متفرقات

دین کے مختلف شعبوں میں باہمی ربط کی ضرورت

Wednesday, July 14th, 2010

دینی انحطاط کے اس دور کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ مختلف شعبہ ہائے دین میں خدمات انجام دینے والے بعض حضرات صرف اپنے ہی شعبہ کو عین دین سمجھ کر دوسرے شعبوں کو بہ نظر استخفاف دیکھتے ہیں اور گویا کل حزب بما لدیہم فرحون کے مصداق ہیں حالانکہ دین کا ہر شعبہ اپنی جگہ اہم ہے۔ مکاتب قرآن بھی دین کا شعبہ ہیں مدارس علمیہ بھی دین کے شعبے ہیں دعوت و تبلیغ بھی دین کا شعبہ ہے خانقاہیں بھی دین کا شعبہ ہیں جہاں اصلاح و تزکیۂ نفوس کا کام ہوتا ہے جس پر قبول اعمال کا مدار ہے۔

اس لیے دین کے جس شعبہ میں جہاں بھی کام ہورہا ہو اس کو اپنا ہی کام سمجھنا چاہیے اور اس کی اعانت کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھنا چاہیے۔ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے تھے کہ دین کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ایک دوسرے کو اپنا رفیق سمجھیں فریق نہ سمجھیں جس طرح مثلاً ریلوے کے محکمہ میں اسٹیشن ماسٹر ہوتا ہے کوئی ٹکٹ چیکر ہوتا ہے کوئی گارڈ ہوتا ہے کوئی قلی ہوتا ہے وہاں ایک دوسرے کو اپنا معاون سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا ڈیپارٹمنٹل آدمی ہے۔ دنیائے حقیر کے معاملے میں تو آپس میں اتنا تعاون اور اتحاد ہو اور دین کے معاملہ میں ایک دوسرے سے تعاون نہ ہو یہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔

یہ صورتحال ایسے دینی کاموں میں زیادہ ہے جہاں عوام کی اکثریت ہے اور علماء کم ہیں چنانچہ ایک شخص نے شیخ العرب والعجم عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم سے کہا کہ تبلیغ میں نبیوں والا کام ہوتا ہے اور مدرسوں اور خانقاہوں میں ولیوں والا کام ہوتا ہے تو حضرت نے فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو کیونکہ عالم نہیں ہو۔ مکاتب قرآن مدارس علمیہ اور تزکیۂ نفس کی خانقاہیں سب نبیوں والا کام ہے جو قرآن پاک سے ثابت ہے۔ تعمیر کعبہ کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام دعا مانگ رہے ہیں کہ اے اﷲ ہماری اولاد میں ایک پیغمبر پیدا فرما یعنی سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو مبعوث فرما جس کی بعثت کا مقصد کیا ہوگا یتلواعلیہم ایاتک ویعلمہم الکتاب والحکمۃ آپ کے کلام کی آیات پڑھ کر لوگوں کو سنائے اور آپ کی کتاب کی تعلیم دے یعنی تجوید و قرأت کی تعلیم دے اور کتاب اﷲ کے معانی بتائے۔ اس آیت سے مکاتب قرآن اور مدارس علمیہ کے قیام کا ثبوت ملتا ہے جہاں تجوید و قرأت سکھائی جاتی ہے اور مدارس علمیہ میں کتاب اﷲ کی تفسیر کی جاتی ہے جو نبی آخر الزماں صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعثت کے مقاصد سے ہے اور آپ کی بعثت کے مقاصد کو جاری رکھنا امت پر فرض ہے۔ اس کے بعد دونوں پیغمبروں نے دعا مانگی ویزکیہم اور وہ نبی ایسا ہو جو دلوں کا تزکیہ کرے دلوں کو پاک کردے۔ معلوم ہوا کہ تزکیہ بھی بعثت نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقاصد میں سے ہے اور باب نبوت اب بند ہوچکا ہے لہٰذا یہ کار نبوت آپ کے سچے نائبین انجام دے رہے ہیں جو قیامت تک جاری رہے گا۔ یزکیہم سے خانقاہوں کے قیام کا ثبوت ہے جہاں دلوں کو غیر اﷲ کی گندگی سے پاک کیا جاتاہے اور اخلاص کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جس پر قبول اعمال کا مدار ہے۔

محی السنہ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب رحمۃ اﷲ علیہ اپنے رسالہ اشرف الہدایات لاصلاح المنکرات میں فرماتے ہیں کہ آج کل ایک مرض بہت عام اور روز بروز بڑھتا جاتا ہے وہ مرض دینی حدود کی رعایت نہ کرنا ہے جس کی وجہ سے دو قسم کی کوتاہیاں ظاہر ہوتی ہیں کہیں افراط یعنی حد سے بڑھ جانا کہیں تفریط یعنی حد سے کمی کردینا۔ افراط کی کوتاہی غلو فی الدین اور بدعت میں مبتلا کردیتی ہے جو نہایت مضرت رساں اور بڑی گمراہی ہے جس میں آج کل بہت زیادہ ابتلا ہے اور تفریط کی کوتاہی سے اس عمل کے پورے برکات اور فوائد سے محرومی ہوجاتی ہے۔ یہ دونوں کوتاہیاں دین کے ہر شعبہ میں ہم سے ہورہی ہیں۔ یہ دونوں کوتاہیاں افراط و تفریط کی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی وعظ و نصیحت عام و خاص میں بھی دیکھی گئیں۔ تفریط کی کوتاہی تو بہت عام ہے جس کی وجہ سے نصیحت کا باب قریب قریب بند ہوگیاہے جو ہماری ہلاکی و بربادی کا ایک بڑا سبب ہے۔ افراط کی کوتاہی کا بھی بہت سے مواقع میں مشاہدہ ہوا کہ بعض وہ صاحبان جن کو کچھ توفیق دینی جدوجہد کی عطا ہوئی وہ علماء کاملین پر یہ اعتراض کرنے لگے کہ دین مٹ رہا ہے اور یہ حضرات تبلیغ نہیں کرتے ہیں حالانکہ وہ حضرات بڑی دینی خدمات میں ہمہ تن مشغول رہتے ہیں۔

ایسے لوگوں کے اعتراض سے ظاہر ہوا کہ تبلیغ کی ضروری حدود بلکہ اس کی حقیقت سے ناواقفیت کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اس نظام خاص کو (جس کے موافق دینی جدوجہد کرتے ہیں) مقصود سمجھتے ہیں جو افراط کا مصداق ہے حالانکہ نظام سنت کے علاوہ کوئی اور نظام مقصود نہیں اور کسی دوسرے نظام کو یہ درجہ دینا صریح تعدی اور بدعت ہے۔ (انتہی کلامہ)

لہٰذا دین کے ہر شعبہ کے آداب اور احکام و حدود موجود ہیں مثلاً نماز کے لیے احکام اور حدود ہیں کہ کہیں نماز فرض کہیں واجب کہیں مستحب اور کہیں ممنوع ہے جیسے زوال اور طلوع کے وقت نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ اسی طرح تبلیغ بھی دین کا شعبہ ہے اس کے بھی آداب و احکام و حدود ہیں جن کو علماء متقین سے معلوم کرکے اس کے مطابق عمل کریں تو افراط و تفریط میں مبتلا نہیں ہوں گے اور مختلف شعبہ ہائے دین کی اہمیت بھی معلوم ہوگی جس سے تبلیغ اور دینی مساعی کی افادیت میں اضافہ ہوگا اور رضاء حق کا حصول ہوگا ان شاء اﷲ تعالیٰ۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو دین کے ہر شعبہ کو اپنا شعبہ سمجھنے اور ہر دینی کام کو حدود کے اندر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

ظظظظظ

ای میل / محفوظ کریں

No Comments »

خانقاہ اور جامعہ کے شب و روز

Wednesday, July 14th, 2010

مولانا ارشاد اعظم صاحب
ناظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی۔
ایک تعزیتی نشست
جامعہ کی مسجد جامع مسجد اشرف میں حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب قدس سرہ کے حوالہ سے ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ جامعہ کے استاذ حضرت مفتی غلام محمد صاحب مدظلہم نے حضرت خواجہ صاحبؒ کی حیات اور دینی خدمات کا ذکر [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

خانقاہ اور جامعہ کے شب و روز

Thursday, June 3rd, 2010

مولانا ارشاد اعظم صاحب
ناظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی۔
تعطیلات اور دوبارہ پڑھائی کا آغاز
طلبائے کرام ششماہی امتحانات کی چھٹیاں گذار کر دوبارہ واپس تشریف لے آئے ہیں اور جامعہ کی بہاریں پھر لوٹ آئی ہیں، امسال پورے ایک ہفتے تعطیلات رہیںاور ایسا اس سبب سے کیا گیا کہ دور دراز علاقوں سے حصول علم کے [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

خانقاہ اور جامعہ کے شب و روز

Monday, April 26th, 2010

مولانا ارشاد اعظم صاحب
ناظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی۔
ششماہی امتحانات کا نظم
ان شاء اﷲ العزیز جامعہ کے ششماہی امتحانات کا ۲۶؍ ربیع الثانی پیر کے دن سے آغاز ہورہا ہے، امتحانات کا یہ سلسلہ آئندہ پیر تک پورے ہفتے جاری رہے گا، امتحانات سے قبل تیاری کے لیے دو دن اسباق بند رہیں گے اور [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ہم نے تجھے چاہا ہے

Wednesday, March 17th, 2010

جناب خالد اقبال تائب
مسجد میں گھر آنگن میں
صحراﺅں میں گلشن میں
شہروں میں کبھی بن میں
ہم نے تجھے چاہا ہے
موجوں میں کناروں میں
دریاﺅں کے دھاروں میں
پت جھڑ میں بہاروں میں
ہم نے تجھے چاہا ہے
درد و غم و درماں میں
گلشن میں بیاباں میں
ہر نفع میں نقصاں میں
ہم نے تجھے چاہا ہے
خوابوں میں خیالوں میں
ظلمت میں اجالوں [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

سفرنامہ حضرت مولانا محمد مظہر صاحب

Wednesday, March 17th, 2010

از : محمد اشرف علی رنگونی عفا اﷲ عنہ
۱۱ صفر المظفر ۱۳۴۱ھ بمطابق ۷۲ جنوری ۰۱۰۲ءبروز بدھ حضرت اقدس مہتمم جامعہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ بوقت صبح ۸ بجے گلشن اقبال سے ہالا کے لیے روانہ ہوئے۔ (ہالا اندرون سندھ میں واقع ایک چھوٹا سا شہر ہے جہاں ایک [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

خانقاہ اور جامعہ کے شب و روز

Wednesday, March 17th, 2010

مولانا ارشاد اعظم صاحب
ناظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی۔
جامع مسجد اشرف میں قرآن کریم کے درس کا آغاز
بحمداﷲ جامعہ اشرف المدارس کراچی کی جامع مسجد اشرف میں درس قرآن کریم کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ ان شاءاﷲ تعالیٰ ہر اتوار کو بعد نماز عصر جامعہ کے استاد حضرت مولانا مفتی غلام محمد صاحب مدظلہم جو [...]

مزید پڑھیے »

3 Comments »

خانقاہ اور جامعہ کے شب و روز

Wednesday, February 10th, 2010

مولانا ارشاد اعظم صاحب
ناظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی۔
نائب ناظم تعلیمات صاحب کا بیان
محرم الحرام کی پہلی جمعرات کو جامعہ کے نائب ناظم تعلیمات مولانا سید محمد حسین صاحب کا طلباءسے خطاب ہوا، جس میں مولانا موصوف نے علم ،عمل اور اخلاص کی اہمیت کو قرآنی آیات و حدیث پاک کی روشنی میں واضح کیا۔ [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

مدارس پر چھاپے…. ایک سوچا سمجھا منصوبہ

Friday, January 22nd, 2010

مولانا محمد حنیف جالندھری
جنرل سیکریٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان
حالیہ دنوں میں دینی مدارس پر چھاپوں کا ملک گیر سلسلہ شروع ہوا۔ اس سلسلے کا آغاز اسلام آباد کے مدارس پر چھاپوں سے ہوا ور بعد ازاں لاہور اور فیصل آباد سے ہوتا ہوا یہ سلسلہ کراچی کے مدارس تک پھیل گیا۔ اس آپریشن کے [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

خانقاہ اور جامعہ کے شب و روز

Friday, January 22nd, 2010

مولانا ارشاد اعظم صاحب
ناظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی۔
حضرت قاری تقی الاسلام صاحب کا بیان
حضرت استاذ القراءجناب قاری تقی الاسلام صاحب مدظلہم (جن کا تذکرہ گذشتہ سے پیوستہ شمارے میں آچکا ہے۔) کا ماہِ رواں کے پہلے ہفتہ میں جامع مسجد اشرف میں طلباءسے خطاب ہوا، قاری صاحب موصوف نے علماءاور طلباءکی تجوید اور قرات [...]

مزید پڑھیے »

1 Comment »

فقہی پہلیاں اور معلومات

Friday, January 22nd, 2010

از: شرکاءتخصص فی الافتائ
سوال: شریعت محمدی میں قربانی کس سن ہجری میں مشروع ہوئی؟
جواب: شریعت محمدی میں قربانی سن ۲ ہجری میں مشروع ہوئی۔ (الفقہ الاسلامی وادلہ، ص۲۰۷۶ج۴)
سوال: ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے ترکہ میں صرف ایک گائے چھوڑی اور اس کے وارث صرف ایک بیٹا اور ایک بیوی ہے اب ان دونوں [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

خانقاہ اور جامعہ کے شب و روز

Sunday, December 27th, 2009

مولانا ارشاد اعظم صاحب
ناظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی۔
”التکشف عن مہمات التصوف“ کی تخریج
جامعہ میں بحمدﷲ تخصص فی الحدیث کا شعبہ بھی قائم اور پورے طور پر فعال ہے، ان دنوں تخصص فی الحدیث کے طلباءحضرت تھانوی کی کتاب ”التکشف عن مہمات التصوف“ کی تخریج کا کام کررہے ہیں اس سے قبل ”مناجات مقبول“ اور [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

خانقاہ اور جامعہ کے شب و روز

Friday, November 20th, 2009

مولانا ارشاد اعظم صاحب – ناظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی۔
حضرت والا دامت برکاتہم کی جامعہ آمد
جامعہ اشرف المدارس کے بانی و سرپرست حضرت اقدس شیخ العرب والعجم رومی ثانی تبریز دوراں عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم ۱۲ شوال المکرم ۰۳۴۱ھ بروز اتوار جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر تشریف [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ضروری اعلان

Friday, November 20th, 2009

عارف باﷲ شیخ العرب والعجم رومی ثانی، تبریز دوراں حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم کے تمام متوسلین کو خصوصاً اور دیگر معاونین و محبین کو عموماً مطلع کیا جاتا ہے کہ
جامعہ اشرف المدارس کے کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد کو کسی قسم کا چندہ بغیر جامعہ [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

خانقاہ اور جامعہ کے شب و روز

Sunday, October 11th, 2009

مفتی ارشاد اعظم صاحب
ماظم تعلیمات جامعہ اشرف المدارس کراچی
دورہ تجوید و لغة عربیہ کی اختتامی تقریب
جامعہ اشرف المدارس میں ۰۱شعبان المعظم ۰۳۴۱ھ سے شروع ہونے والا دورہ تجوید اور لغة عربیہ ایک ماہ جاری رہنے کے بعد بحسن و خوبی اپنے اختتام کو پہنچا۔ اختتامی تقریب جامعہ میں قائم جدید علوم کے ادارے [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »