بکھرتے موتی

ملفوظات حضرت تھانویؒ

Tuesday, August 31st, 2010

(گذشتہ سے پیوستہ)

پردہ امر فطری اور غیرت کا تقاضہ ہے

فرمایا کہ پردہ ایسی چیز ہے کہ اگر شریعت بھی نہ تجویز کرتی تب بھی فطری امر اور غیرت کا مقتضاء ہے کہ عورتوں کو پردہ میں رکھا جائے ایک شخص نے شبہ کیا کہ پردہ کا ذکر کونسی آیت یا حدیث میں آیا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ آپ جو سو دوسو کے نوٹ جاکٹ کی جو سب سے اندر کی جیب ہے اس میں رکھتے ہیں اور بڑی حفاظت کرتے ہیں یہ کونسی حدیث میں آیا ہے۔ کیا عورت کی قدر آپ کے نزدیک نوٹ کے برابر بھی نہیں ہے۔ افسوس ہر وز اس بے پردگی کی بدولت نئے نئے شرمناک واقعات سننے میں آتے ہیں مگر پھر بھی ہوش نہیں آتا۔ ابھی ایک اخبار میں دیکھا ہے کہ حیدرآباد میں ایک باغ عامہ ہے۔ وہاں ایک رئیس زادی زیب و زینت کے ساتھ ٹہل رہی تھی اسے بدمعاشوں نے چھیڑنا شروع کیا۔ وہ عورتوں کے غول کی طرف بھاگی وہاں بھی پناہ نہ ملی۔ تو پولیس نے بچایا۔ اور لیجئے ایک جینٹلمین جنہوں نے نیا نیا پردہ توڑا تھا وہ اپنی بیگم کو بغرض تفریح منصوری پہاڑ لے گئے اور تفریح کے لیے اس سڑک پر گئے جہاں بڑے بڑے آفیسر انگریزوں کے بنگلے تھے۔ وہاں ایک کوٹھی کے سامنے سے گزرے جو کسی بڑے افسر کی تھی اور تین گورے پہرے پر تھے ان کو دیکھ کر انہوں نے کچھ آپس میں گفتگو کی اور ایک ان میں سے چلا اور ان کی بیگم کا ان کے ہاتھ میں سے ہاتھ چھڑا کر ایک طرف لے گیا اور اسے خراب کرکے لے آیا۔ پھر دوسرے اور تیسرے نے بھی یہی عمل کیا اور یہ اپنا سا منہ لے کے چلے آئے (جامع کہتا ہے کہ یہ شخص علاوہ بد دین ہونیکے حد درجہ بے غیرت بھی تھا جو ایسی بے غیرتی پر اف نہ کی دیندار ہوتا تو ان تینوں کو فنا فی النار کرکے خود جام شہادت پیتا) ہمارے حضرت نے مجمع کی طرف مخاطب ہوکے فرمایا۔ بس جی لوگوں کو شرم و غیرت نہیں رہی یہ تو شریعت کی رحمت ہے کہ اس کا بھی حکم دے دیا۔ باقی غیرت ایک ایسی چیز ہے کہ اس کو برداشت ہی نہیں کرسکتا۔ وہ تو ایک قسم کی محبوبہ ہوتی ہے۔ عاشق کب چاہتا ہے کہ میرے محبوب پر کوئی دوسرا نظر ڈالے۔ شاہ قلندر رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں ؎

غیرت از چشم برم روی تو دیدن ندہم

گوش رانیز حدیث توشنیدن ندہم

گریباید ملک الموت کہ جانم بیرد

تانہ بینم رخ توروح رمیدن ندہم

ایک شخص نے عرض کیا کہ حضرت پردہ میں بھی تو ایسے قصے ہوجاتے ہیں۔ پھر پردہ سے کیا فائدہ ہوا۔ فرمایا سبحان اﷲ جب اول تعلق ہوا ہے تو بے پردگی ہی سے ہوا ہے۔ وہ عورت اول اس سے بے پردہ ہی تو ہوئی تھی جب ہی تو تعلق ہوا۔

پردہ میں کوئی خرابی نہیں ہوسکتی۔ جہاں خرابی ہوتی ہے بے پردگی سے ہوتی ہے۔ جہاں خرابی ہوتی ہے وہاں پردہ ہی نہیں ہوتا اگر ہوتا ہے تو محض نام کا ہوتا ہے۔ پردہ کے متعلق اکبر الہ آبادی نے خوب لکھا ہے ؎

کل بے حجاب چند نظر آئیں بیبیاں

اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑگیا

پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ کیا ہوا

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑگیا

اس وقت پردہ اٹھانے کی تحریک کا ثمرہ سوائے اس کے کچھ نہیں ہوسکتا کہ عورتیں بے شرم و حیا ہوکر علانیہ فسق و فجور میں مبتلا ہوں اور خاوندوں کے تصرف سے نکل کے عیش کو منغض کریں (تبسم کے ساتھ فرمایا) کہ ایک ظریف شخص سے پوچھا گیا کہ آپ پردہ توڑنے کی تحریک میں کیوں شریک نہیں ہوتے فرمایا بھائی اگر ہماری جوانی ہوتی تو ہم بھی شریک ہوجاتے اب یہ خیال ہے کہ تم بے پردگی سے مزے اڑائو اور ہم دیکھ دیکھ کر حسرت کریں۔

حضرت تھانویؒ کا عامۃ الناس کے ساتھ حسن ظن

اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن تربیت کا معاملہ

فرمایا کہ عام لوگوں میں سے تو اگر کسی کے اندر ننانویں عیب ہوں اور ایک بھلائی ہو تو میری نظر اس بھلائی پر جاتی ہے اور ان ننانویں عیبوں پر نہیں جاتی۔ اور جس نے اپنے کو تربیت کے واسطے میرے سپرد کیا ہو تو اس میں اگر ننانویں بھلائی ہوں اور ایک عیب ہو تو میری نظر اس عیب پر جاتی ہے۔ ان ننانویں بھلائیوں پر نہیں جاتی (جامع کہتا ہے سبحان اﷲ اس سے حضرت والا کا عامۃ الناس کے ساتھ حسن ظن اور غلاموں کے ساتھ حسن تربیت ظاہر ہے۔) واقعی حضرت رحمت محض ہیں جیسے کوئی شفیق طبیب اپنے مریض کے اندر تھوڑی سی کسر بھی گوارا نہیں کرتا۔ ایسے ہی ہمارے حضرت بھی اپنے خادموں میں کسی کوتاہی کو گوارا نہیں فرماتے اور یہی وجہ ہے جو بعض ناواقف لوگ حضرت کوسخت مزاج اور سخت گیر کہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ذوق صحیح نہیں یا حضرت والا کی کبھی صحبت میسر نہیں ہوئی ورنہ ہمارے حضرت میں تو سختی کا پتہ بھی نہیں۔ سراسر رحمت ہی رحمت ہیں ؎

بندۂ پیر خرابا تم کہ لطفش دائم است

زانکہ لطف شیخ و زاہدہ گاہ ہست وگاہ نیست

احقر کو بارہا کم اور زیادہ مدت حاضری کا اتفاق ہوا مگر آج تک کوئی بھی سختی سوائے ترحم کے نظر ہی نہ آئی اب اگر کوئی بے تمیزی کرے اور اس پر اسے نہ روکا جائے تو یہ تو بے حسی ہے جو نقص ہے۔ اس سے تو حضرت کی اعلیٰ درجہ کی حس اور فہم و ادراک کا پتہ چلتا ہے ہمیں تو یہی روک ٹوک مرغوب ہے ؎

نشود نصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت

سرخادماں سلامت کہ تو خنجر آزمائی

اور جن کو یہ پسند نہیں وہ اس پر عمل کریں ؎

ہاں وہ نہیں وفا پرست جائو وہ بیوفا سہی

جن کو ہوجان و دل عزیز انکی گلی میں جائیں کیوں

سرمد رحمۃ اﷲ علیہ نے خوب فیصلہ کیا ہے ؎

سرمد گلہ اختصار می باید کرد

یک کارازیں دوکارمی بایدکرد

یاتن برضائے دوست میباید داد

یاقطع نظر زیارمے باید کرد

ایک مرتبہ احقر حاضر خدمت تھا کہ حضرت کو ایک کار ڈکی ضرورت ہوئی۔ مجلس میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ ڈاکخانے سے میں لادوں حضرت والا نے فرمایا نہیں بھائی سخت گرمی ہے (گرمی کا زمانہ تھا) تکلیف ہوگی۔ لوگ تو مجھے سنگ دل کہتے ہیں۔ مگر مجھے سے کسی کی تکلیف بھی نہیں دیکھی جاتی تحدث بالنعمۃ کے طور پر کہتا ہوں کہ اگر کسی مجمع میں سو آدمی (جامع کہتا ہے لاکھ) جمع کئے جائیں اور اس میں میں بھی موجود ہوں۔ تو انشاء اﷲ مجھ سے زیادہ نرم و رحمدل کوئی بھی نہ نکلے گا۔

آج کل لوگوں میں اتباع کا مادہ بالکل نہیں رہا

فرمایا کہ آجکل لوگوں کے اندر اتباع کا مادہ بالکل نہیں رہا۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ طواف کررہے تھے اسی حال میں آپ نے ایک عورت جذامی کو طواف کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے منع فرمایا کہ لوگوں کو تکلیف نہ دو۔ اس سے بہتر تمہارا گھر بیٹھ جانا ہے کچھ دنوں کے بعد وہ پھر آئی تو لوگوں نے کہا کہ خوش ہو جنہوں نے تجھے طواف سے روکا تھا ان کا انتقال ہوگیا اس عورت نے کہا کہ میں تو یہ سمجھتی تھی کہ وہ زندہ ہیں۔ اس لیے آگئی تھی کہ ان سے معذرت کرونگی۔ لیکن جب وہ زندہ نہیں تو وہ ایسے شخص نہ تھے کہ ان کے سامنے تو ان کے حکم کو مانا جائے اور ان کے بعد نافرمانی کی جائے وہ تو ایسے تھے کہ جیسا ان کا حکم زندگی میں ماننا چاہیے ایسا ہی بعد وفات بھی۔ یہ کہہ کر وہ عورت چلی گئی اور پھر کبھی نہ آئی۔ ایسے ہی حضرت کعب ابن مالکؓ کا قصہ ہے کہ جب ان سے مقاطعہ کیا گیا تو ان کو یہ فکر تھی کہ اگر میں معافی سے پہلے مرگیا تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہؓ کوئی شریک نہ ہونگے اور اگر خدا نہ کرے آپ کا وصال ہوگیا تو مدۃ العمر صحابہ مکالمت نہ کریں گے۔ حضرت کعب ابن مالکؓ کو یہ پختہ خیال تھا۔ کہ صحابہؓ بعد وفات بھی حضور کے حکم کا ایسا ہی اتباع کریں گے جیسا حیات میں ہے اب یہ مذاق کہاں یہ تو لوگوں کے اندر سے مفقود ہی ہوگیا۔ چونکہ کعبؓ ابن مالک سے اجتہادی غلطی ہوئی تھی اور وہ توبہ کرکے اﷲ تعالیٰ کو راضی کرچکے تھے۔ اور جب کوئی ان کو راضی کرلیتا ہے تو وہ سب کو راضی کردیتے ہیں ؎

تو ہم گردن از حکم دا ورپیچ

کہ گردن نہ پیچد زحکم توہیچ

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی کہ ہم نے کعب ابن مالکؓ کا قصور معاف کردیا آپ بھی معاف فرمادیجئے (سبحان اﷲ) ؎

اس کے الطاف تو ہیں عام شہیدی سب پر

تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہوتا

روزہ خوروں کے لیے ایک سبق

فرمایا کہ بکثرت بعض کتوں کی نسبت یہ واقعہ سنا ہے کہ ہفتہ میں ایک دن ایسا ہوتا ہے جس میں وہ کتا نہیں کھاتا تھا اس کے بہت سے واقعات ہیں۔ روزہ خوروں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

(جاری ہے۔)

ژژژژژ

ای میل / محفوظ کریں

No Comments »

ملفوظاتِ حضرت والا ہردوئیؒ

Tuesday, August 31st, 2010

(گذشتہ سے پیوستہ) ارشاد فرمایا کہ بعض وقت روشنی ہے علم ہے۔ یقین بھی ہے مگر عمل کی قوت نہیں ہوتی مثلاً کمرے میں روشنی ہے اور الماری میں سیب نظر آرہا ہے اور اس کے باوجود اور نافع ہونے پر یقین بھی ہے ڈاکٹروں نے اس کو کھانے کے لیے حکم بھی دیا ہوا [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہ

Tuesday, August 31st, 2010

مرتبہ: سید عشرت جمیل میر {گذشتہ سے پیوستہ} عُجب کا نہایت موثر علاج غرض ظاہری و باطنی گناہوں سے بچنے کی ہر وقت فکر رہنی چاہیے۔ بعض دفعہ آدمی ظاہری گناہوں سے بچتا ہے۔ لیکن باطنی گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے مثلاً چندہ اور اہتمام کا کام تو دیانت سے کیا مخلوق میں واہ واہ [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت تھانویؒ

Wednesday, July 14th, 2010

{گذشتہ سے پیوستہ} حضرت تھانویؒ کی غرباء کے ساتھ محبت و خلوص فرمایا کہ ایک غریب آدمی نے تجارت میں سے کچھ میرے لیے مقرر کررکھا تھا ایک دفعہ صرف ایک پیسہ نکلتا تھا۔ مجھے انہوں نے اکنی دے کر یہ کہا کہ لو ایک پیسہ تم رکھ لو اور تین پیسے مجھے واپس کردومیں [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظاتِ حضرت والا ہردوئیؒ

Wednesday, July 14th, 2010

(گذشتہ سے پیوستہ) ارشاد فرمایا کہ نقل کی برکت اصل تک پہنچادیتی ہے۔ ڈرائیور کی نقل کرتے کرتے آدمی ڈرائیور ہوجاتا ہے جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وضع قطع اور لباس کی نقل کی تھی نقل کی برکت سے سیرت بھی بدل دی گئی اور سب کو ایمان عطا کردیا گیا۔ اور سب [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم

Wednesday, July 14th, 2010

مرتبہ: سید عشرت جمیل میر علم کی حفاظت کے لیے نصیحت ۳۰؍ مئی ۱۹۶۹؁ء بروز جمعہ مدرسہ امداد العلوم کراچی واقع موسیٰ کالونی بعد فجر مدرسہ میں حضرت والا مع چند متعلقین کے لیے تشریف لائے۔ چائے کی دعوت تھی۔ کچھ صاحبان بغیر پنسل کاغذ آگئے تھے فرمایا کہ کیا آپ لوگوں نے یہ سمجھا [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت تھانویؒ

Thursday, June 3rd, 2010

(گذشتہ سے پیوستہ) ہمارے بزرگ نک چڑھے نہ تھے فرمایا کہ ہمارے بزرگ جتنے تھے وہ نک چڑھے نہ تھے ظاہر میں سب سے ہنستے بولتے تھے ظرافت بھی کرتے تھے مگر دل میں آتش عشق کاایک شعلہ بھڑکا ہوا تھا۔ جیسا نواب شیفتہ نے لکھا ہے ؎ تو اے افسردہ دل زاہد یکے دربزم [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت والا ہردوئی

Thursday, June 3rd, 2010

(گذشتہ سے پیوستہ) ۱۲؍ محرم الحرام ۱۴۹۹ھ ارشاد فرمایا کہ ہر انسان جو عمل کرتا ہے وہ ان سات قسموں کے اندر ہوتے ہیں۔ فرض، وجب، سنت موکدہ، مستحب، مباح، مکروہ تحریمی، حرام۔ اسی طرح آدمی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں عامی یا عالم پھر ہر ایک کی تین قسمیں ہیں۔ عامی عاصی، عامی [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم

Thursday, June 3rd, 2010

مرتبہ: سید عشرت جمیل میر سنت کے مطابق شادی بیاہ اور ولیمہ ۸؍ ستمبر ۱۹۸۹؁ء مسجد اشرف، گلشن اقبال کراچی ارشاد فرمایا کہ آج جنگ اخبار میں مسائل دینیہ کے سلسلے میں مولانا یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے ایک مسئلہ لکھا ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی والوں کا برادری اور لڑکے والوں کو [...]

مزید پڑھیے »

2 Comments »

ملفوظات حضرت تھانویؒ

Monday, April 26th, 2010

(گذشتہ سے پیوستہ) حضرت مولانا گنگوہیؒ کا اپنے ایک خادم پر توجہ دینے کی برکت حضرت مولانا گنگوہیؒ کے کسی خادم کی گنگوہ میں کسی عورت سے آنکھ لگ گئی اور ملنے کا وقت اور جگہ بھی مقرر ہوگئی۔ یہ صاحب حضرت مولانا کی چار پائی صحن میں بچھا کر اور سب کام سے فراغت [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت والا ہردوئیؒ

Monday, April 26th, 2010

(گذشتہ سے پیوستہ) ارشاد فرمایا کہ صحبت کی نافعیت موقوف ہے کہ اہل اﷲ کی صحبت کا تسلسل رہے جس طرح کثرت ذکر اﷲ مطلوب ہے اسی طرح صحبت اہل اﷲ کی کثرت بھی مطلوب ہے۔ یعنی ان کی صحبتوں میں آنا جانا کثرت سے ہوتا رہے تسلسل اور کثرت دونوں ضروری ہیں۔ حدیث پاک [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم

Monday, April 26th, 2010

مرتبہ: سید عشرت جمیل میر  مندر جہ ذیل ملفوظات کو فیروز میمن صاحب نے ٹیپ سے نقل کیا جن کو احقر نے مرتب کیا۔ (احقر سید عشرت جمیل میر غفر لہ)  بعد فجر حضرت والا اپنے حجرہ میں چند احباب کے سامنے بیان فرمارہے تھے۔ احقر فیروز بھی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایاکہ اب [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت تھانویؒ

Wednesday, March 17th, 2010

(گذشتہ سے پیوستہ) حضرت مولانا گنگوہیؒ نے ایک دفعہ اپنے شاگرد طلباءکی جوتیاں اٹھائیں فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہیؒ ایک مرتبہ حدیث پڑھا رہے تھے کہ بارش آگئی سب طلباءکتابیں لے لے کر اندر کو بھاگے مگر مولانا سب طلباءکی جوتیاں جمع کررہے تھے کہ اٹھا کر لے چلیں لوگوں نے یہ حالت دیکھی تو [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »

ملفوظات حضرت والا ہردوئیؒ

Wednesday, March 17th, 2010

(گذشتہ سے پیوستہ) بعد نماز عشاءبرمکان جناب غلام سرور صاحب (لاہور) اہل علم و اہل خیر کا خصوصی اجتماع مورخہ ۵ صفر ۹۹۳۱ھ ارشاد فرمایا کہ دین کے تین اہم شعبے ہیں۔ تعلیم‘ تبلیغ‘ تزکیہ‘ جن کے ذرائع کا نام مدارس ‘ مساجد‘ خانقاہیں ہیں مدارس اور مساجد کے خدام کی تنخواہوں کے سلسلے میں [...]

مزید پڑھیے »

1 Comment »

ملفوظات حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم

Wednesday, March 17th, 2010

مرتبہ: سید عشرت جمیل میر ۷۲رجب المرجب ۸۱۴۱ھ مطابق ۸۲نومبر ۷۹۹۱ء بروز جمعہ، ۶ بجے دوپہر بمقام خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشنِ اقبال کراچی آخرت کی یاد دلانے والا ایک مضمون ارشاد فرمایا کہ آج کل آخرت کی یاد دلانے کے لیے ایک عنوان اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے کہ دنیا سے مت چپکو اور [...]

مزید پڑھیے »

No Comments »