بکھرتے موتی

ملفوظات حضرت تھانویؒ

Wednesday, February 10th, 2010

(گذشتہ سے پیوستہ)

حضرت مولانا گنگوہیؒ نے فرمایا کہ جو بات

حضرت حاجی صاحبؒ میں تھی وہ کسی میں نہ تھی

فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا گنگوہیؒ حضرت حافظ محمد ضامنؒ کی بہت تعریف فرمارہے تھے بعد میں فرمایا مگر جو بات اس شخص میں (یعنی حضرت حاجی صاحب قدس سرہ) میں تھی وہ کسی میں نہ تھی حالانکہ گفتگو سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ حضرت حافظؒ کو ترجیح دے رہے ہیں یہ مقولہ خود حضرت مولانا گنگوہی سے سنا ہے۔

حضرت حاجی صاحب بعض اوقات تمام رات

ایک شعر کو پڑھ کر روتے ہوئے گذار دیتے تھے

فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب بعض اوقات تمام تمام رات اس ایک شعر کو پڑھ پڑھ کر روتے روتے گذار دیتے تھے

اے خدا ایں بندہ را رسوا مکن

گر بدم ہم سرمن پیدا مکن

یہ حافظ عبدالقادر سے سنا ہے۔

حضرت مولانا گنگوہیؒ نے حضرت حاجی صاحبؒ سے کہا کہ ذکر میں رونا نہیں آتا

فرمایا کہ ایک مرتبہ مولانا گنگوہیؒ نے حضرت حاجی صاحبؒ سے عرض کیا کہ مجھے رونا نہیں آتا حالانکہ اور ذاکرین پر کثرت گریہ طاری ہوتا ہے حضرت نے فرمایا ہاں جی اختیاری بات نہیں کبھی آنے بھی لگتا ہے پھر تو یہ حال ہوا کہ جب مولانا ذکر کرنے بیٹھتے تاب نہ ہوتی پسلیاں ٹوٹنے لگتیں پھر حضرت سے عرض کیا کہ حضرت پسلیاں ٹوٹی جاتی ہیں حضرت نے فرمایا کہ ہاں یہ بھی ایک عارضی حالت ہے جاتی بھی رہتی ہے بس پھر گریہ یکدم موقوف ہوگیا پھر حضرت سے شکایت کی حضرت نے فرمایا کہ پسلیاں ٹوٹ جائیںگی رو کر کیا کروگے۔

حضرت حاجی صاحبؒ کے یہاں زیادہ اہتمام اصلاح قلب کا تھا

فرمایا کہ حضرت حاجی صاحبؒ فرماتے تھے کہ اگر ایک لطیفہ بھی منور ہوجائے تو اس کے ذریعے سے سب منور ہوجاتے ہیں حضرت کے یہاں زیادہ اہتمام قلب کا تھا جیسا کہ حدیث میں ہے ان فی الجسد مضغة اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الاوھی القلب۔

حضرت حکیم الامت مجدد الملتؒ نے سلوک کی چند باتیں

حضرت مولانا گنگوہیؒ سے دریافت کی تھیں

فرمایا کہ مولانا گنگوہیؒ سے میں نے تین چار ہی باتیں سلوک کے متعلق پوچھی ہیں بفضلہ تعالیٰ زیادہ کی حاجت نہیں ہوئی اسی کی برکت سے بہت کچھ حل ہوگیئں۔

حضرت مولانا محمود حسن صاحب دیوبندیؒ نے

ایک مشہور عالم کے اعتراض کا مسکت جواب دیا

فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمود حسن صاحب دیوبندیؒ مراد آباد کے جلسہ میں تشریف لے گئے لوگوں نے وعظ کے لیے اصرار کیا مولانا نے غدر فرمایا کہ مجھے عادت نہیں ہے مگر لوگوں نے نہیں مانا آخر مولانا کھڑے ہوئے اور حدیث فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد پڑھی اور اس کا ترجمہ یہ کیا کہ ایک عالم شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ بھاری ہے وہاں ایک مشہور عالم تھے وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ ترجمہ غلط ہے جس کو ترجمہ بھی صحیح کرنا نہ آئے تو اس کووعظ کہنا جائز نہیں بس مولانا فوراً ہی بیٹھ گئے اور فرمایا کہ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ مجھے وعظ کی لیاقت نہیں ہے مگر ان لوگوں نے نہیں مانا خیر اب میرے پاس غدر کی دلیل بھی ہوگئی یعنی آپ کی شہادت پھر حضرت مولانا نے اس بزرگ سے بطرز استفادہ پوچھا کہ غلطی کیا تھی تاکہ آئندہ بچوں انہوں نے فرمایا کہ اشد کا ترجمہ اثقل کا نہیں آتا بلکہ اضر کا آتا ہے مولانا نے فی الفور فرمایا کہ حدیث وحی میں ہے یاتینی مثل صلصلة الجرس وہو اشد علیَّ کیا یہاں بھی اضر کے معنی ہیں وہ دم بخود رہ گئے۔

حضرت مولانا محمود حسن صاحب دیوبندیؒ کااپنے

ایک وعظ کو دوران آمد مضامین عالیہ دفعةً قطع کردینے کا واقعہ

فرمایا کہ ایک مرتبہ مولانا دیوبندیؒ کو میں نے جلسہ دستار بندی مدرسہ جامع العلوم کانپوربلوایا آپ تشریف لے گئے میں نے وعظ کے واسطے عرض کیا فرمایا کہ میرے بیان سے لوگ خوش نہ ہوں گے اور اس سے میرا تو کچھ نہیں جائے گا تمہاری ہی اہانت ہوگی کہ ان کے استاد ایسے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت اس سے تو ہمارا فخر ہوگا کہ ان کے استاد ایسے ہیں۔ فرمایا ہاں اس طرح فخر ہوگا کہ لوگ کہیں گے یہ (حضرت مرشدی مدظلہم) استاد سے بھی بڑھ گئے غرضیکہ بڑی دقت کے بعد منظور فرمایا مولانا کا علم اور علماءکا مجمع خوب طبیعت کھلی ہوئی تھی مضامین عالیہ ہورہے تھے کہ اتنے میں مولوی لطف اﷲ صاحب علی گڑھی تشریف لے آئے ان کو دیکھتے ہی مولانا یکدم بیٹھ گئے مولوی فخر الحسن صاحب نے دوسرے وقت عرض کیا کہ وعظ کیوں بند کردیا تھا فرمایا کہ اس وقت مجھ کو خیال ہوا کہ اب وقت ہے مضامین کا یہ بھی دیکھیں گے کہ علم کیا چیز ہے تو اس طرح سے وعظ میں خلوص نہ رہا اس لیے قطع کردیا۔

حضرت حکیم الامت مجدد ملتؒ کی حد درجہ تواضع وو قناعت

فرمایا کہ مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب کانپوریؒ کا قلب بڑا نورانی تھا میں ان کے پاس بیٹھنے سے ڈرتا تھا کہ کہیں میرے عیوب منکشف نہ ہوجائیں (جامع کہتا ہے اﷲ اکبر کیا ٹھکانا اس تواضع اور انکساری کا) حاجی صاحبؒ فرماتے ہیں

نیک لوگوں کا تو ایسا حال ہے

اور تیرا یہ خبیث اب قال ہے

میرا ثانی کوئی دنیا میں نہیں

عالم و زاہد ولی پاک دیں

حضرت مولانا گنگوہیؒ کے انتہائی ذکی الحس ہونے کا واقعہ

فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہیؒ اس قدر ذکی الحس تھے کہ ایک مرتبہ جب آپ مسجد میں عشاءکی نماز کو تشریف لائے تو فرمایا کہ آج کسی نے مسجد میں دیا سلائی جلائی ہے تحقیق کرنے سے معلوم ہوا ایک صاحب نے مغرب کے بعد جلائی تھی جس کا اثر مولانا کو عشاءکے وقت محسوس ہوا اور آپ کے یہاں عشاءکی نماز قریب ثلث شب کے وقت ہوتی تھی۔

حضرت حاجی صاحبؒ کے ہاں کسی کی شکایت نہیں سنی جاتی تھی

فرمایا کہ حضرت حاجی صاحبؒ کے یہاں کسی کی شکایت نہیں سنی جاتی تھی اور نہ کسی سے بدگمان ہوتے تھے اگر کوئی کہنے لگا کہ اور حضرت بوجہ حلم منع بھی نہ کرتے مگر جب وہ کہہ لیتا تو فرماتے کہ وہ شخص ایسا نہیں ہے (یعنی تم جھوٹے ہو۔ جامع)

حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ نے

نواب رامپور سے ملاقات سے انکار کردیا

فرمایا کہ ایک مرتبہ مولانا محمد قاسمؒ ریاست رام پور تشریف لے گئے نواب کلب علی خان مرحوم نے مولانا کو اپنے پاس بلانا چاہا تو مولانا نے یہ حیلہ کیا کہ ہم دیہاتی لوگ ہیں آداب شاہی سے واقف نہیں اس پر نواب صاحب کا جواب آیا کہ آپ کو آداب سب معاف ہیں آپ ضرور کرم فرمائیے ہم لوگوں کو سخت اشتیاق ہے اس پر مولانا نے جواب دیا کہ تعجب کی بات ہے کہ اشتیاق تو آپ کو ہو اور ملنے میں آﺅں غرضیکہ تشریف نہیں لے گئے۔

(جاری ہے۔)

ای میل / محفوظ کریں

No Comments »

ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم

Wednesday, February 10th, 2010

مرتبہ: سید عشرت جمیل میر
(گذشتہ سے پیوستہ)
بیویوں کی کڑوی باتوں پر درگذر سے کام لیں
اب رہ گیا یہ کہ بیویاں بھی تو ہمیں ستاتی ہیں تو اس کے بارے میں سن لو کہ اگر یہ عورتوں کا مجمع ہوتا تو میں ان کے سامنے آپ کی طرف داری کرتا، ان کو یہ سکھلاتا کہ اپنے [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت والا ہردوئیؒ

Wednesday, February 10th, 2010

(گذشتہ سے پیوستہ)
ایک واقعہ یاد آیا حضرت مولانا شاہ وصی اﷲ صاحبؒ کے پاس ایک ریلوے کے ملازم آیا کرتے تھے ان کی تنخواہ تین سو تھی اور گھر کا خرچہ ایک ہزار روپیہ ماہانہ تھا۔ ۰۰۷ روپے رشوت لیا کرتے تھے۔ جب حضرت مولانا کی صحبت سے ان کے دل میں اﷲ تعالیٰ کا [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت تھانویؒ

Friday, January 22nd, 2010

از جدید ملفوظات
(گذشتہ سے پیوستہ)
حضرت حافظ ضامن شہیدؒ کا اپنے پیرومرشد سے تعلقِ محبت کاواقعہ
فرمایا کہ حافظ محمد ضامن صاحبؒ اپنے مرشد حضرت میانجیو کے ہمراہ ان کا جوتہ بغل میں لے کر اور توبرہ گردن میں ڈال کر جھنجھانہ جاتے تھے اور ان کے صاحبزادہ کی سسرال بھی وہیں تھی لوگوں نے عرض کیا [...]

مزید پڑھیے »

2 Comments »

ملفوظات حضرت والا ہردوئیؒ

Friday, January 22nd, 2010

(گذشتہ سے پیوستہ)
ملفوظ نمبر۳۳۳:
ارشاد فرمایا کہ دنیا کا سفر مشکل ہے آخرت کا آسان ہے یہاں کے سفر کے لیے ٹکٹ کے بعد ریزرویشن اپنے اختیار میں نہیں ہوتا اور آخرت کے سفر کے لیے ایمان جو جنت کا ٹکٹ وہ بھی اختیار میں دے دیا اور ریزرویشن بھی اختیار میں دے دیا وہ ثم [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہمؒ

Friday, January 22nd, 2010

مرتبہ: سید عشرت جمیل میر
(گذشتہ سے پیوستہ)
بندیوں کے حق میں اﷲ تعالیٰ کی سفارش
تو یہ عرض کررہا ہوں کہ سب سے بڑا کامل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں لہٰذا آج سے ارادہ کرلو کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے خاص کر اپنی بیویوں کے معاملہ میں جن [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت تھانویؒ

Sunday, December 27th, 2009

از جدید ملفوظات
(گذشتہ سے پیوستہ)
حضرت مولانا گنگوہیؒ کی شانِ انتظام کا واقعہ
فرمایا کہ مولانا محمد یعقوبؒ کے قطب الدین ایک صاحبزادے تھے ان کی شادی لکھنو ہوئی تھی اور ولیمہ نانوتہ میں ہوا تھا۔ مولانا نے بڑی خوشی میں ولیمہ کیا تھا اور اس میں پلاﺅ زردہ بہت اچھا پکوایا تھا کھانے میں ذرا دیر [...]

مزید پڑھیے »

1 Comment »

ملفوظات حضرت والا ہردوئی

Sunday, December 27th, 2009

(گذشتہ سے پیوستہ)
ملفوظ نمبر۲۲۳:
ارشاد فرمایا کہ مسجد کے اندر دارالاقامہ اور مدرسہ جائز نہیں اس لیے مسجد خواہ چھپر ہی کی ہو پہلے مدرسہ بنانا چاہیے حدود مدرسہ میں کاغذ کے ٹکڑے نہ پڑے رہیں اکرام علم کے خلاف ہے۔ قرآن پاک کے اوراق بوسیدہ کے لیے بڑا تھیلہ رہے جب جمع ہوکر بھرجاوے دفن [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم

Sunday, December 27th, 2009

مرتبہ: سید عشرت جمیل میر
(گذشتہ سے پیوستہ)
اچھے اور برے اخلاق کے ثمرات
فرمایا کہ ایک حدیث ہے: لاَخَیرَ فِیمَن لاَّیَالَفُ وَلاَ یُولَفُ
(المشکوٰة،کتاب الاداب، ج:۳،ص:۲۹۳۱، المکتب الاسلامی )
اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ کسی سے محبت کرتا ہے اور نہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں۔ اس بارے میں ایک حدیث اور سن لیجئے۔ حضور [...]

مزید پڑھیے »

Comments Off

ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم

Friday, November 20th, 2009

مرتبہ: سید عشرت جمیل میر
(گذشتہ سے پیوستہ)
اخلاقیات
مندرجہ ذیل ملفوظات کو فیروز میمن صاحب نے کیسٹ سے نقل کیا اور احقر نے مرتب کیا۔
(سید عشرت جمیل میر عفا اﷲ عنہ)
کامل ایمان والا کون ہے؟
ارشاد فرمایا کہ حدیث شریف میں ہے کہ سب سے کامل ایمان اُس شخص کا ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں جبکہ ہمارے [...]

مزید پڑھیے »

3 Comments »

ملفوظات حضرت تھانویؒ

Friday, November 20th, 2009

از جدید ملفوظات
(گذشتہ سے پیوستہ)
بڑھاپے میں قوت روحانی بڑھ جاتی ہے
فرمایا کہ جب حضرت حاجی صاحبؒ مثنوی پڑھاتے تو خوب زور شور سے تقریر فرماتے اور جب درس ختم ہوجاتا تو سر پکڑ کر بیٹھ جاتے اور فرماتے کہ ارے بھائی کچھ شربت بناﺅ سردبا دو بس یہ حالت تھی
ہر چند پیر خستہ وبس ناتواں [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت والا ہردوئی

Friday, November 20th, 2009

(گذشتہ سے پیوستہ)
ملفوظ نمبر۴۰۳:
ارشاد فرمایا کہ علامہ امام عبدالوہاب شعرانیؒ نے لکھا ہے کہ جب آدمی کچھ ذکر و طاعت میں لگتا ہے تو سمجھتا ہے کہ میں شیطان سے خلاصی پاگیا مگر یہ خیال غلط ہے جب غافل اور فاسق تھا اور نیکیوں سے خالی تھا تو شیطان کو اس کے پاس آنے کی [...]

مزید پڑھیے »

3 Comments »

ملفوظات حضرت تھانویؒ

Sunday, October 11th, 2009

از جدید ملفوظات
(گذشتہ سے پیوستہ)
بعض بدعتیوں کی بدعقلی کی ایک حکایت
فرمایا کہ حضرت مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندیؒ بعض بدعتیوں کی حس اور عقل کے متعلق فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بچپن کے زمانہ میں جبکہ اچھی طرح پیشاب کے بعد ڈھیلا لینا بھی نہ جانتا تھا کسی کے ہمراہ پیران کلیر کے [...]

مزید پڑھیے »

1 Comment »

ملفوظات حضرت والا ہردوئیؒ

Sunday, October 11th, 2009

(گذشتہ سے پیوستہ)
ملفوظ نمبر۲۸۱:
ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص کلکٹر کو ناراض کرکے تحصیلدار کو نہیں راضی کرتا۔ لیکن ہم لوگوں کا کیا حال ہے کہ مخلوق کو راضی کرنے کے لیے حق تعالیٰ کو ناراض کرتے ہیں۔ حالانکہ چھوٹوں کو راضی کرنے کے لیے بڑوں کو ناراض کرنا سب کے نزدیک بے عقلی ہے۔
ملفوظ نمبر۲۸۲:
ارشاد [...]

مزید پڑھیے »

2 Comments »

ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم

Sunday, October 11th, 2009

۱۷محرم الحرام ۱۴۲۱ھ بمطابق ۲۳اپریل ۲۰۰۰ءبروز اتوار،
صبح سات بجے، سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر کراچی
جو نفس کا دشمن نہیں وہ اﷲ کا دوست نہیں
فرمایا کہ حدیث پاک میں ہے: اِنَّ اَعدٰی عَدُوِّکَ فِی جَنبَیکَ
تمہارا سب سے بڑا دشمن تمہارا نفس ہے جو تمہارے دونوں پہلووں کے درمیان ہے۔ جس نے نفس کو دشمن نہیں سمجھا [...]

مزید پڑھیے »

11 Comments »