا گیا ہو اور اب تک یہ نیت برقرار ہو۔ ……</p>
<p>قابل زکوٰۃ مجموعی مالیت: ( Gross Zakatable Worth)</p>
<p>مالی ذمہ داریاں:</p>
<p>(ا) ملازمین کی تنخواہ جو اب تک واجب الادا ہوچکی ہے۔ ……</p>
<p>(ب) ٹیکس جو اب تک واجب الادا ہوچکا ہے۔ ……</p>
<p>(ج) یوٹیلیٹی بلز (فون‘ بجلی‘ گیس وغیرہ) ……</p>
<p>(د) گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ کی وہ رقم جو ابھی تک ادا نہیں کی گئی۔ ……</p>
<p>(ہ) کمیٹی اگر آپ وصول کرچکے ہیں تو اس کی باقی ماندہ اقساط جو آپ نے دینی ہیں۔ ……</p>
<p>(و) لیا ہوا قرض (دیکھئے ہدایت نمبر۵) اور دیگر ہر ایسی رقم جو کسی کی آپ کے ذمے واجب الادا ہوچکی ہے۔جیسے کرایہ مہر وغیرہ۔ ……</p>
<p>مجموعی مالی ذمہ داریاں:</p>
<p>قابل زکوٰۃ صافی رقم مالی ذمہ داریاں تفریق مجموعی قابل زکوٰۃ مالیت</p>
<p>واجب الاداء زکوٰۃ کی رقم 40=÷</p>
<p>(قابل زکوٰۃ مجموعی مالیت میں سے مالی ذمہ داریاں تفریق کریں‘ باقی کو 40پر تقسیم کرلیں۔ حاصل تقسیم واجب الادا مالیت ہے۔)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<p>فارم پُر کرنے کے لیے ہدایات</p>
<p>(۱)… سونے اور چاندی کے زیور اگر تجارت کے لیے ہیں تو نگینوں وغیرہ کی قیمت بھی لگائی جائے اور اگر استعمال کے لیے ہیں تو نگینوں اور بناؤٹ وغیرہ کی قیمت شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>(۲)… دوسروں کے ذمے آپ کے لئے واجب الاد ایسی رقوم جن کی وصولی کی امید نہ رہی ہو درج کرنے کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>(۳)… مال تجارت ایسی چیز ہے جو بیچ کر نفع کمانے کی نیت سے خریدی گئی ہو اور یہ نیت ابھی تک برقرار ہو‘ خواہ اس چیز کو اسی شکل میں بیچنا ہو یا اس سے کچھ اور بناکر‘ اگر چیز خریدی ہی نہیں گئی بلکہ وراثت یا ہبہ وغیرہ سے حاصل ہوئی ہے‘ یا خریدی تو ہے لیکن بیچنے کی نیت سے نہیں اگرچہ اب بیچنے کی نیت کرلی ہو‘ یا بیچنے کی نیت سے خریدی تھی لیکن اب نیت بدل گئی تو ایسا مال مالِ تجارت نہیں کہلائے گا۔</p>
<p>(۴)… کمپنی شیئرز اگر مہنگا ہونے پر بیچنے (Capital Gain) کے لیے خریدے ہیں تو ان کی پوری بازاری قیمت (Market Value) لکھی جائے اور اگر سالانہ منافع حاصل کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں تو کمپنی کے کل اثاثوں میں قابل زکوٰۃ اثاثوں کی جو نسبت ہے‘ شیئرزکی مارکیٹ ویلیو کی اسی نسبت سے زکوٰۃ فرض ہے‘ لیکن احتیاطاً پوری مارکیٹ ویلیو لگالینا مناسب ہے۔</p>
<p>(۵)… قرض اگر کاروبار کے لیے نہیں بلکہ ذاتی ضرورتوں کے لئے لیا ہے تو اسے مالی ذمہ داریوں والے حصے میں درج کیا جائے اور اگر کاروبار کے لیے لیا ہے تو اگر اس سے قابل زکوٰۃ اثاثے خریدے ہیں جیسے خام مال اشیاء تجارت وغیرہ تو بھی اسے یہاں درج کیا جائے اور اگر اس سے کاروبار کے لیے ناقابل زکوٰۃ اثاثے خریدے ہیں جیسے مشینری وغیرہ تو اس قرض کو یہاں درج نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>(۶)… اس بات کا خیال رہے کہ کسی چیز کا دوہرا اندراج (Double Entry) نہ ہو مثلاً سونا‘ چاندی کالم نمبر 1نمبر2میں لکھ چکے ہیں تو وہی سونا چاندی دوبارہ مال تجارت والے حصے میں نہ لکھا جائے‘ اسی طرح چیک بانڈز وغیرہ کو نقد رقم میں شامل کرچکے ہیں تو قابل وصول حصے میں اسے نہ لکھا جائے۔</p>
<p>(۷)…ہر مد (Item) میں وہی مقدار معتبر ہوگی جو سال پورا ہونے کی تاریخ کو آپ کے پاس ہے‘ جو کچھ درمیان سال میں خرچ ہوچکا ہے اسے درج نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>( ۸)… شرعاً گھر کے ہر فرد کی ملکیت الگ الگ سمجھی جاتی ہے‘ اس لیے فارم بھی ہر بالغ فردکا الگ پُر کیا جائے‘ مشترکہ کاروبار کا مستقل فارم پُر کرکے تمام شرکاء کی رضامندی سے مشترکہ زکوٰۃ نکالی جاسکتی ہے۔</p>
<p>ظظظظظ</p>
<p>زکوٰٰۃ کے مصارف</p>
<p>وہ لوگ جنہیں زکوٰۃ دینا جائز ہے زکوٰۃ کے ’’مصرف‘‘ کہلاتے ہیں۔ قرآن حکیم میں اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں زکوٰۃ کے مصارف ارشاد فرمائے ہیں:</p>
<p>انما الصدقات للفقرآء والمسٰکین والعملین علیہا والمؤلفۃ قلوبہم وفی الرقاب والغارمین وفی سبیل اﷲ وابن السبیل ط فریضۃ من اﷲ ط واﷲ علیمٌ حکیمٌ o (التوبہ: ۶۰)</p>
<p>ترجمہ: زکوٰۃ تو ان لوگوں کاحق ہے جو فقیر ہیں اور جو مسکین ہیں اور جو زکوٰۃ کے کام پر جانے والے ہیں اور جن کی دلجوئی کرنا مقصود ہے اور گردنوں کے چھڑانے میں اور قرضداروں کے قرضہ (ادا کرنے) میں اور جہاد میں اور مسافروں میں‘ یہ حکم اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے اور اﷲ تعالیٰ بڑے علم والے اور بڑی حکمت والے ہیں۔(معارف القرآن ۴/۳۹۲)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<p>قرآن کریم نے زکوٰۃ کے مصارف کی آٹھ قسمیں ذکر فرمائی ہیں جن پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔ ان آٹھ میں سے ایک قسم حضرت عمر فاروق کے سنہری دورخلافت میں حضرات صحابہ کرامؓ کے اجماع اور اتفاق سے ختم ہوچکی ہے لہٰذا اب زکوٰۃ کے آٹھ کے بجائے ساتھ مصرف ہیں۔ وہ مصرف جو ختم ہوچکا ہے وہ المؤلفۃ قلوبہم ہے۔</p>
<p>المؤلفۃ قلوبہم کی تفصیل:</p>
<p>اسلام کے ابتدائی دور میں جو لوگ لوگ مسلمان ہوتے تھے ان نو مسلموں کی دل جوئی اور ایمان پر استقامت کی غرض سے ان کو زکوٰۃ دینا جائز تھا لیکن جب اسلام کی حقانیت اور سچائی دوپہر کے سورج کی طرح واضح ہوگئی تو یہ مصرف ختم کردیا گیا یہ ان دنوں کی بات ہے جب حضرت فاروق اعظمؓ کے تابناک دورِ خلافت کا ڈنکا چاردانگ عالم میں بج رہا تھا۔</p>
<p>بقیہ مصارف کی تفصیل نمبر وار یہ ہے:</p>
<p>(۱) فقیر کی تعریف:</p>
<p>اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس نصاب سے کم مال ہو (اور ہر قسم کے نصاب کی تفصیل گذر چکی ہے) چنانچہ ایسے لوگ جن کے پاس نصاب سے کم مال ہوا نہیں زکوٰۃ دینا جائز ہے‘ اگرچہ وہ تندرست اور کمانے پر قادر ہوں لیکن انہیں خود زکوٰۃ کا سوال کرنا جائز نہیں ہے۔</p>
<p>(۲) مسکین کی تعریف:</p>
<p>مسکین وہ شخص ہوتا ہے جس کی ملکیت میں کچھ بھی مال نہ ہو۔ فقیر اور مسکین میں یہ بات قدر مشترک ہوتی ہے کہ دونوں کے پاس بقدر نصاب مال نہیں ہوتا۔</p>
<p>(۳) العٰلمین علیہا کی تعریف:</p>
<p>اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو حکومت اسلامیہ کی طرف سے لوگوں سے زکوٰۃ اور عشر وصول کرنے پر مامور ہوں۔ ان لوگوں کو بھی ان کے کام کی بقدر زکوٰۃ میں سے اجرت دینا جائز ہے اگرچہ یہ لوگ مال دار ہی کیوں نہ ہوں۔</p>
<p>(۴) الغارمین (یعنی مقروض) کی تعریف:</p>
<p>اس سے مراد وہ شخص ہے جس پر اتنا قرضہ ہے کہ قرضہ ادا کرنے کے بعد اس کے پاس اتنا مال نہیں بچتا جو نصاب کی بقدر ہو۔ لہٰذا مقروض کا قرض ادا کرنے کے لیے مقروض کو زکوٰۃ کی رقم دینا جائز ہے۔</p>
<p>(۵) فی سبیل اﷲ کی تعریف:</p>
<p>فی سبیل اﷲ وہ لوگ ہیں جو اﷲ کے راستے میں دین کی سربلندی کے لیے نکلے ہوں‘ خواہ وہ جہاد میں نکلے ہوں یا تعلیم کے سلسلے میں مدرسے میں آئے ہوں‘ یا دعوت و تبلیغ کے لیے نکلے ہوں یا حج بیت اﷲ کے لیے آئے ہوں۔</p>
<p>سفر کے دوران ان لوگوں کا مال و اسباب ختم ہوجائے اور یہ محتاج اور فقیر ہوجائیں تو انہیں زکوٰۃ دینا جائز ہے اگرچہ یہ لوگ اپنے گھر اور وطن میں غنی اور مالدار ہی کیوں نہ ہوں۔</p>
<p>(۶) ابن السبیل (مسافر) کی تعریف:</p>
<p>اس سے مراد وہ مسافر ہے جو گھر اور وطن میں مالدار ہو مگر سفر کے دوران اس کا مال چوری ہوگیا یا کسی وجہ سے ضائع ہوگیا اب اس کے گھر پہنچنے کا خرچ بھی نہیں اور فوری گھر سے منگوانے کی کوئی صورت نہیں ہے تو اسے بھی زکوٰۃ دینا جائز ہے۔</p>
<p>اگر کسی شخص پر زکوٰۃ فرض ہے تو اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ زکوٰۃ کی رقم ان تمام مصارف یا بعض مصارف میں خرچ کردے اور یہ بھی جائز ہے کہ کسی ایک ہی مصرف کو ساری رقم دے دے۔</p>
<p>لیکن ایک ہی مصرف کو اتنی رقم دینا کہ وہ مصرف خود مالدار ہوجائے اور اس پر زکوٰۃ فرض ہوجائے مکروہ ہے اگرچہ ایسا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے۔</p>
<p>ظظظظظ</p>
<p>ان لوگوں کا بیان جنہیں زکوٰۃ دینا جائز نہیں</p>
<p>درج ذیل سطور میں ان افراد کو بیان کیا جاتا ہے جنہیں زکوٰۃ کی رقم دینا جائز نہیں ہے:</p>
<p>(۱) کافر کو زکوٰۃ دینا: کافر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے‘ اسی طرح کافر کو صدقۃ الفطر‘ عشر‘ نذر اور کفارات کی رقم دینا جائز نہیں ہے‘ ان کے علاوہ اور کوئی نفلی صدقہ دے سکتے ہیں۔</p>
<p>(۲) مالدار کو زکوٰۃ دینا: مالدار کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے اور شریعت مطہرہ کی نظر میں ہر وہ شخص مالدار ہے جس کے پاس نصاب کی بقدر مال موجود ہو۔ (نصاب کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں)</p>
<p>(۳) مالدار کی نابالغ اولاد کو زکوٰۃ دینا: یاد رہے کہ جیسے خود مالدار کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے‘ ایسے ہی مالدار کی نابالغ اولاد کو بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے‘ کیونکہ نابالغ اولاد اپنے مال و دولت اور فقر و غناء میں اپنے باپ کے تابع ہوتی ہے۔</p>
<p>البتہ (۱) مالدار شخص کی بالغ اولاد کو جو محتاج اور فقیر ہوں‘ یا (۲)مالدار آدمی کی بیوی کو جو فقیر ہو‘ یا (۳)اور مالدار شخص کے والدین اور دیگر رشتے داروں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے‘ بشرطیکہ وہ مستحق ہوں۔وجہ یہ ہے کہ شریعت میں ہر ایک کی ملکیت کا الگ الگ اعتبار ہے اور ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے تابع نہیں ہے۔</p>
<p>(۴) اپنے اصول (آبائ) کو زکوٰۃ دینا: اپنے اصول کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے‘ اصول سے مراد وہ آباء و اجداد ہیں جن سے یہ پیدا ہوا ہے۔ جیسے ماں‘ باپ‘ دادا‘ نانا‘ نانی وغیرہ۔</p>
<p>(۵) اپنے فروع کو زکوٰۃ دینا: اپنے فروع کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے اور فروع سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جو اس سے پیدا ہوئے ہیں۔ جیسے بیٹا‘ پوتا‘ نواسہ‘ نواسی وغیرہ۔</p>
<p>(۶) میاں بیوی کو زکوٰۃ دینا: میاں کا اپنی بیوی کو اور بیوی کا اپنے شوہر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔ نمبر ۴‘ نمبر۵‘ نمبر۶ کی وجہ یہ ہے کہ یہ تین رشتے ایسے ہیں کہ عموماً آدمی ان کے مال سے استفادہ کرتا ہیُ ان کے مالدار ہونے کا یا فقیر ہونے کا اثر اس آدمی پر ظاہر ہوجاتا ہے لہٰذا ان کو زکوٰۃ دینا خود اپنے آپ کو زکوٰۃ دینا ہے‘ گویا وہ زکوٰۃ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقل کردی گئی۔ان کے علاوہ باقی جتنے رشتے دار ہیں جیسے بھائی‘ چچا‘ ماموں‘ بہن‘ خالہ وغیرہ ان میں چونکہ یہ بات نہیں پائی جاتی لہٰذا انہیں زکوٰۃ دینا جائز ہے۔</p>
<p>(۷) رفاہی اداروں میں زکوٰۃ دینا: ہر ایسی جگہ زکوٰۃ کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں ہے جہاں تملیک کی شرط نہ پائی جائے۔ جیسے مسجد یا مدرسے کی تعمیر کرنا‘ کسی لاوارث میت کی تجہیز و تکفین کرنا‘ کنواں کھودنا‘ یا کسی بھی رفاہی کام میں خرچ کرنا۔</p>
<p>(۸) بنی ہاشم کو زکوٰۃ دینا: سادات اور بنی ہاشم کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے‘ ان سے مراد وہ حضرات ہیں جو حضرت عباس یا حضرت جعفر‘ یا حضرت عقیل‘ یا حضرت علی یا حضرت حارث بن عبدالمطلب رضی اﷲ عنہم اجمعین کی اولاد میں سے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح وہ صدقہ جو زکوٰۃ کی طرح واجب ہو جیسے صدقۃ الفطر‘ نذر‘ کفارہ اور عشر بھی انہیں دینا درست نہیں ہے۔ حضرات سادات کی شرافت کا تقاضہ یہ ہے کہ انہیں یہ اموال نہ دیئے جائیں‘ البتہ صدقہ‘ نافلہ‘ اور ہدیہ وغیرہ سے ان کی مدد کی جائے۔</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F356.html&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F356.html&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F356.html&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F356.html&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F356.html&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F356.html&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%D8%A7%D8%AA">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/356.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خانقاہ اور جامعہ کے شب و روز</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/354.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/354.html#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 31 Aug 2010 03:37:18 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=354</guid>
		<description><![CDATA[مولانا ارشاد اعظم صاحب ناظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی۔ مہتمم جامعہ کے اسفار جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ ۲۱؍ رجب المرجب ۱۴۳۱ھ بروز اتوار صبح سوا چھ بجے کراچی سے روانہ ہوئے‘ جناب سلمان گھانچی صاحب اور آصف انصاری صاحب بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ صبح آٹھ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مولانا ارشاد اعظم صاحب<br />
ناظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی۔</p>
<p>مہتمم جامعہ کے اسفار</p>
<p>جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ ۲۱؍ رجب المرجب ۱۴۳۱ھ بروز اتوار صبح سوا چھ بجے کراچی سے روانہ ہوئے‘ جناب سلمان گھانچی صاحب اور آصف انصاری صاحب بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ صبح آٹھ بجے حیدر آباد پہنچے‘ جامعہ عمر (ہالہ ناکہ) میں ناشتہ کا اہتمام کیا گیا‘ تقریباً ساڑھے دس بجے ٹنڈو الہٰ یار کے لیے روانگی ہوئی۔ ایک بجے دارالعلوم ٹنڈو الہٰ یار کی جامع مسجد میں ختم بخاری کی تقریب میں خطاب فرمایا‘ بخاری شریف کی پہلی حدیث کے راوی حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور آخری حدیث کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے حالات و واقعات نہایت والہانہ انداز میں بیان فرمائے‘ بعد ازاں میر پور خاص پہنچے‘ تقریباً ڈھائی بجے مدینہ مسجد (میرپور خاص) میں لسانی عصبیت اور فرقہ پرستی کے خلاف بیان فرمایا‘ بیان کے دوران آپ کی فرمائش پر حاضرین اسلامی اخوت اور بھائی چارگی کے عملی مظاہرے کے لیے ایک دوسرے سے گلے بھی ملے۔ بعد نماز عصر مدرسہ فاروقیہ‘ سیٹلائیٹ گائوں(میر پورخاص) میں ختم بخاری کے حوالہ سے بیان فرمایا‘ کوٹ غلام محمد (جیمس آباد) میں موجود اشرف المدارس کی شاخ میں بعد نماز عشاء جلسہ دستار بندی میں شرکت کی‘ وہاں سے فراغت کے بعد واپسی کے لیے روانہ ہوئے اور ۲۲؍رجب کی صبح چار بجے کراچی پہنچ گئے۔</p>
<p>جمعرات ۲۵؍رجب کو حضرت مہتمم صاحب عمرے کی ادائیگی کے لیے حرمین شریفین روانہ ہوگئے۔ اس سفر سعادت میں آپ کی اہلیہ محترمہ بھی شریک تھیں‘ ۷ شعبان المعظم ۱۴۳۱ھ کو آپ کی واپسی ہوئی۔ عمرے کے سفر کا احوال انشاء اﷲ آئندہ شمارے میں پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>سالانہ امتحانات</p>
<p>رجب کے مہینے میں جامعہ کے تحت ہونے والے ۱۴۳۱ھ کے سالانہ امتحانات کا اعلان کردیا گیا ہے‘ امتحانات میں شریک ۳۹۷ طلباء میں درجہ ابتدائیہ (ب) کے طالب علم حافظ ذیشان ولد انارگل مرحوم (داخلہ نمبر ۱۷۸) ۷ئ۹۷ فیصد نمبر حاصل کرکے پہلے نمبر پر رہے‘ درجہ ثالثہ (الف) کے طالب علم عمر فاروق ولد علائو الدین (داخلہ نمبر ۷۱۴) نے ۵ئ۹۶ فیصد نمبر کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی اور تخصص فی الافتاء (سال اول) کے طالب علم سید ریحان ذکی ولد سید ذکی حسن (داخلہ نمبر ۹۶۸) ۹۶ فیصد نمبر لے کر سوم آئے۔</p>
<p>جامعہ کے سالانہ امتحانات کے فوراً بعد وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت ملک بھر میں امتحانات کا سلسلہ شروع ہوگیا جوکہ ۲؍ شعبان المعظم ۱۴۳۱ھ تک جاری رہا وفاق کے تحت ہونے والے امتحانات میں ہمارے جامعہ کے تقریباً چار سو طلباء نے شرکت کی‘ اﷲ تعالیٰ تمام طلباء کو خوب کامیابی سے نوازیں ۔ آمین</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F354.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B4%D8%A8%20%D9%88%20%D8%B1%D9%88%D8%B2" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F354.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B4%D8%A8%20%D9%88%20%D8%B1%D9%88%D8%B2" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F354.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B4%D8%A8%20%D9%88%20%D8%B1%D9%88%D8%B2" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F354.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B4%D8%A8%20%D9%88%20%D8%B1%D9%88%D8%B2" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F354.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B4%D8%A8%20%D9%88%20%D8%B1%D9%88%D8%B2" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F354.html&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D9%82%D8%A7%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B4%D8%A8%20%D9%88%20%D8%B1%D9%88%D8%B2">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/354.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دین کے مختلف شعبوں میں باہمی ربط کی ضرورت</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/343.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/343.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:56:49 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=343</guid>
		<description><![CDATA[دینی انحطاط کے اس دور کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ مختلف شعبہ ہائے دین میں خدمات انجام دینے والے بعض حضرات صرف اپنے ہی شعبہ کو عین دین سمجھ کر دوسرے شعبوں کو بہ نظر استخفاف دیکھتے ہیں اور گویا کل حزب بما لدیہم فرحون کے مصداق ہیں حالانکہ دین کا ہر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>دینی انحطاط کے اس دور کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ مختلف شعبہ ہائے دین میں خدمات انجام دینے والے بعض حضرات صرف اپنے ہی شعبہ کو عین دین سمجھ کر دوسرے شعبوں کو بہ نظر استخفاف دیکھتے ہیں اور گویا کل حزب بما لدیہم فرحون کے مصداق ہیں حالانکہ دین کا ہر شعبہ اپنی جگہ اہم ہے۔ مکاتب قرآن بھی دین کا شعبہ ہیں مدارس علمیہ بھی دین کے شعبے ہیں دعوت و تبلیغ بھی دین کا شعبہ ہے خانقاہیں بھی دین کا شعبہ ہیں جہاں اصلاح و تزکیۂ نفوس کا کام ہوتا ہے جس پر قبول اعمال کا مدار ہے۔</p>
<p>اس لیے دین کے جس شعبہ میں جہاں بھی کام ہورہا ہو اس کو اپنا ہی کام سمجھنا چاہیے اور اس کی اعانت کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھنا چاہیے۔ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے تھے کہ دین کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ایک دوسرے کو اپنا رفیق سمجھیں فریق نہ سمجھیں جس طرح مثلاً ریلوے کے محکمہ میں اسٹیشن ماسٹر ہوتا ہے کوئی ٹکٹ چیکر ہوتا ہے کوئی گارڈ ہوتا ہے کوئی قلی ہوتا ہے وہاں ایک دوسرے کو اپنا معاون سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا ڈیپارٹمنٹل آدمی ہے۔ دنیائے حقیر کے معاملے میں تو آپس میں اتنا تعاون اور اتحاد ہو اور دین کے معاملہ میں ایک دوسرے سے تعاون نہ ہو یہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال ایسے دینی کاموں میں زیادہ ہے جہاں عوام کی اکثریت ہے اور علماء کم ہیں چنانچہ ایک شخص نے شیخ العرب والعجم عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم سے کہا کہ تبلیغ میں نبیوں والا کام ہوتا ہے اور مدرسوں اور خانقاہوں میں ولیوں والا کام ہوتا ہے تو حضرت نے فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو کیونکہ عالم نہیں ہو۔ مکاتب قرآن مدارس علمیہ اور تزکیۂ نفس کی خانقاہیں سب نبیوں والا کام ہے جو قرآن پاک سے ثابت ہے۔ تعمیر کعبہ کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دعا مانگ رہے ہیں کہ اے اﷲ ہماری اولاد میں ایک پیغمبر پیدا فرما یعنی سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو مبعوث فرما جس کی بعثت کا مقصد کیا ہوگا یتلواعلیہم ایاتک ویعلمہم الکتاب والحکمۃ آپ کے کلام کی آیات پڑھ کر لوگوں کو سنائے اور آپ کی کتاب کی تعلیم دے یعنی تجوید و قرأت کی تعلیم دے اور کتاب اﷲ کے معانی بتائے۔ اس آیت سے مکاتب قرآن اور مدارس علمیہ کے قیام کا ثبوت ملتا ہے جہاں تجوید و قرأت سکھائی جاتی ہے اور مدارس علمیہ میں کتاب اﷲ کی تفسیر کی جاتی ہے جو نبی آخر الزماں صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعثت کے مقاصد سے ہے اور آپ کی بعثت کے مقاصد کو جاری رکھنا امت پر فرض ہے۔ اس کے بعد دونوں پیغمبروں نے دعا مانگی ویزکیہم اور وہ نبی ایسا ہو جو دلوں کا تزکیہ کرے دلوں کو پاک کردے۔ معلوم ہوا کہ تزکیہ بھی بعثت نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقاصد میں سے ہے اور باب نبوت اب بند ہوچکا ہے لہٰذا یہ کار نبوت آپ کے سچے نائبین انجام دے رہے ہیں جو قیامت تک جاری رہے گا۔ یزکیہم سے خانقاہوں کے قیام کا ثبوت ہے جہاں دلوں کو غیر اﷲ کی گندگی سے پاک کیا جاتاہے اور اخلاص کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جس پر قبول اعمال کا مدار ہے۔</p>
<p>محی السنہ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب رحمۃ اﷲ علیہ اپنے رسالہ اشرف الہدایات لاصلاح المنکرات میں فرماتے ہیں کہ آج کل ایک مرض بہت عام اور روز بروز بڑھتا جاتا ہے وہ مرض دینی حدود کی رعایت نہ کرنا ہے جس کی وجہ سے دو قسم کی کوتاہیاں ظاہر ہوتی ہیں کہیں افراط یعنی حد سے بڑھ جانا کہیں تفریط یعنی حد سے کمی کردینا۔ افراط کی کوتاہی غلو فی الدین اور بدعت میں مبتلا کردیتی ہے جو نہایت مضرت رساں اور بڑی گمراہی ہے جس میں آج کل بہت زیادہ ابتلا ہے اور تفریط کی کوتاہی سے اس عمل کے پورے برکات اور فوائد سے محرومی ہوجاتی ہے۔ یہ دونوں کوتاہیاں دین کے ہر شعبہ میں ہم سے ہورہی ہیں۔ یہ دونوں کوتاہیاں افراط و تفریط کی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی وعظ و نصیحت عام و خاص میں بھی دیکھی گئیں۔ تفریط کی کوتاہی تو بہت عام ہے جس کی وجہ سے نصیحت کا باب قریب قریب بند ہوگیاہے جو ہماری ہلاکی و بربادی کا ایک بڑا سبب ہے۔ افراط کی کوتاہی کا بھی بہت سے مواقع میں مشاہدہ ہوا کہ بعض وہ صاحبان جن کو کچھ توفیق دینی جدوجہد کی عطا ہوئی وہ علماء کاملین پر یہ اعتراض کرنے لگے کہ دین مٹ رہا ہے اور یہ حضرات تبلیغ نہیں کرتے ہیں حالانکہ وہ حضرات بڑی دینی خدمات میں ہمہ تن مشغول رہتے ہیں۔</p>
<p>ایسے لوگوں کے اعتراض سے ظاہر ہوا کہ تبلیغ کی ضروری حدود بلکہ اس کی حقیقت سے ناواقفیت کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اس نظام خاص کو (جس کے موافق دینی جدوجہد کرتے ہیں) مقصود سمجھتے ہیں جو افراط کا مصداق ہے حالانکہ نظام سنت کے علاوہ کوئی اور نظام مقصود نہیں اور کسی دوسرے نظام کو یہ درجہ دینا صریح تعدی اور بدعت ہے۔ (انتہی کلامہ)</p>
<p>لہٰذا دین کے ہر شعبہ کے آداب اور احکام و حدود موجود ہیں مثلاً نماز کے لیے احکام اور حدود ہیں کہ کہیں نماز فرض کہیں واجب کہیں مستحب اور کہیں ممنوع ہے جیسے زوال اور طلوع کے وقت نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ اسی طرح تبلیغ بھی دین کا شعبہ ہے اس کے بھی آداب و احکام و حدود ہیں جن کو علماء متقین سے معلوم کرکے اس کے مطابق عمل کریں تو افراط و تفریط میں مبتلا نہیں ہوں گے اور مختلف شعبہ ہائے دین کی اہمیت بھی معلوم ہوگی جس سے تبلیغ اور دینی مساعی کی افادیت میں اضافہ ہوگا اور رضاء حق کا حصول ہوگا ان شاء اﷲ تعالیٰ۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو دین کے ہر شعبہ کو اپنا شعبہ سمجھنے اور ہر دینی کام کو حدود کے اندر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F343.html&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%20%D8%B1%D8%A8%D8%B7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F343.html&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%20%D8%B1%D8%A8%D8%B7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F343.html&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%20%D8%B1%D8%A8%D8%B7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F343.html&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%20%D8%B1%D8%A8%D8%B7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F343.html&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%20%D8%B1%D8%A8%D8%B7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F343.html&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D9%88%DA%BA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%DB%8C%20%D8%B1%D8%A8%D8%B7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/343.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

