<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ماہنامہ الابرار &#187; بکھرتے موتی</title>
	<atom:link href="http://alabrar.khanqah.org/c/bikharte-moti/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://alabrar.khanqah.org</link>
	<description>خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور جامعہ اشرف المدارس کراچی کا ترجمان - شمارہ: رجب ۱۴۳۱ بمطابق جولائی ۲۰۱۰</description>
	<lastBuildDate>Wed, 14 Jul 2010 02:26:24 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.8.4</generator>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>ملفوظات حضرت تھانویؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/338.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/338.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:39:51 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/338.html</guid>
		<description><![CDATA[{گذشتہ سے پیوستہ}
حضرت تھانویؒ کی غرباء کے ساتھ محبت و خلوص
فرمایا کہ ایک غریب آدمی نے تجارت میں سے کچھ میرے لیے مقرر کررکھا تھا ایک دفعہ صرف ایک پیسہ نکلتا تھا۔ مجھے انہوں نے اکنی دے کر یہ کہا کہ لو ایک پیسہ تم رکھ لو اور تین پیسے مجھے واپس کردومیں نے نہایت [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>{گذشتہ سے پیوستہ}</p>
<p>حضرت تھانویؒ کی غرباء کے ساتھ محبت و خلوص</p>
<p>فرمایا کہ ایک غریب آدمی نے تجارت میں سے کچھ میرے لیے مقرر کررکھا تھا ایک دفعہ صرف ایک پیسہ نکلتا تھا۔ مجھے انہوں نے اکنی دے کر یہ کہا کہ لو ایک پیسہ تم رکھ لو اور تین پیسے مجھے واپس کردومیں نے نہایت بشاشت سے قبول کرلیا اور تین پیسے واپس دے دیئے (اس سے حضرت کی قناعت و انکساری اور غرباء کے ساتھ محبت و خلوص اور ان کی دلجوئی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ جامع)</p>
<p>صحت عجیب نعمت ہے</p>
<p>فرمایا کہ صحت عجیب نعمت ہے۔ لکھنو میں ایک نواب تھے۔ ان کو ضعفِ معدہ کی شکایت تھی بس دوتولہ گوشت کا قیمہ پوٹلی میں باندھ کر چوستے تھے۔ ایک دفعہ گومتی کے کنارے اپنے مصاحبین کے پاس بیٹھے تھے وہاں دیکھا کہ ایک لکڑ ہارا لکڑیوں کا گٹھا سر پر رکھے لارہا ہے اس نے وہ گٹھا ایک درخت کے نیچے لاکر پٹکا اور گومتی میں ہاتھ منہ دھویا اور درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنا روٹ نکالا اور پیاز کے ساتھ کھانا شروع کیا کھا کر اور پانی پی کر سوگیا اور خراٹے لینے شروع کئے۔ نواب صاحب نے اس کی یہ حالت دیکھ کر اپنے مصاحبین سے کہا کہ میں اس تبادلہ پر راضی ہوں کہ میرا تمول اور بیماری اسے مل جائے اور اس کا افلاس اور تندرستی مجھے مل جائے۔</p>
<p>حُب جاہ و مال بری چیز ہے</p>
<p>فرمایا کہ حُب جاہ و مال ایسی بری چیز ہے کہ یہ انسان کو کسی حال چین سے نہیں رہنے دیتی ایک ڈپٹی صاحب تھے وہ بیچارے رات بھر تسبیح لیے کوٹھے پر ٹہلتے تھے اور مال کی فکر میں سوتے نہ تھے۔ بس ساری خرابی بڑائی کی ہے۔ اس کے لیے مال ڈھونڈتا ہے اگر آدمی چھوٹا بن کر رہے اور تھوڑے پر قناعت کرے پھر کچھ بھی فکر نہیں۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں ؎</p>
<p>نہ بہ اشتر بر سوارم نہ چواشتر زیر بارم</p>
<p>نہ خداوند رعیت نہ غلام شہریارم</p>
<p>مولانا فرماتے ہیں ؎</p>
<p>چشمہائو رشکہائو خشمہا</p>
<p>برسرت ریزد چو آب از مشکہا</p>
<p>خویش رار بخور سازو زار دار</p>
<p>تاترابیروں کنند از اشتہار</p>
<p>اشتہارِ خلق بند محکم است</p>
<p>بند ایں ازبند آہن کے کم است</p>
<p>ذلت عرض احتیاج کو کہتے ہیں</p>
<p>فرمایا کہ ذلت کہتے ہیں عرض احتیاج کو اگر آدمی کچھ سوال نہ کرے تو کچھ ذلت نہیں۔ چاہے لنگوٹہ باندھے پھرے۔ ہم نے کسی کو نہیں دیکھاکہ بدون عرض احتیاج کے کوئی شخص دین کی خدمت کرے اور پھر مارا مارا پھرے۔ انگریز بڑے بڑے امراء کی عزت نہیں کرتے اور ادنیٰ ادنیٰ مولویوں کی عزت کرتے ہیں۔</p>
<p>اخبار کا معیارِ اسلامی</p>
<p>مجلس کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ مولوی محمد شفیع صاحب دیوبندی اخبار جاری کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا ہے کہ اگر اخبار جاری کرو تو ایسا کرو کہ وہ بالکل شریعت کے موافق ہو تاکہ اسے دیکھ کر لوگوں کو یہ کہنا ممکن ہو کہ اسلامی اخبار ایسا ہوتا ہے اور اس کا معیار یہ ہے کہ جو لکھو یہ غور کرو کہ اس کا تکلم شریعت میں جائز ہے یا نہیں۔ اگر تکلم جائز ہے تو لکھنا بھی جائز ہے اور اگر تکلم ناجائز ہے تو لکھنا بھی ناجائز ہے۔ انہوں نے ضرورت اخبار کے متعلق مجھ سے مضمون چاہا میں نے کہا بے تکلف سمجھ میں نہیں آتا۔ اور تکلف کو جی نہیں چاہتا اتفاق سے مولوی عیسیٰ صاحب الہ آبادی کا خط آیاہوا تھا اس میں لکھا تھا کہ فلاں شخص کا حال دریافت کرکے لکھئے تاکہ اطمینان ہو اور لکھا تھا کان رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یتفقد اصحابہ اس سے اخبار کی ضرورت بھی مفہوم ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں کی بگڑی حالت پر اصلاح اور ضرورت کی اطلاع پر امداد کرسکیں۔</p>
<p>قبول ہدیہ کا معیار</p>
<p>فرمایا کہ ایک شخص نے کچھ ہدیہ بھیجا اور رقعہ میں یہ تحریر کیا کہ حسب معمول قدیم روانہ کرتا ہوں اس پر حضرت والا نے واپس فرمادیا۔ اور یہ فرمایا کہ یہ لزوم کیسا۔ پھر وہ بہت دنوں کے بعد معافی کو آئے۔ اور بیوی کی بیماری کا عذر بیان کیا۔ فرمایا کہ اگر مقدمہ کی تاریخ ہوتی تب بھی یہی عذر کرتے۔ رنج تو اسی سے ہوتا ہے کہ زبان سے تو محبت کا دعویٰ کریں اور برتائو کریں اجنبیوں جیسا۔ البتہ اگر دعویٰ محبت کا نہ ہو پھر کوئی شکایت نہیں فلاں شخص تمام عمر مجھے برا بھلا کہتا رہا۔ مگر کبھی خیال بھی نہ ہوا۔ منصور کو جب مقتل میں لے گئے ہیں تو لوگ ان پر اینٹ پتھر برسا رہے تھے اور وہ التفات بھی نہ کرتے تھے۔ حضرت شبلی رحمۃ اﷲ علیہ بھی کسی جگہ موجود تھے انہوں نے بھی ایک پھول اٹھا کر پھینک دیا۔ اس پر منصور نے ایک آہ کی۔ لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو کہا کہ اور لوگ تو جاننے والے نہیں اور یہ جاننے والے ہیں ان کے مارنے سے تکلیف ہوئی۔ اسی سلسلہ میں یہ بھی فرمایا کہ بھائی اکبر علی نے چاہا تھا کہ کچھ مقدار معین سے میری خدمت کیا کریں۔ میں نے انکار کردیا اس لیے کہ خواہ مخواہ یہ فکر رہے گی کہ کب پہلی تاریخ ہوگی۔ کب منی آرڈر آئے گا۔ دیر ہوگی تو کہونگا کہ شاید کوئی وجہ ہوگئی ہوگی ایسے ہدیے سے راحت نہیں ہوتی بلکہ اذیت انتظار ہوتی ہے۔ اﷲ ایسی ایسی جگہ سے دیتا ہے جہاں گمان بھی نہیں ہوتا اس میں ہے پوری راحت۔ بھائی نے کہا کہ آخر اوروں سے بھی تولیتے ہو۔ میں نے کہا کہ وہ لوگ مقرر تھوڑا ہی کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے کبھی بیس بیس کبھی پچیس پچیس روپے دیئے میں نے لے لیے اس انتظار کی کلفت پر متفرع کرکے میں کہتا ہوں کہ جب پیروں کے یہاں جائو تو ہدیہ میں لزوم کا معاملہ کرکے نہ جائو اس سے ان کی نیت بگڑتی ہے۔ وہ تو تم کو سنواریں اور تم ان کو بگاڑو۔ اس نیت پر ایک خواب یاد آیا۔ مشہور ہے کہ ایک مرید نے اپنے پیر سے کہا کہ حضرت میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری انگلیوں میں پاخانہ لگا ہے اور آپ کی انگلیوں میں شہد۔ پیر نے کہا ظاہر ہے کہ ہم دیندار ہیں اور تم دنیا دار۔ مرید نے کہا کہ ابھی خواب ختم نہیں ہوا یہ بھی دیکھا ہے کہ میری انگلیوں کو آپ چاٹ رہے ہیں اور آپ کی انگلیوں کو میں چاٹ رہا ہوں۔ پھر تو پیر صاحب بہت بگڑے ۔ہمارے حضرت نے فرمایا تعبیر اس کی ظاہر ہے کہ پیر تو اس سے دنیا کا نفع اٹھاتا تھا اور مرید دین کا ایسوں کو دیکھ کر لوگوں نے ملائوں کو ایک طرف سے ذلیل سمجھ رکھا ہے کہ بس ہمارے غلام ہیں یا یہ کہ بے حس ہیں۔ ہمارے مولانا خلیل احمد صاحبؒ فرماتے تھے کہ ہم حاجتمند تو ہیں مگر دین فروش نہیں۔ میرا مذہب تو ہدیہ میں یہ ہے کہ اگر جوش اٹھے تو دے دو ورنہ نہیں۔ معمول کرنے میں یہ خرابی ہے کہ اگر جی نہ چاہے تب بھی دینا پڑتا۔ صاحب ہدیہ نے کچھ عذر کرکے کہا کہ حضرت میں نے جو کچھ کہا ہے سب صحیح ہے۔ فرمایا میں اس کی تکذیب تو نہیں کرتا۔ معاملہ میں تو میرا یہاں تک معمول ہے کہ اگر ایک طرف چمار ہو اور ایک طرف مولوی صاحب ہوں تو میں یہ نہ کہوں گا کہ کیا مولوی صاحب جھوٹ بولتے ہیں۔ حضرت شریح حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مقرر کردہ حضرت علیؓ کی خلافت میں بھی قاضی تھے۔ جب حضرت علیؓ کی زرہ چوری ہوگئی۔ ایک یہودی کے پاس پہچانی۔ تو حضرت شریح کے یہاں دعویٰ دائر کیا۔ حضرت شریح نے گواہ طلب کئے آپ نے اپنے صاحبزادے اور ایک آزاد کردہ غلام کو پیش کیا حضرت شریح نے کہا کہ صاحبزادہ کی گواہی معتبر نہیں(چونکہ شریح کے مذہب میں لڑکے کی گواہی باپ کے حق میں مقبول نہیں تھی اور حضرت علی کے نزدیک بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں معتبر تھی۔) لہٰذا تکمیل شہادت نہیں ہوئی۔ حضرت علیؓ سے کہا کہ اور گواہ پیش کیجئے۔ آپ نے عذر کردیا۔ اس پر حضرت شریح نے مقدمہ کو خارج کردیا۔ آپ خوشی خوشی عدالت سے باہر تشریف لے آئے۔ یہودی نے اس حالت کو دیکھ کر فوراً کلمہ پڑھ لیا اور زرہ پیش کی کہ آپ کی زرہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہم نے تم کو ہی ہبہ کی۔ وہ یہودی مدۃ العمر آپ کے ساتھ رہا اور جنگ صفین میں شہید ہوگیا۔ اگر آج کل کا مذاق ہوتا تو کہتے کیا حضرت جھوٹے تھے طرہ یہ کہ ان کی خلافت کا زمانہ اور ان کو ذرا رنج نہیں (ہمارے حضرت نے مجلس کی طرف مخاطب ہوکے فرمایا) میں تو جان کر شریعت کو نہ چھوڑوںگا۔ یہاں قبول ہدیہ سے مانع شرعی ہے کیسے لیلوں البتہ اگر مجھ کو اپنی غلطی ثابت ہوجائے رجوع کرلونگا اور بدون مانع شرعی کے میں کیوں واپس کرتا جبکہ میری کوئی آمدنی بھی نہیں ہے۔ اسی سے سمجھ لو کہ رنجیدہ ہوکر ہی واپس کرتا ہوں۔ کاشتکار کو اناج کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر کوئی پیشاب میں بھگوکر لائے تو کیا وہ اس کو لے لے گا؟جتنا تجربہ مجھے اب ہوا ہے اگر والد صاحب کی وفات پر ہوتا تو میں اپنے اس حصہ کے ترکہ کو تتر بتر نہ کرتا۔ پھر دیکھتا کون ذلیل سمجھ کر دیتا ہے۔ خیر اﷲ کی حکمت ہے شاید اس حالت سے میرے اندر تکبر پیدا ہوجاتا۔</p>
<p>پھر وہ صاحب نہایت لجاجت سے معافی کے خواستگار ہوئے حضرت نے فرمایا کہ معاف ہے۔ مگر ہدیہ بھیجنے کی بالکل اجازت نہیں انہوں نے اس کو منظور کرلیا۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ژژژژژ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F338.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F338.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F338.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F338.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F338.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F338.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/338.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظاتِ حضرت والا ہردوئیؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/337.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/337.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:38:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/337.html</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ)
ارشاد فرمایا کہ نقل کی برکت اصل تک پہنچادیتی ہے۔ ڈرائیور کی نقل کرتے کرتے آدمی ڈرائیور ہوجاتا ہے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وضع قطع اور لباس کی نقل کی تھی نقل کی برکت سے سیرت بھی بدل دی گئی اور سب کو ایمان عطا کردیا گیا۔ اور سب کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ نقل کی برکت اصل تک پہنچادیتی ہے۔ ڈرائیور کی نقل کرتے کرتے آدمی ڈرائیور ہوجاتا ہے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وضع قطع اور لباس کی نقل کی تھی نقل کی برکت سے سیرت بھی بدل دی گئی اور سب کو ایمان عطا کردیا گیا۔ اور سب کے سب کافر سے صحابی ہوگئے۔</p>
<p>اسی طرح شیطان کی نقل سے شیطان کی سیرت بھی آجاتی ہے مثلاً شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے منع فرمادیا کہ ہرگز ہرگز کوئی بائیں ہاتھ سے نہ کھاوے اس قدر اہتمام سے منع فرمایا جو نہایت ہی بلیغ انداز ہوتا ہے اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ فاسقین کی نقل سے سخت پرہیز کرنا چاہیے اور راز اس میں یہ ہے کہ جس کی نقل کی جاتی ہے اس کی یا محبت یا عظمت دل میں ہوتی ہے پھر اس کی عادتیں اندر آنے لگتی ہیں دل میں جس کی عظمت و محبت ہوتی ہے اعمال اس عظمت و محبت پر شہادت پیش کرتے ہیں چنانچہ انگریز کو دیکھئے بائیں ہاتھ سے کھاتے ہیں ان کے اندر شیطان کی خودبینی تکبر اور بڑوں پر اعتراض کا مادہ ہوتا ہے اور جو لوگ پائجامہ ٹخنے سے نیچے لٹکاتے ہیں چونکہ یہ متکبرین کی وضع ہے اس لیے اس کی نقل کرنے والوں میں تکبر اور اپنے بڑوں پر اعتراض، بدگمانی وغیرہ کی بیماری پیدا ہوجاتی ہے اس لیے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ٹخنہ سے نیچے پائجامہ یا لنگی کو یا کرتا و قمیص و عبا کو لٹکانے سے منع فرمایا ۔(احقر جامع عرض کرتا ہے کہ بعض اہل علم بعض روایت کی تکبر کی قید سے اس کو قید احترازی سمجھ کر یہ سمجھ گئے کہ اگر تکبر سے نہ ہو تو درست ہے یہ ان کو سخت علمی دھوکہ شیطان نے دیا ہے۔ علمائے محققین فرماتے ہیں کہ تکبر یہاں قید واقعی ہے یعنی جو بھی ٹخنہ سے نیچے لٹکاتا ہے وہ تکبر ہی سے لٹکاتا ہے(البتہ وہ بیمار جن کا پیٹ آگے نکل آتا ہے) اس کی ایک نظیر قرآن پاک میں ارشاد ہے لا تقتلوا اولادکم من خشیۃ املاق تنگ دستی کے خوف سے اپنے بچوں کو مت قتل کرو تو کیا مالداروں کو قتل اولاد جائز ہوجائے گا۔ بلکہ یہاں وہی قید واقعی ہے کہ جو بھی قتل کرتا تھا بخوف تنگ دستی ہی کرتا تھا۔)</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ جب توراۃ پر عمل نہ کرنے والوں کو قرآن پاک میں گدھا قرار دیا گیا تو قرآن پاک جو توراۃ سے افضل ہے اس کے علم رکھنے کے بعد بے عمل ہونے والا کیا مستحق وعید نہ ہوگا۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ جو آدمی خام ہوتا ہے وہی اہل دولت کے ہاتھ فروخت ہوجاتا ہے یا خوف مخلوق سے یا طمع مال سے اپنا دینی رنگ اور مذاق اور اصول شریعت کو توڑ دیتا ہے اس کی ایک عجیب مثال اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے صراحی خام میں پانی ڈالئے وہ مٹھی گھل کر اپنا وجود بھی غائب پائے گی اور اگر آگ میں پکادی جاوے تو پختہ صراحی کا پانی صراحی کے وجود کو نہیں مٹاسکتا بلکہ صراحی اس کو اپنے فیض سے ٹھنڈا کرے گی۔ یہی حال اس عالم ربانی کا ہے جو بزرگوں کی صحبت میں پختہ ہوجاتے ہیں پھر مخلوق سے اختلاط اشاعت دین کے لیے ان کو مضر نہیں ہوتا نہ جاہ نہ مال نہ شہرت کوئی فتنہ ان کو خراب نہیں کرتا۔ استقامت کی نعمت ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور ہر وقت صاحب نسبت ہونے کے سبب حق تعالیٰ پر نظر ہوتی ہے کہ قبر میں صرف رضائے حق کام آوے گی نہ جاہ نہ شہرت نہ ہجوم خلق یعنی معتقدین کا مجمع وہاں کام نہ آوے گا ؎</p>
<p>ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے</p>
<p>تہہِ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے</p>
<p>پس صراحی کی مثال سے خام سالک اور پختہ سالک کے حالات خوب سمجھ میں آسکتے ہیں خام سالک دوسروں سے متاثر ہوجاتا ہے اور پختہ سالک دوسروں کو متاثر کردیتا ہے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ اہل اﷲ سے بغض و عناد اور ان کو ایذاء دینا دنیا میں ہی اکثر ذلیل کرتا ہے ؎</p>
<p>بس تجربہ کردیم دریں دیر مکافات</p>
<p>بادُرد کشاں ہر کہ درافتاد برافتاد</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ ایک جگہ حاضری ہوئی اذان کی غلطیاں سن کر سخت رنج ہوا۔ میں نے وعظ میں صرف یہ گذارش کردی کہ اذان صحیح نہیں ہے اذان کی اصلاح ہونی چاہیے۔ بعد میں کمیٹی کے کسی صاحب نے دریافت کیا کہ صاحب وہ کیا غلطیاں ہوئیں ہیں ذرا ہم کو بتادیجئے میں نے کہا بہت اچھا سنئے۔</p>
<p>(۱) اﷲ کو اتنا کھینچا جس کو کوئی قاعدہ نہیں شرح وقایہ میں دیکھئے تلحین و ناجائز لکھا ہے۔</p>
<p>(۲) لا الہ میں الہ کو ۲ مد کے برابر کھینچا۔</p>
<p>(۳) رسول میں وائو کو کھینچا جس سے مد پیدا ہوا۔</p>
<p>معلوم ہوا کہ موذن صاحب کی تنخواہ صرف ۶۰ روپے ہے بتائیے پھر اتنی معمولی تنخواہ میں بڑھیا موذن کیسے مل جاوے گا۔ افسوس کہ اس زمانے میں وکیل بڑھیا ہو، ڈاکٹر بڑھیا ہو، انگریزی پڑھانے کا استاد بڑھیا، مگر موذن اور قرآن پڑھانے والا استاد سستا ہو۔ دنیاوی تعلیم کا مدرس بڑھیا اور اس کی تنخواہ بھی زیادہ اور قرآن پاک جو احکم الحاکمین کا کلام ہے اس کے لیے استاد سستا والا۔ اصلی گھی تو زیادہ پیسے سے ملتا ہے اور سستا مال تو ڈالڈا ہی ہوگا۔</p>
<p>ایک جگہ حاضری ہوئی تو اذان اس قدر جلدجلد دی کہ درمیان میں اتنا موقع ہی نہ دیا کہ اذان کا جواب دیا جاسکے۔</p>
<p>آج کل مسجد کے جسم پر توجہ ہے اور روح پر نہیں۔ معلوم کیا کہ مسجد کتنے میں تعمیر ہوئی تو معلوم ہوا ۲ لاکھ کی تعمیر ہوئی۔</p>
<p>میں نے عرض کیا کہ مسجد تو ۲ لاکھ کی اور موذن ۶۰ روپیہ کا۔</p>
<p>ایک مسجد میں تکبیر موذن صاحب نے اس طرح کہا حی علی الصلوٰۃِ حی علی الصلوٰۃ حی علی الفلاحِ حی علیٰ الفلاحاور کسی کو فکر بھی نہیں، اذان اور تکبیر کو غور سے سننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔</p>
<p>تکبیر کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ ایک سانس میں ۴؍ مرتبہ اﷲ اکبر کہے پھر ایک سانس میں اشہدان لا الہ الا اﷲ اشہد ان لا الہ الا اﷲ کہے، پھر ایک سانس میں اشہد ان محمداً رسول اﷲ اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہے پھر ایک سانس میں حی علی الصلوٰۃ حی علی الصلوٰۃ کہے اور پھر ایک سانس میں حی علیٰ الفلاح، حی علیٰ الفلاح، کہے اور پھر ایک سانس میں اﷲ اکبر، اﷲ اکبر لا الا الہ اﷲ کہے۔</p>
<p>ایک غلطی قراء کرام یہ کرتے ہیں کہ یہاں بھی تجوید کا قاعدہ جاری کرتے ہیں مثلاً اشہد ان لا الہ الا اﷲ اشہد ان لا الہ الا اﷲ، اشہد ان محمداً رسول اﷲ، اشہد ان محمداً رسول اﷲ حی علی الصلوٰۃ حی علی الصلوٰۃ کہتے ہیں حی علی الفلاح حی علی الفلاح یعنی پہلے کلمہ کے آخری حرف کے اعراب کو ظاہر کرتے ہیں اور دوسرے کلمہ کے آخر حرف پر جزم پڑھتے ہیں حالانکہ یہاں قرأت کا قاعدہ جاری کرنا ممنوع ہے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں الا ذان جزمٌ والاقامۃ جزمٌ والتکبیر جزمٌ اور ایک روایت میں التکبیر جزم والتسمیع جزمٌ ہے۔ (شامی ،ج۱؍ صفحہ ۳۲۳)</p>
<p>ایک جگہ حاضری ہوئی مسجد بہت شاندار لیکن امام صاحب نے جب نماز پڑھائی تو بے حد صدمہ ہوا امام صاحب نے سورہ ناس اس طرح پڑھائی من الجنات والنس حروف کی صحت نہایت ضروری ہے اب تو بیعت کرتے وقت احقر عہد لیتا ہے کہ تلاوت مع الصحت کروں گا۔</p>
<p>حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ نے جمال القرآن کے اندر لحن جلی کو حرام لکھا ہے یعنی اگر صاد کو سین پڑھ دیا یا ذال کو زا پڑھ دیا وغیرہ صرف ۲؍ مہینہ اور صرف دس منٹ انسان محنت کرت کسی قاری صاحب کے پاس تو انشاء اﷲ تعالیٰ بقدر ضرورت تلاوت صحیح کرسکے گا۔ تھانہ بھون میں بعض بڑے بڑے محدث اور مفسر کو بھی نورانی قاعدہ پڑھنا پڑا۔ آج ہمارے مشایخ کے یہاں بھی اس کا اہتمام ہونا چاہیے کہ خود بھی تلاوت مع الصحت کا اہتمام ہو اور طالبین کو بھی توجہ دلائیں مراقبہ اور استغراق اور وظائف اور حقائق و معارف کے ساتھ ایسے ضروری امور کا بھی اہتمام ضروری ہے۔ یہ حق تعالیٰ کی عظمت کا حق ہے کہ ان کے کلام کی عظمت ہو اور عظمت کلام کا حق ہے کہ صحت حروف کے ساتھ تلاوت ہو۔ اﷲ تعالیٰ کے کلام کو بے فکری اور کاہلی اور سستی سے صحیح نہ پڑھنا کس قدر گستاخی ہے اور اندیشہ مواخذہ کا ہے تصوف کا ایسا غلبہ کہ شریعت کے مسائل کا اہتمام نہ رہے یہ بہت خطرناک حالت ہے۔ اور اگر مغلوب الحال ہے تو مقتدا بنانا ایسے مغلوب کو جائز نہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ؎</p>
<p>خواجہ پندارد کہ دارد حاصلے</p>
<p>حاصلِ خواجہ بجز پندار نیست</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ دعا نہ قبول ہونے کا سبب حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ اگر امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھلائی کا پھیلانا اور برائی سے روکنا امت میں جاری نہ رہا تو عذاب عام میں ابتلا ہوگا اور دعا بھی قبول نہ ہوگی۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ ایک صاحب نے کہا کہ فلاں شادی میں شرکت سے بڑا صدمہ ہوا فوٹو کھینچے گئے اور ریکارڈنگ بھی ہوئی گانا بجانا اور تصویر کھنچانے کے گناہ میں ہم بھی مبتلا ہوگئے۔ وہاں سے اٹھنے میں خاندان کے لوگوں کا لحاظ اور دبائو معلوم ہوا میں نے کہا اچھا اگر شادی والے ایک خوبصورت پلیٹ میں چاندی کے ورق کے ساتھ مکھی کی چٹنی پیش کرتے تو آپ خاندان کے لحاظ اور دبائو سے کھالیتے یا نہیں یا اٹھ کر چلے آتے؟ کہنے لگے اٹھ کر چلا آتا فرمایا کہ پھر حسی منکر کے ساتھ جو معاملہ ہے کم از کم وہی معاملہ شرعی منکر سے بھی کیجئے۔ ایک صاحب نے کہا کہ مکھی کی چٹنی تو طبعی منکر بھی ہے طبعی کراہت معلوم ہوتی ہے اور گناہوں سے اس طرح کی طبعی کراہت نہیں معلوم ہوتی میں نے کہا اچھا سنکھیا اگر کھلایا جاوے کسی شادی میں تو آپ کھالیں گے کیا سنکھیا بھی طبعی منکر ہے طبعی کراہت تو اس سے نہیں ہوتی پس جس طرح یہ عقلی منکر آپ نہیں کھا سکتے اسی طرح گناہ کے ساتھ معاملہ کیجئے۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F337.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F337.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F337.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F337.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F337.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F337.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%D9%90%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/337.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/336.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/336.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 01:38:01 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/336.html</guid>
		<description><![CDATA[مرتبہ: سید عشرت جمیل میر
علم کی حفاظت کے لیے نصیحت
۳۰؍ مئی ۱۹۶۹؁ء بروز جمعہ مدرسہ امداد العلوم کراچی واقع موسیٰ کالونی
بعد فجر مدرسہ میں حضرت والا مع چند متعلقین کے لیے تشریف لائے۔ چائے کی دعوت تھی۔ کچھ صاحبان بغیر پنسل کاغذ آگئے تھے فرمایا کہ کیا آپ لوگوں نے یہ سمجھا کہ بس چائے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مرتبہ: سید عشرت جمیل میر</p>
<p>علم کی حفاظت کے لیے نصیحت</p>
<p>۳۰؍ مئی ۱۹۶۹؁ء بروز جمعہ مدرسہ امداد العلوم کراچی واقع موسیٰ کالونی</p>
<p>بعد فجر مدرسہ میں حضرت والا مع چند متعلقین کے لیے تشریف لائے۔ چائے کی دعوت تھی۔ کچھ صاحبان بغیر پنسل کاغذ آگئے تھے فرمایا کہ کیا آپ لوگوں نے یہ سمجھا کہ بس چائے پی کر اور گپ شپ کرکے واپس آجائیں گے۔ مسلمان کی خلوت ہو یا جلوت اﷲ کے ذکر سے خالی نہیں ہوسکتی۔ ایسی مجلس جو اﷲ کے ذکر سے خالی ہو اس کو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے منحوس فرمایا ہے۔ یہ ہماری مجلسیں بھی اسی لیے ہوتی ہیں کہ اﷲ کی یاد میں ترقی ہو۔ کسی کام میں لگے ہوئے ہو دل اﷲ کے ساتھ رہے کوئی لمحہ اﷲ کی یاد سے غافل نہ گذرے جیسے صحابہ کی شان تھی کہ شام میں ہیں اونٹوں پر غلہ لاد رہے ہیں اور زبان پر اﷲ کا تذکرہ چھڑا ہوا ہے۔</p>
<p>جہاں جاتے ہیں ہم تیرا فسانہ چھیڑ دیتے ہیں</p>
<p>کوئی محفل ہو تیرا رنگ محفل دیکھ لیتے ہیں</p>
<p>ہماری کوئی تقریب محض ہنسی مذاق اور گپ شپ اور تفریح کے لیے نہیں ہوتی یہ تو کافروں کا شیوہ ہے کیونکہ انہیں اﷲ تعالیٰ سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔ دوسرے اپنے مربی کی باتوں کی حفاظت کرنی چاہیے کیونکہ انہی باتوں میں تمہارے دل کی تربیت کا سامان موجود ہے۔ ممکن ہے کسی موقع پر ایسی بات منہ سے نکل جائے جو پچھلے پندرہ سال میں نہ نکلی ہو اور آئندہ بھی پھر کبھی منہ سے نہ نکلے کیونکہ اپنے اختیار میں نہیں ہے۔ میں تو اپنے شیخ کے ساتھ جب بھی ہوتا تھا چاہے سفر پہ ہوں یا گھر پر یا کہیں ہمیشہ اپنی جیب میں ایک کاغذ پنسل رکھتا تھا۔ ایک بار تانگہ میں تشریف لئے جارہے تھے بخاری شریف پڑھتے پڑھتے ایک دم کتاب بند کردی اور فرمایا حکیم اختر سن لو دعا مانگتے مانگتے اگر آنسو نکل پڑیں تو سمجھ لو قبول ہوگئی۔</p>
<p>اگر میرے پاس اس وقت کاغذ پنسل نہ ہوتی تو میں بھی ایسے ہی بیٹھا رہتا۔ علم کی بڑی قدر کرنی چاہیے جو شخص علم کی قدر نہیں کرتا اﷲ تعالیٰ اسے محروم رکھتے ہیں۔ آئندہ اگر کوئی خالی ہاتھ آیا تو اس کو سزا دی جائے گی۔ جیسے کوئی یوں کہے کہ گلاب جامن کھا نہیں تو ڈنڈے ماروں گا، گلاب جامن کے لیے ڈنڈا کھانا بے وقوفی ہے کہ نہیں۔ اﷲ کا ذکر تو دنیا کی تمام گلاب جامن سے کہیں زیادہ لذیذ ہے۔</p>
<p>اﷲ کی راہ میں مزاحمت ترقی کا ذریعہ ہے</p>
<p>ایک نے عرض کیا کہ گھر والے یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت کے پاس آنے سے دنیا کے کام کا نہیں رہے گا اس لیے بعض اوقات کچھ مزاحمت ہوتی ہے فرمایا کہ اس راستہ میں جتنی مزاحمت ہے تو اتنی ہی ترقی ہوتی ہے اور جن کو کچھ مزاحمت نہیں اٹھانا پڑتی ان کی ترقی بھی کم ہوتی ہے جیسے کوئی شخص آگے بڑھنا چاہ رہا ہو اور کوئی اس کو پیچھے کو گھسیٹ رہا ہو تو اس کو آگے بڑھنے کے لیے قوت صرف کرنا پڑے گی اور کیونکہ آگے بڑھنے میں اس کو مشقت ہوگی تو جو کچھ حاصل کرے گا اس کی اس کے دل میں قدر ہوگی اور جدوجہد میں قوت پرواز بھی بڑھتی ہے بہ نسبت اس شخص کے جس کو کچھ مشقت اٹھانی نہیں پڑ رہی وہ ایک خاص رفتار سے آگے بڑھتا رہتا ہے اور جس کو مشقت کرنا پڑتی ہے وہ لامحالہ اپنی رفتار کو تیز کرتا رہتا ہے کہ کہیں گھسیٹنے والا غالب نہ آجائے۔ یہ راستہ ہی ایسا ہے کہ اس میں لوگوں کی لعن طعن بھی سننا پڑتی ہے۔ لیکن اس لعن طعن کے باوجود جو اپنی جگہ پر قائم رہے اس کا ایمان اور تازہ ہوجاتا ہے اس کے دل سے پھر مخلوق کا خوف نکل جاتا ہے بس استقامت کی ضرورت ہے۔ دنیا دار سمجھتے ہیں کہ اﷲ والے نکمے ہوتے ہیں۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ اہل دنیا اپنی نادانی کی وجہ سے انہیں کاہل کہتے ہیں لیکن آخرت کے کاموں میں تو یہ چاند سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔</p>
<p>کارِ دنیا را زکل کاہل ترند</p>
<p>در رہ عقبیٰ ز مہہ گومی برند</p>
<p>یہ دنیا کے کاموں سے کاہل نظر آتے ہیں تم آخرت کے کاموں سے کاہل ہو۔ ذرا ایک گھنٹہ مسجد میں بیٹھ کر اﷲ اﷲ کرکے دکھا دو تو پتہ چل جائے کہ کیسے جفا کش ہو۔ بات یہ ہے کہ دنیا کی محبت دل میں ہے جس کے بارے میں حدیث شریف ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حقیقت ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں اور آخرت کی فکر نہیں جہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ دنیا آخرت کے تابع ہے، آخرت حقیقت ہے دنیا سایہ۔ سائے کے پیچھے بھاگو گے حقیقت اور دور ہوتی جائے گی۔ آخرت کو پکڑلو سایہ خود قبضہ میں آجائے گا۔ اسی وجہ سے اﷲ والوں کو روزی بھی عزت سے ملتی ہے، وہ دنیا کو ٹھکراتے ہیں دنیا ان کے قدموں میں آتی ہے۔ بس اﷲ والے بن جائو یعنی جو مشقتیں اس راہ میں اٹھانی پڑیں انہیں جھیل لو۔ کیا جن کے لیے ہم قربان ہونے کو تیار ہیں انہیں اتنی قدرت نہیں کہ ہماری ضروریات کو پورا کردیں۔ جب آخرت عطا فرمادیں گے تو دنیا جیسی حقیر چیز کیوں نہ دیںگے۔ بہرحال اپنے کام میں لگا رہنا چاہیے اور والدین اگر اس راستہ میں حائل ہوتے ہیں انہیں نرمی سے سمجھادینا چاہیے۔ اگر کبھی کچھ سخت الفاظ نکل جائیں تو دوسرے وقت انہیں راضی کرلو۔ والدین کے سامنے کندھوں کو جھکائے رہو اور اف تک مت کہو۔ ہاں اگر کسی گناہ کے کام کا حکم کریں تو اطاعت مت کرو۔ والدین جو اﷲ کے راستہ میں حائل ہوتے ہیں یہ ان کی نادانی کی محبت ہے حالانکہ یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کا بچہ اﷲ والا ہوجائے نیک اولاد صدقۂ جاریہ ہے۔ جو نیک کام یہ کرے گا اس کا ثواب ان کو پہنچتا رہے گا۔ ان کے مرنے کے بعد بھی جب تک نیک اولاد زندہ رہتی ہے والدین کو ثواب پہنچتا رہتا ہے۔ یہ کوٹ پتلون والے کچھ کام نہ آئیں گے، نہ ان کی کار کام آئے گی نہ بنگلہ کام آئے گا۔ ان والدین کو تو اپنی خوش نصیبی پر شکر ادا کرنا چاہیے بجائے اس کے فکر مند ہوتے ہیں۔ مجھے تو انتہائی خوشی ہو اگر مظہر میاں خالی دین کے کام میں لگے رہیں اور دنیا کی طرف بالکل متوجہ نہ ہوں تو مجھے تو کبھی یہ خیال نہ آئے کہ یہ اپنی زندگی تباہ کررہے ہیں۔ خوش قسمتی کو اگر آدمی تباہی سمجھ لے تو اس کی بدنصیبی ہے۔</p>
<p>اﷲ کی محبت کا نشہ</p>
<p>فرمایا کہ ؎</p>
<p>ساقیا برخیز دردہ جام را</p>
<p>خاک برسر کن غمِ ایام را</p>
<p>حافظ شیرازی فرماتے ہیں کہ اے ساقی اٹھ یعنی اے اﷲ کرم فرمائیے اپنی محبت کا جام پلادیجئے اور غم ایام کے سر پر خاک ڈال دیجئے۔ نشہ میں کوئی غم معلوم ہوتا ہے؟ بس ایک غم ہوتا ہے، محبوب کا غم جو مست کیے رہتا ہے ہرحال میں ان کی رضا مطلوب ہوتی ہے۔ کوئی حال ہو نظر اﷲ تعالیٰ پر رہتی ہے کہ اگر وہ خوش ہیں تو ہر غم لذیذ ہے ورنہ اگر وہ خوش نہیں تو تخت و تاج بے کار ہے۔ جنہیں وہ اپنی محبت کا جام پلا دیتے ہیں دنیا کے غموں سے بے نیاز کردیتے ہیں۔ ان کی محبت کا نشہ کسی حال میں نہیں اترتا، تلواروں کی دھار کے نیچے بھی نہیں اترتا۔ جہاد میں سیسے کی دیوار بنے کھڑے ہیں جسم کے پرخچے اڑ رہے ہیں، کیوں نہیں بھاگتے؟ جان پر سے یہ نشہ ہی تو نہیں اترتا۔ بخلاف اس کے دنیا کا غم کمر توڑ دیتا ہے کیونکہ بیہودہ ہے۔ اﷲ کا غم لذیذ ہے ایسا نشہ رکھتا ہے کہ غم ایام کے سر پر خاک ڈال دیتا ہے ؎</p>
<p>وہ تو کہئے کہ ترے غم نے بڑا کام کیا</p>
<p>ورنہ مشکل تھا غم زیست گوارا کرنا</p>
<p>اﷲ کی نافرمانیوں سے بچنے میں جو غم اٹھانا پڑتا ہے اﷲ کی محبت ہی اسے گوارا کرتی ہے۔ ان کا غم جس سینہ میں نہیں ہوتا وہ نافرمانیوں سے بچنے کے غم کو گوارا نہیں کرسکتا۔ مصیبت میں گرفتار ہوجانا معصیت میں گرفتار ہوجانے سے کہیں بہتر ہے کیونکہ مصیبت تو اﷲ کا اور مقرب کردیتی ہے اور معصیت اﷲ سے دور کردیتی ہے۔ ایک بزرگ کسی مصیبت میں مبتلا تھے کسی نے دیکھا تو بڑا اظہار افسوس کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اﷲ کا شکر ہے کہ مصیبت میں گرفتار ہوں معصیت میں نہیں الحمدﷲ کہ بمصیبتے گرفتار ہستم نہ بمعصیتے۔ معصیت سے بچنے کے لیے مصیبت بھی مول لی جاتی ہے آخر کیا بات تھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بیڑیاں پڑ رہی ہیں زنداں میں ڈالا جارہا ہے سب کچھ منظور ہے لیکن محبوب کی نافرمانی منظور نہیں۔</p>
<p>حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلا</p>
<p>عشق اپنے مجرموں کو پابہ جولاں لے چلا</p>
<p>آں چنانش انس و مستی داد حق</p>
<p>کہ نہ زنداں یادش آمد نے غَسَق</p>
<p>زنداں میں انہیں ایسی عشق و مستی اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمائی کہ نہ پھر انہیں زنداں یاد آیا نہ زنداں کی تاریکی۔</p>
<p>کشتگان خنجر تسلیم را</p>
<p>ہر زماں از غیب جانِ دیگراست</p>
<p>جن کے سینہ اﷲ کی محبت سے خالی ہیں وہ اس خنجر تسلیم کی لذت کو کیا جانیں۔ ان دنیادار بوالہوسوں کو کیا معلوم کہ اﷲ کے غم میں کیا لذت ہے وہ تو ہوس رانی میں لگے ہوئے ہیں اور اس غم سے محروم ہیں جو اﷲ کی محبت میں اپنی ہوس کو تشنہ رکھنے میں آتا ہے اور خواہشات کو شمع رضائے الٰہی میں جلانے سے میسر آتاہے۔ سوز غم تو پروانوں کو ہی ملتا ہے کبھی کسی مکھی کو شمع پر جلتے ہوئے دیکھا ہے؟ مکھی کیا جانے کہ شمع پر جل جانے میں کیا مزا ہے۔ سرمد بڑے مشہور صوفی گزرے ہیںدہلی میں مدفون ہیں فرماتے ہیں ؎</p>
<p>سر مدغم عشق بولہوس را نہ دہند</p>
<p>سوز غم پروانہ مگس را نہ دہند</p>
<p>اﷲ تعالیٰ اپنا عشق کا بوالہوس یعنی دنیا داروں کو نہیں دیتے اپنے عاشقوں کو عطا فرماتے ہیں۔ پر وانے کا سوزغم پروانے کو ہی دیتے ہیں مکھی کو نہیں دیتے۔ یہ دنیا دار تو مکھی ہیں جو دنیا کی لذتوں اور گناہوں کی غلاظت پر بھنبھنا رہی ہو، اپنی ہوس کے تقاضوں پر عمل کررہی ہیں انہیں پروانوں کا سوز غم یعنی اﷲ تعالیٰ کا عشق نصیب نہیں۔ کیا کسی مکھی کو شمع کے قریب جاتے ہوئے دیکھا ہے؟ جیسے مکھی شمع کے عشق سے محروم ہے ایسے ہی یہ دنیا دار اﷲ کے عشق سے محروم ہیں۔ درد عشق تو ان کو ہی عطا ہوتا ہے جو پروانوں کی طرح خود کو اپنے ارادوں کو گناہ کے تقاضوں کو رضائے الٰہی کی شمع پر جلا کر خاکستر کررہے ہیں اپنی خواہشات کو مرضیات الٰہیہ میں فنا کردیتے ہیں نافرمانیوں کے قریب بھی نہیں جاتے۔ کبھی کسی پروانے کو غلاظت کے قریب جاتے ہوئے دیکھا ہے؟</p>
<p>سرمد گلہ اختصار می باید کرد</p>
<p>یک کار ازیں دوکار می باید کرد</p>
<p>یاتن بہ رضائے دوست می باید داد</p>
<p>یا قطع نظر زیار می باید کرد</p>
<p>فرماتے ہیں کہ اے سرمد شکایت کو مختصر کرو اور ان دو کاموں میں سے ایک کام کرو یا تو اپنے جسم کو رضائے دوست کے حوالے کردو یعنی احکام جسم کو رضائے الٰہی کے تابع کردو یا پھر دوست سے ہی نظر اٹھا لو یعنی یا تو اپنی خواہشات نفسانیہ کو مرضیات الٰہیہ میں فنا کردو اگر ایسا نہیں کرسکتے تو سمجھ لو کہ اﷲ تعالیٰ بھی تمہیں نہ ملیں گے۔</p>
<p>درسِ تسلیم و رضا</p>
<p>بندہ کو ہر حال میں راضی برضا رہنا چاہیے۔ حالات موافق ہوں شکر ادا کرو کہ اے اﷲ میں اس قابل نہ تھا میری نا اہلیت کے باوجود آپ نے اپنا فضل فرمایا اور حالات مخالف ہوں تو اور یقین رکھو کہ اس میں ہی تمہاری کوئی مصلحت ہے البتہ اپنی حاجت کے لیے گریہ و زاری کرتے رہو مانگتے رہو۔ شکایت کا کوئی لفظ زبان پر نہ آئے نہ دل میں کوئی غلط خیال رہے مثلاً کسی کی شادی نہیں ہوتی تو یوں سوچنے لگے کہ اگر ہمارے پاس مال و دولت ہوتی تو ہماری بھی شادی ہوجاتی۔ خوب سمجھ لو کہ یہ شیطانی وسوسہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ رب العالمین ہیں پوری کائنات اور کائنات کا ہر ذرہ اس کی زیرِ ربوبیت ہے۔ امیر ان کی ربوبیت سے خارج نہیں۔ اگر امیروں کو آرام میں دیکھتے ہو تو وہ بھی ان کی ربوبیت کی ایک شان ہے ان کا یہ آرام روپیہ پیسہ کی وجہ سے نہیں ہے۔ مال میں یہ اثر نہیں ہے کہ ان کی خواہشات کو پورا کردے۔ جس کو چاہتے ہیں جس حال میں رکھتے ہیں۔ کتنے امیر ایسے ہیں کہ مال دھرا رہ جاتا ہے اور ان کی آرزوئیں دل کی دل میں ہی رہ جاتی ہیں۔ یوں تو کفار بھی دنیا میں عیش اڑا رہے ہیں کیا کسی مسلمان کے دل میں نعوذباﷲ یہ تمنا ہوسکتی ہے کہ ہم بھی کافر ہوتے کہ خوب عیش اڑاتے۔ ایسی تمنا کرنا بھی کفر ہے۔ خوب سمجھ لو کہ روس اور امریکہ بہ رعایت مراحمِ خسروانہ زندگی کے ایام گذار رہے ہیں کبھی ان پر لالچ نہ کرنا۔ پھانسی کے مجرم ہیں حکومت نے اپنے خزانہ ہے روپیہ دے دیا ہے کہ پھانسی لگنے سے پہلے پہلے عیش کرلو کوئی آرزو دل میں نہ رہ جائے۔ کیا ایسے مجرم کو کھاتا پیتا دیکھ کر کوئی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ہمیں بھی یہ عیش مل جاتا۔ ارے تمہارے پاس تو وہ دولت ہے کہ ساری کائنات اس کے سامنے بے قیمت ہے۔ اپنے پاس خزانہ چھپائے ہوئے ہو اور دربدر کوڑیوں کی بھیک مانگتے پھرتے ہو۔</p>
<p>یک سبد پرناں ترا برفرق سر</p>
<p>توہمی جوئی لب ناں دربدر</p>
<p>روٹی سے بھری ہوئی ایک ٹوکری تیرے سر پر رکھی ہے اور تو روٹی کے ٹکڑے کے لیے دربدر مانگتا پھرتا ہے۔ دولت ایمان کے سامنے دنیا و مافیہا کی تمام نعمتیں ہیچ ہیں۔ جیسے اہل دنیا چاندی کے سکوں کی حفاظت کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ایمان کی حفاظت اور ترقی کی دھن لگی رہنی چاہیے۔</p>
<p>اذکار و وظائف کا مقصد</p>
<p>دین صرف تسبیح گھمانے کا نام نہیں۔ وظائف کا مقصد ہے کہ باریک باریک گناہ نظر آنے لگیں۔ وظائف اسی لیے بتائے جاتے ہیں کہ یہ استعداد پیدا ہوجائے۔ ورنہ اگر اﷲ اﷲ تو کررہے ہو لیکن گناہوں سے کوئی پرہیز نہیں تو ایسے وظیفے بالکل بے کار ہیں کیونکہ ان کا مقصدتو حاصل ہی نہیں ہوا۔ موٹے موٹے گناہ کا علم تو ہر شخص کو ہوتا ہے حتیٰ کہ خود گناہگار جانتا ہے کہ یہ گناہ ہے۔ کمال تو یہ ہے کہ باریک باریک گناہ نظر آنے لگیں اور ان سے بچنے کا اہتمام طبیعت میں پیدا ہوجائے۔ مولانا تھانوی علیہ الرحمہ ایک بار سفر کررہے تھے کہ رات کو ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر ٹھہرنا ہوگیا وہاں کا اسٹیشن ماسٹر حضرت کا معتقد تھا لیکن تھا ہندو کیونکہ پلیٹ فارم پر اندھیرا تھا اس لیے وہ لالٹین لے آیا۔ حضرت کو خیال ہوا کہ یہ تو ریلوے کی ہوگی، فرمایا کہ بھائی یہ لالٹین ریلوے کی ملک ہے ریلوے کے کاموںہی میں استعمال ہوسکتی ہے ذاتی استعمال میں لانا ہمارے لیے جائز نہیں اسے واپس لے جائو۔ وہ ہندو رونے لگاکہا کہ یہ ہیں اﷲ والے۔ کافروں کے دلوں میں بھی اسلام کی حقانیت کا سکہ بیٹھ جاتا ہے ااﷲ والوں کو دیکھ کر۔ غرض جس جگہ بھی ہو جس کام پر بھی ہو یہ خیال رہے کہ کوئی ایسی بات تو سرزد نہیں ہورہی جو حق تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہو خصوصاً مدرسوں کے اہتمام اور چندہ کے لیے بڑے تقویٰ کی ضرورت ہے۔ مولانا تھانویؒ نے لکھا ہے کہ یہ کام اسی کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے جو اعلیٰ درجہ کا متقی ہو، معمولی تقویٰ والے کو تو اس کام کے قریب بھی نہ جانا چاہیے ورنہ ثابت قدم رہنا سخت مشکل ہے۔ اگر کسی میں تقویٰ نہیں ہے تو بے احتیاطی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور یہ بے احتیاطی اس راہ میں سم قاتل ہے۔ بہت سوں کے حالات خراب ہوگئے۔ ساری ترقی مسدود ہوگئی اور دنیا دار بن کر رہ گئے۔ میرے ایک پیر بھائی تھے ایک مدرسہ کا چندہ وصول کرنا ان کے ذمہ تھا لیکن کرتے کیا تھے کہ ادھر رسید کاٹی اور ادھر خربوزے منگوالئے چائے اڑارہے ہیں لسی پی رہے ہیں۔ نتیجہ کیا ہوا کہ دین تباہ ہوگیا اور بالکل دنیا دار ہوگئے۔ اور صحابہ کا طرز عمل کیا تھا کہ ایک بار بیت المال کا اونٹ کھوگیا۔ حضرت عمر خود تلاش کرنے چل دیئے لوگوں نے عرض کیا کہ آپ ایک اونٹ کی تلاش میں کیوں جارہے ہیں خدام چلے جائیں گے فرمایا کہ قیامت کے دن عمر سے سوال ہوگا، خادموں سے نہیں۔ اگر اﷲ نے سوال کرلیا کہ بیت المال کا اونٹ گم ہوگیا تھا تم نے تلاش کیوں نہیں کیا تو کیا جواب دوں گا۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<p>ظظظظظ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F336.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F336.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F336.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F336.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F336.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F336.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/336.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت تھانویؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/316.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/316.html#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 03 Jun 2010 00:54:41 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/316.html</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ)
ہمارے بزرگ نک چڑھے نہ تھے
فرمایا کہ ہمارے بزرگ جتنے تھے وہ نک چڑھے نہ تھے ظاہر میں سب سے ہنستے بولتے تھے ظرافت بھی کرتے تھے مگر دل میں آتش عشق کاایک شعلہ بھڑکا ہوا تھا۔ جیسا نواب شیفتہ نے لکھا ہے ؎
تو اے افسردہ دل زاہد یکے دربزم رنداں شو
کہ بینی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>ہمارے بزرگ نک چڑھے نہ تھے</p>
<p>فرمایا کہ ہمارے بزرگ جتنے تھے وہ نک چڑھے نہ تھے ظاہر میں سب سے ہنستے بولتے تھے ظرافت بھی کرتے تھے مگر دل میں آتش عشق کاایک شعلہ بھڑکا ہوا تھا۔ جیسا نواب شیفتہ نے لکھا ہے ؎</p>
<p>تو اے افسردہ دل زاہد یکے دربزم رنداں شو</p>
<p>کہ بینی خندہ برلبہا و آتش پارہ دردلہا</p>
<p>میں نے اس کی ایک مثال تجویز کی ہے۔ ہمارے قصبات میں جب توا چولہے پر گرم ہوتا ہے تو عورتیں یوں کہتی ہیں توا ہنس رہا ہے مگر وہ ایسا ہنس رہا ہے کہ اس کے چھیڑنے سے دوسرے رونے لگیں۔</p>
<p>ہمارے اکابر کا معمول کسی کی تعریف سامنے کرنے کا نہیں ہے</p>
<p>فرمایا کہ ہمارے اکابر کا معمول کسی کی تعریف سامنے کرنے کا نہیں ہے۔ حضرت مولانا گنگوہیؒ نے جو کچھ بھی کلمات تحسین میری نسبت فرمائے ہیں اکثر غیب ہی میں فرمائے ہیں بعض احباب کے ذریعہ سے پتہ چل گیا۔ سامنے فرمانا کچھ یاد نہیں آتا۔</p>
<p>مثنوی شریف کی برکت</p>
<p>فرمایا کہایک فلسفی نے خط میں لکھا ہے کہ میں بالکل دہری ہوگیا تھا۔ مگر مثنوی کے مطالعہ سے مومن ہوگیا۔ اس کے بعد ہمارے حضرت نے فرمایا کہ جن کے اندر شورش نہیں ہوتی میں ان کے مطالعہ کے لیے دیوان حافظ اور مثنوی تجویز کرتا ہوں۔ دیوانوں کے کلام سے بھی دیوانگی پیدا ہوتی ہے۔ مولوی صاحب صوفیہ کے معتقد نہ تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ تم مثنوی کے درس میں بیٹھ جایا کرو۔ اس کے بعد ان پر ایک حالت طاری ہوئی۔ اکثر ذوق و شوق میں مثنوی کے شعر پڑھتے ہیں اور مولانا رومی کے بیحد معتقد ہیں۔</p>
<p>حق میں جذب اور مقبولیت ہوتی ہے</p>
<p>فرمایا کہ لکھنؤ میں اہل سنت تعزیہ شیعہ کے مقابلہ کے لیے بناتے ہیں اور مرثیے بھی مقابلہ کے لیے پڑھتے ہیں۔ ایسے ہی موقعہ کے لیے ایک شعر بنایا گیا تھا جو جھنڈوں کے ساتھ پڑھا جاتا تھا ؎</p>
<p>سنّیم من نعرۂ اﷲ اکبر می زنم</p>
<p>دم زبوبکر و عمر عثمان و حیدر میزنم</p>
<p>یہ شعر ایسا مقبول ہوا کہ شیعہ اور ہندوئوں کے بچوں تک نے حفظ کرلیا اور جابجا راستوں میں پڑھتے پھرتے تھے۔ شیعوں نے اپنے بچوں کو دھمکایا کہ کیا تم سنی ہو جو اس شعر کو پڑھتے ہو۔ حق میں جذب اور مقبولیت ہوتی ہے۔ اس کے متعلق ایک واقعہ یاد آیا کہ لکھنو میں ایک انگریز بیرسٹر تھا وہ سنیوں کے مقدمے لیتا تھا ایک بار شیعہ سنیوں کے مقابلہ میں ایک مقدمہ اس کے پاس لے گئے تو وہ کہتا ہے کہ تم جانتے نہیں ہم سنی ہیں۔ وہ شاید یہ سمجھتا ہو کہ سنی اہل حق ہیں ان کے مقدمہ میں کامیابی کی امید ہے جس سے میری شہرت ہوگی اور اہل باطل کے مقدمہ میں ناکامی ہوگی جس سے میری بدنامی ہوگی۔</p>
<p>حضرت تھانویؒ کا تعویذ دینے کا مذاق</p>
<p>فرمایا کہ ہمارے حضرت حاجی صاحبؒ نے فرمایا تھا کہ جو شخص تم سے تعویذ مانگنے آیا کرے تم اسے دے دیا کرو۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے تو کچھ آتا ہی نہیں۔ فرمایا جو سمجھ میں آیا کرے لکھ دیا کرو۔ بس اس دن سے جو سمجھ میں آتا ہے لکھ دیتا ہوں۔ چنانچہ ایک شخص نے مجھ سے کھیت میں چوہے نہ لگنے کا تعویذ مانگا میں نے اس سے کہا کہ پانچ کلہیاں لے آئو میں نے ان پانچوں میں یہ آیت لکھ کر رکھ دی وقال الذین کفروا لرسلہم لنخرجنکم من ارضنا او لتعودن فی ملتنا فاوحیٰ الیہم ربہم لنہلکن الظلمین ولنسکننکم الارض من بعدہم اور اس سے یہ کہہ دیا کہ چار تو چاروں کونوں پر گاڑ دینا اور ایک بیچ کھیت میں ذرا اونچی جگہ گاڑ دینا جہاں پائوں نہ پڑے۔ بس اسی دن سے چوہا لگنا موقوف ہوگیا۔ یہ حضرت حاجی صاحبؒ کی اجازت کی برکت ہے۔</p>
<p>عربی پڑھنے والوں کو ذلیل نہیں سمجھنا چاہیے</p>
<p>فرمایا کہ لوگ عربی پڑھنے والوں کو ذلیل سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ عمر ضائع کرتے ہیں اس سے کوئی دنیاوی ترقی نہیں ہوتی میں کہتا ہوں کہ انگریزی والے زیادہ مارے مارے پھرتے ہیں ہم نے بہت سے بی اے والوں تک کو دیکھا ہے کہ کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ بلکہ یہ نوبت عربی پڑھنے والوں کی نہیں آتی۔ دیکھئے سب سے کم تعلیم اذان کا سیکھ لینا ہے اگر وہی آجاوے تو پھر روٹیوں کی کمی نہیں روٹیاں دونوں وقت فراغت سے مل جاتی ہیں۔ ایک انگریزی طالبعلم بی اے کے امتحان میں فیل ہوگیا تو شرم کی وجہ سے ریل کی پٹری پر لیٹ گیا (سب ترقی کا خاتمہ ہوگیا) لوگ شکایت کرتے ہیں کہ عربی والوں کو انگریزی والے ذلیل سمجھتے ہیں میں کہتا ہوں تم بھی ان کو ذلیل سمجھنے لگو۔ یہ نوح علیہ السلام کی سنت ہے۔ انہوں نے فرمایا تھا قال ان تسخروا منا فانا نسخر منکم کما تسخرون۔ میرے برادرزادہ کی بچپن میں ریل میں ایک انگریزی دان سے جو پولیس کے اعلیٰ افسر تھے ملاقات ہوئی اس زمانہ میں یہ عربی پڑھتے تھے اور سرمنڈا ہوا تھا کیونکہ میرے یہاں کا معمول ہے کہ امردوں کے سرمنڈوادیا کرتا ہوں انہوں نے ان سے کہا کہ کیوں جی یہ کیا بات ہے کہ جتنے عربی والے دیکھے سر منڈاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیوں جی یہ کیا بات ہے جتنے انگریزی والے ہیں سب داڑھی منڈاتے ہیں۔ بس یہ جواب سن کر چپکے ہوگئے اور ہمراہی ملازم سے تحقیق کیا کہ یہ کس کا لڑکا ہے۔ لوگوں نے بتلادیا تو کہا جب ہی اس نے اس قدر تیز جواب دیا۔ اس سے زیادہ کیا ہوگا کہ ایک صاحب جو بڑے رتبہ کے اور بڑے تجربہ کار ہیں انگریزی میں بی اے بھی ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ میں اس نوکری سے اتنا تنگ ہوں کہ اگر عیالدار نہ ہوتا اور مجھے (امامت تو نہں کیونکہ اس میں مسائل کی ضرورت ہے) موذنی مل جاتی تو اس کو قبول کرلیتا۔ چار پانچ روپیہ ماہوار بھی ملتا اور کھانے کو بھی ملتا اور فراغت سے اﷲ اﷲ کرتا میں کیا کروں بیوی بچوں کا ساتھ ہے ان کا نفقہ بھی میرے ذمے ضروری ہے۔</p>
<p>شرعی احکام کی حکمتیں پوچھنا مناسب نہیں </p>
<p>شرعی احکام بے چوں و چراں ماننا چاہیے</p>
<p>فرمایا کہ کیرانہ میں ایک وکیل نے مجھ سے دریافت کیا کہ نماز پانچ وقت کی کیوں فرض ہوئی اس کی کیا وجہ ہے ؟ میں نے کہا تمہاری ناک جو منہ پر بنی ہے اس کی کیا وجہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر گُدّی پر ہوتی تو بری معلوم ہوتی میں نے کہا کہ ہرگز نہیں اگر سب کے گدی پر ہوتی تو بری بھی معلوم نہ ہوتی۔ بس اس کے بعد چپکے ہی تو ہوگئے۔</p>
<p>غصہ کا ایک علاج</p>
<p>فرمایا کہ اگر کسی کو کسی پر غصہ ہوئے تو چاہیے کہ اس کے سامنے سے ہٹ جائے یا اسے ہٹادے اور ٹھنڈا پانی پی لیوے۔ اور اگر زیادہ غصہ ہو تو یہ سوچ لے کہ اﷲ تعالیٰ کے بھی ہمارے اوپر حقوق ہیں اور ہم سے غلطی ہوتی رہتی ہے۔ جب وہ ہمیں معاف کرتے رہتے ہیں تو چاہیے کہ ہم بھی اس کی غلطی سے درگذر کریں۔ ورنہ اگر حق تعالیٰ بھی ہم سے انتقام لینے لگیں تو ہمارا کیا حال ہو۔</p>
<p>ہدیہ کب لینا جائز ہے </p>
<p>فرمایا کہ امام غزالی رحمۃ اﷲ علیہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو ہدیہ بزرگ سمجھ کر دے اور وہ اتنی بزرگی نہ رکھتا ہو جس کا وہ معتقد ہو تو اس کا لینا جائز نہیں ہے۔ مولوی محمد رشید صاحب کانپوری نے اس پر عرض کیا کہ اس پر تو کسی کو لینا جائز ہی نہ ہونا چاہیے کیونکہ اپنے کو کون بزرگ سمجھے گا اور اگر ایسا سمجھے گا تو وہ بزرگ نہ ہوگا ان کے جواب میں فرمایا کہ خود اپنا معتقد کون ہوگا۔ مراد امام کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس نے یہ کوشش نہ کی ہو کہ مجھ کو کوئی بزرگ سمجھے۔ </p>
<p>رزق کا معاملہ عجیب ہے</p>
<p>فرمایا کہ رزق کے بارے میں مشیت کے ایسے کھلے ہوئے واقعات ہیں کہ اس سے عقلاء بھی انکار نہیں کرسکتے۔ بمبئی میں بڑے بڑے سیٹھ ہیں کہ وہ نام لکھنا بھی نہیں جانتے مگر بڑے بڑے بی اے ان کے یہاں نوکر ہیں۔ یہ رزق کا معاملہ عجیب ہے۔ (جامع کہتا ہے قال الشیخ الشیرازی ؎</p>
<p>اگر روزی بدانش در فزودے</p>
<p>زناداں تنگ تر روزی نبودے</p>
<p>بناداں آنچناں روزی رساند</p>
<p>کہ دانا اندراں حیراں بماند)</p>
<p>ایک شخص کو میں نے راندیر میں دیکھا ہے کہ اس کی کوٹھی میں لاکھوں روپے کا فرنیچر ہے۔ جب ہم تفریح کو جانے لگے تو موٹر میں ان کا بیٹھنا میرے ساتھ تجویز ہوا مجھے ان کی ظاہری حیثیت سے طبعی کراہت ہوئی لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ مالک مکان یہی ہیں۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F316.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F316.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F316.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F316.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F316.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F316.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/316.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت والا ہردوئی</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/304.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/304.html#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 03 Jun 2010 00:53:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/304.html</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ)
۱۲؍ محرم الحرام ۱۴۹۹ھ
ارشاد فرمایا کہ ہر انسان جو عمل کرتا ہے وہ ان سات قسموں کے اندر ہوتے ہیں۔ فرض، وجب، سنت موکدہ، مستحب، مباح، مکروہ تحریمی، حرام۔ اسی طرح آدمی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں عامی یا عالم پھر ہر ایک کی تین قسمیں ہیں۔ عامی عاصی، عامی صالح، عامی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>۱۲؍ محرم الحرام ۱۴۹۹ھ</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ ہر انسان جو عمل کرتا ہے وہ ان سات قسموں کے اندر ہوتے ہیں۔ فرض، وجب، سنت موکدہ، مستحب، مباح، مکروہ تحریمی، حرام۔ اسی طرح آدمی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں عامی یا عالم پھر ہر ایک کی تین قسمیں ہیں۔ عامی عاصی، عامی صالح، عامی مصلح، اسی طرح عالم عاصی، عالم صالح، عالم مصلح۔</p>
<p>پس اصلاح کے لیے عالم عاصی محتاج ہوگا عامی مصلح کا۔ اس مثال سے یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے کہ بعض علماء نے اپنا مرشد غیر عالم تجویز کیا۔ جیسے عالم اگر قاری نہیں ہے تو قرأت سیکھنے میں قاری کا محتاج ہوگا مگر قاری صاحب مسائل میں ہمیشہ عالم صاحب کے محتاج رہیں گے۔</p>
<p>ان اقسام مذکور میں جو عالم مصلح ہوتا ہے وہ جامع ہوتا ہے اور محقق ہوتا ہے ؎</p>
<p>نہ ہر کہ چہرہ برافروخت دلبری داند</p>
<p>نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ معاصی سے نفرت واجب اور عاصی سے نفرت حرام۔ اگر باپ کے اوپر بچہ نے پیشاب کردیا تو باپ کے کپڑوں اور بدن کو ناپاک سمجھوگے لیکن کیا باپ کو حقیر سمجھو گے یا باپ سے نفرت ہوگی، یہی مثال گنہگار کی ہے گناہوں سے نفرت کیجئے مگر گنہگار کو حقیر نہ جانئے۔ ایک عابد اوپر رہتا تھا عبادت کا ناز تھا نیچے اس کا گنہگار بھائی رہتا تھا۔ ایک دن اس گنہگار بھائی کا ارادہ ہوا کہ چلو اپنے بھائی کے ہاتھ پر توبہ کرلوں اور اوپر عابد بھائی نے ارادہ کیا چلو جس طرح نیچے والا گنہگار بھائی گناہ سے مزہ لے رہا ہے میں بھی کچھ لے لوں۔ نیچے والا اوپر کو چلا اوپر والا نیچے کو چلا دونوں اچانک گر کر مرگئے بتائیے کہ دونوں کا خاتمہ کیسا ہوا؟ فیصلہ کرلیجئے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ دین سیکھنے کے لیے پہلے زمانے میں کیسا ذوق تھا۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک شخص دمشق سے مدینہ شریف حاضر ہوا صرف التحیات سیکھنے کے لیے کہ ہم کو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم جیسے التحیات پڑھا کرتے تھے ویسی التحیات سکھادیجئے۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس کے اس جذبہ سے رونے لگے اور فرمایا اﷲ اکبر کیا طلب ہے جنتی کا نمونہ معلوم ہوتا ہے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ بیعت ہوکر اپنے حالات کی اطلاع مرشد کو نہ کرے اور نہ اصلاح کرائے تو اس بیعت سے کیا فائدہ یہ تو وعدہ خلافی ہے۔</p>
<p>ایک صاحب کی بیوی کو فالج گرا ہوا ہے انہوں نے تبلیغ میں جانے کا مسئلہ معلوم کیا تو فرمایا حال غالب نہ ہونا چاہیے حال کو تابع اعمال کے رکھے اہلیہ کو یا ماں باپ کو بیمار چھوڑ کر تبلیغ میں نہ جائے اگرچہ کوئی اور خدمت کرسکتا ہو مگر شوہر سے جو تقویت بیوی کو ہوتی ہے وہ دوسروں سے نہیں ہوتی اسی طرح ماں باپ کو اولاد سے جو تقویت ہوتی ہے وہ دوسرے خدام سے نہیں ہوسکتی۔ اسی موقع پر بزرگوں کا یہ ارشاد ہے ؎</p>
<p>اے قوم بحج رفتہ کجائید کجائید</p>
<p>معشوق ہمیں جاست بیائید بیآئید</p>
<p>بقر عید کی نو تاریخ کو عرفات کے میدان میں تما م حاجی صاحبان جمع ہیں اور کوئی صاحب حال جذبۂ عشق الٰہی سے سرشار جاکر کعبہ کا طواف کریں اور عرفات نہ آویں تو ان کا حج بھی نہ ہوگا اور بجائے قرب الٰہی کے اور دوری میں مبتلا ہوگئے۔ کیونکہ اس دن تو کعبہ والا محبوب عرفات کے جنگل میں ہے ان کی خاص تجلیات قرب و رضا حدود عرفات کے اندر ہیں جہاں بھی شاہ خیمہ لگالے انعام وہیں ملے گا۔ پس بیوی یا ماں باپ کی بیماری میں اﷲ تعالیٰ انہیں کے پاس مل جائیں گے ان کی خدمات میں لگا رہے اور ان کے قریب رہتے ہوئے جو کچھ دین کی خدمت کرسکتا ہو کرتا رہے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ بیماری کی دو قسمیں ہیں اصلی اور عارضی جیسے قبض سے دردسر ہو تو اصلی بیماری قبض ہے اور درد سر عارضی ہے اسی طرح قلب کی غفلت اور خرابی اور سختی اصلی بیماری ہے پھر اس کی خرابی سے اعمال میں خرابی عارضی بیماری ہے پس اصلی بیماری کا علاج کرنا چاہیے یعنی دل کا علاج اﷲ والوں سے کرانا چاہیے پھر دل کی درستی سے اعمال اور اخلاق کی درستی خود بخود ہونے لگتی ہے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ حضرت مولانا عبدالرحمن کیمبل پوری محدث تھے ایک اشکال ہوا کتابوں سے حل نہ ہوا حضرت حکیم الامتؒ کو لکھا کہ حضرت زکوٰۃ ادا کرنے میں انشراح قلبی نہیں ہوتا تو نفس کی ناگواری کے ساتھ بدون انشراح یہ ادائیگی خلاف اخلاص معلوم ہوتی ہے۔ جواب ارشاد فرمایا کہ زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے اگر نفس پر آرے بھی چلیں تو بھی اخلاص کے خلاف نہیں بلکہ ایسی حالت میں اجر زیادہ ہے آپ وقت پر زکوٰۃ ادا کیا کریں بشاشت ہو یا نہ ہو بشاست اور اخلاص میں تلازم نہیں اخلاص ہوتا ہے اخلاص کے لیے بشاشت لازم نہیں بلکہ بدون بشاشت کی صورت میں دونا اجر ہے۔ مولانا کو جواب سے وجد آگیا۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ نفس اجتماع احباب بھی نافع ہے خواہ کوئی دینی مذاکرہ ہو یا نہ ہو صلحاء کا آپس میں ملنا نافع ہے قلب کے اندر جو صفات حمیدہ ہیں ان کا عکس دوسرے پر پڑتا ہے رات کی رانی خاموش ہے مگر اپنی خوشبو سے معطر کردیتی ہے۔ بجلی کا بلب خاموش ہے روشنی پہنچارہا ہے اسی طرح اﷲ والوں کی صحبت نفع پہنچاتی ہے خواہ وہ خاموش ہی بیٹھے رہیں۔</p>
<p>حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ کے پاس ایک صاحب نے خط لکھا کہ میرے اندر غصہ بہت ہے علاج تحریر فرمائیے۔ تحریر فرمایا کہ آپ مولوی محمد حسن صاحب انوار بک ڈپو لکھنؤ کی خدمت میں جاکر کچھ دیر بیٹھ جایا کریں انہوں نے شام کو ہر روز بیٹھنا شروع کیا مولوی محمد حسن صاحب نے کوئی تقریر نہیں کی نہ کوئی وعظ کہا مگر ان کا غصہ کم ہونے لگا تو بات کیا تھی چونکہ مولانا میں حلم اور ضبط کا مادہ بہت تھا اس باطنی صفت کا عکس اور فیض ان کے باطن پر آہستہ آہستہ اثر کرنے لگا۔ اس لیے گذارش کیا کرتا ہوں کہ دینی احباب کو آپس میں ملنے جلنے کا اہتمام ہونا چاہیے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ آج کل تاخیر جنازہ کی بیماری امت میں عام ہورہی ہے جذبات محبت و عقیدت میں اہل علم حضرات کے ماحول میں بھی یہ مسئلہ نظر انداز ہوجاتاہے کہیں تو جنازہ کو منتقل کرنے کی غلطی ہوتی ہے اور کہیں رونمائی میں تاخیر کی جاتی ہے حالانکہ اسرعوابالجنازۃ دون الجنب کا حکم ہے جنازہ کو جلد دفن کرنے کا حکم ہے اس میں دو حکمت ہے اگر نیک ہے تو اس کو اپنے کندھوں پر دیر تک کیوں رکھا جاوے۔ اس مسئلہ کی فقہاء نے تصریح فرمادی ہے کہ اگر جمعہ سے قبل تدفین ممکن ہے تو جمعہ کا انتظار کرنا جائز نہیں تھوڑے آدمی سنت اور رضائے حق کے مطابق نجات اور مغفرت کے لیے کافی ہیں برعکس کثیر تعداد جو خلاف سنت اور خلاف رضاء حق ہو یہ کچھ مفید نہیں۔ حدیث پاک میں ہے کہ مسافرت کی موت سے شہادت کا درجہ ملتا ہے پھر جنازہ کو وطن واپس لانے کی کیا ضرورت ہے بے اصولی اور قانونی شکنی جب اہل علم کی جانب سے ہونے لگے گی تو عوام کو کون سمجھا سکتا ہے۔ بعض اہل علم ایسے وقت اکابر کا عمل پیش کرتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا فقہ کی یہ سب کتابیں عمل کے لیے نہیں لکھی گئیں ہیں عمل کو کتاب سے ملائیے نہ کہ اشخاص سے البتہ کتاب کو اشخاص سے سمجھئے۔ جن اکابر کے ساتھ ایسا معاملہ کوئی پیش آچکا ہے وہ پسماندگان کے معاملات ہیں کہیں جذبات کہیں غلبۂ عقیدت کہیں خاموشی کہ شاید وہ کہیں گے شاید وہ کہیں گے بروقت نکیر کرنی چاہیے۔ </p>
<p>ارشاد فرمایا کہ بعض اکابرین کی رونمائی میں تاخیر کی خبر مجھے ایک صاحب نے ہردوئی پہنچائی۔ میں نے ان سے کہا اس منکر پر کسی نے نکیر بھی کی تو وہ خاموش ہوگئے۔ ایک اہل علم بلکہ اہل فتویٰ و اہل فقہ کی حق پرستی سے بڑا دل خوش ہوا جب انہوں نے کہا مجھے نہایت ندامت ہے کہ ہم نے اس منکر پر اعلان کے ساتھ نکیر کیوں نہ کی اور استغفار کرتا رہتا ہوں۔</p>
<p>پھر گذارش کرتا ہوں کہ کسی شہر سے جنازہ کو منتقل ہرگز ہرگز نہ کیا جاوے اور نہ رونمائی وغیرہ کی رسم کی جاوے نہ جمعہ کا انتظار کیا جاوے نہ کسی رشتہ دار کا انتظار کیا جاوے جس قدر جلد ممکن ہوسکے نماز جنازہ اور تدفین میں جلدی کی جائے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل کی برکت سے قلیل تعداد بھی مغفرت کے لیے کافی ہے۔ انتقال سے کفن پہنانے تک جس قدر لوگوں کو چاہیں جمع کرلیں اس کے بعد پھر تاخیر کی گنجائش نہیں۔ ماشاء اﷲ مولانا شبیر علی تھانویؒ نے اس مسئلہ پر خوب ہمت سے عمل کیا تھا۔ حضرت حکیم الامت تھانویؒ کا جنازہ تیار تھا اور شرکت جنازہ کے لیے اسپیشل ٹرین سہارنپور سے چل پڑی تھی بہت بڑی تعداد معتقدین اور خواص متعلقین کی حاضری میں زیادہ تاخیر نہ ہوتی کیونکہ سہارنپور سے تھانہ بھون کی مسافت زیادہ نہیں مگر مولانا شبیر علی صاحب تھانویؒ نے نماز جنازہ کا حکم دیا اور سختی سے اعلان کیا کہ قانون شریعت کا احترام کیا جائے گا ہرگز اب تاخیر نہ ہونی چاہیے۔ چنانچہ مولانا ظفر احمد صاحب تھانویؒ نے نماز جنازہ پڑھائی اور اسپیشل ٹرین کا انتظار نہ کیا گیا۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو شریعت کے ہر قانون پر اہتمام سے توفیق عمل بخشیں، آمین۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ جب دین شکنی اور دل شکنی کا تقابل ہو تو دین کو مقدم رکھا جاوے اور سب مصالح کو قانون شریعت کے احترام و عظمت پر مثل مصالحہ پیس دینا چاہیے۔ ایسے مواقع پر جذبات پر شریعت کو ترجیح دینی چاہیے۔ مخلوق کی چہ میگوئیاں اور طعن کی ہرگز پرواہ نہ کرنی چاہیے ؎</p>
<p>مانمی خواہیم ننگ و نام را</p>
<p>گرچہ بدنامی است نزد عاقلاں</p>
<p>(ضروری نوٹ) احقر مرتب محمد اختر عفا اﷲ عنہ موجودہ غلط رسم و رواج کے سبب اپنے ذمہ اس وصیت کو واجب سمجھتا ہے کہ اپنے پسماندگان اور احباب کو یہ وصیت کردوں کہ (۱) میرا جہاں بھی انتقال ہوجاوے وہیں پر دفن کرکے حق تعالیٰ کی مغفرت و رحمت واسعہ کے سپرد کردیا جاوے اور ہرگز وطن نہ لایا جاوے۔ (۲) رونمائی ہرگز نہ کی جاوے۔</p>
<p>مضمون بالا کو جب لکھ چکا تو حضرت مفتی رشید احمد صاحب سے اس مضمون کی اشاعت کے لیے مشورہ کیا تو فرمایا ضرور شائع کیا جاوے نیز فرمایا کہ حضرت اقدس دامت برکاتہم نے جو ذکر میرا کیا ہے وہ مبہم ہے میرا نام شائع کردیا جاوے تاکہ جو کوتاہی مجھ سے اعلانیہ ہوئی ہے اور اس کی توبہ بھی علانیہ مجھ پر واجب ہے اس اشاعت سے میرا واجب ادا ہوجاوے گا یعنی رونمائی پر نکیر نہ کرنے کا واقعی مجھے غم ہے جس کا ذکر میں نے خود حضرت سے کیا تھا۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F304.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F304.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F304.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F304.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F304.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F304.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/304.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/302.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/302.html#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 03 Jun 2010 00:53:04 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/302.html</guid>
		<description><![CDATA[مرتبہ: سید عشرت جمیل میر
سنت کے مطابق شادی بیاہ اور ولیمہ
۸؍ ستمبر ۱۹۸۹؁ء مسجد اشرف، گلشن اقبال کراچی
ارشاد فرمایا کہ آج جنگ اخبار میں مسائل دینیہ کے سلسلے میں مولانا یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے ایک مسئلہ لکھا ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی والوں کا برادری اور لڑکے والوں کو دعوت کھلانا خلافِ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مرتبہ: سید عشرت جمیل میر</p>
<p>سنت کے مطابق شادی بیاہ اور ولیمہ</p>
<p>۸؍ ستمبر ۱۹۸۹؁ء مسجد اشرف، گلشن اقبال کراچی</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ آج جنگ اخبار میں مسائل دینیہ کے سلسلے میں مولانا یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے ایک مسئلہ لکھا ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی والوں کا برادری اور لڑکے والوں کو دعوت کھلانا خلافِ سنت ہے۔ میرے ذمے بیان ہے، تحقیق آپ مولانا یوسف لدھیانوی سے جاکر کیجیے، لیکن عقل سے سوچیے کہ جس کی بیٹی جارہی ہے اس کا دل تو غمگین ہے ایسے وقت اس سے دعوت کھانا عقل کے بھی خلاف ہے۔ ولیمہ سنت ہے جو بیٹے والے کے ذمہ ہے۔ ہاں لڑکی جب رخصت ہوکر چلی جائے اور شوہر کے ساتھ خلوت ہوجائے۔ اس کے بعد دوسرے دن ولیمہ سنتِ مؤکدہ ہے بشرطیکہ وہاں بھی کوئی خلافِ شریعت کام نہ ہو۔</p>
<p>علامہ شامی ابنِ عابدین رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ولیمہ سنت مؤکدہ ہے لیکن اگر دسترخوان پر کوئی گناہ کا کام شروع ہوجائے مثلاً غیبت شروع ہوجائے تو روٹیاں اور بریانی اور شامی کباب چھوڑ کروہاں سے اُٹھ جانا واجب ہے۔ اب یہ وقت امتحان کا ہوتا ہے کہ یہ نلیاں اور بوٹیاں محبوب ہیں یا اللہ کی رضا محبوب ہے۔ یہ کہنا کہ جائیں صاحب چھوڑ کر میزبان ناراض ہوجائیں گے نہایت کم ہمتی کی بات ہے۔ صاف کہہ دو کہ یہاں غیبت ہورہی ہے، ریکارڈنگ ہورہی ہے، فوٹوکشی ہورہی ہے، فلم بن رہی ہے، ویڈیو بن رہی ہے، کھانے والوں کی تصویریں بن رہی ہیں لہٰذا اس نافرمانی کی مجلس میں شریک نہیں ہوسکتا۔</p>
<p>دوستو! یہی وقت امتحان کا ہوتا ہے۔ جب اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کا موقع آئے اس وقت جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ جائے، وہ امتحان میں پاس ہوگیا۔ خالی تنہائی میں، مسجد میں عبادت کرلینے کا نام امتحان نہیں ہے۔ امتحان کا وقت وہ ہوتا ہے جب منہ اور بریانی کے لقمہ کے درمیان آدھے فٹ کا فاصلہ رہ گیا کہ دیکھا کہ فوٹوگرافر آگیا، فلم بننے والی ہے، اب دیکھنا ہے کہ آدھا فٹ جو بریانی قریب ہوچکی ہے اس قریب شدہ مالِ غنیمت کو واپس کرتا ہے یا نہیں۔ امتحان کا وقت یہ ہوتا ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ اس وقت اس لقمے کو وہیں رکھ دو اور اُٹھ جائو، کہہ دو چونکہ یہاں اللہ کی نافرمانی ہورہی ہے لہٰذا ایسی مجلس میں حاضری جائز نہیں ہے۔ محدث عظیم مُلّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ جو مکہ شریف میں مدفون ہیں، مشکوٰۃ کی شرح میں فرماتے ہیں: ’’لَایَجُوْزُ الْحُضُوْر عِنْدَ مَجْلِسٍ فِیْہِ الْمَحْظُوْر‘‘</p>
<p>جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ایسی مجلس میں جہاں اللہ کی مرضی کے خلاف، شریعت کے خلاف کوئی کام ہورہا ہو۔ اس مجلس میں شرکت جائز نہیں چاہے ابّا کی مجلس ہو، چاہے اماں کی مجلس، چاہے پیر کی مجلس ہی کیوں نہ ہو۔</p>
<p>مان لیں کسی کو غلطی سے غلط پیر مل گیا، اس کے یہ معنی تھوڑی ہیں کہ اللہ اور رسول کے فرمان کو پیچھے چھوڑ دیں، اور اس کی بات مان لیں۔ اسی کا نام پیر پرستی ہے۔ اس سے صاف کہہ دو کہ چونکہ آپ خلافِ شریعت و سنت کام کررہے ہیں، بس میں آپ سے بیعت فسخ کرتا ہوں۔ محبت اللہ کے لیے ہے اور بغض بھی اللہ کے لیے ہے۔</p>
<p>تعجب ہے کہ قرضہ لے لے کر بیٹی والا برادری کو کھلارہا ہے جو خلافِ سنت ہے۔ آج اخبار میں پڑھ لیجیے گا، دینیات کا ایک صفحہ ہوتا ہے مولانا لدھیانوی اس میں مسائل کے جوابات لکھتے ہیں۔ میں نے ابھی ابھی دیکھا ہے، اخبار میرے پاس بھی رکھا ہے، تقریر ختم ہونے کے بعد جس کا جی چاہے چل کر دیکھ بھی لے کہ لڑکی والوں کا کھانا خلافِ سنت ہے۔ اصلاح الرسوم میں بھی ہے اور ہمارے اکابر نے اس کا اہتمام کیا۔ میرے مرشد اوّل مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ حکیم الامت کے اکابر خلفاء میں سے تھے، اتنے بڑے خلیفہ تھے کہ مفتی اعظم پاکستان اور مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا ظفر احمد عثمانی، قاری طیب صاحب رحمہم اللہ جیسے بڑے بڑے علماء ان کے سامنے شاگرد کی طرح بیٹھتے تھے، لیکن حضرت نے اپنی بیٹیوں کی شادی کی،نکاح پڑھا جو دو چار آدمی آئے کسی کو کچھ نہیں کھلایا اور بیٹی کو رخصت کردیا، یہ نہیں کہ بارات میں ساری برادری کو جمع کیا جارہا ہے ہاں دو چار عزیز و اقارب آگئے مثلاً بیٹی کی شادی میں اس کی دوسری سگی بہنیں آگئیں اور سگے بھائی آگئے تو وہ گھر والے ہیں، خاندان والوں کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں جو دو چار آگئے، لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ دعوت نامے کارڈ چھپ رہے ہیں۔ ہزار آدمی اس میں بھی کھاگئے، پانچ سو آدمی کھاگئے، یہ دس ہزار بالکل ضائع ہوا، اس پر کوئی اجر نہیں بلکہ خلافِ سنت عمل پر اندیشۂ مواخذہ ہے۔</p>
<p>نکاح تو ایک عبادت ہے لیکن عبادت جب ہے جب سنت کے مطابق ہو جس طرح سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو، لہٰذا تمام حدیثوں سے ثابت ہے کہ ولیمہ سنت ہے بشرطیکہ ولیمہ بھی شریعت کے خلاف نہ ہو اور حیثیت سے بھی زیادہ نہ ہو کہ پانچ ہزار تنخواہ پاتا ہے لیکن ولیمہ قرضہ لے کر ایک لاکھ کا کررہا ہے یہ بھی نام و نمود اور فخر کے لیے ہے، اس میں بھی شرکت جائز نہیں۔ آج اُمتِ مسلمہ، اسی کی وجہ سے مقروض و پریشان ہے۔ دس دس ہزار، بیس بیس ہزار روپیہ کھانے میں جارہا ہے۔ حیثیت سے زیادہ خرچ نہ کرو ،ارے امام اور مؤذن کو بلالو۔ دو آدمیوں سے بھی ولیمہ ہوجاتا ہے۔ چلو محلے کے کسی بڑے بوڑھے کو دوچار دوستوں کو بلا لو۔ آپ کسی مفتی سے پوچھ لیں کہ اگر دو چار آدمیوں کو بلالیں تو ہماری سنت ولیمہ ادا ہوجائے گی یا نہیں اور باقی پیسے دینی مدارس میں، یتمیوں پر، بیوائوں پر خرچ کردیں یا بیٹی کو دیں یا داماد کو دے دیں۔</p>
<p>یہ کھا کھاکر پچاس پچاس ہزار روپیہ خرچ کراکر مونچھوں پر تائو دے کر جو جاتے ہیں، کوئی خوش نہیں ہوتا تعریف کے لیے جو کام انسان کرتا ہے، تعریف بھی نہیں ملتی۔ جو وہ کہہ کر جاتے ہیں وہ الفاظ، مجھ سے سنیے! ’’ارے صاحب! گھی بہت ڈال دیا تھا۔‘‘ ’’اتنی چکنائی تھی کہ کھایا نہیں گیا۔‘‘ ’’میرے تو پیٹ میں درد ہوگیا۔‘‘ ’’یہ اس نے گوشت بچانے کے لیے ترکیب نکالی کہ گھی زیادہ ڈال دیا تاکہ کھانا نہ کھایا جائے۔‘‘ دوسرے صاحب کہتے ہیں: صاحب! نمک تیز ہوگیا۔ تیسرے صاحب کہتے ہیں: بکرا بڈھا تھا۔ گوشت میں بہت سختی تھی، جیسے چمڑے کھینچ رہے تھے۔</p>
<p>حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر ایک قصہ سنایا کہ ایک بخیل بنیا تھا۔ پیٹ کاٹ کاٹ کر پیسہ جمع کیا اور جب بیٹی کی شادی کی تو سارے گائوں کو دعوت دے دی کیونکہ عزت و جاہ کا بھوکا کافر ہوتا ہے، اس نے سب گائوں والوں کو آلو پوری کھلائی… آلو پوری بہت مزیدار ہوتی۔ اور ایک ایک اشرفی بھی انعام میں دی۔ اشرفی سونے کی ہوتی ہے۔ اور جب سب مہمان جانے لگے تو جلدی سے دوڑ کرکے گائوں کے باہر ایک درخت پر بیٹھ گیا کہ آج ذرا تعریف سن کر خوش ہوجائوں۔ مال تو گیا، زندگی بھر ہم نے چمڑی دے دی مگر دمڑی نہیں دی لیکن آج بیٹی کی شادی میں ذرا واہ واہ لینے کے لیے میں نے اتنا خرچہ کیا تو دیکھوں کہ آج میری کتنی تعریف ہوتی ہے۔ تو آلو کھاکر اور ایک اشرفی لے کر سب یہ کہتے ہوئے گزرے کہ بڑا ہی کنجوس مکھی چوس تھا۔ ارے! صرف ایک اشرفی دی۔ کمبخت کو پانچ اشرفی دینا چاہیے تھا۔ جب تین چار گالیاں سنی تو مارے غم کے، اس کی دھوتی ڈھیلی ہوگئی اور جلدی سے درخت سے نیچے اُتر کر صدمہ و غم سے گھر میں جاکر لیٹ گیا کہ اتنا پیسہ بھی چلا گیا اور تعریف بھی نہ ملی۔ مخلوق سے کہیں تعریف ملتی ہے۔ </p>
<p>اسی طرح غم کے موقع پر بھی اتنہائی بیہودہ رسمیں ہیں۔ غمی میں بریانیاں کھلائی جاتی ہیں، تیجہ کیا جاتا ہے جس کا نام قرآن خوانی ہے۔ بکرا کٹ رہا ہے، شامیانے لگ رہے ہیں اور بریانی پک رہی ہے سوچو تو صحیح جس کا نانا، جس کا بابا مرگیا اس کے ہاں بریانی کھانے میں شرم بھی نہیں آتی۔</p>
<p>حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک نوجوان کی تربیت فرمائی جو زمیندار تھا۔ اس کے باپ کا انتقال ہوگیا۔ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے صدقے اور ان کی صحبت کے فیض سے اس نے وعدہ کیا کہ حضرت! ان شاء اﷲ تعالیٰ میں اپنی پوری برادری سے یہ رسم مٹادوں گا، بس اس نے رسم کے مطابق باپ کے انتقال پر دو بکرے کاٹے اور شاندار بریانی پکوائی اور ساری برادری کو بلایا کہ آئو! آج کھانا کھالو۔ جب دسترخوان بچھاکر گرم گرم بریانی پلیٹوں میں رکھی گئی اور ہاتھ دھوکر سب نے بریانی کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو اس نے فوراً کہا کہ صاحبو! ہاتھ بڑھانے سے پہلے میں ذرا ایک گزارش کرتا ہوں اس کو سن لینے کے بعد آپ لوگ کھائیے، ایک نوجوان، بچہ، بڑے بڑے چودھری بڈھے زمینداروں سے خطاب کررہا ہے کہ آپ لوگ کس خوشی میں یہ بریانی کھانے جارہے ہیں۔ میرے دل سے پوچھو کہ باپ کے مرنے پر کیا صدمہ ہے۔ میرے غم اور صدمے میں آپ نے میرا یہ حق ادا کیا کہ آپ مجھ سے بریانی کھارہے ہو۔ جس کا باپ یا بھائی مرگیا اس سے کس خوشی میں بریانی کھائی جاتی ہے۔ اس تقریر کے بعد کوئی بریانی کھاسکتا تھا؟ آخر سب بڑے زمیندار تھے، عزت و آبرو سے ہاتھ دھو کر تھوڑی آئے تھے، سب لوگ فوراً کھڑے ہوگئے اور کہا: اے نو جوان بچے! شاباش! آج تو نے ہماری آنکھیں کھول دیں۔ساری بریانی کو لے جاکر غریبوں میں تقسیم کردو۔ یہ غریبوں کا حق ہے ہم جیسے بڑے بڑے مالداروں کا حق نہیں ہے کہ اپنے نوجوان رشتے دار کے باپ کی غمی میں بریانی ٹھونس رہے ہیں، واقعی یہ بے غیرتی ہے۔ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو جب یہ خبر ملی تو حضرت نے خوش ہوکر وعظ میں یہ واقعہ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ جس سے چاہتا ہے بڑا کام لے لیتا ہے۔ اﷲ نے اس سے کتنا بڑا کام لیا کہ اس نے ایک بُری رسم کو مٹادیا۔</p>
<p>آج آپ سب حضرات سے میں اس مسجد میں ایک عہد لیتا ہوں کہ آپ لوگ وعدہ کیجیے کہ اپنی شادی بیاہوں کو میرج ہالوں میں نہیں کریں گے۔ اﷲ کے لیے وعدہ کیجیے! اُمت پر رحم کیجیے! اپنے خاندان پر رحم کیجیے! یہاں حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب کی موجودگی میں دو نکاح ہوچکے ہیں۔ آپ لوگ شادی ہالوں کے کرایہ اور بجلیوں کے بِل سے جان چھڑاکر وہی پیسہ اپنی بیٹی کو دے دو۔ قرضہ لے لے کر اپنے دل کو کیوں پریشان کرتے ہو؟</p>
<p>میرے محترم بزرگو ،بھائیو اور دوستو! شادی سنت کے مطابق کرو، جمعہ کے دن، عصر کے بعد نکاح پڑھو اور مغرب بعد رخصتی کردو۔ نوشہ کے ساتھ جو آنے والے ہیں ان کو بھی پہلے ہی راضی کرلو کہ ہم سنت کے مطابق سادگی کے ساتھ شادی بیاہ کریں گے۔ اس طرح یہ لعنت جہیز کی نکل جائے گی۔ کتنی بیٹیاں ہیں جو جہیز کی اس لعنت اور ان اخراجات کی لعنت سے بیٹھی ہوئی ہیں۔ ان کے دلوں میں خودکشی تک کے وسوسے آرہے ہیں۔ میرے دوستو! ان شادی ہالوں میں پیسہ ضائع کرنا اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو پریشانی میں مبتلا کرنا ہے جو اپنی غربت کی وجہ سے اس رسم کو نہیں کرسکتے۔ بیٹی والوں سے پوچھو کہ کیا مصیبتیں ہیں، لہٰذا جو شخص اپنی بیٹی کی شادی میں کھانا کھلائے گا اندیشہ ہے کہ قیامت کے دن اس پر سنت کی مخالفت کا مقدمہ دائر ہوگا۔ ساتھ ساتھ یہ کہ معاشرے میں اس نے ایک بری رسم جاری کرکے مسلمانوں کی جیب کٹوانے کا انتظام کیا اور ان کو کرب و غم میں مبتلا کرنے کا سامان کیا۔ چھوڑئیے! اس کو کوئی کچھ کرتا ہو۔ آپ یہی پوچھئے لو کہ بیٹی والوں کا کھانا کس کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ اس لیے آج آپ حضرات یہ عہد کرلیں کہ ہمیں میرج ہالوں میں شادی نہیں کرنی ہے بیٹی والوں کو کھانا نہیں کرنا ہے، بیٹی والوں سے جہیز نہیں مانگنا ہے وغیرہ۔ یہ دس ہزار پانچ ہزار جو ایک رات کا کرایہ لگتا ہے نہیںدینا ہے، مسجد میں سنت کے مطابق نکاح کرائیے۔ </p>
<p>نکاح کے بعد چھوارے وغیرہ نہ اُچھالیے۔ خالی کتابوں کو دیکھ کر عمل نہ کیجیے۔ سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ ہمارے حضرت مولانا ابرارالحق صاحب نے فرمایا کہ اس زمانے میں چھوارے قاعدے سے تقسیم کرو۔ کیوں؟ اس لیے کہ جس زمانے میں یہ کھجور اور چھوارے اُچھالے گئے تھے اس زمانے میں آنکھوں پر چشمے نہیں لگتے تھے۔ آج سے پچاس برس پہلے کے بزرگوں کو دیکھ لو، اپنے دادا، نانا کو کہ اکثر نے بڑھاپے تک چشمہ نہیں لگایا، خود میرے نانا نے آخر سانس چشمہ نہیں لگایا۔ اور اب چشمے لگے ہوئے ہیں۔ لہٰذا اگر آپ نے کھجوروں کو اُچھالا، اور ایک کھجور کسی کے چشمے پر گرگئی، اس کا تو تین سو کا تو چشمہ گیا اور آپ کی دو آنے کی کھجور اس کے نفع میں آئی لہٰذا کھجوریں تقسیم کیجیے اور اس طریقہ سے کہ مسجد میں بھی اس کا اثر نہ ہو کہ مکھیاں بھنکیں، تاکہ مسجد کا فرش بھی نہ خراب ہو۔ اور مغرب بعد بیٹی کو رخصت کردو اور بیٹی والا کھانا نہ کھلائے۔</p>
<p>ولیمہ کے سلسلے میں بھی عرض کرتا ہوں کہ ولیمہ میں یہ کوئی ضروری نہیں کہ ساری برادری آئے۔ کسی کتاب میں نہیں لکھا ہے کہ ساری برادری کا کھانا کرو۔ جتنی اللہ توفیق دے اور قرضہ نہ لینا پڑے۔ یہی ہزار ہزار آدمیوں کو ولیمہ کھلانے والوں سے اگر کہا جائے کہ مسجد کی دری پھٹی ہے کچھ پیسہ دے کر نئی دری بچھوادو تو کہتے ہیں مولانا! آج کل بڑی کڑکی ہے، کڑکی۔ کڑکی کے معنی معلوم ہیں آپ کو؟ میمنوں کی زبان ہے۔ مرغی جب کُڑک ہوجاتی ہے اور انڈا نہیں دیتی، تو کہتے ہیں کہ یہ مرغی کی کڑکی کا زمانہ ہے اسی کُڑکی سے یہ کَڑکی بنایا ہے۔ میمن صاحب جب کہے کہ آج کل کَڑکی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میری دکان کی مرغی انڈا نہیں دے رہی ہے یعنی پرافٹ (Profit) نہیں ہورہا ہے، لیکن یہ پچاس ہزار میرج ہال کے لیے کہاں سے آگیا؟ کھانا کہاں سے آگیا؟ جو غریب ہیں وہ بھی بینکوں سے سودی قرضے لے رہے ہیں۔ ولیمہ کون سا فرض ہے اور اگر فرض بھی ہوتا تب بھی سودی قرضہ لینا جائز نہیں۔ ولیمہ سنت ہے لیکن حسب گنجائش و توفیق۔ اگر پوری بکری کرنے کی کسی کے پاس گنجائش نہیں ہے، تو بکری نہ کرے دال روٹی کھلادے، اگر گنجائش ہے تو چلو ایک بکری کرلو۔ ایک بکری آٹھ نو سو کی مل جاتی ہے۔ ایک ہزار کے چاول بھی ڈال دو، دو ہزار میں ولیمہ کرلو اور کوئی غریب ہے مؤذن ہے، امام ہے، بیچارہ اس کے پاس یہ بھی نہیں ہے تو میاں! آلو پوری کھلادو، دہی بڑے کھلادو۔ ولیمہ میں پلائو قورمہ کھلانا کوئی واجب نہیں ہے۔ غیرواجب کو واجب سمجھنا یہ بھی اسلام میں بہت بڑا جرم ہے، اس سے ضرر پہنچا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں، دوستو! اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو غور سے سنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’اَعْظَمُ النِّکَاحِ بَرَکَۃً اَیْسَرُہٗ مَؤُنَۃً‘‘ سب سے بڑا برکت والا نکاح وہ ہے جس میں کم خرچ ہو۔ آپ سوچیے اگر آپ کم خرچ کریں گے تو نکاح میں برکت آجائے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک ہے۔ اگر آپ کو اللہ نے بہت دولت دی ہے۔ مان لیجیے! بہت سی لانچیں چل رہی ہیں، موٹر چل رہی ہے، ٹیکسی چل رہی ہے، تو پیسہ بچاکر کسی غریب کی بیٹی کا نکاح کرادو، کہو کہ یہ دس ہزار روپے ہم سے تحفہ لے لو یا کسی اور ضروری کام میں خرچ کردو بھائی! دو چار بچوں کو حافظ بنوادو، ہزاروں نیک کام ہیں جن میں خرچ کرسکتے ہیں لیکن مال کو ان فضول رسموں میں خرچ کرنے سے یہ خرابی پیدا ہوگی جو خاندان میں غریب ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں بھی مالدار رشتہ دار کا مقابلہ کروں گا چاہے قرض ہی لینا پڑے۔ ایسا کوئی کام نہ کیجیے کہ جس سے پورے خاندان والے مجبور ہوکر حیثیت سے زیادہ خرچ کریں، اگر ایک بچے کو پیچش ہوتی ہے، تو اس کی رعایت سے ماں دوسرے تندرست بچوں کو بھی کباب نہیں دیتی کہ تمہارے کباب کو دیکھ کر میرا بیمار بچہ روئے گا۔ ایسے ہی امت کا خیال کرو، نفسی نفسی نہ کرو۔ </p>
<p>اسی طرح جہیز کی لعنت ہے آج کل لڑکے والا بابا کہتا ہے کہ میرا بیٹا امریکا پڑھنے جائے گا۔ جہیز میں امریکا تک پہنچنے کا خرچہ بھی دو، ایک کار بھی دو اور ٹیلیویژن بھی دو اور میرے بیٹے کے لیے دکان کھلوادو۔ اگر ڈاکٹر ہے تو اس کو میڈیکل اسٹور کھلوادو یا ہسپتال بنوادو۔ بیٹی والوں سے پیسہ مانگنا یہ رشوت ہے، حرام ہے چاہئے تو یہ تھا کہ بیٹی والے سے کہہ دیتے کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کو تنگدستی ہے، کچھ مقروض بھی ہیں، آپ کچھ نہ دیجیے۔ میرے گھر میں سب کچھ موجود ہے ہمیں آپ کی بیٹی چاہیے دولت نہیں چاہیے اور کوئی طعنہ بھی نہیں دے گا۔ یہ عہد داماد کے باپ اور اس کی ماں کو لکھ کر دے دیں کہ تمہاری بیٹی کو کوئی طعنہ نہیں ملے گا۔ لیکن آج افسوس یہ ہے کہ کھاتے پیتے لوگ نمازی لوگ بھی طعنہ دیتے ہیں اگر بیوی غریب ہے، کچھ نہیں لائی یا کم لائی، تو شوہر صاحب کہتے ہیں کہ ارے! تیرے باپ نے کیا دیا۔ تجھ سے نکاح کرکے میں تو پچھتا رہا ہوں، فلاں جگہ نکاح کرتا تو مجھ کو اتنا ملتا۔ کیا ہورہا ہے دوستو! یہ کتنا بڑا ظلم ہے۔ اس لیے دل سیاہ ہورہے ہیں اور گھروں میں لڑائی جھگڑے ہورہے ہیں۔ دین اور اخلاق اور شرافت کاتقاضا ہے کہ یہ کہہ دو کہ آپ بیٹی دے رہے ہیں، اپنے جگر کے ٹکڑے کو آپ دے رہے ہیں، اس کے مقابلے میں ہم کرسی اور صوفہ مانگیں۔ کیا حقیقت ہے؟ وہ اپنی طرف سے آرام کے لیے اپنی بیٹی کے لیے کچھ دے دیں وہ ٹھیک ہے لیکن اگر اس کے پاس نہیں ہے، قرینہ سے پتہ چل جاتا ہے، کہ لڑکی کا والد مالی لحاظ سے کمزور ہے تو شریف داماد اور شریف سمدھی کا حق ہے کہ کہہ دے کہ آپ بالکل تکلف نہ کریں اور اور ان کو یقین دلائو کہ کوئی طعنہ نہیں دے گا بلکہ لکھ کر دے دو اور اس پر اس کی ساس کے بھی دستخط کرائو کیونکہ اس وقت تو جوش میں کہہ دیں گی لیکن بعد میں ساری زندگی طعنے دیتی ہیں۔ جو مہمان آیا، ارے! آپ کی بہو کچھ لائی بھی ہے؟ ارے! کیا لائی ہے بس چند چیتھڑے اور کچھ ٹھیکرے لائی ہے، کپڑے کا نام چیتھڑے رکھ دیا، برتنوں کا نام ٹھیکرے رکھ دیا۔ اس لیے دل روتا ہے ایسے حالات سے۔ آپس میں آج اگر آپ اس مسجد کے اندر عہد کرلیں، کہ ہم اپنی شادیوں میں بیٹی والے سے کہہ دیں گے کہ آپ پر کوئی جہیز کی ذمہ داری نہیں ہے۔</p>
<p>اپنی بیٹی کو جو دل چاہے دے نہ دے اس پر کبھی طعنہ نہیں ملے گا اس پر اپنی بیوی اور بیٹے کے علاوہ اس کی بہنوں کے بھی دستخط کرائو کیونکہ بہنوں کی زبان بھی کبھی کڑوی ہوجاتی ہے۔ پھر دیکھو اللہ تعالیٰ کتنا راضی ہوتا ہے۔ ذرا یہ عمل کرکے دیکھئے تو شادی بیاہ بالکل آسان معلوم ہوگا۔ آج کل کیا حالات ہیں اسلام آباد میں ایک شخص کی چھ بیٹیاں ہوگئیں تو مجھ سے کہنے لگے کہ کوئی تعویذ دو کہ اب بیٹی نہ ہو کیونکہ خاندان میں پچاس ہزار ایک بیٹی پر خرچہ آتا ہے اور چھ بیٹیوں کو پچاس ہزار پر ضرب کرو تو تین لاکھ بنتا ہے۔ تین لاکھ میں کہاں سے لائوں گا۔ پانچ ہزار میری تنخواہ ہے۔ تین ہزار خرچ ہوجاتے ہیں۔ ایک ہزار بچائوں بھی تو تین لاکھ کہاں سے آئے گا لہٰذا مجبوراً سود لینا پڑے گا۔ قرضہ لینا پڑے گا۔ یہ ہماری غلطی ہے کہ ہم نے معاشرہ میں غیر اسلامی رسمیں رائج کی ہیں اس کے لیے خاص طور پر آپ لوگ ہمت کیجیے، نہی عن المنکر کی جماعت الگ بنانے کی ضرورت ہے اور برائیوں کو مٹانے کے لیے آپ سب اس میں داخل ہوجائیں۔ یہ جتنے لوگ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں سب بُرائیوں کے مٹانے میں ہمارے ممبر اور انصار ہیں۔ </p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F302.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F302.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F302.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F302.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F302.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F302.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/302.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت تھانویؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/281.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/281.html#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 26 Apr 2010 02:28:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=281</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ)
حضرت مولانا گنگوہیؒ کا اپنے ایک خادم پر توجہ دینے کی برکت
حضرت مولانا گنگوہیؒ کے کسی خادم کی گنگوہ میں کسی عورت سے آنکھ لگ گئی اور ملنے کا وقت اور جگہ بھی مقرر ہوگئی۔ یہ صاحب حضرت مولانا کی چار پائی صحن میں بچھا کر اور سب کام سے فراغت پاکر حسب [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ کا اپنے ایک خادم پر توجہ دینے کی برکت</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ کے کسی خادم کی گنگوہ میں کسی عورت سے آنکھ لگ گئی اور ملنے کا وقت اور جگہ بھی مقرر ہوگئی۔ یہ صاحب حضرت مولانا کی چار پائی صحن میں بچھا کر اور سب کام سے فراغت پاکر حسب وعدہ اس مقام کی طرف چلے۔ ان کی خانقاہ سے نکلتے ہی آسمان سے ایک بدلی اٹھی (حالانکہ اس سے پہلے آسمان بالکل صاف تھا) جب یہ اس مقام پر پہونچے تو عورت حسب وعدہ اس مقام پر ان کا انتظار کررہی تھی ابھی آپس میں کچھ گفتگو بھی نہ ہوئی تھی کہ بجلی اس زور سے کڑکی کہ یہ دونوں گھبرا گئے ادھر تو ان کو یہ خیال ہوا کہ مولانا کی چارپائی صحن میں پڑی ہوئی ہے اگر اٹھ آئے اور مجھے نہ پایا تو کیا کہیں گے ادھر اس عورت کو خیال ہوا کہ اگر گھروالے اٹھ آئے اور مجھے نہ پایا تو کیا کہیں گے بس دونوں یہ سوچ کر اپنے اپنے مقام کی طرف بھاگے انہوں نے یہاں آکر دیکھا تو مولانا چارپائی پر پائوں لٹکائے ہوئے مراقب بیٹھے ہوئے ہیں جیسے کوئی شیخ کسی مرید کو توجہ دیتا ہے (ان کے آنے تک آسمان پر ابر اور بجلی کا پتہ بھی نہیں رہا) یہ چپکے سے آکر لیٹ گئے ان کے آکر لیٹنے کے بعد مولانا بھی چارپائی پر بدستور سابق استراحت فرمانے لگے صبح کے وقت جب مجلس ہوئی تو مولانا نے نفس کو قابو میں رکھنے کے فضائل بیان فرمائے جس سے یہ بالکل تائب ہوگئے اور پھر بہت اچھی حالت ہوگئی۔ (ازتحریرات بعض ثقات)</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ کے بارہ میں سائیں توکل شاہ صاحبؒ کا کشف</p>
<p>ایک مرتبہ حضرت سائیں توکل شاہ صاحب کے پاس چند آدمی حضرت مولانا گنگوہیؒ کی شان میں کچھ سوء ادبی کے کلمات کہہ رہے تھے حضرت شاہ صاحب نے کچھ دیر مراقب ہوکر گردن اٹھائی اور ان لوگوں سے فرمایا کہ لوگوں تم کس کی برائی کررہے ہو۔ میں تو مولانا رشید احمد صاحبؒ کا قلم عرش پر چلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔</p>
<p>(از تحریرات بعض ثقات)</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ کی شان استغنا کا واقعہ</p>
<p>ایک مرتبہ مولانا گنگوہیؒ جاڑے کے موسم میں گاڑھے کی میلی دوہر اوڑھے بیٹھے تھے اور آپ کے دائیں بائیں مولانا محمد یعقوب صاحبؒ اور حکیم ضیاء الدین صاحب بیٹھے تھے ایک صاحب آئے تو انہوں نے دائیں بائیں دونوں حضرات سے مصافحہ کیا مگر حضرت گنگوہیؒ کو عامی آدمی سمجھ کر باوجود بیچ میں بیٹھا ہونے کے چھوڑ دیا اس پر مولانا محمد یعقوبؒ مسکرائے حضرت نے مطلب سمجھ کر فرمایا کہ الحمدﷲ مجھے اس کی تمنا نہیں ہے کہ لوگ مصافحہ کریں۔ (از تحریرات بعض ثقات)</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ کا حضرت مولوی یحییٰ سے گہرا تعلق تھا</p>
<p>ایک مرتبہ مولوی یحیٰ صاحبؒ کو کسی کام میں زیادہ دیر لگ گئی تو حضرت مولانا گنگوہیؒ نے کئی بار پکارا کہ خدا جانے کہاں بیٹھ گئے (کیونکہ اگر مولوی یحیٰ ذرا دیر کو بھی مولانا سے الگ ہوتے تو بار بار یاد فرماتے تھے) جب مولوی یحییٰ صاحب آئے تو مولانا نے فرمایا ؎</p>
<p>مت آئیو او وعدہ فراموش تو اب بھی </p>
<p>جس طرح کٹا روز گذرجائیگی شب بھی</p>
<p>(از تحریرات بعض ثقات)</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F281.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F281.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F281.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F281.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F281.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F281.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/281.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت والا ہردوئیؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/282.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/282.html#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 26 Apr 2010 02:27:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/282.html</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ)
ارشاد فرمایا کہ صحبت کی نافعیت موقوف ہے کہ اہل اﷲ کی صحبت کا تسلسل رہے جس طرح کثرت ذکر اﷲ مطلوب ہے اسی طرح صحبت اہل اﷲ کی کثرت بھی مطلوب ہے۔ یعنی ان کی صحبتوں میں آنا جانا کثرت سے ہوتا رہے تسلسل اور کثرت دونوں ضروری ہیں۔
حدیث پاک میں ہے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ صحبت کی نافعیت موقوف ہے کہ اہل اﷲ کی صحبت کا تسلسل رہے جس طرح کثرت ذکر اﷲ مطلوب ہے اسی طرح صحبت اہل اﷲ کی کثرت بھی مطلوب ہے۔ یعنی ان کی صحبتوں میں آنا جانا کثرت سے ہوتا رہے تسلسل اور کثرت دونوں ضروری ہیں۔</p>
<p>حدیث پاک میں ہے اے اﷲ میں آپ کی محبت کا سوال کرتا ہوں پھر یہ ہے کہ اور آپ سے محبت کرنے والوں کی محبت بھی مانگتا ہوں اور پھر یہ ہے کہ اور ان اعمال کی محبت عطا فرمادیجئے جو آپ کی محبت سے قریب کرنے والے ہیں اللّٰہم انی اسئلک حبک و حب من یحبک وحب عمل یقربنی الی حبک اس حدیث سے تین باتیں مطلوب ہونا ثابت ہوئیں۔</p>
<p>(۱) محبت حق (۲)محبت اہل اﷲ (۳) محبت اعمال صالحہ</p>
<p>اور محبت اہل اﷲ محبت حق اور اعمال صالحہ کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ نئے ڈرائیوروں سے جس طرح تصادم ہوجاتاہے اسی طرح پرانے ڈرائیوروں سے بھی جب ان کے اندر عجب اور ناز اور غفلت کی بیماری پیدا ہوجاتی ہے تصادم (ایکسیڈنٹ) ہوجاتا ہے۔ بدپرہیزی سے بڑے بڑے صحت مند پہلوان تباہ ہوجاتے ہیں محمد علی کلے اگر سنکھیا کھالے تو کیا پہلوانی باقی رہے گی۔ یہی حال نئے اور پرانے سالکین کا ہے۔ اگر پرانے سالکین بھی اپنی نگرانی سے غفلت کریں گے گرجائیں گے (کوئی تو جاہ میں گرگئے اور کوئی چاہ میں گر گئے یعنی کوئی تکبر میں برباد ہوگئے کوئی بدنگاہی اور شہوت و عشق مجازی میں تباہ ہوگئے) جامع۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگوں کی تو شیخ کی زندگی ہی میں اور بعض لوگوں کی حالت بعد وفات شیخ خراب ہوگئی حالات میں تغیر ہوجاتا ہے غفلت کے سبب۔</p>
<p>حضرت حکیم الامت تھانویؒ نے خواجہ صاحب سے فرمایا کہ جب ریل کا سفر کرتا ہوں اور دور ریل کی کراسنگ ہوتی ہے تو میں ڈبے سے باہر نہیں دیکھتا کیونکہ ممکن ہے کہ دوسری ریل کے کسی ڈبے سے کوئی عورت جھانک رہی ہو اور میری نظر اس پر پڑجاوے گو اچانک نظر معاف ہے مگر مجھے اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کہ اس اچانک نظر کو میں ضرور ہٹالوں گا۔</p>
<p>نفس کا مار سخت جاں دیکھ ابھی مرا نہیں</p>
<p>غافل ادھر ہوا نہیں اس نے ادھر ڈسا نہیں</p>
<p>اور حکیم الامت تھانویؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں مشایخ کے لیے بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنے حالات میں کسی بڑے سے مشورہ کرتے رہیں مستقل بالذات نہ سمجھیں ورنہ مستقل بدذات ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے اور اگر بڑے نہ ملیں توچھوٹوں ہی سے مشورہ کرلیا کریں اس معاملہ میں عار نہ محسوس کریں کہ لوگ کیا کہیں گے اپنے رب سے کام رکھیں۔</p>
<p>پیش نظر تو مرضی جانانہ چاہیے</p>
<p>سارا جہاں خلاف ہو پروا نہ چاہیے</p>
<p>تمنا ہے کہ اب کوئی جگہ ایسی کہیں ہوتی</p>
<p>اکیلے بیٹھے رہتے یاد ان کی دلنشیں ہوتی</p>
<p>آشنا بیٹھا ہو یا نا آشنا</p>
<p>ہم کو مطلب اپنے سوزو ساز سے</p>
<p>حضرت خواجہ صاحبؒ تسبیح و ذکر کی پُر کیف بہاروں کو اس طرح بیان فرماتے ہیں ؎</p>
<p>دم رُکا سمجھو جو دم بھر کو بھی یہ ساغر رُکا</p>
<p>میرا دور زندگی ہے یہ جو دور جام ہے</p>
<p>میں رہتا ہوں دن رات جنت میں گویا</p>
<p>مرے باغ دل میں وہ گلکاریاں ہیں</p>
<p>مگر یہ نعمتیں کیسے حاصل ہوں گی ؎</p>
<p>کامیابی تو کام سے ہوگی</p>
<p>نہ کہ حسن کلام سے ہوگی</p>
<p>ذکر کے التزام سے ہوگی </p>
<p>فکر کے اہتمام سے ہوگی </p>
<p>بیڑی اور سگریٹ والے تو پینے سے نہیں شرماتے جہاں موقع پاتے ہیں وہیں بیڑی پینا شروع کردیتے ہیں آپ ذکر و تسبیح سے کیوں شرماتے ہیں۔ احقر جامع عرض کرتا ہے پھر مغرب کی اذان شروع ہوگئی لوگ باتیں کررہے تھے حضرت والا نے فرمایا کہ آپ لوگ باتیں نہ کریں اذان کا جواب دیں۔ حضرت تھانویؒ سے کسی نے دریافت کیا تھا کہ تلاوت کرتے وقت اگر اذان ہونے لگے تو اذان کا جواب دوں یا تلاوت جاری رکھوں۔ تحریر فرمایا کہ تلاوت کو ملتوی کرکے اذان کا جواب دیں پھر تلاوت شروع کردیں۔ سنت کی اتباع سے پھر تلاوت میں زیادہ نور انشاء اﷲ تعالیٰ محسوس ہوگا۔</p>
<p>احقر مرتب عرض کرتا ہے کہ فرض و سنتوں کے بعد مسجد سے متصل دوروازے پر کچھ لوگ باتیں کررہے تھے اگرچہ یہ لوگ خارج مسجد تھے مگر ان کی باتوں سے نمازیوں کو خلل ہورہا تھا تو فرمایا کہ جو لوگ مسجد کے قریب باتیں کررہے ہیں ان کو چاہیے کہ اتنی دور جاکر باتیں کریں کہ ان کی آواز مسجد کے اندر نمازیوں کو مخل نہ ہو۔ جب نمازیوں کی تشویش کے سبب بلند آواز سے تلاوت کرنا منع ہے تو یہ بات چیت کیسے جائز ہوگی۔</p>
<p>بعد نماز مغرب ایک صاحب نے کہا کہ ہماری طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ہے بعض لوگ سحر کا شبہ بتاتے ہیں فرمایا آپ حسب ذیل کام کریں۔</p>
<p>(۱) سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس تین ، تین بار پڑھ کر صبح و شام اپنے اوپر دم کریں۔ ترمذی شریف کی روایت ہے کہ اس کی برکت سے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی۔</p>
<p>(۲) یا سلام۱ ۱۳؍ بار اول آخر درود شریف تین تین بار پڑھ کر جہاں تکلیف ہو ہر نماز کے بعد دم کرلیں۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ صالحین کی وضع قطع کی نقل میں بھی بہت برکت ہے، جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وضع قطع بنائی یہ مشابہت ان کی ہدایت کا سبب بن گئی، حق تعالیٰ کا فضل ہوگیا سب کو ایمان عطا ہوگیا۔ حضرت حکیم الامت تھانویؒ فرمایا کرتے تھے کہ متشبہ بالصوفی کی بھی قدر کرو کیونکہ صوفیوں کے لباس کی نقل دلیل ہے کہ اس کے دل میں صوفیوں کی یا محبت یا عظمت ہے۔ ہمیشہ نقل کا سبب دو ہوتے ہیں یا تو جس کی نقل کرتا ہے اس کی محبت ہوگی یا اس کی عظمت ہوگی۔ پس جو لوگ صالحین کی وضع قطع ترک کرکے اہل مغرب کی وضع قطع کی نقل کرتے ہیں یا تو ان کے دلوں میں ان کی محبت ہے یا عظمت ہے۔ اور حق تعالیٰ فرماتے ہیں ولا ترکنوا الی الذین ظلموا ظالموں کی طرف میلان نہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>لباس صلحاء کا اختیار کرنے والا انشاء اﷲ تعالیٰ محروم نہ رہے گا ایک شخص آزاد طبع تھا جب مرنے لگا تو اپنے گھروالوں سے کہا میری داڑھی پر آٹا چھڑک دو جب قبر میں سوال ہوا کہ یہ آٹا کیوں چھڑک رکھا ہے جواب دیا کہ سنا ہے آپ بوڑھوں پر رحم فرمادیتے ہیں تو بوڑھا نہیں مرا ہوں مگر بوڑھوں کی شکل آٹا چھڑک کر بنالایا ہوں۔ اسی پر رحم فرمادیا ؎</p>
<p>رحمت حق بہانہ می جوید</p>
<p>رحمت حق بہانمی جوید</p>
<p>علاج نظر بد مجرب</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ نظر بد کا علاج مجرب ہے جس پر نظر لگی ہو سات سرخ مرچوں پر ویکاد الذین کفروالیزلقونک بابصارہم سے الا ذکرٌ للعالمین تک ۷؍مرتبہ پڑھ کردم کریں۔ یاالگ الگ مرچ پر ایک ایک بار پڑھ کر دم کریں پھر ایک ایک مرچ کو اس کے جسم سے یعنی سر سے پیر تک دونوں طرف لگا کر آگ میں جلا دیں اگر دھانس آنے لگے تو سمجھ لیجئے کہ نظر اترگئی اور اگر دھانس نہ آوے تو دوبارہ یہی عمل کیا جاوے۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ فساد خون ہو تو جلد پر خالی مرہم کافی نہیں اندر سے خون کی صفائی کا اہتمام بھی ہو اسی طرح دل میں بیماری ہو تکبر یا شہوت کی تو ظاہری اعمال سے یہ بیماری نہ جاوے گی جب تک دل میں خوف پیدا نہ ہو مراقبۂ موت قبر و دوزخ و قیامت کا بار بار اہتمام ہو تو کام بنتا ہے۔ </p>
<p>ارشاد فرمایا کہ ہر شخص جو حق تعالیٰ کا مطیع اور فرمانبردار ہے وہ ذاکر ہے کل مطیع اﷲ فہو ذاکر صرف زبانی ذکر کا نام ذکر نہیں ہے گناہ نہ کرنا بھی ذکر ہے۔ ہر گناہ کانٹا ہے کانٹا چبھے گا تو بے چینی کیوں نہ دل میں پیداہوگی اگر صرف زبان سے ذکر ہے مگر آنکھ بدنگاہی میں مبتلا ہے تو زبان کے ذکر کے ساتھ آنکھ نافرمان بھی ہے بلکہ اکثر اعضاء نافرمانی میں مبتلا ہوتے ہیں اور زبان سے ذکر بھی ہورہا ہے تو دل میں کیسے چین پیدا ہوگا۔ ذکر کے خلاف اس کے اضداد کی تعداد تو زیادہ ہے ہر عضو کو فرمانبردار بنائیں پھر زبان کے ذکر سے دیکھئے کیسے انوار پیدا ہوتے ہیں اور کیا سکون ملتا ہے۔</p>
<p>امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے دل میں سکون کی وہ دولت ہے کہ اگر بادشاہوں کو معلوم ہوجاوے تو تلواریں لے کر ہم پر چڑھائی کردیں۔ لیکن یہ دولت تو اہل اﷲ کی جوتیاں سیدھی کرنے سے ملتی ہے یعنی ان کی وہ صحبت جو اطلاع حالات اور اتباع تجویزات کے ساتھ ہو طالب کے دل کی کایا پلٹ دیتی ہے۔ حضرت خواجہ صاحبؒ اسی بہار کو فرماتے ہیں ؎</p>
<p>میں رہتا ہون دن رات جنت میں گویا</p>
<p>مرے باغِ دل میں وہ گلگاریاں ہیں</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F282.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F282.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F282.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F282.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F282.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F282.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/282.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/278.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/278.html#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 26 Apr 2010 02:24:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=278</guid>
		<description><![CDATA[مرتبہ: سید عشرت جمیل میر
 مندر جہ ذیل ملفوظات کو فیروز میمن صاحب نے ٹیپ سے نقل کیا جن کو احقر نے مرتب کیا۔
(احقر سید عشرت جمیل میر غفر لہ)
 بعد فجر حضرت والا اپنے حجرہ میں چند احباب کے سامنے بیان فرمارہے تھے۔ احقر فیروز بھی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایاکہ اب آئے۔ کیا کہیں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">مرتبہ</span>: <span style="font-family: Tahoma;">سید عشرت جمیل میر</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"> <span style="font-family: Tahoma;">مندر جہ ذیل ملفوظات کو فیروز میمن صاحب نے ٹیپ سے نقل کیا جن کو احقر نے مرتب کیا۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right">(<span style="font-family: Tahoma;">احقر سید عشرت جمیل میر غفر لہ</span>)</p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"> <span style="font-family: Tahoma;">بعد فجر حضرت والا اپنے حجرہ میں چند احباب کے سامنے بیان فرمارہے تھے۔ احقر فیروز بھی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایاکہ اب آئے۔ کیا کہیں کتنا مضمون اہم نکل گیا۔ </span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">پھر ارشاد فرمایا کہ اپنی بیویوں کی ایک لاکھ خطا معاف کرو، اگر اپنی ایک لاکھ معاف کرانی ہے۔ بھئی</span>! <span style="font-family: Tahoma;">سوچئے کہ جب سے ہم بالغ ہوئے ہیں ہم سے کتنی خطائیں ہوئی ہیں، ہم لوگوں سے کتنی نظر خراب ہوئی، کتنے گناہ ہوئے، کس قدر جھوٹ بولے۔ تو اگر اﷲ تعالیٰ سے اپنی لاکھ خطائیں معاف کرانی ہیں تو اپنی بیویوں کی لاکھ خطا معاف کرو۔ ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ میرے گھر میں لڑائی رہتی ہے۔ میں نے کہا کہ میں جو مشورہ دوں گا عمل کروگے؟ انہوں نے کہاکہ ہاں</span>! <span style="font-family: Tahoma;">میں نے کہا کہ دفتر جانے سے پہلے الگ کمرے میں جائو جہاں کوئی دوسرا نہ ہو اور بیوی سے معانقہ کرو، اس کے گالوں کا پیار سے چمہ لو اور پیشانی بھی چومو، پیشانی چومنا سنت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چومی تھی۔ کبھی یہ سنت بھی ادا کرو۔ بہرحال اگر قیامت کے دن اپنی ایک لاکھ خطائیں معاف کرانی ہیں تو اپنی بیوی کی ایک لاکھ خطائیں معاف کرو۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بار اپنے نوکر سے کہا کہ میں تمہیں کتنا معاف کروں؟ تم نے مجھے اتنا ستایا ہے کہ میں بھگتّے بھگتّے عاجز ہوگیا، اب کتنا بھگتوں؟ بھگتنا کے معنیٰ ہیں برداشت کرنا۔ تو حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اے میرے بھتیجے جتنا تجھے اپنا بھگتوانا ہے اتنا بھگت لے۔ آہ</span>! <span style="font-family: Tahoma;">کیا جملہ ہے</span>!</p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">غرض اپنی بیویوں کی ایک لاکھ خطا معاف کرو اور ان کو پیار سے رکھو۔ تو ان صاحب نے جن کے یہاں لڑائی رہتی تھی اور بیوی ناراض رہتی تھی جب میری بتائی ہوئی ترکیب پر عمل کیا اور دفتر جاتے وقت اور آتے وقت اور سوتے وقت اس کو پیار کیا تو ساری لڑائی ختم ہوگئی اور بیوی نے کہا کہ بس اسی بات کی کمی تھی کہ تم مجھے پیار نہیں دیتے تھے۔ بیوی کی پیشانی کا بوسہ لینا اور گال چومنا بھی جائزہے، مکروہ بھی نہیں ہے بلکہ مستحب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں کہ میری بندی کو پیار کررہا ہے۔ خاص کر بڈھا جب کسی بڑھیا کو پیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ جوانی میں تو طبیعت کے تقاضے سے پیار کررہا تھا، اب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے تقاضے سے پیار کررہا ہے۔ دل نہیں چاہتا بڈھے کا کہ بڈھی کو پیار کرے کیونکہ اس کے دانت باہر آگئے، گال پچک گئے اور آنکھ پر پونے گیارہ نمبر کا چشمہ لگ گیا۔ اس لیے میں نے لندن میں کہا تھا کہ اپنی بڈھی بیویوں سے اکیلے میں کمرہ بند کرکے جہاں کوئی اور نہ ہو پیار کرو اور چاہے دل سے نہ کہو، زبان سے کہو تو بھی اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول ہے کہ اے میری بڑھیا، شکر کی پُڑیا، واہ رے میری گڑیا۔ خصوصاً بڑھاپے میں خوب پیار کرو۔ اگرچہ دل ساتھ نہ دے رہا ہو، پھر بھی اجر ہے، ثواب ہے، ان شاء اللہ۔ اخلاقِ ظاہرہ دکھانا بھی بعض مرتبہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول ہے۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ مبارک</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">ایک شخص آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جو آرہا ہے پورے خاندان کا سب سے برا آدمی ہے۔ یہ بہت اہم بات بتا رہا ہوں، یہ بھی دیکھو کہ اس وقت اﷲ تعالیٰ کیا مضمون عطا فرمارہے ہیں، دنیاوی بارش کا تو موسم ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کوئی موسم نہیں جب چاہے برسادیں۔ اس وقت اس کا حکم بتارہا ہوں کہ اگر دل میں بیوی کی محبت نہ ہو تب بھی محبت کا اظہار کرو جس کی آپ کو سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے دلیل بھی مل جائے گی۔ تو اس شخص کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ</span>! <span style="font-family: Tahoma;">یہ جو شخص آرہا ہے یہ اپنے خاندان کا بدترین انسان ہے، اس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں، مگر جب وہ قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آئیے آئیے یعنی شاباشی دی کہ آئو بھئی آئو، بیٹھو، ان کو کچھ کھلاؤ پلائو۔ آپ اس سے اچھے اخلاق سے پیش آئے۔ جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ ابھی تو آپ فرمارہے تھے کہ یہ اپنے خاندان اور قبیلے کا سب سے بُرا آدمی ہے لیکن آپ نے تو ایسا استقبال فرمایا اور خوب اکرام فرمایا، یہ کیا معاملہ ہے؟</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ مدارات کے لیے پیدا کیا گیا ہوں اور مدارات سکھانے کے لیے پیدا کیا گیا ہوں کہ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤں۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">بُعِثْتُ لِمُدَارَاۃِ النَّاسِ </span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">میں مبعوث کیا گیا ہوں اچھے اخلاق سے پیش آنے کے لیے۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">اب اس میں کیا فائدہ ہے کہ دل تو نہیں چاہتا مگر زبان سے کہتا ہے کہ آئیے آئیے بیٹھئے</span>! <span style="font-family: Tahoma;">اس میں دو فائدے ہیں</span>:</p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">ایک یہ کہ آپ اس کے شر سے بچے رہیں گے، آپ کے دُشمن نہیں بڑھیں گے، وہ آپ کو ستائے گا نہیں۔ وہ سمجھ جائے گا کہ آپ کو اس سے بغض نہیں ہے۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب کسی بستی سے واپس ہوتے تھے تو وہاں کے کافر روتے تھے کہ آہ</span>! <span style="font-family: Tahoma;">یہ برکت والے لوگ ہمیں چھوڑ کر جارہے ہیں۔ لہٰذا اس طرح رہو کہ کافر بھی آپ کی جدائی سے روئیں۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">دوسرا فائدہ یہ کہ وہ اسلام سے اور ہدایت سے قریب ہوجائے گا، جب آپ دین کی کوئی بات بتائیں گے تو سن لے گا، لیکن اگر آپ نے اس کو کہا کہ نالائق، اُلو کہیں کا، بدتمیز، تو خاندان کا سب سے بُرا آدمی ہے تو کبھی ہدایت قبول کرے گا؟</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">بعض لوگ ڈاڑھی منڈانے والے کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ کیا کہوں ساری زندگی کے لیے اس کو ڈاڑھی سے محروم کردیتے ہیں۔ ایسے عالم کی زندگی بھی سنت کے خلاف ہے۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاق</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">ایک ہندو پنڈت کا لڑکا چھت سے گرگیا۔ میرے شیخ حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ ہسپتال میں اس کو دیکھنے گئے اور فرمایا کہ کافر کی عیادت بھی سنت ہے کیونکہ اس سے وہ اسلام سے قریب ہوجائیں گے کہ مولوی صاحب کو دیکھو ہم جیسے کافر کے بچے کو دیکھنے آئے ہیں۔ ہمارے بڑے بزرگ اخلاق کی بلندیوں کے مینارے تھے۔ سب سے بڑی چیز اصلاحِ اخلاق ہے۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">بیویوں کا ایک حق</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">لہٰذا دل نہ چاہے پھر بھی بیوی کو پیار کرو، کبھی کوئی جائز فرمائش کرے اس کو پورا کرنا نہ بھولو ورنہ اس کے دل میں یہ ہوگا کہ شوہر کے دل میں ہماری قدر نہیں ورنہ ہماری چائے، بسکٹ وغیرہ کی چھوٹی سی فرمائش ضرور پوری کرتا۔ اس کی فرمائش کو خاص طور سے نوٹ کرو اور جلدی پورا کرو۔ اگر ایک بسکٹ کی فرمائش کرے تو تین پیکٹ لے آئو، وہ کہے گی کہ تین کیوں لے آئے؟ تو کہو کہ ہماری محبت نہیں مانتی۔ تمہاری فرمائش تو ایک کی ہے، مگر ہماری محبت نہیں مانتی، میرا دل چاہتا ہے کہ میں تین ڈبے لائوں۔ آہ</span>! <span style="font-family: Tahoma;">ارے یہی اخلاق پیش کرکے جنت چلے جائو، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ قیامت کے دن تہجد کا نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے تہجد کیوں نہیں پڑھی، یہ پوچھا جائے گا کہ میرے بندوں کے ساتھ تمہارے کیا اخلاق تھے؟ </span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">دیکھو</span>! <span style="font-family: Tahoma;">اللہ تعالیٰ نے اپنا حق معاف کردیا لیکن مخلوق کے حق کو زیادہ بڑھایا کیونکہ مخلوق تکلیف محسوس کرتی ہے لیکن ہماری نالائقیوں سے اللہ تعالیٰ کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ حدیثِ پاک کی دعا ہے</span>:</p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">یَا مَنْ لَّا تَضُرُّہُ الذُّنُوْبُ وَلَا تَنْقُصُہُ الْمَغْفِرَۃُفَہَبْ لِیْ مَا لَایَنْقُصُکَ وَاغْفِرْلِیْ مَالَا یَضُرُّکَ</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right">(<span style="font-family: Tahoma;">مناجاتِ مقبول</span>)</p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">اے وہ ذات</span>! <span style="font-family: Tahoma;">اے میرے اللہ</span>! <span style="font-family: Tahoma;">میرے گناہوں سے تجھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور اگر تو ہم کو بخش دے تو تیرے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہوگی، پس تیرا جو خزانہ کم ہونے والا نہیں وہ ہمیں دے دے یعنی تو ہمیں معاف کردے اور ہمیں بخش دے اور ہمارے جن گناہوں سے تجھ کو تکلیف نہیں ہوئی تو انہیں معاف کرنے میں آپ کا کیا بگڑتا ہے، پس آپ اپنی رحمت سے ہم کو معافی دے دیں۔ یہ مضمون حدیث شریف کا ہے۔ </span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">مخلوق کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دیکھو اگر تم فرض نماز پڑھ رہے ہو اور کوئی اندھا جارہا ہے اور سامنے کوئی گڈھا یا کنواں ہے اور ڈر ہے کہ وہ اس کنوئیں میں گر جائے گا تو تم نماز توڑ دو، میرا حق چھوڑ دو، میری مخلوق کا خیال کرو۔ دیکھا آپ نے یہ ہے اللہ تعالیٰ۔ اللہ اﷲ ہے بھائی</span>! <span style="font-family: Tahoma;">اسی لیے ہم یہ کہتے ہیں کہ مخلوق کے معاملے میں کبھی ظلم نہ کرو۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">والدین کو ستانے والے کی توبہ کا طریقہ</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">اگر کبھی کسی کو ستا دیا ہے مثلاً اگر ماں باپ کو ستایا ہے اور ان کا انتقال ہوگیا، اب پچھتاوا ہوا کہ میں نے ماں باپ کو بہت ستایا ہے تو اس کے لیے بھی راستہ موجود ہے۔ روزانہ یٰسین شریف پڑھ کر ثواب بخشو، صدقہ خیرات سے ایصالِ ثواب کرو اور ان کی مغفرت کے لیے دعا بھی کرو، ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اﷲ اس کو فرمانبرداروں میں لکھ دے گا۔ </span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">حدیثِ پاک میں اللہ پاک کا وعدہ ہے کہ اگر کسی شخص کے ماں باپ ناراض ہوکر وفات پاگئے اور وہ ساری عمر قرآنِ پاک پڑھ کرایصالِ ثواب کرتا رہے اور کچھ مال بھی مدرسہ وغیرہ میں ان کے نام سے صدقہ جاریہ میں لگادے تو ان شاء اللہ قیامت کے دن فرمانبردار لکھ دیا جائے گا۔ اور اگر ماں باپ زندہ ہیں تو ان کے پیر پکڑ کر معافی مانگو۔ بیوی بھی زندہ ہے تو اس کو الگ کمرے میں بلاکر لپٹ جائو اور کہہ دو کہ ہمیں معاف کرو اور صرف سوکھی معافی مت مانگو۔ ایک عالم سے سب نے لپٹ کر مصافحہ تو کیا مگر کسی نے ایک روپیہ بھی ہدیہ نہ دیا تو اس نے جنوبی افریقہ سے لندن جاکر مولانا ایوب سورتی سے کہا کہ محبت تو خوب کی مگر مصافحہ خشک کیا۔لہٰذا محبت کرو تو کچھ ہدیہ بھی دو اور پیر بھی ہدیہ دے، یہ نہیں کہ ون وے ٹریفک چلائے، پیر کے لیے بھی ضروری ہے کہ کبھی وہ بھی ہدیہ دے، دونوں طرف سے ہدیہ ہے، جن احباب سے بے تکلفی ہو ان سے کبھی ہدیہ مانگنا بھی سنت ہے۔ ایک کنجوس سے کسی نے انگوٹھی مانگی کہ اسے دیکھ کر تمہیں یاد کرلیا کروں گا۔ اس نے کہا کہ میں انگوٹھی نہیں دوں گا، جب اپنی خالی انگلی دیکھو تو یاد کرلینا کہ میںنے انگوٹھی نہیں دی۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">بتائو</span>! <span style="font-family: Tahoma;">میری تقریر میں مزہ آرہا ہے یا نہیں۔ دیکھو</span>! <span style="font-family: Tahoma;">اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ میری تقریر اور مجلس کو اللہ تعالیٰ نے چٹ پٹی مزیدار بنایا ہے، آج تک کسی نے نہیں کہا کہ میرا دل گھبرارہا ہے بلکہ جس کا دل گھبراتا ہے یہاں آکر اس کی گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور کرم ہے۔ اس لیے میں نے اس وقت چند نصیحتیں کی ہیںکہ اپنی بیوی کی ایک لاکھ خطائیں معاف کرو اور غیرت کا نام نہ لو کہ مجھے غیرت آتی ہے کہ بیوی ہوکر ہمیں غلام بنانا چاہتی ہے، لفظ غیرت سے توبہ کرو۔ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ غیرت تمہاری نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا</span>:</p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">یَغْلِبْنَ کَرِیْمًا وَیَغْلِبُہُنَّ لَئِیْمٌ فَاُحِبُّ اَنْ اَکُوْنَ کَرِیْمًا مَغْلُوْبًا وَلَا اُحِبُّ اَنْ اَکُوْنَ لَئِیْمًا غَالِبًا</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right">(<span style="font-family: Tahoma;">روح المعانی، ج</span>:<span style="font-family: Tahoma;">۵، صفحہ۱۴</span>)</p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">جو کریم شوہر ہیں، لائق شوہر ہیں اُن پر بیویاں غالب رہتی ہیں اور جو نالائق اور کمینے لوگ ہیں وہ بیویوں پر غالب رہتے ہیں، پس میں محبوب رکھتا ہوں کہ میں کریم رہوں، ان سے مغلوب رہوں، میرے اخلاق خراب نہ ہوں اور اس کو محبوب نہیں رکھتا کہ کمینہ ہوکر ان پر غالب رہوں۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">سن لو</span>! <span style="font-family: Tahoma;">بڑی غیرت غیرت کرتے ہو خاص کر بعض علاقے کے لوگ غیرت کے نام پر بہت ظلم کرتے ہیں، پہلی رات میں بیوی کو بلاقصور مارتے ہیں، کہتے ہیں تاکہ ہمیشہ کے لیے اس پر رعب رہے، کیا کہیں ظلم ہی ظلم ہے۔ ارے محبت ایسی چیز ہے کہ اگر تم پیار سے رکھو گے تو تم پر فدا رہے گی، غلام بنی رہے گی، ہر طرف تعریف کرے گی، اپنے ماں باپ سے بھی کہے گی کہ ہم تو زبان کی کڑوی ہیں، نالائق ہیں مگر آپ کو داماد فرشتہ ملا ہے۔ لہٰذا فرشتے بن کر رہو اور بیوی کی ایک لاکھ خطا معاف کرو، اور قیامت کے دن اپنی معاف کرالو، ان شاء اللہ</span>! <span style="font-family: Tahoma;">اور دل نہ چاہے تو بھی پیار کرو، خاص کر بڑھاپے میں کیونکہ بڑھاپے میں چہرہ خراب ہوجاتا ہے، اس وقت بھی تم پیار کروگے تو اللہ تعالیٰ اس پر ڈبل اجر دے گا کہ اب میرے بندے کا دل نہیں چاہتا، چہرے کا نقشہ بدل گیا، صورت خراب ہوگئی پھر بھی آسمان پر مجھ کو خوش کرنے کے لیے زمین پر مہربانی کررہا ہے۔ جوانی میں تو سب ہی پیار کرتے ہیں، کافر بھی پیار کرتا ہے لیکن بڈھی بیوی کو پیار کرنا اولیاء اللہ کا کام ہے کہ یااللہ</span>! <span style="font-family: Tahoma;">تیری بندی ہے۔ اس کا دل خوش کرنے کے لیے کلیجہ سے لگالیا اور یہ نہیں کہ خشک معانقہ اور خشک مصافحہ کیا بلکہ کبھی سو روپیہ پیش کردیا، اللہ تعالیٰ نے اگر زیادہ دیا ہے تو ایک ہزار کا نوٹ پیش کردیا اور کہا کہ یہ تمہارا ہے جو چاہو خرچ کرو، پوتوں کو دو، نواسوں کو دو، اپنے ماں باپ کو دو، خود کھائو۔ حضرت حکیم الامت نے لکھا ہے کہ بیوی کو وظیفہ دینا اس کا ایک حق ہے۔ اس کا نام ہدیہ ہے۔ کچھ رقم ہر ماہ اس کو دو جس کا اس سے حساب نہ لو کہ ایک ہزار روپیہ دیا تھا، کہاں خرچ کیا؟</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">ماضی میں بیوی پر ظلم کیا ہو تو اسے لپٹا کر معافی مانگ لو کہ جب سے شادی ہوئی ہے آج تک مجھ سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچی ہو تو مجھے معاف کردو، اب ہم آئندہ آپ کو محبت سے رکھیں گے، کبھی نہیں جھڑکیں گے، نہ ڈانٹیں گے۔ ان کا ہر مہینہ ہدیہ مقرر کردو اور اس کا حساب نہ لو۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">غرض جن سے دل نہ چاہے ان کے ساتھ بھی اخلاق سے پیش آئو۔ مخلوق ستائے تو اس کے لیے موت کی تمنا یا بیماری کی تمنا مت کرو، بس یہ کہو کہ اے اللہ</span>! <span style="font-family: Tahoma;">اس کو ہدایت دے دے، اس کے ظلم سے ہم کو نجات دے اور اس کو تلافی کی توفیق دے دے۔ </span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">ارے دوستو</span>! <span style="font-family: Tahoma;">قدر کرلو ایک دن اختر بھی قبر میں جانے والا ہے، یہ باتیں اللہ کی رحمت کے صدقے میں ہیں، ہماری اپنی کمائی اور مطالعہ نہیں ہے۔ بزرگوں کی صحبت اُٹھانے کے صدقہ میں اللہ تعالیٰ وقت پر میرے دل پر مضامین عطا فرماتا ہے۔ آج اس زمانے میں روئے زمین پر اتنی صحبت اُٹھانے والا آپ کو نہیں ملے گا۔ ہر عالم اور ہر دینی مربی سے جاکر پوچھو کہ تم شیخ کے ساتھ کتنا رہے تو ان شاء اللہ میرا عرصۃٔ صحبت بڑھ جائے گا۔ دس برس تو میں اپنے شیخ کے ساتھ جنگل میں رہا اور سات برس اپنے مدرسہ کا ملاکر سترہ سال ہوئے اور تین سال یہاں، تین برس مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ، رات دن روزانہ بلاناغہ ان کی صحبت میں جاتا تھا۔</span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">اور مولانا شاہ محمد احمد صاحب اتنے بڑے شیخ تھے کہ میرے شیخ مولانا شاہ ابرارالحق صاحب دامت برکاتہم نے ان کو اپنا پیر بنایا ہوا تھا۔ اور میرے شیخِ اوّل شاہ حضرت عبدالغنی پھولپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مکان پر گئے اور حضرت نے وہاں کی زمین اور آسمان کو دیکھا اور فرمایا کہ مولانا محمد احمد صاحب کا نور میں زمین سے آسمان تک دیکھ رہا ہوں، اتنا بڑا شخص اور حکیم الامت کا خلیفہ مولانا شاہ محمد احمد صاحب کے بارے یہ کہہ رہا ہے، تو مولانا شاہ محمد احمد صاحب کے ساتھ میں تین سال رہا۔ </span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">میں فخر نہیں کررہا ہوں، میں حق تعالیٰ کی رحمت کا شکریہ ادا کررہا ہوں کہ اختر ان بزرگوں کے پاس نہیں جاسکتا تھا، اگر آپ توفیق نہ دیتے کیونکہ میری بالکل جوانی کا آغاز تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اولیاء اللہ کی گود میں، اللہ والوں کی گود میں ڈال دیا۔ میں ان کے اولیاء اللہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن اُمت مسلمہ ان کو ولی اللہ سمجھتی ہے اور میں بھی ان کے بارے میں یہی نیک گمان رکھتا ہوں اور ان کے آثار اور علامات بھی ایسے ہی تھے کہ دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ اﷲ والے ہیں۔ </span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right"><span style="font-family: Tahoma;">حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب کی مجلس ہورہی تھی، دیوبند کے صدر مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ بھی مجلس میں موجود تھے کہ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب تقریر کرتے کرتے تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔ حضرت مفتی صاحب نے جھک کر مولانا کے چہرہ کی طرف دیکھا اور میرے کان میں فرمایا کہ اب مولانا یہا ںنہیں ہیں یعنی زمین پر نہیں ہیں۔ یہ وہ اﷲ والے ہیں کہ ذرا سی دیر میں فرش سے عرش پر پہنچ جاتے ہیںتو مفتی صاحب نے فرمایا کہ اب مولانا یہاں نہیں ہیں۔ الحمدللہ</span>! <span style="font-family: Tahoma;">ایسے ایسے بزرگوں کی اللہ نے زیارت نصیب فرمائی۔ انہی کے صدقے میں یہ مضمون بیان ہورہا ہے، آپ کا دل فیصلہ کرے گا کہ یہ باتیں آپ کو کم ملیں گی، ہم نایاب نہیں کہتے کمیاب کہتے ہیں، نایاب کہنا جائز نہیں ہے کیونکہ دعویٰ ہوجائے گا، ہوسکتا ہے اﷲ کا کوئی بندہ چھپا ہوا ہو لیکن مختلف خانقاہوں میں بیٹھ کر پھر میری بات سنو پھر آپ کو قدر معلوم ہوگی۔ </span></p>
<p style="MARGIN-BOTTOM: 0in" dir="rtl" align="right">(<span style="font-family: Tahoma;">جاری ہے</span>)</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F278.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F278.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F278.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F278.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F278.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F278.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/278.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت تھانویؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/247.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/247.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Mar 2010 17:01:50 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=247</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ)
حضرت مولانا گنگوہیؒ نے ایک دفعہ اپنے شاگرد طلباءکی جوتیاں اٹھائیں
فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہیؒ ایک مرتبہ حدیث پڑھا رہے تھے کہ بارش آگئی سب طلباءکتابیں لے لے کر اندر کو بھاگے مگر مولانا سب طلباءکی جوتیاں جمع کررہے تھے کہ اٹھا کر لے چلیں لوگوں نے یہ حالت دیکھی تو کٹ گئے۔
حضرت [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ نے ایک دفعہ اپنے شاگرد طلباءکی جوتیاں اٹھائیں</p>
<p>فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہیؒ ایک مرتبہ حدیث پڑھا رہے تھے کہ بارش آگئی سب طلباءکتابیں لے لے کر اندر کو بھاگے مگر مولانا سب طلباءکی جوتیاں جمع کررہے تھے کہ اٹھا کر لے چلیں لوگوں نے یہ حالت دیکھی تو کٹ گئے۔</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ سے کسی نے عمل تسخیر کے بارہ میں دریافت کیا</p>
<p>فرمایا کہ مولانا گنگوہیؒ سے مولانا عبدالرحیم صاحبؒ نے یا ان کی موجودگی میں کسی نے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ تسخیر کا عمل جانتے ہیں فرمایا ہاں جب ہی تو میرے یہاں مولانا عبدالرحیم صاحب جیسے لوگ آتے ہیں۔</p>
<p>دہلی کے ایک مجذوب کی بددعا</p>
<p>احقر جامع نے ثقہ سے سنا ہے کہ ایک تھانہ بھون کے رہنے والے دہلی میں کسی مجذوب کے پاس دعا کے واسطے حاضر ہوئے تو اس نے کہا کہ تھانہ بھون ابھی تک غرق نہیں ہوا۔ اس نے عرض کیا کہ حضرت میں تو دعا کے واسطے حاضر ہوا ہوں اور آپ بددعا فرما رہے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ تھانہ بھون اب تک ضرور غرق ہوجاتا مگر وہاں دو شخص ہیں ایک مردہ ایک زندہ ایک تو شاہ ولایت صاحب وہاں لیٹے ہوئے ہیں (ان بزرگ کا تھانہ بھون میں مزار ہے) اور ایک مولانا اشرف علی صاحب۔ ان دونوں کی برکت سے تھما ہوا ہے ورنہ ضرور غرق ہوجاتا۔</p>
<p>حضرت حکیم الامتؒ کے بارے میں حضرت مولانا گنگوہیؒ کی رائے</p>
<p>احقر جامع نے ثقہ سے سنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا گنگوہی رحمة اﷲ علیہ نے حضرت سیدی و سندی شیخی و مرشدی حکیم الامت حضرت مولانا مولوی شاہ محمد اشرف علی صاحب رحمة اﷲ علیہ کی نسبت یہ فرمایا کہ بھائی ہم نے تو حاجی صاحبؒ کا کچا پھل کھایا ہے (کیونکہ بڑھاپے میں کمال روحانی بڑھتا ہے‘ جامع )محشیٰ کہتا ہے کہ یہ تواضع ہے اس کو تفاضل لازم نہیں آتا کیونکہ حالت فاضلہ کے ملا بس کی استعداد کا فاضل ہونا لازم نہیں۔</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ نے حضرت حکیم الامت تھانویؒ کی</p>
<p>شکایت سننے سے انکار کردیا</p>
<p>احقر جامع نے استادی مولانا مولوی محمد قدرت اﷲ صاحبؒ سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ میں حضرت مولانا گنگوہیؒ کی خدمت بابرکت میں حاضر تھا کہ کچھ لوگ تھانہ بھون کے حضرت مولانا کے پاس آئے اور آکر حضرت مولانا اشرف علی صاحب رحمة اﷲ علیہ کی شکایت کرنے لگے کہ ایسا کرتے ہیں ایسا کرتے ہیں اور ابھی نام ظاہر نہ کیا تھا کہ مولانا گنگوہیؒ نے دریافت فرمایا کہ یہ کس کی شکایت ہے انہوں نے کہا کہ مولانا اشرف علی صاحب کی حضرت نے فرمایا کہ میں سننا نہیں چاہتا وہ جو کام کرتے ہیں حق سمجھ کر کرتے ہیں نفسانیت سے نہیں کرتے بشریت سے غلطی دوسری شے ہے پھر وہ سب صاحب اپنا سا منہ لے کر چلے گئے۔</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ کے مزار پر ایک درویش نے چیخ ماری</p>
<p>اور شدت سے گریہ طاری ہوگیا</p>
<p>احقرجامع نے مکرمی مولانا مولوی احمد شاہ حسن پوریؒ سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ مجھ سے مکرمی حکیم مولوی محمد یوسف صاحب گنگوہیؒ نے بیان کیا کہ پیران کلیر میں میں نے ایک درویش صاحب کا یہ طرز دیکھا کہ وہ کسی بزرگ کے مزار کے اندر نہیں جایا کرتے تھے بلکہ مزار کے قریب دروازہ سے باہر کھڑے ہوکر کچھ دیر رویا کرتے تھے۔ یہ درویش حکیم محمد یوسف صاحب سے ملنے گنگوہ آئے حکیم موصوف کا بیان ہے کہ ہم ان کو ظہر کے وقت مسجد خانقاہ قطب عالم شیخ عبدالقدوس قدس اﷲ سرہ‘ العزیز میں لے گئے۔ وہ درویش بعد نماز ظہر حسب عادت مزار شیخ کے دروازہ کے قریب کھڑے ہوکر کچھ دیر تک رو کر واپس آئے۔ حکیم صاحب موصوف کا بیان ہے کہ ہم کو یہ خیال آیا کہ ان کو حضرت اقدس محبوب الٰہی مولانا رشید احمد صاحبؒ کے مزار پر لے چلیں اور ظاہر نہ کریں کہ مولانا کے مزار پر لئے جاتے ہیں۔ حکیم صاحب نے ان درویش سے یہ فرمایا کہ جنگل کی طرف تشریف لے چلئے درویش صاحب نے فرمایا بہت بہتر۔ حکیم صاحب موصوف کو گنگوہ سے غرب کی جانب جنگل کو لے چلے اور راستہ سے شمال کی جانب جو ایک مسجد حضرت اقدس مولانا گنگوہیؒ کے مزار کے قریب بنی ہوئی ہے اس طرف کو چلے۔ فرش مسجد کے شمالی کنارہ پر جس وقت یہ درویش پہنچے نہایت زور سے ان دریش نے چیخ ماری اور کھڑے ہوکر شدت سے روتے رہے۔ اس میں عصر کا وقت آگیا اور حکیم صاحب نے عصر کی اذان پڑھی، اذان کے بعد بھی وہ درویش روتے رہے۔ جب حکیم صاحب نماز کے واسطے کھڑے ہوئے تب وہ درویش تکبیر کے وقت نماز میں شریک ہوئے۔ نماز کے بعد جب درویش صاحب واپس ہوئے تو حکیم صاحب نے فرمایا کہ ایسا نہیں کیا کرتے ہیں۔ جیسا آپ نے میرے ساتھ کیا بعض وقت ایسے موقع پر جان نکل جاتی ہے انسان کو جب کسی بزرگ کے مزار کی خبر ہوجاتی ہے تو کچھ سنبھل کر جاتا ہے یہ حضرت مولانا کا مزار ہے حضرت ممدوح نے شریعت کے پردہ میں اپنی نسبت عالیہ کا اخفاءفرمایا تھا۔</p>
<p>حضرت مولانا نانوتویؒ کے ایک بدعتی درویش کی مہمان نوازی پر نکیر</p>
<p>احقر جامع نے ثقہ سے سنا ہے کہ ایک مرتبہ مولانا نانوتویؒ کے یہاں ایک بدعتی درویش مگر صاحب حال مہمان ہوئے تو آپ نے اس کا بڑا اکرام کیا۔ اس کی خبر ایک شخص نے مولانا گنگوہیؒ کو کی تو مولانا نے فرمایا برا کیا۔ اس شخص نے یہ مقولہ مولانا نانوتویؒ سے جاکر کہا تو مولانا نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تو کفار مہمانوں کا اکرام کیاہے۔ اس شخص نے اس جواب کو پھر مولانا گنگوہیؒ سے آکر نقل کیا تو مولانا گنگوہیؒ نے فرمایا کہ کافر کے اکرام میں مفسدہ نہیں ہے بدعتی کے اکرام میں مفسدہ ہے۔ اس نے پھر اس جواب کو مولانا نانوتویؒ سے جاکر کہا تو مولانا نانوتویؒ نے اس کو ڈانٹ دیا کہ یہ کیا واہیات ہے اِدھر کی اُدھر اِدھر کی ادھر لگاتے پھرتے ہو جاﺅ بیٹھو اپنا کام کرو۔</p>
<p>حضرت مولاناقاسم صاحبؒ نانوتویؒ کے بچپن اور جوانی کے دوخواب</p>
<p>مولانا محمد قاسم صاحبؒ نے بچپن میں ایک خواب دیکھا تھا کہ میں مرگیا ہوں اور لوگ مجھ دفن کر آئے ہیں تب قبر میں حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور کچھ نگین سامنے رکھے اور یہ کہا کہ یہ تمہارے اعمال ہیں اس میں ایک نگین بہت خوشنما اور کلاں ہے، اس کو فرمایا کہ یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہے۔ ایسے ہی مولانا نے ایک خواب ایام طالب علمی میں دیکھا تھا کہ میں خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوں اور مجھ میں سے نکل کر ہزاروں نہریں جاری ہورہی ہیں اس خواب کی مولانا مملوک علی صاحبؒ نے یہ تعبیر دی تھی کہ تم سے علم دین کا فیض بکثرت جاری ہوگا (از تحریرات بعض ثقات)</p>
<p>حضرت مولانا نانوتویؒ کے والد کی حضرت حاجی صاحبؒ سے شکایت</p>
<p>ایک مرتبہ مولانا نانوتویؒ کے والد ماجد نے حضرت حاجی صاحب قدس سرہ سے شکایت کہ کہ بھائی میرے تو یہ ہی ایک بیٹا تھا اور مجھے کیا کچھ امیدیں تھیں کچھ کماتا تو افلاس دور ہوجاتا تم نے اسے خدا جانے کیا کردیا نہ کچھ کماتا ہے نہ نوکری کرتا ہے۔ حضرت حاجی صاحبؒ اس وقت توہنس کر چپ ہورہے پھر کہلا بھیجا کہ یہ شخص ایسا ہونے والا ہے کہ بڑے بڑے آدمی اس کی خادمی کریں گے اور ایسی شہرت ہوگی کہ اس کا نام ہر طرف پکارا جائے گا اور تم تنگی کی شکایت کرتے ہو خدا تعالیٰ بے نوکری ہی اتنا دے گا کہ ان سو سو پچاس پچاس روپیہ کے نوکروں سے اچھا رہے گا (از تحریرات بعض ثقات)</p>
<p>حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی ایام روپوشی کا واقعہ</p>
<p>ایک مرتبہ مولانا محمد قاسمؒ ایام روپوشی کے زمانہ میں دیوبند تھے زنانہ مکان کے کوٹھے پر مردوں میں سے کوئی تھا نہیںزینہ میں آکر فرمایا پردہ کرلو میں جاتا ہوں عورتوں سے رک نہ سکے باہر چلے گئے، بعضے مرد بازار میں تھے ان کو اطلاع کی وہ اتنے میں مکان پہونچے تو دوڑ سرکاری آدمیوں کی پہونچ گئی۔ (از تحریرات بعض ثقات)</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F247.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F247.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F247.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F247.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F247.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F247.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/247.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت والا ہردوئیؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/245.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/245.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Mar 2010 17:01:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=245</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ)
بعد نماز عشاءبرمکان جناب غلام سرور صاحب (لاہور)
اہل علم و اہل خیر کا خصوصی اجتماع
مورخہ ۵ صفر ۹۹۳۱ھ
ارشاد فرمایا کہ دین کے تین اہم شعبے ہیں۔ تعلیم‘ تبلیغ‘ تزکیہ‘ جن کے ذرائع کا نام مدارس ‘ مساجد‘ خانقاہیں ہیں مدارس اور مساجد کے خدام کی تنخواہوں کے سلسلے میں غور کرنا ہے اور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(گذشتہ سے پیوستہ)<br />
بعد نماز عشاءبرمکان جناب غلام سرور صاحب (لاہور)</p>
<p>اہل علم و اہل خیر کا خصوصی اجتماع</p>
<p>مورخہ ۵ صفر ۹۹۳۱ھ</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ دین کے تین اہم شعبے ہیں۔ تعلیم‘ تبلیغ‘ تزکیہ‘ جن کے ذرائع کا نام مدارس ‘ مساجد‘ خانقاہیں ہیں مدارس اور مساجد کے خدام کی تنخواہوں کے سلسلے میں غور کرنا ہے اور وہ یہ کہ ان کی تنخواہیں معقول ہونا چاہیے۔ جب تنخواہ معقول ہوگی تو آدمی بھی معقول ملیں گے انحطاط امت کے رسالہ میں اس کی تفصیل موجود ہے جو مع شرح مجلس ابرار میں شائع ہوچکا ہے۔ بالغین کے لیے پہلا مدرسہ مساجد ہیں اور بچوں کے لیے مدارس ہیں اور جو لوگ مساجد میں نہیں آتے ان کے لیے تبلیغی نظام ہے مساجد اور مدارس میں ایک منٹ کا مدرسہ صبح ایک منٹ کا مدرسہ شام کا اس طرح شروع کیا جاوے کہ صرف ایک سنت صبح بتادی جاوے تو تیس دن میں تیس سنتیں یاد ہوجاویں گی اور تعب بھی نہ ہوگا۔ آج ہم ہر چیز بڑھیا اور عمدہ پسند کرتے ہیں دوکان بڑھیا ہو مکان بڑھیا ہو اور پان بھی بڑھیا ہو اور نان بھی بڑھیا ہو تو اس میں کوئی اشکال نہیں کیونکہ انسان خود اشر ف المخلوقات ہے اگر ہر چیز اسے اشرف اور اعلیٰ پسند ہو تو یہ اس کی فطری خواہش ہے لیکن یہ انسان اپنے لیے تو اشرف اور بڑھیا چیزیں پسند کرے مگر اپنے مالک اور خالق کے کاموں میں بھی اس کو یہی تقاضا ہونا چاہیے کہ اس کا وضو بھی بڑھا ہو اور نماز بھی بڑھیا ہو مگر وضو اور نماز کب بڑھیا ہوگی جب سنت کے مطابق ہوگی نماز میں ۶ فرائض ہیں ۸۱ واجبات ہیں اور ۱۵ سنتیں ہیں مگر آج سو آدمیوں میں سے ایک آدمی کی بھی نماز سنت کے مطابق نظر نہیں آتی اگر ایک سنت روز بتائی جاوے تو ۱۵ دن میں نماز کی ۱۵ سنتیں یا دہوجاویں گی وضو کی ۳۱ سنتیں ۳۱ دن میں یاد ہوجاویں گی اور اسی طرح زندگی کے تمام شعبوں کی سنتیں یاد کرائی جاسکتی ہیں‘ لیکن جب وضو اور نماز کی سنتوں کا اہتمام نہیں تو ختنہ اور عقیقہ اور کھانے پینے کی سنتیں کون یاد کرے گا۔ اور جب ہماری زندگی سنتوں سے محروم ہوتی جاوے گی تو خاندان اور برادری کی غلط رسم و رواج یا پھر شہر کی یا صوبے کی یا ملک کی راہ و رسم آجاویں گی جب اصلی گھی گھر میں نہ ہوگا تو لا محالہ ڈالڈا کھانا پڑے گا۔ اور جب سنتوں کو سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل کا اہتمام ہوگا تو غلط رسم و رواج خود ہی دور ہونے لگیں گے جس طرح بارش کاپانی جب برستا ہے تو نالے اور نالیاں گندے پانی سے خود بخود صاف ہوجاتی ہے۔ دین آسان ہے مساجد میں ایک سنت روز سکھائے چند ماہ میں اس طرح نمازیوں کو کتنی سنتوں کا علم ہوجاوے گا اور ہر نمازی اپنے گھر جاکر عورتوں اور بچوں کو سکھائیے۔ اور اسی طرح مدرسے میں جن طلباءکو ہر روز ایک سنت سکھائی جاوے وہ گھر جاکر اپنے بھائی اور بہنوں اور ماں باپ کو سکھائیں اس طرح سنت کے انوار مساجد اور مدارس سے گھر گھر پھیل جاویں گے اور جب سنتیں پہنچیں گی تو بری عادتیں خود بخود دور ہوتی جاویں گی۔</p>
<p>اسی طرح برسوں ہوجاتے ہیں لوگوں کو درود شریف اور الحمد شریف کے معنیٰ نہیں معلوم ہوتے ہیں اﷲ اکبر اور اعوذباﷲ بسم اﷲ کے معنی نہیں معلوم ہوتے ہیں اس کا بھی یہی نظام ہے کہ ایک منٹ کا مدرسہ بعد نماز عصر یا ایک منٹ کا مدرسہ بعد نماز فجر قائم کیا جاوے اور ایک لفظ کے معنیٰ کو ایک دن بتایا جاوے مثلاً ایک دن اعوذ کا معنیٰ دوسرے دن باﷲ کا معنیٰ تیسرے دن من الشیطٰن کا معنیٰ چوتھے دن الرجیم کا معنیٰ یاد کرایا جاوے اس طرح ان پڑھ آدمی کو بھی ترجمہ آسانی سے یاد ہوجاوے گا۔ دین آسان ہے ان تجاویز پر جہاں بھی عمل کیا گیا بڑی کامیابیاں نظر آرہی ہیں۔ اور گھر والے بھی بڑے خوش ہیں اور جن بعض احباب کو ہمارے اکابر سے حسن ظن نہ تھا سنتوں کی تعلیم سے ان کی رائے بدل گئی اور حسن ظن پیدا ہوگیا مسجد میںسنت کے مطابق جیسا کہ مشکوٰة شریف کی روایت ہے کہ بسم اﷲ پڑھنے اور درود شریف پڑھے اور داہنا پاﺅں مسجد میں رکھے اور اللّٰہم افتح لی ابواب رحمتک کی دعا پڑھے اور نفلی اعتکاف کی نیت کرتے تو پانچ سنتیں ادا ہوجاتی ہیں اور جہاں احباب کو حسن ظن اپنے اکابر سے نہ ہو وہاں بسم اﷲ اور درود شریف زور سے پڑھ کر مسجد میں داہنا قدم رکھے اس کا لازمی اثر یہ ہوگا کہ ان کی بدگمانی حسن ظن سے بدل جاوے گی اور غلط پروپیگنڈہ کرنے والوں کی زبان خود بخود رک جاوے گی۔ کہ عوام مشاہدہ کو کیسے غلط ثابت کرسکیں گے۔</p>
<p>اسی طرح مجھے آج افسوس ہے کہ اذانیں اور تکبیریں کہیں اصول فقہ پر صحیح نہ ملیں نہ کراچی میں نہ لاہور میں نہ حیدر آباد میں۔ اس کا سبب بھی غفلت کے ساتھ سستے موذنوں کا تقرر ہے۔ آنکھ میں تکلیف ہوگی تو آنکھ کے ماہر ڈاکٹر کو دکھائیں گے لیکن اذان دینے والے کو جب مقرر کریں گے کم تنخواہ کا تلاش کریں گے کسی ماہر فن سے تجویز کرانا چاہیے خود موذن یا مدرس نہ مقرر کرے اور معقول تنخواہ دی جاوے</p>
<p>ہر کہ اوارزاں خرد ارزاں دہد</p>
<p>گوہرے طفلے بہ قرص ناں دہد</p>
<p>موذنین کی تربیت کا خاص نظام بنایا جائے ہمارے یہاں موذنین کی تربیت دی جاتی ہے اور دو ماہ تین ماہ تصحیح قرآن پاک اور اذان کی صحت کے لیے ان کا معقول وظیفہ بھی دیتے ہیں اس کے بغیر اصلاح کسیے ہوگی کافیہ منطق، پڑھانے والوں کی تنخواہوں سے ہم قرآن پاک کے مدرسین کو زیادہ تنخواہ دیتے ہیں اور تنخواہ کا مدار قابلیت نہیں کیونکہ علم کی قیمت کون ادا کرسکتا ہے اسکی بنیاد حاجت پر رکھی ہے۔ علماءکی تنخواہوں سے زیادہ ہمارے ہاں حفظ مدرسین کی تنخواہیں ہیں بلکہ نورانی قاعدہ پڑھانے والوں کی ہے کیونکہ عالم کے مثلاً دو بچے ہیں اور حفظ کرانے والے استاد کے ۷ بچے ہیں تو زیادہ تنخواہ کی ضرورت ظاہر ہے۔</p>
<p>اسی طرح دینی مدارس کے طلباءکا امتحان قرآن پاک کی تلاوت مع الصحت میں ہونا چاہیے۔ جب فارغین طلباءعوام کی امامت کرتے ہیں اور قرآن پاک کو تجوید کے خلاف پڑھتے ہیں تو بے حدبدنامی ہوتی ہے کہ یہ کس مدرسہ کے فارغ ہیں ان کو کس نے سند دے دی کم از کم آخر کے ۲ پارے حفظ بھی ان کو کرادیا جاوے تاکہ سنت کے مطابق طویل سورتیں بھی پڑھ سکیں۔</p>
<p>ایک فارغ التحصیل ہمارے یہاں آئے ہم نے ان کا امتحان نورانی قاعدہ میں لیا۔ بہت خفا ہوئے میں نے کہا آپ کی سند میں نورانی قاعدہ تو نہیں لکھا ہے۔ پھر ایک بچہ کو بلایا اور اس سے قرآن پاک پڑھوایا پھر اس کو درسگاہ بھیجا اور مولانا سے دریافت کیا کہ اس بچے نے کیسا پڑھا کہنے لگے مجھ سے اچھا پڑھا میں نے کہا اگر اس کا آپ کو امام بنادیا جاوے تو یہ بچہ آپ کی تلاوت کے متعلق کیسا فیصلہ کرے گا اور اس کے دل میں آپ کی کیا وقعت ہوگی۔ آج کل اذان دینا گھٹیا عمل سمجھا جاتا ہے اگر علماءاور معزز لوگ اذان دینے لگیں تو پھر یہ عمل گھٹیا نہیں سمجھا جاوے گا۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا کہ اگر خلافت کا کام میرے ذمے نہ ہوتا تو میں موذنی کے فرائض ادا کرتا۔</p>
<p>میں نے اپنے یہاں مدرسین کا اجتماع کیا اور اس میں علماءکی تعداد ۹۱ تھی ایک ماہ تک یہ اجتماع رہا میں نے انہیں ۹۱ علماءسے باری باری اذانیں دلائیں اور اقامت بھی اس طرح ان کی اذان و اقامت کی اصلاح بھی مقصود تھی نیز تاکہ اذان دینے کو لوگ گھٹیا نہ سمجھیں۔</p>
<p>اگر دینی خدام کو معقول تنخواہیں دی جائیں تو یہ ٹیوشن کے چکر میں کیوں رہیں اور پھر ان کا یہ وقت جو بچے گا اس سے تبلیغ اور امامت کا کام لیا جاسکتا ہے۔ حفظ کے استاد کے پاس ۵۱ سے ۰۲ بچوں سے زائد نہیں ہونا چاہیے۔سوفیصد کامیاب ہونا مطلوب ہے ایک بچہ بھی فیل کیوں ہو ہر شخص کے ۳۲ دانت ہیں تو ایک دانت کا ٹوٹنا گوارا کرے گا؟ سوفیصد بچوں کے کامیاب ہونے کا طریقہ یہ ہے جو کمزور بچے ہو ان پر توجہ زیادہ کیا جائے۔ ہمارے یہاں ۱۱ صوبوں کے بچے پڑھتے ہیں اس کے علاقہ افریقہ‘ لندن‘ موزمبیق اور پاکستان سے پڑھ کر وہاں تصحیح کے لیے پہنچ رہے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ حق تعالیٰ نے توفیق دی ہے کہ معیاری صحت و تجوید سے قرآن پاک کی تعلیم ہوتی ہے۔ آج کل رواج یہ ہے کہ قرآن پاک کے ۰۴۵ رکوع میں سے صرف چند رکوع مشق کرلیتے ہیں اور قاری صاحب ہوجاتے ہیں حالانکہ پورا قرآن پاک صحیح ہونا چاہیے۔</p>
<p>حضرت تھانویؒ فرمایا کرتے تھے کہ بعض بڑے بڑے قاری حضرات جب سری نمازپڑھتے ہیں تو رعایت تجوید کی نہیں کرتے نہ مدنہ اخفا توصحت قرآن اور تجوید کیا صرف نماز جہری کا حق ہے یا قرآن پاک کا حق ہے۔ ایک مدرسہ میں کافیا کے درجے میں عمدہ دریاں تھیں اور قرآن پاک کے درجے میں ٹوٹی چٹائیاں تھیں۔ دل کو اتنا صدمہ ہوا کہ بیان نہیں کرسکتا۔</p>
<p>قرآن پاک کی عظمت نہیں ہے حالانکہ یہ شاہی خاندان والے طلباءہیں ان کو اہل القرآن اہل اﷲ کہا گیا ہے۔ہمارے یہاں نئی دریاں پہلے قرآن پاک کے درسگاہوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ پھر پرانی ہوکر عربی و فارسی کے درسگاہوں میں پہنچتی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا کلام ہے اس کی عظمت کا استحضار اور اہتمام کی برکت ہے کہ مجھے کبھی مالی ابتلا نہیں پیش آتی حالانکہ تقریباً ۵ لاکھ سالانہ کا خرچ ہے اور تقریباً ستر مکاتب ہیں۔ اور جو طالب علم بیمار ہوتا ہے اس کا علاج بھی شاہی ہوتا ہے دل کھول کر اس کے علاج میں صرف کیا جاتا ہے یہ مجاہد ہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مہمان ہیں۔ طلباءہمارے لئے ذریعہ معاش بھی ہیں اور ذریعہ معاد بھی ہیں صدقہ جاریہ کا باعث بھی یہی بنتے ہیں۔ مدرسین اور منتظمین دونوں کا نفع انہیں سے ہے جو طالب علم دین سیکھنے کے لیے گھر سے نکلتا ہے جب تک گھر واپس نہیں آتا مجاہد ہوتا ہے۔ اذان اور قرآن پاک کی صحت کے سلسلے میں یہ باتیں گذارش کی گئیں اور ایک مشورہ عرض کرتا ہوں کہ ہر موذن کے ساتھ ایک خادم بھی ہو۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F245.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F245.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F245.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F245.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F245.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F245.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/245.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/246.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/246.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Mar 2010 16:59:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=246</guid>
		<description><![CDATA[مرتبہ: سید عشرت جمیل میر
۷۲رجب المرجب ۸۱۴۱ھ مطابق ۸۲نومبر ۷۹۹۱ء
بروز جمعہ، ۶ بجے دوپہر بمقام خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشنِ اقبال کراچی
آخرت کی یاد دلانے والا ایک مضمون
ارشاد فرمایا کہ آج کل آخرت کی یاد دلانے کے لیے ایک عنوان اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے کہ دنیا سے مت چپکو اور اپنے گھر سے بھی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مرتبہ: سید عشرت جمیل میر</p>
<p>۷۲رجب المرجب ۸۱۴۱ھ مطابق ۸۲نومبر ۷۹۹۱ء<br />
بروز جمعہ، ۶ بجے دوپہر بمقام خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشنِ اقبال کراچی</p>
<p>آخرت کی یاد دلانے والا ایک مضمون</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ آج کل آخرت کی یاد دلانے کے لیے ایک عنوان اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے کہ دنیا سے مت چپکو اور اپنے گھر سے بھی مت چپکو کیونکہ اس گھر سے ایک دن آپ کا خروج نہیں ہوگا اِخراج ہوگا، خروج تو جب ہو جب اپنی مرضی سے نکلو، جب روح کا خروج ہوگا تو گھر والے ہی تم کو گھر سے نکالیں گے، اس کا نام اِخراج ہے، خروج اور ہے اخراج اور ہے، خروج کے معنیٰ نکلنا اور اخراج کے معنیٰ نکالنا، بیوی بچے ہی کہیں گے کہ بابا کوجلدی قبرستان لے جاو لہٰذا دل کسی سے مت لگاو۔</p>
<p>حکیم الامت فرماتے ہیں کہ ہر اعضاءکی غذا اﷲ نے الگ رکھی ہے، کان کی غذا اچھی آواز ہے، آنکھ کی غذا اچھے نظارے ہیں، زبان کی غذا ذائقے دار کھانے ہیں، ناک کی غذا خوشبو ہے اور دل کی غذا محبت ہے۔ غذا ناقص ہوگی تو صحت خراب ہوجائے گی، اسی طرح اگر ناقص محبوب سے دل لگاوگے تو دل کی صحت خراب ہوجائے گی، دل بے چین رہے گا، اور سارے عالم کے محبوب ناقص ہیں کیونکہ ان سب کو موت آنی ہے، بیماری آنی ہے اور جب بیماری آتی ہے تو حسن کا جغرافیہ خراب ہوجاتا ہے تو یہ سب ناقص محبوب ہیں، بس حلال کی بیوی سے گذارا کرلو۔ جائز کاروبار، مکان، ماں باپ، بیوی بچے ان سب سے تو اﷲ کے لیے محبت کرو لیکن اﷲ کی محبت کو سب پر غالب رکھو، دنیا سے دل کو کاٹنے کا حکم نہیں ہے، بس دنیا کی محبت پر اﷲ تعالیٰ کی محبت کو غالب رکھنے کا حکم ہے جیسے کشتی کے لیے پانی ضروری ہے مگر پانی نیچے رہے اور کشتی پانی کے اوپر رہے، اگر پانی کشتی میں داخل ہوجائے تو کشتی ڈوب جائے گی اسی طرح دنیا تو رکھو، مکان بھی ضروری ہے، کپڑا بھی ضروری ہے، کھانا بھی ضروری ہے مگر ان سب کو دل کے باہر رکھو، کاروبار بھی دل کے باہر اور کار بھی دل کے باہر، دل میں بس یار ہو یعنی اﷲ دل میں ہو مگر اس کے لیے مشق ہے، زبانی جمع خرچ کافی نہیں ہے۔ اہل ا ﷲ کی صحبت سے اس محبت کو غالب کرنا سیکھا جاتا ہے، اگر صحبت ضروری نہ ہوتی تو قرآن کافی ہوجاتا لیکن جب کتاب اﷲ نازل ہوئی اس کے ساتھ رجال اﷲ یعنی انبیاءبھی اﷲ نے پیدا کیے کہ کتاب تو نازل کردی لیکن کتاب پر عمل کر نے کی تربیت ہمارے پیغمبر دیں گے اور جب پیغمبر دنیا سے چلے گئے تو اﷲ نے ان کے نائبین یعنی علماءاور اولیاءاﷲ بھیجے جیسے صدر چلا جاتا ہے تو نائب صدر دستخط کرتا ہے۔</p>
<p>حسینوں کو دیکھنا بھی بت پرستی ہے</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ ایک بات کہتا ہوں کہ جہاں دیکھنے سے اﷲ تعالیٰ ناخوش ہوں ایسی صورتوں کو مت دیکھو چاہے کتنا ہی عمدہ ڈیزائن ہو اس کو فوراً ریزائن دو، ڈیزائن کو ریزائن کر دو تو اﷲ تعالیٰ کے قرب کے خزائن برسیں گے اور اگر تم نے ان کے ڈیزائن کو دیکھا تو رام نرائن ہوجاو گے مطلب یہ کہ ان حسینوں کو دیکھنا بھی بت پرستی ہے۔ اس کو میں نے قرآنِ پاک سے ثابت کیا ہے، بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بت پوجنے سے پتھر کے بت پوجنا ہی مراد ہے لیکن اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو اپنی بری خواہش پر عمل کرتا ہے یہ بھی بت پرست ہے، غیر الٰہ پر ست ہے، اس نے لا الٰہ کا حق ادا نہیں کیا۔ اب یہ آیت دیکھئے: اَفَرَاَیتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہ ھَوَاہ (سورة الجاثیة،آیت:۳۲)</p>
<p>اے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کیا آپ نے دیکھا کہ انہوں نے اپنی نفس کی خواہش کو الٰہ بنایا ہوا ہے، اپنا معبود بنایا ہوا ہے، نفس کی وہ خواہش جو اﷲ کی مرضی کے خلاف ہو وہ الٰہ ہے۔ قرآنِ شریف سے ثابت ہے کہ بعض لوگوں نے اپنے نفس کی خواہش کو الٰہ بنایا ہوا ہے ان کو ہمارے حکم کا خیال ہی نہیں اور میرا حکم ان کو یاد بھی نہیں آتا یعنی یَغُضُّوا مِن اَبصَارِھِم کا حکم جو قرآنِ پاک میں ہے، اس کو بھلا کر حسینوں کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے انتہائی انٹرنیشنل گدھا ہو جسے کچھ پتہ ہی نہیں کہ میں کس کا بندہ ہوں، کس کی زمین پر کھڑا ہوں اور کس کے آسمان کے نیچے ہوں۔ اَفَرَاَیتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہ ھَوَاہ کیا یہ آیت میرے مدعا کو ثابت نہیںکررہی ہے کہ جو لوگ اپنی خواہش کو خدا بنائے ہوئے ہیں یعنی جس طرح خدا کے حکم پر عمل کرنا چاہیے یہ اس طرح اپنی بری خواہشوں کی پیروی کرنے میں پاگل ہوجاتے ہیں، اُس وقت یہ ظالم اﷲ کو یاد بھی نہیں کرتے اور یاد بھی کرتے ہیں تو اﷲ کی محبت کو مغلوب اور معمولی رکھتے ہیں اور غلبہ اسی بت کا رہتا ہے کہ اسی کو دیکھتے رہتے ہیں بلکہ قصداً مولیٰ کو بھلا دیتے ہیں، بعض لوگ گناہ کرنے کے لیے، قصداً اﷲ کو بھلانے کے لیے دماغ سے نکالتے ہیں کہ ابھی اس وقت خدا یاد نہ آئے تا کہ میں اس گناہ سے حرام مزہ لوٹ لوں اور تسبیح بھی جیب میںرکھ لیتے ہیں اور جلد توبہ بھی نہیں کرتے کہ ابھی تو اور ٹیڈیوں کو دیکھنا ہے، دیر سے توبہ کرتے ہیں، دیر سے توبہ کرنے والے کی چالاکی یہی ہے کہ ابھی کچھ اور حرام مزے لوٹ لو ورنہ توبہ کے بعد دوسرا گناہ کیسے کریں گے لہٰذا اﷲ تعالیٰ کو دیر تک ناراض رکھنے پر یہ نالائق صابر ہے، یہ نفس پر صبر نہیں کرتا اپنے مولیٰ پر صبر کرلیتا ہے۔ صاحبِ قونیہ جلال الدین رومی رحمة اﷲ علیہ فرماتے ہیں</p>
<p>اے کہ صبرت نیست از فرزند وزن</p>
<p>صبر چوں داری ز رب ذوالمنن</p>
<p>تم کو اپنے بیوی بچوں پر صبر نہیں آتا اور احسان کرنے والا مولیٰ جس نے تم کو پیدا کیا اس کی جدائی پر صبر کرتے ہو۔ اور جس کے بیوی بچے نہیں ہیں وہ اپنے دوسرے مرغوبات کو سامنے رکھے، مولانا کا یہ شعر اس کے لیے کیسے مفید ہوگا جس کے پاس فرزند و زن نہیں ہے لہٰذا وہ اپنی ہری مرچ کو اور اپنے برف کے پانی اور دیگر مرغوباتِ طبعیہ کو سامنے رکھے کہ ان مرغوباتِ طبعیہ پر صبر نہیں تو اﷲ پر کیسے صبر کرتے ہو۔</p>
<p>نفس کی چار تعریف</p>
<p>کسی نے حضرت تھانوی رحمة اﷲ علیہ سے پوچھا کہ نفس کی تعریف کیا ہے؟ قرآنِ پاک میں جگہ جگہ نفس کا تذکرہ ہے اور بزرگ بھی کہتے ہیں کہ نفس کی اتباع مت کرو تو یہ نفس ہے کیا چیز؟ تو حضرت تھانوی رحمة اﷲ علیہ فرماتے ہیں مرغوباتِ طبعیہ غیرِ شرعیہ یعنی طبیعت کی وہ رغبت، وہ خواہش جس پر عمل کرنے کی اﷲ تعالیٰ کی اجازت نہ ہو اسی کا نام نفس ہے۔ اور شرح مشکوٰة میں ملا علی قاری محدثِ عظیم لکھتے ہیں کہ نفس نہ تو کثیف ہے نہ لطیف ہے، یہ روح اورجسم کے درمیان میں ہے، روح لطیف ہے اور جسم کثیف ہے ان کے درمیان میں نفس رہتا ہے، اگر نیک عمل کر لیے، روحانی اعمال کرلیے تو لطیف ہو جاتا ہے، روح جیسا ہوجاتا ہے اور اگر گناہ کرلیا تو جسم جیسا کثیف ہوجاتا ہے، اﷲ کی فرمانبرداری سے نفس میں لطافت آجاتی ہے اور روح بھی ولی اﷲ ہو جاتی ہے۔</p>
<p>نفس اور شیطان کی دشمنی کا فرق</p>
<p>انسان کے دو دشمن ہیں، ایک نفس ایک شیطان، نفس داخلی دشمن ہے شیطان خارجی دشمن ہے۔ ان دونوں دشمنوں میں فرق کیا ہے؟ نفس وہ دشمن ہے جو اصلاح کے بعد ولی اﷲ بھی ہوسکتا ہے لیکن شیطان وہ دشمن ہے جو مردودِ دائمی ہے، یہ کبھی ولی اﷲ نہیں ہوسکتا۔ دونوں دشمنوں کا یہ فرق اﷲ تعالیٰ نے میرے قلب کو عطا فرمایا، میں نے کتابوں میں کہیں نہیں دیکھا حالانکہ دونوں دشمن نصِ قطعی سے ہیں، دونوں دشمنوں کا ثبوت قرآنِ پاک اور حدیثِ پاک میں ہے لیکن دونوں دشمنوں میں فرق یہ ہے کہ تھوڑی سی محنت کرلو تو نفس ولی اﷲ ہوجاتا ہے اور شیطان پر کتنی محنت کرو یہ کبھی ولی اﷲ نہیں ہوسکتا یہ ہمیشہ مردود رہے گا،یہ فرق ہے دونوں دشمنوں میں۔</p>
<p>تو مشکوٰة شریف سے ملا علی قاری کی شرح ہوگئی کہ نفس متوسطہ ہے، بین الروح والجسم ہے یعنی روح لطیف ہے اور جسم کثیف ہے، اگر عمل اچھا ہوا تو اس میں لطافت آجاتی ہے یہاں تک کہ اسی نفس کے ساتھ لوگ کہاں سے کہاں پہنچ گئے یعنی ولی اﷲ ہوگئے، عبادت یہ نفس ہی تو کرتا ہے، کام تو اسی ظالم سے لینا ہے، یہ تو مزدور ہے، گھوڑا ہے، اسی پر بیٹھ کر اﷲ تک پہنچنا ہے، مگر ایسا گھوڑا جو سوار کو گرا دے وہ منزل تک نہیں پہنچنے دیتا لہٰذا نفس کو اتنا مسٹنڈا مت کرو، اتنا مرغ وماہی مت کھلاو کہ جس سے نفس تم پر سواری کرلے، سواری پر سوار ہونا چاہیے نہ کہ سواری ہی سوار پر سوار ہوجائے، تو جو نفس کی بات مانتا ہے اور اﷲ کی نافرمانی کرتاہے یہ دلیل ہے کہ نفس کی سواری اس پر سواری کررہی ہے۔</p>
<p>اگر آپ گھوڑے پر جارہے ہیں اور دوہزار گز گہری کھائی آگئی اور نیچے ہری ہری گھاس ہے، سبزہ اُگا ہوا ہے تو اگر آپ نے نہ روکا تو گھوڑا گھاس کے لالچ میں کھائی میں کود کر جان دے دے گا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اگر آپ روکتے ہیں تو چونکہ گھوڑا بھوکا ہے اور ہری گھاس کا عاشق ہے، لگام کھینچنے کے باوجود بے تابی سے کھائی میں کودنے کی کوشش کرے گا، سوار کو چاہیے کہ اس وقت پوری طاقت سے لگام کھینچے چاہے گھوڑے کا گال پھٹ جائے، اگر سوار پوری طاقت سے اسے روکنے کی کوشش نہیں کرے گا تو گھوڑا بھی مرے گا اور سوار بھی مرے گا لہٰذا ہمت سے کام لو اور لگام پوری قوت سے کھینچو، زیادہ سے زیادہ گھوڑے کاگال پھٹ جائے گا، اس کی اصلاح آسان ہے، مویشی کے ڈاکٹر کے یہاں لے جاو، وہ مرہم پٹی کردے گا، انجکشن وغیرہ لگا دے گا لیکن اگر تم نے اس کے گالوں کی فکر کی تو تمہارا کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہوگا، تم ہلاک ہوجاو گے۔ تو جو لوگ گناہ میں نفس کی لگام ہلکی رکھتے ہیں وہ گناہ کر بیٹھتے ہیں اور اﷲ کے قہر اور عذاب کے گڈھے میں نفس بھی گرتا ہے اور خود بھی گرتے ہیں لہٰذا جسم کی فکر نہ کرو کہ گناہ چھوڑنے سے اس کو غم پہنچے گا بلکہ ان شاءاﷲ تعالیٰ اپنے نام کی برکت سے اﷲ تعالیٰ جسم کو صحت مند کردیں گے۔ تو یہ مثال کیسی ہے، اب کوئی پاگل ہی ہوگا جو کہے گا کہ گھوڑے کو گھاس کھانے کھائی میں کود جانے دو، عقلمند سوار گھوڑے کو پوری طاقت سے روکے گا۔ بس گناہ سے بچنے میں بھی دانت پیس کے پوری طاقت سے ارادہ کرلو کہ گناہ نہیں کرناہے</p>
<p>نہ دیکھیں گے نہ دیکھیں گے انہیں ہرگز نہ دیکھیں گے</p>
<p>کہ جن کے دیکھنے سے رب مرا ناراض ہوتا ہے</p>
<p>نہیں ناخوش کریں گے رب کو اے دل تیرے کہنے سے</p>
<p>اگر یہ جان جاتی ہے خوشی سے جان دے دیں گے</p>
<p>اور پھر یہ شعر پڑھیں</p>
<p>جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی</p>
<p>حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا</p>
<p>نفس کی تیسری تعریف علامہ آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں بیان کی ہے:</p>
<p>﴾ فَاِنَّ النَّفسَ کُلَّھَا ظُلمَة وَسِرَاجُھَا التَّوفِیقُ ﴿</p>
<p>نفس ابتداءتا انتہاءپورا پورا اندھیرا ہے اور نفس کے اندھیروں کے لیے روشنی کا چراغ کیا ہے؟ تو فیق خداوندی۔ اور توفیق کی تین قسمیں ہیں: نمبر۱۔تَسھِیلُ طَرِیقِ الخَیرِ وَتَسدِیدُ طَرِیقِ الشَّرِّ بھلائی اور نیکی کے راستے سامنے آجائیں اور برائیوں کے راستوں کو اﷲ بند کردے، نمبر۲۔ تَوجِیہُ الاَسبَابِ نَحوَ المَطلُوبِ الخَیرِ بھلائی اور نیکی کے اسباب سامنے آجائیں جیسے کوئی مصیبت آگئی اب کسی اﷲ کے ولی سے دعا کرانے گیا اور وہاں اس کا دل لگ گیا او راس کی صحبت سے ولی اﷲ ہوگیا تو یہ مصیبت جو کسی اﷲ والے تک لے گئی یہ اس کے لیے مصیبت نہیں نعمت ہے جس نے اسے اﷲ سے ملا دیا</p>
<p>آپ تک لائی جو موجِ رنج و غم</p>
<p>اُس پہ قرباں سینکڑوں ساحل ہوئے</p>
<p>دردِ عشقِ حق بھی تم حاصل کرو</p>
<p>لاکھ تم عالم ہوئے فاضل ہوئے</p>
<p>اخترِ بسمل کی تم باتیں سنو</p>
<p>جی اٹھو گے تم اگر بسمل ہوئے</p>
<p>مولانا رومی فرماتے ہیں</p>
<p>بر سر مقطوع اگر صد خندق است</p>
<p>پیشِ دردِ او مزاح مطلق است</p>
<p>اﷲ کے عشق سے جن کی روح بسمل ہوئی وہ مجاہدات سے نہیں ڈرتے، جس مرغ کی گردن کاٹ دی گئی ہو اور اس کے سامنے سینکڑوں خندقیں ہوں تو وہ بھی اس مرغ کے درد کے سامنے کچھ نہیں ہیں۔ جب اﷲ کی محبت دل میں آجاتی ہے تو پھر نافرمانی کی جتنی بھی خندقیں ہیں سب اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، وہ ہر وقت اﷲ کو راضی کرتا ہے، جب تک اﷲ کو راضی کرنے کا جذبہ عطا نہ ہو تو ایسا شخص مٹی کا ڈھیلا ہے کیونکہ یہ ڈھِیلا ہے۔ واہ! یہ حکیم الامت کا جملہ ہے کہ جو ڈھِیلا ہے تو سمجھ لو کہ یہ مٹی کا ڈھیلا ہے۔</p>
<p>اور توفیق کی تیسری تعریف ہے خَلقُ القُدرَةِ عَلَی الطَّاعَةِ اﷲ عبادت کی طاقت پیدا کر دے اور سستی اور کاہلی دور کر دے یعنی فرمانبرداری کی طاقت دے، پست ہمتی، ضعف ہمتی اور لومڑیت ختم ہوجائے۔</p>
<p>اﷲ کے راستے میں شیرانہ چال چلو</p>
<p>حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ اے ایمان والو!جب تک تم لومڑی رہو گے تم کو استقامت نصیب نہیں ہوگی، لومڑی بے وفا ہوتی ہے، وقت پر راہِ فرار اختیار کرتی ہے، جب مصیبت آتی ہے یا جب شکاری شکار کے لیے کہتا ہے تو وہ ہگنے لگتی ہے لہٰذا وَلاَ یَرُوغُ رَوغَانَ الثَّعَالِبِ لومڑیوں کی طرح اﷲ کے راستے میں مت چلو، شیرانہ چلو، مالک کی مرضی پر جان دینا سیکھو، یہ کیا کہ ذرا سانمک سامنے آیا اور پاگل ہوگئے، تم کیوں پاگل ہوتے ہو؟ تمہیں اس وقت خدا یاد نہیں رہتا؟ ابھی کوئی غنڈہ تمہیں دس جوتے ماردے اس وقت تمہیں کیوں ہوش آجاتا ہے، ایک جوتا کس کے پڑے تو وہاں سے بلبلا کر بھاگو گے۔</p>
<p>بعض لوگ کہتے ہیں کہ مجھ میں نظر بچانے کی ہمت نہیں ہے، صاحب میں حسینوں کو دیکھ کر پاگل ہوجاتا ہوں لیکن سوچ لو کہ ایک بس اسٹاپ پر کوئی شخص کسی لڑکے یا لڑکی کو دیکھ رہا ہے اچانک وہاں کالا سانپ نکل آیا، اب کیوں دُم دبا کے بھاگتے ہو؟ تو معلوم ہوا کہ سانپ کا خوف ہے کیونکہ جان کی محبت ہے، جب اﷲ کی محبت ہوگی تو ان شاءاﷲ تعالیٰ گناہ سے اسی طرح بھاگوگے اور رووگے کہ اے خدا ہمیں لومڑیانہ مزاج سے نجات عطا فرما، ہم ایک لمحہ بھی آپ کو ناراض کرنے سے پناہ چاہتے ہیں، پھر ان شاءاﷲ زندگی میں زندگی آجائے گی، جو زندگی خالقِ زندگی پر فد اہوتی ہے اس کی زندگی پر بے شمار زندگی برستی ہے اور جو خالقِ حیات کو ناراض کر کے حرام لذتِ حیات کو درآمد کرتا ہے اس کی حیات پر بے شمار موت برستی ہے۔ کسی کے جسم کے لباس کو مت دیکھو، اس کے منہ میں کباب کو مت دیکھو، جو گناہوں میں مبتلاءہے اس کے منہ میں کباب ہے لیکن دل پر عذاب ہے، اس نے چین کا خواب بھی نہیں دیکھا۔ اس وقت پوری دنیا بے چین ہے، جو حسینوں کو دیکھتا ہے اسی وقت اس کے قلب پر عذاب آتا ہے، جیسے ہی وہ گناہ کی طرف ایک اعشاریہ (زیرو پوائنٹ) آگے بڑھا تو گناہ کا نقطہ آغاز اﷲ تعالیٰ کے عذاب کا نقطہ آغاز ہوتا ہے۔</p>
<p>پُرلطف حیات پانے اور مُعذب حیات سے بچنے کا نسخہ</p>
<p>دیکھئے! فرمانبرداروں کے لیے اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: فَلَنُحیِیَنَّہُ حَیٰوةً طَیِّبَةً (سورة النحل، آیت:۷۹)</p>
<p>جو ہم کو ایمان واعمال صالحہ سے خوش رکھتے ہیں ہم ضرور بالضرور ان کو بالطف زندگی دیتے ہیں، اﷲ تعالیٰ نے یہاں اپنی طرف نسبت کی اور واحد نہیں فرمایا کہ” میں دوں گا“ بلکہ فرمایا کہ ” ہم دیں گے“ کیونکہ قرآن ِپاک شاہانہ کلام ہے، بادشاہ کبھی ”میں“ نہیں کہے گا، وہ کہے گا کہ ہم یہ کریں گے، ہمارا حکم یہ ہے، ہم نے یہ نازل کیا، ہم نے یہ حکم نافذ کیا، اگر اس نے ”میں“ کہا تو سمجھ لو کہ یہ بادشاہ نہیں ہے، اسے اچانک کہیں سے بادشاہت مل گئی ہے، خاندانی بادشاہت نہیں ہے تو اﷲ تعالیٰ جو مٹی کے انسانوں کو سلطانیت بخشتا ہے اس کا مزاجِ سلطانیت کیسا ہوگا لہٰذا فَلَنُحیِیَنَّہُ جمع نازل فرمایا کہ ہم ضرور بالضرور حَیٰوةً طَیِّبَةً دیں گے۔ اور جو میری نافرمانی کر کے حرام لذت چرائے گا، نمک چور، کام چور نوالہ حاضر، دسترخوان پر فوراً بیٹھے گا اور نماز میں سستی کرتا ہے اس کے لیے فرمایا: فَاِنَّ لَہ مَعِیشَةً ضَنکاً (سورة الجاثیة، آیت:۴۲۱)</p>
<p>یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ہم ضرور بالضرور ان کی زندگی تلخ کردیں گے بلکہ فرمایا کہ ان کی زندگی تلخ کردی جائے گی، یہ شاہانہ کلام ہے، اس میں عظمتِ الٰہی ہے کہ جو سارے عالم کو شکر دیتا ہے وہ کڑوی بات کی نسبت اپنی طرف نہیں کرے گا۔ اﷲ تعالیٰ نے اختر کو یہ علمِ عظیم عطا فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے یہاں زندگی کو کڑوی کرنے کی نسبت اپنی طرف نہیں کی، یہ عظمتِ کلامِ شاہی ہے جیسے ابا اگر عظیم الشان ہے تو بچوں سے یہ نہیں کہے گا میں ڈنڈے ماروں گا بلکہ یہ کہے گا کہ اگر تم نے نافرمانی کی تو تمہاری پٹائی کی جائے گی، تمہیں ڈنڈے مارے جائیں گے۔</p>
<p>تو نفس کی تین تعریفیں یاد کرلو۔ پہلی تعریف حکیم الامت کی ہے یعنی مرغوباتِ طبعیہ غیرِ شرعیہ یعنی نفس کی وہ خواہشات جن پر عمل کرنے کی اﷲ نے اجازت نہ دی ہو۔ دوسری ملا علی قاری رحمة اﷲ علیہ کی تعریف اَلنَّفسُ مُتَوَسِّطَة بَینَ الرُّوحِ وَ الجِسمِ نفس جسم اور روح کے درمیان میں ہے، نہ کثیف ہے نہ لطیف ہے، انسان نیک عمل کرتاہے تو نفس لطیف ہوجاتا ہے اور گناہ کرتا ہے تو کثیف ہوجاتا ہے، نیک عمل سے روحانیت بڑھے گی، گناہ کرنے سے کثافت بڑھے گی۔ اور تیسری تعریف علامہ آلوسی کی کہ نفس از ابتداءتا انتہاءاندھیرا ہے اس کا چراغ تو فیقِ خداوندی ہے۔</p>
<p>تو نفس کی تین قسمیں ابھی پیش کردیں۔ اب اختر کی تعریف سنئے! میںنے بھی نفس کی تعریف کی ہے مگر میری تعریف ذرا انگلش کی ہے کیونکہ یہ میںنے لندن اور امریکہ میں پیش کی تھی جب لوگوں نے پوچھا تھا کہ نفس کیا ہے؟ نفس کا مزاج کیا ہے؟تو میں نے کہا کہ نفس کا مزاج ہے انٹر نیشنل پنچنگ ماسٹر یعنی گناہ کرنے سے جس کا پیٹ کبھی نہ بھرے، جو دوزخ کا مزاج ہے وہی نفس کا مزاج ہے۔</p>
<p>نفس کا مزاج دوزخ کا سا ہے</p>
<p>دوزخ میں سارے دوزخی ڈال کے اﷲ پوچھے گا کہ تیرا پیٹ بھر گیا؟ ھَلِ امتَلَئتِ وہ کہے گی ھَل مِن مَّزِیدٍ اے اﷲ کیا اور بھی کچھ مال ہے؟ اﷲتعالیٰ بے گناہوں کو دوزخ میں تھوڑی ڈالیں گے لہٰذا دوزخ پر اپنا قدم رکھیں گے یعنی اپنی ایک خاص تجلی نازل کریں گے تب دوزخ کہے گی قَط قَط قَط وَفِی رِوَایَةٍ قَط قَط یعنی بس بس بس اے خدا میرا پیٹ بھر گیا۔ ایک روایت میں دو دفعہ ہے اور ایک روایت میںتین دفعہ ہے۔</p>
<p>علامہ قسطلانی رحمة اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ خدا تو جسم سے پاک ہے وہ دوزخ پر اپنا قدم کیسے رکھیں گے؟ لیکن حدیث پاک میں ہے فَلَمَّا یَضَعُ قَدَمَہ جب اﷲ اپنا قدم رکھے گا تب دوزخ کا پیٹ بھرے گا تو علامہ قسطلانی فرماتے ہیں کہ یہاں قدم سے مراد خاص تجلّی ہے۔ ایسے ہی جب انسان اﷲ والوں کے پاس رہتا ہے، اﷲاﷲ کرتا ہے تو اس کے نفس پر اﷲ تعالیٰ کی تجلی بِبَرَکَةِ ذِکرِ اﷲِ نازل ہوتی ہے پھر اس کے نفس کا پیٹ بھر جاتا ہے، پھر گناہ کے تقاضے مغلوب ہوجاتے ہیں۔ اس پر اختر کا شعر ہے</p>
<p>وہ مالک ہے جہاں چاہے تجلی اپنی دکھلائے</p>
<p>نہیں مخصوص ہے اس کی تجلی طورِ سینا سے</p>
<p>حکیم الامت نے فرمایا کہ ساری دنیا کی حسینوں سے کوئی بدنظری کرلے پھر اس کے کان میں کوئی کہے کہ ابھی ایک حسین باقی ہے تو وہ کہے گا کہ وہ بھی دکھا دو۔ تو نفس کا مزاج یہ ہے، نفس کی خواہش قبر کی مٹی ہی ختم کرے گی، جب مٹی میں دفن کیا جائے گا تو مٹی ہی اس کا پیٹ بھرے گی لیکن اﷲ والوں کا مزاج دنیا ہی میں اﷲ کی تجلیات اور اﷲ کے انوار وبرکات سے بدل جاتا ہے</p>
<p>اُف کتنا ہے تاریک گنہگار کا عالم</p>
<p>انوار سے معمور ہے ابرار کا عالم</p>
<p>انسان کا مقصدِ حیات کیا ہے؟</p>
<p>ارشاد فرمایا کہدیکھو! ایک ریل جارہی ہے، اس ریل میں ہتھکڑی لگے ہوئے مجرمین بھی ہیں اور اسی ریل کے فرسٹ کلاس میں وزیر اعظم بھی جارہا ہے تو دنیا بھی ایک مسافر خانہ ہے، اسی دنیا میں پیغمبر ان اور اولیاءبھی رہتے ہیں اوراسی دنیا میں ایک سے ایک خبیث الطبع بدمعاش بھی ہے، یہ دنیا بھی ریل ہے جو خاموش سے چل رہی ہے، سورج چاند سیارات سب چل رہے ہیں مگر کسی کو احساس نہیں ہے۔</p>
<p>جنہوں نے امپورٹ ایکسپورٹ آفس کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھا ہے کہ کھائے جا، گو بنائے جا، یہ لوگ نہیں جانتے کہ ہم کس لیے پیدا ہوئے، رات کو امپورٹ کیا، صبح لیٹرین میں ایکسپورٹ کیا، وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب کے سب امپورٹ ایکسپورٹ آفیسر ہیں، حالانکہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میںنے تم کو امپورٹ ایکسپورٹ آفیسر نہیں بنایا میں نے تم کواپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، یہ جوکھاتے پیتے ہو یہ وسیلہ حیات ہے لیکن مقصدِ حیات میری عبادت ہے، تم نے وسائل کو مقاصد سمجھ لیا، کپڑا مقصدِ حیات نہیں ہے وسیلہ حیات ہے، مکان بنانا وسیلہ حیات ہے، روٹی کا انتظام کرنا وسیلہ حیات ہے اور مقصدِ حیات اﷲ کی فرمانبرداری پر جان دینا ہے۔ اور فرمانبرداری دو قسم کی ہے، ایک تو اﷲ پاک جس سے خوش ہوں اس کام کو کرو اور جس سے ناخوش ہوں اس کام سے بچو، جن باتوں سے اﷲ تعالیٰ ناخوش ہوتے ہیں ان سے نہ بچنا جرمِ محبت ہے، غداری ہے، وفاداری نہیں ہے۔ کیا وفاداری کے یہ معنیٰ ہیں کہ اپنے محبوب کو صرف خوش کرواور اس کی ناخوشی سے نہ بچو؟ ایک ہی تار سے روشنی چاہتے ہو، اگر منفی اور مثبت دونوں تار نہ ہوں تو بجلی کا بلب نہیں جلتا اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے اپنے ایمان کی روشنی کے لیے دو تار دیئے ہیں، نماز روزہ اور دیگر عبادات یہ مثبت تار ہے اور گناہ سے بچنا، حسین لڑکوں اور لڑکیوں سے سے بچنا، غیبت سے بچنا یہ منفی یعنی مائنس تار ہے، دونوں تاروں پر عمل کرو پھر بھول جاوگے ان سب مرنے والے حسینوں کی لاشوں کو۔</p>
<p>جاری ہے۔</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F246.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F246.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F246.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F246.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F246.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F246.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/246.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت تھانویؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/207.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/207.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 10 Feb 2010 02:21:18 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/?p=207</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ)
حضرت مولانا گنگوہیؒ نے فرمایا کہ جو بات
حضرت حاجی صاحبؒ میں تھی وہ کسی میں نہ تھی
فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا گنگوہیؒ حضرت حافظ محمد ضامنؒ کی بہت تعریف فرمارہے تھے بعد میں فرمایا مگر جو بات اس شخص میں (یعنی حضرت حاجی صاحب قدس سرہ) میں تھی وہ کسی میں نہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ نے فرمایا کہ جو بات</p>
<p>حضرت حاجی صاحبؒ میں تھی وہ کسی میں نہ تھی</p>
<p>فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا گنگوہیؒ حضرت حافظ محمد ضامنؒ کی بہت تعریف فرمارہے تھے بعد میں فرمایا مگر جو بات اس شخص میں (یعنی حضرت حاجی صاحب قدس سرہ) میں تھی وہ کسی میں نہ تھی حالانکہ گفتگو سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ حضرت حافظؒ کو ترجیح دے رہے ہیں یہ مقولہ خود حضرت مولانا گنگوہی سے سنا ہے۔</p>
<p>حضرت حاجی صاحب بعض اوقات تمام رات</p>
<p>ایک شعر کو پڑھ کر روتے ہوئے گذار دیتے تھے</p>
<p>فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب بعض اوقات تمام تمام رات اس ایک شعر کو پڑھ پڑھ کر روتے روتے گذار دیتے تھے</p>
<p>اے خدا ایں بندہ را رسوا مکن</p>
<p>گر بدم ہم سرمن پیدا مکن</p>
<p>یہ حافظ عبدالقادر سے سنا ہے۔</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ نے حضرت حاجی صاحبؒ سے کہا کہ ذکر میں رونا نہیں آتا</p>
<p>فرمایا کہ ایک مرتبہ مولانا گنگوہیؒ نے حضرت حاجی صاحبؒ سے عرض کیا کہ مجھے رونا نہیں آتا حالانکہ اور ذاکرین پر کثرت گریہ طاری ہوتا ہے حضرت نے فرمایا ہاں جی اختیاری بات نہیں کبھی آنے بھی لگتا ہے پھر تو یہ حال ہوا کہ جب مولانا ذکر کرنے بیٹھتے تاب نہ ہوتی پسلیاں ٹوٹنے لگتیں پھر حضرت سے عرض کیا کہ حضرت پسلیاں ٹوٹی جاتی ہیں حضرت نے فرمایا کہ ہاں یہ بھی ایک عارضی حالت ہے جاتی بھی رہتی ہے بس پھر گریہ یکدم موقوف ہوگیا پھر حضرت سے شکایت کی حضرت نے فرمایا کہ پسلیاں ٹوٹ جائیںگی رو کر کیا کروگے۔</p>
<p>حضرت حاجی صاحبؒ کے یہاں زیادہ اہتمام اصلاح قلب کا تھا</p>
<p>فرمایا کہ حضرت حاجی صاحبؒ فرماتے تھے کہ اگر ایک لطیفہ بھی منور ہوجائے تو اس کے ذریعے سے سب منور ہوجاتے ہیں حضرت کے یہاں زیادہ اہتمام قلب کا تھا جیسا کہ حدیث میں ہے ان فی الجسد مضغة اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الاوھی القلب۔</p>
<p>حضرت حکیم الامت مجدد الملتؒ نے سلوک کی چند باتیں</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ سے دریافت کی تھیں</p>
<p>فرمایا کہ مولانا گنگوہیؒ سے میں نے تین چار ہی باتیں سلوک کے متعلق پوچھی ہیں بفضلہ تعالیٰ زیادہ کی حاجت نہیں ہوئی اسی کی برکت سے بہت کچھ حل ہوگیئں۔</p>
<p>حضرت مولانا محمود حسن صاحب دیوبندیؒ نے</p>
<p>ایک مشہور عالم کے اعتراض کا مسکت جواب دیا</p>
<p>فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمود حسن صاحب دیوبندیؒ مراد آباد کے جلسہ میں تشریف لے گئے لوگوں نے وعظ کے لیے اصرار کیا مولانا نے غدر فرمایا کہ مجھے عادت نہیں ہے مگر لوگوں نے نہیں مانا آخر مولانا کھڑے ہوئے اور حدیث فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد پڑھی اور اس کا ترجمہ یہ کیا کہ ایک عالم شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے وہاں ایک مشہور عالم تھے وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ ترجمہ غلط ہے جس کو ترجمہ بھی صحیح کرنا نہ آئے تو اس کووعظ کہنا جائز نہیں بس مولانا فوراً ہی بیٹھ گئے اور فرمایا کہ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ مجھے وعظ کی لیاقت نہیں ہے مگر ان لوگوں نے نہیں مانا خیر اب میرے پاس غدر کی دلیل بھی ہوگئی یعنی آپ کی شہادت پھر حضرت مولانا نے اس بزرگ سے بطرز استفادہ پوچھا کہ غلطی کیا تھی تاکہ آئندہ بچوں انہوں نے فرمایا کہ اشد کا ترجمہ اثقل کا نہیں آتا بلکہ اضر کا آتا ہے مولانا نے فی الفور فرمایا کہ حدیث وحی میں ہے یاتینی مثل صلصلة الجرس وہو اشد علیَّ کیا یہاں بھی اضر کے معنی ہیں وہ دم بخود رہ گئے۔</p>
<p>حضرت مولانا محمود حسن صاحب دیوبندیؒ کااپنے</p>
<p>ایک وعظ کو دوران آمد مضامین عالیہ دفعةً قطع کردینے کا واقعہ</p>
<p>فرمایا کہ ایک مرتبہ مولانا دیوبندیؒ کو میں نے جلسہ دستار بندی مدرسہ جامع العلوم کانپوربلوایا آپ تشریف لے گئے میں نے وعظ کے واسطے عرض کیا فرمایا کہ میرے بیان سے لوگ خوش نہ ہوں گے اور اس سے میرا تو کچھ نہیں جائے گا تمہاری ہی اہانت ہوگی کہ ان کے استاد ایسے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت اس سے تو ہمارا فخر ہوگا کہ ان کے استاد ایسے ہیں۔ فرمایا ہاں اس طرح فخر ہوگا کہ لوگ کہیں گے یہ (حضرت مرشدی مدظلہم) استاد سے بھی بڑھ گئے غرضیکہ بڑی دقت کے بعد منظور فرمایا مولانا کا علم اور علماءکا مجمع خوب طبیعت کھلی ہوئی تھی مضامین عالیہ ہورہے تھے کہ اتنے میں مولوی لطف اﷲ صاحب علی گڑھی تشریف لے آئے ان کو دیکھتے ہی مولانا یکدم بیٹھ گئے مولوی فخر الحسن صاحب نے دوسرے وقت عرض کیا کہ وعظ کیوں بند کردیا تھا فرمایا کہ اس وقت مجھ کو خیال ہوا کہ اب وقت ہے مضامین کا یہ بھی دیکھیں گے کہ علم کیا چیز ہے تو اس طرح سے وعظ میں خلوص نہ رہا اس لیے قطع کردیا۔</p>
<p>حضرت حکیم الامت مجدد ملتؒ کی حد درجہ تواضع وو قناعت</p>
<p>فرمایا کہ مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب کانپوریؒ کا قلب بڑا نورانی تھا میں ان کے پاس بیٹھنے سے ڈرتا تھا کہ کہیں میرے عیوب منکشف نہ ہوجائیں (جامع کہتا ہے اﷲ اکبر کیا ٹھکانا اس تواضع اور انکساری کا) حاجی صاحبؒ فرماتے ہیں</p>
<p>نیک لوگوں کا تو ایسا حال ہے</p>
<p>اور تیرا یہ خبیث اب قال ہے</p>
<p>میرا ثانی کوئی دنیا میں نہیں</p>
<p>عالم و زاہد ولی پاک دیں</p>
<p>حضرت مولانا گنگوہیؒ کے انتہائی ذکی الحس ہونے کا واقعہ</p>
<p>فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہیؒ اس قدر ذکی الحس تھے کہ ایک مرتبہ جب آپ مسجد میں عشاءکی نماز کو تشریف لائے تو فرمایا کہ آج کسی نے مسجد میں دیا سلائی جلائی ہے تحقیق کرنے سے معلوم ہوا ایک صاحب نے مغرب کے بعد جلائی تھی جس کا اثر مولانا کو عشاءکے وقت محسوس ہوا اور آپ کے یہاں عشاءکی نماز قریب ثلث شب کے وقت ہوتی تھی۔</p>
<p>حضرت حاجی صاحبؒ کے ہاں کسی کی شکایت نہیں سنی جاتی تھی</p>
<p>فرمایا کہ حضرت حاجی صاحبؒ کے یہاں کسی کی شکایت نہیں سنی جاتی تھی اور نہ کسی سے بدگمان ہوتے تھے اگر کوئی کہنے لگا کہ اور حضرت بوجہ حلم منع بھی نہ کرتے مگر جب وہ کہہ لیتا تو فرماتے کہ وہ شخص ایسا نہیں ہے (یعنی تم جھوٹے ہو۔ جامع)</p>
<p>حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ نے</p>
<p>نواب رامپور سے ملاقات سے انکار کردیا</p>
<p>فرمایا کہ ایک مرتبہ مولانا محمد قاسمؒ ریاست رام پور تشریف لے گئے نواب کلب علی خان مرحوم نے مولانا کو اپنے پاس بلانا چاہا تو مولانا نے یہ حیلہ کیا کہ ہم دیہاتی لوگ ہیں آداب شاہی سے واقف نہیں اس پر نواب صاحب کا جواب آیا کہ آپ کو آداب سب معاف ہیں آپ ضرور کرم فرمائیے ہم لوگوں کو سخت اشتیاق ہے اس پر مولانا نے جواب دیا کہ تعجب کی بات ہے کہ اشتیاق تو آپ کو ہو اور ملنے میں آﺅں غرضیکہ تشریف نہیں لے گئے۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F207.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F207.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F207.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F207.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F207.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F207.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/207.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/208.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/208.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 10 Feb 2010 02:20:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/208.html</guid>
		<description><![CDATA[مرتبہ: سید عشرت جمیل میر
(گذشتہ سے پیوستہ)
بیویوں کی کڑوی باتوں پر درگذر سے کام لیں
اب رہ گیا یہ کہ بیویاں بھی تو ہمیں ستاتی ہیں تو اس کے بارے میں سن لو کہ اگر یہ عورتوں کا مجمع ہوتا تو میں ان کے سامنے آپ کی طرف داری کرتا، ان کو یہ سکھلاتا کہ اپنے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مرتبہ: سید عشرت جمیل میر<br />
(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>بیویوں کی کڑوی باتوں پر درگذر سے کام لیں</p>
<p>اب رہ گیا یہ کہ بیویاں بھی تو ہمیں ستاتی ہیں تو اس کے بارے میں سن لو کہ اگر یہ عورتوں کا مجمع ہوتا تو میں ان کے سامنے آپ کی طرف داری کرتا، ان کو یہ سکھلاتا کہ اپنے شوہروں کی عزت کرو، ان کو ناراض مت کرو ورنہ تمہاری عبادت قبول نہیں ہوگی لیکن اس وقت آپ ہمارے ہاتھ لگے ہوئے ہیں تو اس کے خلاف والا مقدمہ پیش کررہا ہوں کہ بیویوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آو لیکن پھر بھی میں چند واقعے پیش کیے دیتا ہوں جن سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اگر وہ ستاتی بھی ہیں تو بھی آپ صبر کریں، اگر بیوی غصہ کی تیز ہے، کڑوی کڑوی باتیں سناتی ہے تو اس کو برداشت کریں، ان شاءاﷲ اسی سے آپ اﷲکے پیارے ہوجائیں گے۔</p>
<p>مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ اگر آپ کی بیٹی کڑوی زبان والی ہے اور آپ کو داماد شریف مل گیا اور آپ کی بیٹی نے آپ سے آکر کہا کہ اگر میں اپنے شوہر کو کڑوی بات کہہ دیتی ہوں، ستاتی ہوں، غصہ دِکھاتی ہوں پھر بھی میرا شوہر مجھے کچھ نہیں کہتا، آپ کا داماد فرشتہ ہے، مجھ سے کوئی بدلہ نہیں لیتا بلکہ جب اس سے برداشت نہیں ہوتا تو باہر چلا جاتا ہے، تو آپ بتائیے کہ ایسے داماد کے بارے میں ابا کا دل کیا کہے گا؟ بولو بھئی! ابا کہے گا کہ کوئی بلڈنگ ہوتی تو اس کے نام لکھ دیتا، کار ہوتی تو اس کو دے دیتا تو جو لوگ ربا کی کڑوی مزاج اور غصے والی بندیوںکی بد اخلاقیوں اور کڑوی باتوں کو برداشت کررہے ہیں تو ربا بھی ایسے بندوں سے خوش ہوجاتے ہیں کہ اپنے اس بندے کو میں کیا دوں، نسبت مع اﷲ کا اعلیٰ مقام، تعلق مع اﷲ کا اعلیٰ مقام عطا فرماتے ہیں۔ بہرحال اﷲ ایسے لوگوں کو اپنا بہت بڑا ولی بناتا ہے، جب ابا داماد کو انعام دے سکتا ہے تو رَبّا اس بندے کو کیوں انعام نہ دے گا جو اس کی ایسی بندیوں کو پار لگادے جو زبان کی کڑوی ہوں۔ اب ایک واقعہ اور سنیں۔</p>
<p>ایک بزرگ نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اﷲ! مجھے کوئی کرامت دے دیں، تیری یہ بندی جو میری بیوی ہے بڑی کڑوی کڑوی باتیں کرتی ہے جو مجھ سے برداشت نہیں ہوتیں، میرا بھی غصہ تیز ہے اس کا بھی غصہ تیز ہے</p>
<p>دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی</p>
<p>لہٰذا آپ مجھے کوئی کرامت دے دیں تاکہ میں اس پر اپنی بزرگی کا رعب جما دوں تاکہ وہ مجھ کو ولی اﷲ سمجھ کر میری بد دعا کے ڈر سے مجھے نہ ستائے۔ آسمان سے آواز آئی کہ اپنی چار پائی پر بیٹھ جا میں اس کو اُڑنے کا حکم دوں گا، پھر اس کو بتانا کہ دیکھ آج میں نے تجھ کو کیسی کرامت دکھائی، اب تو تو مجھے بزرگ مان کر مجھے ستانا چھوڑ دے۔ تو ان کے بیٹھتے ہی چارپائی اُڑنے لگی، انہوں نے اپنے گھر کے صحن کے اوپر سے اُڑاُڑ کر بیوی کو دِکھایا، پھر آ کر اس سے پوچھا کہ آج تم نے کوئی بزرگ دیکھا؟ کہاہاں! آج ایسے بزرگ دیکھے جو آسمان پر اُڑرہے تھے، میرے صحن پر سے کئی دفعہ گذرے، بزرگ اس کو کہتے ہیں، ایک تو ہے خوامخواہ کا بزرگ بنا ہوا ہے، ہر وقت زمین ہی دھرا رہتا ہے کبھی تو نے اُڑ کر دکھایا؟ تو انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم! وہ میں ہی تھا، اﷲ نے مجھ کو کرامت دی تھی، تو بیوی کہتی ہے توبہ توبہ وہ تم تھے! جب ہی تو کہوں ٹیڑھے ٹیڑھے کیو ں اُڑ رہے تھے۔ دیکھا آپ نے کرامت کو بھی اس نے گڑ بڑ کردیا۔</p>
<p>ایک صاحبِ کرامت بزرگ تھے شاہ ابوالحسن خرقانی رحمة اﷲ علیہ، ایک شخص ہزار میل دور سے ان سے مرید ہونے آیا، شیخ اس وقت جنگل میں لکڑی کاٹنے گئے ہوئے تھے، اس شخص نے ان کے گھر پہنچ کر ان کی بیوی سے پوچھا کہ شیخ کہاں ہیں، وہ تڑخ کر بولی واہ! شیخ کیا ہے میخ ہے وہ تو، میں تو رات دن اس کے ساتھ رہتی ہوں، وہ کوئی بزرگ وزرگ نہیں ہے، تم لوگ نہ جانے کن چکروں میں پھنس گئے ہو۔ اب وہ بیچارہ رونے لگا کہ یااﷲ! ہزار میل دور سے بزرگ سمجھ کر آیا تھا اور یہ عورت اتنی شکایتیں کررہی ہے، اتنے میں محلہ والوں نے کہا کہ یہ عورت بدتمیز ہے، ان کو بہت ستاتی ہے لیکن ان کا ظرف ہے کہ اس کو برداشت کررہے ہیں، اس کے ساتھ نباہ کررہے ہیں۔ جاو! جنگل میں جاکر ان کی بزرگی دیکھو۔ جب وہ جنگل گیا تو دیکھا کہ شاہ ابوالحسن خرقانی رحمة اﷲ علیہ شیر پر بیٹھے لکڑی لادے چلے آرہے ہیں اور ہاتھ میں سانپ کا کوڑا ہے۔</p>
<p>مولانا جلال الدین رومی رحمة اﷲعلیہ مثنوی میں اس قصہ کو بیان فرمارہے ہیں۔ اب تو یہ حیران رہ گیا کہ یا اﷲ بیوی تو شکایت کررہی تھی کہ بزرگ نہیں ہے اور اِدھر یہ کرامت! تب شیخ نے فرمایا کہ لگتا ہے تم میرے گھر سے آرہے ہو تبھی چہرہ اُتراہوا ہے، میری بیوی سے تم نے کوئی شکایت سنی ہوگی، اس کا خیال مت کرو، میں جو اس کے ساتھ نباہ کررہا ہوں اﷲ تعالیٰ نے اسی کی برکت سے یہ کرامت دی ہے کہ میں شیرِنر سے بے گار لے رہاہوں، یہ شیر میرے قبضہ میں ہے، میں روزانہ اس پر لکڑی لاد کر لے جاتا ہوں اور سانپ کا کوڑا بھی اﷲ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے، مجھے آسمان سے آواز آئی تھی کہ تو نے جو میری کڑوی زبان والی بندی کی کشتی پار لگادی اس کے صدقہ میں تجھے اتنی بڑی کرامت دیتا ہوں۔ اس واقعہ پر میرے شیخ شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری رحمة اﷲ علیہ مست ہو کر مولانا رومی کا یہ شعر پڑھتے تھے</p>
<p>گر نہ صبرم می کشیدے بارِ زن</p>
<p>کے کشیدے شیرِ نر بیگارِ من</p>
<p>اگر میں اس کڑوی زبان والی عورت کو برداشت نہ کرتا اور میرا صبر اس عورت کا کی بد اخلاقی کا بوجھ نہ اُٹھاتاتو یہ شیرِ نر بھی میری بے گاری، میری مزدوری نہ کرتا، یہ انعام اﷲ تعالیٰ نے اسی صبر کے صدقہ میں دیا ہے۔</p>
<p>دوستو!میں یہی بات عرض کررہا ہوں کہ بیویوں کے معاملہ میں اچھے اخلاق سے پیش آو، ان کی کڑو ی زبان کو برداشت کرلو، نہ برداشت ہو تو تھوڑی دیر کے لیے گھر سے باہر چلے جاو۔ سعدی شیرازی نے فرمایا کہ اگر کوئی کڑوی بات کرے تو اس کے منہ میں مٹھائی ڈال دو تاکہ گالی بھی میٹھی میٹھی نکلے۔ لوگ ڈنڈے سے بیویوں کو ٹھیک کرتے ہیں حالانکہ بیویاں ڈنڈے سے ٹھیک نہیں ہوتیں۔</p>
<p>عورت کے ٹیڑھے پن پر صبر کرنے کی وجہ</p>
<p>بخاری شریف کی حدیث ہے، حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں عورت مثل ٹیڑھی پسلی کے ہے، بابا آدم کی ایک پسلی نکالی گئی تھی جس سے اماں حوا پیدا کی گئیں، آپ سب اپنی پسلیاں گن لو بائیں طرف ایک پسلی کم ہوگی اسی ٹیڑھی پسلی سے اماں حوا پیدا ہوئیں۔ علامہ آلوسی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں کہ وہ ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئیں تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیںکہ عورت ٹیڑھی پسلی کی طرح ہے اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اسی ٹیڑھے پن کے ساتھ فائدہ اٹھالو، بتائیے! آپ لوگ ٹیڑھی پسلی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں یا نہیں یا ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں کہ میر ی ٹیڑھی پسلی کو سیدھا کردو، اسی لیے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :</p>
<p>اَلمَراَةُ کَالضِّلَعِ اِن اَقَمتَھَا کَسَرتَھَا وَ اِنِ استَمتَعتَ بِہَا استَمتَعتَ بِہَا وَ فِیھَا عِوَج</p>
<p>(صحیح البخاری، کتاب النکاح،ج:۵،ص:۷۸۹۱، دارابن کثیر۔ الیمامة)</p>
<p>عورت مثل ٹیڑی پسلی کے ہے اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہوتو اس ٹیڑھے پن کے ساتھ فائدہ اٹھا لو بجائے اس کے کہ ناک بھوں چڑھاو کہ اس کی ناک چپٹی ہے، ا س کا منہ کالا ہے، مجھے حسین بیوی ملنی چاہیے۔ ہوسکتا ہے اﷲ تعالیٰ اسی کے پیٹ سے کوئی عالم، حافظ، ولی اﷲ پیدا کردے جو قیامت کے دن تمہارے کام آئے۔ اس لیے ان کو حقیر مت سمجھو، صورت کو مت دیکھو، بعض وقت زمین کالی ہوتی ہے مگر غلہ بہت بڑھیا نکلتا ہے، بعض وقت کالی کلوٹی عورت سے ولی اﷲ پیدا ہوئے ہیں اور گوری چٹیوں سے شیطان پیدا ہوئے۔ اس لیے اپنی بیویوں کو حقیر نہ سمجھو، ان کے رنگ وروغن کو مت دیکھو، تو فرمایا اِن اَقَمتَھَااگر تم عورتوں کو سیدھا کرو گے کَسَرتَھَا تو انہیںتوڑدو گے۔ علامہ قسطلانی رحمة اﷲ علیہ بخاری شریف کی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: فِیہِ تَعلِیم لِّلاِحسَانِ اِلَی النِّسَآئِ وَالرِّفقِ بِھِنَّ وَالصَّبرِ عَلٰی عِوَجِ اَخلاَ قِھِنَّ لِاِحتِمَالِ ضُعفِ عُقُولِھِنَّ (ارشادُ السَّاری،ج:۸،ص:۸۷، دارالفکر)</p>
<p>اس حدیث میں تعلیم ہے عورتوں کے ساتھ احسان کرنے کی اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی اور ان کے ٹیڑھے پن پر صبر کرنے کی کیونکہ ان کی عقل کمزور ہے اور جن کی عقل کم ہوتی ہے وہ زیادہ جلد لڑجاتے ہیں، دیکھو بچوں میں جس کی عقل کم ہوگی وہ زیادہ لڑتا ہے اور روح المعانی میں یہ روایت موجود ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عورتوں کا مزاج ایسا ہے کہ یَغلِبنَ کَرِیماًکریم شوہر جو انتقام نہیں لیتے، ڈنڈے نہیں مارتے بلکہ ڈنڈے کی جگہ انڈے کھلاتے ہیں تو ایسے شوہروں پر بیویاں غالب آجاتی ہیں،جانتی ہیں کہ یہ بدلہ نہیں لے گا، ڈنڈے نہیں مارے گا، گالی نہیں دے گا، اسی لیے کریم شوہر سے زور زور سے بولتی ہیں کہ ارے! میںنے تم سے کہا تھا کہ ایسا کپڑا لانا تم چیتھڑے لے آئے، میں نے اچھی چپل کے لیے کہا تھا تم لیتھڑے اٹھا لائے اور میں نے کہا تھا چائے کی اچھی پیالیاں لے آنا تم ٹھیکرے لے آئے اور وہ بے چارہ مسکرا کر رہ جاتا ہے اور بولتاکچھ نہیں: یَغلِبنَ کَرِیمًا وَ یَغلِبُھُنَّ لَئِیم</p>
<p>یہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے الفاظِ نبوت ہیں، تفسیر روح المعانی کے اندر دیکھ لو، میں نے اپنی کتاب کشکولِ معرفت کے اندر اس کا حوالہ بھی لکھ دیا ہے۔</p>
<p>شوہر کو ناز دِکھانا عورت کا حق ہے</p>
<p>تو نیک و لائق شوہر پر عورتیں غالب آجاتی ہیں، زبان سے تیز بولتی ہیں اورکمینے و مسٹنڈے لوگ ڈنڈے مار مار کر ان پر غالب آجاتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ یہ کمزور ہیں، ان کا بھائی باپ تو پاس ہے نہیں لہٰذا ایک لات اور دو گھونسے مار دئیے، اب ایسے شوہر کو مارے ڈر کے وہ کبھی ناز بھی نہیں دِکھاتیں حالانکہ اپنے شوہر کو ناز دِکھانا ان کا شرعی حق ہے۔</p>
<p>حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے عائشہ! جب تو ناراض ہوتی ہے تو مجھے پتہ چل جاتاہے، معلوم ہوا عورتوں کو تھوڑا روٹھنے کا، تھوڑا ناراض ہونے کا حق حاصل ہے لیکن آپ کو انہیں جوتا مارنے کی اجازت نہیں ہے، ان کے ناز برداشت کرو، تو عائشہ صدیقہ رضی اﷲعنہا نے عرض کیا کہ اے اﷲ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں آپ سے ناراض ہوں؟ فرمایا کہ جب تو مجھ سے ناراض ہوتی ہے تو کہتی ہے: اَ وَرَبِّ اِبرَاھِیمَ</p>
<p>(صحیح البخاری، کتاب الادب،ج:۵،ص:۷۵۲۲،دار ابن کثیر۔ الیمامة)</p>
<p>ابراھیم کے رب کی قسم۔ اور جب مجھ سے خوش ہوتی ہے تو کہتی ہے: بَلٰی وَرَبِّ مُحَمَّدٍ</p>
<p>(صحیح البخاری، کتاب الادب،ج:۵،ص:۷۵۲۲،دار ابن کثیر۔ الیمامة)</p>
<p>محمدصلی اﷲعلیہ وسلم کے رب کی قسم۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ہنس پڑیں اور فرمایا یارسول اﷲ! آپ نے بالکل صحیح فرمایا، تو معلوم ہوا کہ عورتوں کو تھوڑا سا روٹھنے کا بھی حق حاصل ہے، اگر وہ منہ پھلالے تو آپ گھونسے مت مارو، پیار سے پھسلا کر، منہ میں گلاب جامن ڈال کر اس کو منالو۔ مگر یہاں تو لوگ اس کوکہتے ہیں تم کو کیا حق ہے روٹھنے کا؟ بس ایک آیت یاد کرلی: اَلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَآئِ</p>
<p>(سورة نسآئ، آیة: ۴۳)</p>
<p>اور باقی حدیثیں اور آیتیں ان کو نظر نہیں آتیں، مولوی بھی اس میں مبتلا ہیں، وہ بھی گھونسا مار کر منہ سُجادیتے ہیں کہ خبردار اگر آئندہ منہ پھلایا، حالانکہ محبت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اگر وہ منہ پھلائے تو اس کو خوش کرو، پوچھو کہ کیا تکلیف ہے؟ آپ کے حق میں مجھ سے کیا کوتاہی ہوئی؟ گلاب جامن چھپا کر لے جاو اور جلدی سے اس کے منہ میں ڈالو، بیویوں کے منہ میںلقمہ ڈالنا سنت ہے یانہیں؟ کبھی تو اس پر بھی عمل کرلو اور لقمہ سے مراد یہ نہیں کہ اس کے منہ میں چٹنی ڈال دی اور مرچوں سے اس کو پیچش لگ گئی۔</p>
<p>بیویوں کے ساتھ اچھے اخلاق کا معیار</p>
<p>آگے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے ہیں : فَاِنِّی اُحِبُّ اَن اَکُونَ مَغلُوبًا کَرِیمًا</p>
<p>میں محبوب رکھتا ہوں اس بات کو کہ عورتیں مجھ سے تیز آواز سے باتیں کریں لیکن میں کریم رہوں، میں اپنے اخلاق کی بلندیوں کے منار کو نہ گرنے دوں، میں اپنی اخلاقی بلندیوں کو قائم رکھوں اور اﷲ کی بندیاں سمجھ کر بیویوں کی باتوں کو برداشت کروں: وَلاَ اُحِبُّ اَن اَکُونَ غَالِبًا لَئِیمًا</p>
<p>اور میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میںکمینہ و بد اخلاق بنوں، ڈنڈے جوتے مار مار کران کو ٹھیک کروں اور میری اخلاقی بلندیوں میںنقص آجائے۔ ایک مرتبہ نان و نفقہ کے بارے میں ہماری مائیں زور زور سے بول رہی تھیں، حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو سب فوراً خاموش ہوگئیں، لیکن انہوں نے آوازیں سن لی تھیں کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے تیز آواز سے باتیں ہورہی ہیں تو حضرت عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اﷲ کی بندیو! تم نبی سے تیز آواز سے بولتی ہو اور عمر سے ڈر گئیں؟تو ہماری ماوں نے کہا کہ اے عمر! تم سخت مزاج کے ہو جبکہ ہمارا پالا رحمة للعٰلمین سے پڑا ہے، وہ ہمارے ناز اُٹھانے والے ہیں۔ جبکہ ہمارا یہ حال ہے کہ ہم عورتوں کے ناز کیا اٹھاتے اُلٹا عورتوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے ناز اٹھائیں، بعضے شوہر ایسے نالائق ہوتے ہیں کہ ذرا ذرا سی بات پر ہاتھ چھوڑ بیٹھتے ہیں، رات کو کہتے ہیں کہ تم کو محبت کا اعلیٰ مقام پیش کریں گے اور دن کو ڈنڈے لگاتے ہیں۔</p>
<p>دوستو! اس لیے عرض کرتا ہوں کہ اگر بیوی سے کوئی تکلیف پہنچے تو علماءسے مسئلہ پوچھ لو مثلاً نماز نہیں پڑھتی تو علماءسے پوچھ لو، فضائلِ نماز اس کو روزانہ پڑھ کر سناو لیکن مار پیٹ کا طریقہ اچھا نہیں ہے، جہاں تک ہوسکے برداشت کرو لیکن اگر سختی کی ضرورت پیش آجائے تو منع بھی نہیں کرتا، دین کے معاملے میں کچھ اجازت بھی ہے جیسے وہ سینما دیکھنے کے لیے کہے تو اس میں تھوڑی سختی کرسکتے ہو، وی سی آر لانے کو کہے تو ہر گز نہ لاو کہہ دو کہ ہمارے گھر میں گناہ کا کام نہیں ہوگا، اگر اپنے بچوں کے لیے پلاسٹک کی بلی لے آئے تو فوراً اس کو توڑ کر پھینک دو لیکن اس سے پہلے کوئی عمدہ چیز لادو ورنہ لڑائی ہوجائے گی۔</p>
<p>حقوق میں کوتاہی پر بیویوں سے بھی معافی مانگی جائے</p>
<p>تو دوستو! جن لوگوں سے اپنی بیویوں کے حقوق میں کوتاہی ہوگئی ہے وہ اب ان سے معافی مانگ لیں اور کہہ دیں کہ آئندہ میں تمہیں اﷲ کی بندی سمجھ کر تم سے اخلاق سے پیش آو ںگا، تمہیںمجھ سے جو بھی اذیت پہنچی ہو، غصہ کی حالت میں کچھ کہہ دیا ہواس کو معاف کردو اور قیامت کے دن جو بڑا ہولناک دن ہوگا مجھ سے کچھ بدلہ نہ لینا اور جیسے میں اپنی بیٹی کے لیے چاہتا ہوں کہ میرا داماد اس کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے، اس کی خطاوں کو معاف کردے آج سے میں تمہاری خطاوں کو معاف کرتا ہوں بلکہ پیشگی معاف کیا اور اب تمہیں کبھی نہیں رُلاو ںگا، کبھی ناراض نہیں کروں گا، اس طریقہ سے اس کو خوش کردو اور محض زبانی جمع خرچ نہیں کرو بلکہ اس کو کچھ رقم ہدیہ بھی دے دیا کرو اور اس کا حساب بھی نہ لو، کہہ دو کہ یہ رقم تم کو دے دی اب تمہیں اختیار ہے جہاں چاہے خرچ کرو، چاہے اپنے بھائی بہن، ماں باپ، رشتہ داروں پر خرچ کرو، آج سے میں اس کا کوئی حساب نہیں لوں گا۔</p>
<p>جیب خرچ دینا بیوی کا حق ہے</p>
<p>حکیم الامت نے کمالاتِ اشرفیہ میں لکھا ہے کہ بیویوں کا یہ حق ہے کہ ان کو جیب خرچ بھی دو پھر اس کا حساب بھی نہ لو کیونکہ وہ مجبور ہیں کما تو سکتی نہیں، اب ان کا دل چاہتا ہے کہ میرا بھائی آیا ہے، غریب ہے، لاو اس کو ہدیہ دے دوں تو کہاں سے دے گی؟ لہٰذا اس کی خواہشات اور جذبات کا احترام کرو، وہ بے چاری ساری زندگی کے لیے تمہاری پابند ہے، رفیقِ حیات ہے، دروازے سے باہر نہیں جاسکتی، ساری زندگی تمہارا ساتھ دے رہی ہے لہٰذا غیروں کی طرح اس سے پائی پائی کا حساب مت لو۔ عورت کی وفاداری اور شوہر کے ساتھ نباہ کرنے پر ایک چشم دید واقعہ عرض کرتا ہوں۔</p>
<p>عورت کی وفاداری کا عبرت انگیز واقعہ</p>
<p>ایک صاحب دوسری عورتوں پر نظریں مارتے تھے اور اپنی بیوی کو کم حسن کی وجہ سے حقیر سمجھتے تھے، ان کو ہیضہ ہوگیا، دست پر دست آرہے ہیں، تو ایسے وقت میں وہی عورت ان کا پاخانہ دھویا کرتی تھی، اس کی اتنی خدمت کی اتنی خدمت کی کہ جب وہ اچھا ہوگیا تو رونے لگا کہ اے میری بیوی تو نے تو میرا پاخانہ دھویا اور جن عورتوں سے میں نظر بازی کرتا تھا ان میں سے آج کوئی کام نہیں آئی، کام تو بس تو ہی آئی۔ ارے میاں! جب بڈھا چار پائی پر بیٹھتا ہے تو بڈھی ہی کام آتی ہے، جب کو ئی بیماری آتی ہے تو بتاو بڈھی کام آتی ہے یانہیں؟ اس لیے ان کو حقیر مت سمجھو، بس آج وعدہ کرلو، اگر آپ حضرات نے اﷲپر نظر کرکے اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے رہنے کا ارادہ کرلیا کہ میرے اﷲ کی بندی ہے لہٰذا اس کا دل خوش کردوتو اختر کا آناوصول ہو گیا ان شاءاﷲ۔</p>
<p>اگر میرا یہ وعظ قبول ہوجائے تو میری یہاں تک آنے کی ساری تکلیفیں، سارا کچھ قبول ہوجائے گا، میں سارے عالم میں یہی باتیں پیش کر رہا ہوں کہ ایک تو نظر کی حفاظت کرو، غیر عورتوں کو اور پُرکشش لڑکوں کو مت دیکھو، ایسے آدمی پر اﷲ کی لعنت برستی ہے، نمبر دو کسی پر ظلم نہ کرو، جانور پالو تو اس پر بھی ظلم نہ کرو اور بیویوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آو، اﷲ کی کسی مخلوق پر ظلم نہ کرو۔ بس یہ آج کی تقریر کاخلاصہ ہے کہ کسی کا برادری خاندان میں کوئی جھگڑا ہوگیا ہو تو اس کو معاف کردو اور سچے دل سے درگذر کردو۔</p>
<p>بس جتنا بھی عرض کیا گیا ہے اﷲ تعالیٰ اس کو قبول فرمالیں، اس پر عمل کی توفیق عطافرمائیں اور ہم سب کو اﷲ والی زندگی عطا فرمائیں۔ اے اﷲ! ہمیں نفس و شیطان کی غلامی سے نکال کر سوفیصد اپنی فرماںبرادری اور اطاعت کی زندگی نصیب فرمادیجیے، ہمارے گناہوں کو معاف کردیجئے۔ یا اﷲ! ہم نے آپ کی کسی مخلوق پر ظلم کیا ہو، کوئی چیونٹی بھی نالائقی اور غفلت کی بنا پر ہم سے کچلی گئی ہو یا بیویوں کوہم نے ستایا ہویا خاندان والوں کو، ماں باپ کو ستایا ہو تو ہماری ان خطاوں کو معاف فرمادیجیے اور ان میں سے جو لوگ زندہ ہیں ان سے ہمیں معافی مانگنے کی توفیق عطا فرمادیجیے، ہم سب کو اپنے حقوق میں کوتاہی پر بھی معاف کردیجیے اور اپنی مخلوق کے حقوق میں کوتاہی پر بھی معاف کردیجئے۔ یااﷲ! آپ مسافر کی دعاوں کو قبول فرماتے ہیں، بس ہم سب کو صاحبِ نسبت بنا دیجئے، کسی کو محروم نہ فرمائیے، سب کو اﷲ والا بنادیجئے، جو خواتین یہاں نہیں ہیں ان کو اور ان کے خاندان والوں کو، ہماری بیویوں کو، بچوں کو اے اﷲ نیک بنادے، ہما ری دنیا بھی بنا دیجئے اور آخرت بھی بنادیجئے، آمین۔</p>
<p>وَصَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلٰی خَیرِخَلقِہ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہ وَصَحبِہ اَجمَعِینَ</p>
<p>بِرَحمَتِکَ یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F208.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F208.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F208.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F208.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F208.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F208.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7%20%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1%20%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%20%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%AA%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%DB%81%D9%85">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/208.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ملفوظات حضرت والا ہردوئیؒ</title>
		<link>http://alabrar.khanqah.org/206.html</link>
		<comments>http://alabrar.khanqah.org/206.html#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 10 Feb 2010 02:19:57 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[بکھرتے موتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://alabrar.khanqah.org/206.html</guid>
		<description><![CDATA[(گذشتہ سے پیوستہ)
ایک واقعہ یاد آیا حضرت مولانا شاہ وصی اﷲ صاحبؒ کے پاس ایک ریلوے کے ملازم آیا کرتے تھے ان کی تنخواہ تین سو تھی اور گھر کا خرچہ ایک ہزار روپیہ ماہانہ تھا۔ ۰۰۷ روپے رشوت لیا کرتے تھے۔ جب حضرت مولانا کی صحبت سے ان کے دل میں اﷲ تعالیٰ کا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>(گذشتہ سے پیوستہ)</p>
<p>ایک واقعہ یاد آیا حضرت مولانا شاہ وصی اﷲ صاحبؒ کے پاس ایک ریلوے کے ملازم آیا کرتے تھے ان کی تنخواہ تین سو تھی اور گھر کا خرچہ ایک ہزار روپیہ ماہانہ تھا۔ ۰۰۷ روپے رشوت لیا کرتے تھے۔ جب حضرت مولانا کی صحبت سے ان کے دل میں اﷲ تعالیٰ کا خوف پیدا ہوا اور جہنم کی سزا کا دل میں یقین آیا اپنی بیوی سے مشورہ کیا اور کہا دوزخ میں ہمارا کیا حال ہوگا۔ ہماری سب نیکیاں تو یہ لوگ اپنے حقوق کے بدلے میں لیں گے جن سے رشوت لے رہا ہوں۔ یہ مرغی اور مٹھائی کس کام آوے گی۔ بس مکان بدل دیا چھوٹا مکان لیا سادگی اختیار کی اور رشوت سے توبہ کی اب صرف دوسو روپے میں گذر اوقات شروع کی اور سو روپیہ ہر ماہ رشوت جن لوگوں سے لیا تھا ان کو ادا کرنا شروع کیا پھر یہ شخص بہت بڑے ولی اﷲ ہوگئے اور مولانا کے خلیفہ ہوئے اور بڑے ہی سکون اور لطف کی زندگی حق تعالیٰ نے ان کو عطا فرمائی دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں بھی انشاءاﷲ تعالیٰ عزت۔</p>
<p>آپ لوگ اس وقت سخت سردی کے باوجود مسجد میں کیوں آئے جب کہ کتنے لوگ گھروں میں سورہے ہیں خوف اور فکر آخرت ہی تو یہاں لائی پس ہر آدمی اپنے نفس کو دبانے کی مشق کرے۔ اور اس کی قوت یعنی نفس کو دبانے کی اہل اﷲ کی صحبت سے ملے گی۔</p>
<p>رمضان میں روزہ رکھے ہوئے آپ پانی نہیں پیتے کھانا نہیں کھاتے حالانکہ سب کچھ گھر میں موجود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزہ قاعدے سے اگر رکھ لیا جاوے تو آدمی متقی بن جاتا ہے کیونکہ نفس کو دبانے کی مشق ہوجاتی ہے۔ پہاڑوں پر جانے سے تقویٰ اور خوف نہیں ملتا یہ نعمت تو اہل خوف کی صحبت سے اور انکے حالات کے پڑھنے سے ملے گی۔ موت کا مراقبہ اور قیامت کے حالات کے مطالعہ سے یہی خوف پیدا ہوتا ہے۔ حضرت شاہ رفیع الدین صاحبؒ کا قیامت نامہ مطالعہ میں رکھئے دیکھئے لیموں کا نام لیا اور منہ میں پانی آیا تو اﷲ والوں کے حالات سننے سے اور ان کی صحبتوں میں جانے سے کیوں اثر نہ ہوگا۔</p>
<p>بعض وقت سیب الماری میں ہے ڈاکٹر نے مریض کو سیب کی اجازت دی ہے مریض سیب کو دیکھ بھی رہا ہے چاہتا بھی ہے کہ سیب کھالوں مگر الماری تک جانے کی طاقت نہیں ڈاکٹر سے علاج کرایا طاقت آگئی سیب تک جاکر سیب اٹھایا یہی حال بالکل اعمال صالحہ کا ہے بعض وقت علم ہوتا ہے اور یقین بھی ہوتا ہے مگر کمزوری روح میں ہوتی ہے اﷲ والوں کے پاس حاضری دی جاوے ان کے علاج سے روحانی کمزوری چلی جاوے گی پھر انشاءاﷲ تعالیٰ آپ ہر صالح عمل کی قوت محسوس کریں گے پھر آپ کا یہ عالم ہوگا</p>
<p>تصور سے دلدار کے ماسوا کے</p>
<p>ہٹاتا خیالات ہر ماسوا کے</p>
<p>چلے جاچلے جا بڑھے جا بڑھے جا</p>
<p>تجھے لاکھ روکیں یہ جھونکے ہوا کے</p>
<p>بس حق تعالیٰ شانہ کی فرمانبرداری کرنے سے اور نافرمانی سے بچنے سے جنت کا راستہ کھل جاتا ہے۔ اب دعا کرلیجئے حق تعالیٰ شانہ عمل کی تقفیق بخشیں، آمین۔</p>
<p>وعظ ملقب بہ صبر و تسلیم و عبدیت</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ</p>
<p>طفل می لرزدزنیش احتجام</p>
<p>مادر مشفق ازاں غم شاد کام</p>
<p>بچہ روتا ہے آپریشن کے وقت اور ماں خوش ہوتی ہے کہ میرے بچہ کی بیماری کا سب دکھ درد ختم ہورہا ہے۔ علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ نے فرمایا کہ جب کوئی مصیبت آئے تو سمجھو کہ سستے چھوٹے کہ اس سے بڑی کوئی مصیبت نہیں آئی۔</p>
<p>ارشاد فرمایا کہ ایک بڑے میاں ہمارے جونپور کے سفر میں ساتھ تھے ان کا ایک لوٹا گم ہوگیا میں نے ان کی پریشانی دیکھ کر عرض کیا میں ایک بات بتاﺅں وہ یہ کہ شکر ادا کیجئے کہ اس سے اہم کوئی چیز نہیں گم ہوئی کہنے لگے بے شک ہمارے ساتھ مقدمہ کے کاغذات تھے اور میں مقدمہ کی تاریخ میں پیشی کے لیے جارہا ہوں اگر یہ کاغذات گم ہوجاتے تو کیا ہوتا۔ اور کہنے لگے آپ کے اس مضمون پر مجھے بڑی تسلی ہوئی۔</p>
<p>حضرت معاویہؓ کا دانت ٹوٹ گیا فرمایا الحمدﷲ الذی لم یذہب السمع والبصر شکر ہے اﷲ تعالیٰ کا کہ جس نے ہماری سننے کی اور دیکھنے کی قوت نہیں سلب کی۔ حدیث شریف میں ہے ان اﷲ مااخذوﷲ ما اعطی جب کوئی چیز لی جائے تو یہ سوچے کہ عطا کی فہرست کتنی لمبی ہے۔</p>
<p>علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ کے مشایخ میں سے کسی کا واقعہ ہے کہ ان کے پاس ایک صاحب آئے ان کے پیر میں زخم تھا فرمایا کہ شکر کرو کہا کس بات کا شکر کروں فرمایا اس بات پر شکر کرو کہ یہ زخم جو پیر میں ہے پیٹ میں نہیں ہے آنکھ میں نہیں ہے۔</p>
<p>اﷲ تعالیٰ کے رب العالمین ، رحمن ، رحیم، مالک، ناصر، ولی، کریم، قادر، حاکم، حکیم کا مراقبہ کرے ہم نے اﷲ تعالیٰ کے ان ناموں کو اپنے مدرسہ کے بچوں کو بھی یاد کرادیا ہے ان اسماءکا مراقبہ رکھے تو کبھی پریشانی نہ ہو۔ حضرت خواجہ صاحب فرماتے ہیں</p>
<p>مالک ہے جو چاہے کر تصرف</p>
<p>کیا وجہ کسی بھی فکر کی ہے</p>
<p>بیٹھا ہوں میں مطمئن کہ یارب</p>
<p>حاکم بھی ہے تو حکیم بھی ہے</p>
<p>حضرت رومی نے اس کو فرمایا ہے</p>
<p>چونکہ قبض آید تو دروے بسط بیں</p>
<p>تازہ باش و چیں میفگن برجبیں</p>
<p>ترجمہ: اگر تمہارے اوپر قبض آئے تو اس میں بھی بسط دیکھو اور خوش رہو ہرحال میں پیشانی پر شکن بھی نہ آئے۔ حضرت خواجہ صاحب اسی کو فرماتے ہیں</p>
<p>قبض میں بھی بسط کا تو لطف لے</p>
<p>بے تسلی بھی تسلی چاہیے</p>
<p>ہے جلالی تو جمالی گو نہیں</p>
<p>کیا ہے جیسی ہو تجلی چاہیے</p>
<p>مشکوٰة شریف میں حدیث ہے کہ مومن کی شان عجیب ہے ناموافق حالات میں صبر سے اور موافق حالات میں شکر سے حق تعالیٰ شانہ کی رضا و قرب حاصل کرتا ہے</p>
<p>قدم مجذوب کے رکتے نہیں بڑھتے ہی جاتے ہیں</p>
<p>رفیق اک اک جدا منزل بہ منزل ہوتا جاتا ہے</p>
<p>اﷲ تعالیٰ کے راستے میں کوئی ناشکری سے گرگیا اور کوئی بے صبری سے گرگیا ناشکری سے نعمت چھین لی جاتی ہے جس طرح حکومت کا بڑا افسر ہو اگر ڈیوٹی انجام نہ دے تو معطل ہوگا اور بنگلہ کار سب چھین لیا جاوےگا اور شکر پر ترقی کا وعدہ ہے لئن شکرتم لازیدنکم اگر تم شکر کروگے ہم تمہیں زیادہ عطا کریں گے۔</p>
<p>انسان میں کبھی ناز نہ پیدا ہونا چاہیے ہمیشہ نیاز کا راستہ رکھے کسی سے ضابطہ کا تعلق اور رابطہ کا تعلق بھی ہو تو ضابطہ کا تعلق کو اگر بھول جاوے اور صرف رابطہ کا تعلق یاد رکھے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے چھوٹے بچے کا ناز دیکھ کر بڑا لڑکا بھی باپ کے ساتھ اسی طرح حرکت کرنے لگے۔ ایک بزرگ تھے قحط پڑا کچھ غلام خوش طبعی کررہے تھے پوچھا تم لوگ کیوں ہنس رہے ہو جب کہ قحط سے مخلوق پریشان ہے کہنے لگے ہم لوگ عمید آقا کے غلام ہیں وہ ہم سب کا کفیل ہے ان بزرگ کو ناز ہوا اور سخت بے تمیزی کا کلمہ منہ سے نکل گیا اور اب آسمان کی طرف دیکھ کر کہا۔ آقا شدن از عمید بیاموز۔ ان کے علاج کے لیے حق تعالیٰ نے ان کو ایک دن دکھایا کہ انہیں غلاموں کو درختوں پر لٹکا کر عمید آقا بینت سے پٹائی کررہا ہے اور وہ سب غلام کہہ رہے تھے ہم سے غلطی ہوئی اے آقا ہم کو معاف کردیجئے۔ یہ منظر دیکھ رہے تھے کہ آسمان سے آواز آئی۔</p>
<p>بندہ شدن از بندگان عمید بیا موز</p>
<p>حضرت رومیؒ فرماتے ہیں</p>
<p>نازرا چہرہ بباید ہمچو ورد</p>
<p>چونداری گرد بدخوئی مگرد</p>
<p>ناز کے لیے چہرہ بھی گلاب سا ہونا ضروری ہے اور جب ایسانہ ہو تو بدخوئی کے قریب بھی نہ ہونا چاہیے</p>
<p>عیب باشد چشم نابینا و باز</p>
<p>زشت باشد روئے نازیبا و ناز</p>
<p>نابینا آنکھوں کو کھلا رکھنا اور بھی عیب ہے اور خراب چہرے والے کو ناز وانداز دکھانا اور بھی برا ہوتا ہے۔ بعض استاد ایسے ہوتے ہیں کہ ملازمت سے قبل ان سے دوستی کا تعلق ہوتا ہے اب مہتمم سے وہی برتاﺅ پہلے والا چاہتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے اب ان کو ضابطہ کا حق ادا کرنا چاہیے اسی طرح بعض سے بے تکلفی اور دوستی کا تعلق ہوتا ہے پھر وہ بیعت کا اور اصلاح کا تعلق کرلیتے ہیں اب اس کے بعد ان کو یاری اور دوستی کا تصور نہ ہونا چاہیے البتہ اگر شیخ عنایت و لطف سے حق رابطہ کا اظہار فرمائے اس کا احسان ہے (غلامی ہے یہ دوستانہ نہیں ہے۔ جامع) احقر جامع عرض کرتا ہے کہ</p>
<p>تو بہ یک زخمے گریزانی زعشق</p>
<p>تو بجز نامے نمی دانی زعشق</p>
<p>گربہ ہر زخمے تو پرکینہ شوی</p>
<p>پس چرا بے صیقل آئینہ شوی</p>
<p>ترجمہ: اگر تو ایک ڈانٹ یا سختی سے شیخ سے بھاگنے لگا تو عشق کا صرف نام جانتا تھا تجھے تو عشق کی ہوا بھی نہ لگی تھی اگر ہر زخم سے تو دل میں گرانی اور کینہ لائے گا تو بے صیقل اور رگڑے کھائے کیسے آئینہ جمال حق بنے گا۔ حضرت خواجہ صاحبؒ اسی کو فرماتے ہیں</p>
<p>آئینہ بنتا ہے رگڑے لاکھ جب کھاتا ہے دل</p>
<p>کچھ نہ پوچھو دل بہت مشکل سے بن پاتا ہے دل</p>
<p>اے خدا ہم کو بھی اپنے اولیا کی ناز برداری کی توفیق عطا فرما۔ آمین اور اپنی راہ کا ادب کامل عطا فرمائیں، آمین۔ اور اے ناظرین کرام اس مرتب کے لیے بھی دعا فرمائیے کہ حق تعالیٰ اپنی معرفت و محبت و خشیت کا اور استقامت اور حسن خاتمہ اور جنت میں رفاقت صلحاءکی نعمت اختر کو بھی عطا فرمائیں آمین۔ پس ناظرین کرام اگر آمین فرمادیں تو بڑا احسان و کرم ہوگا</p>
<p>ویرحم اﷲ من قال اٰمینا</p>
<p>اور اﷲ تعالیٰ آمین کہنے والوں پر رحمت نازل فرمائیں، آمین۔</p>
<p>(جاری ہے۔)</p>
<a href="http://www.addtoany.com/add_to/gmail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F206.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Gmail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/gmail.png" alt="Gmail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/yahoo_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F206.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Yahoo Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/yahoo.png" alt="Yahoo Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/aol_mail?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F206.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="AOL Mail" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/aol.png" alt="AOL Mail"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F206.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="Twitter" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/twitter.png" alt="Twitter"/></a> <a href="http://www.addtoany.com/add_to/wordpress?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F206.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92" title="WordPress" rel="nofollow" target="_blank"><img src="http://alabrar.khanqah.org/wp-content/plugins/add-to-any/icons/wordpress.png" alt="WordPress"/></a> <a class="a2a_dd addtoany_share_save" href="http://www.addtoany.com/share_save?linkurl=http%3A%2F%2Falabrar.khanqah.org%2F206.html&amp;linkname=%D9%85%D9%84%D9%81%D9%88%D8%B8%D8%A7%D8%AA%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%DB%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%A6%DB%8C%D8%92">&nbsp;</a>]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://alabrar.khanqah.org/206.html/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
